- الإعلانات -

پانی کا تحفظ اور سندھ طاس معاہدہ

22مارچ کو دنیا بھر میں ہر سال پانی کا عالمی دن منایا جاتا ہے،جسکا مقصد پانی کی اہمیت اور تحفظ کو یقینی بنانا ہوتا ہے۔دنیا بھر میںبڑھتی ہو ئی آبادی کے سبب زیر زمیں پانی کے ذخائر کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں،جنہیں محفوظ بنانے کے لئے پہلی بار 1992میں یو این او کے پلیٹ فارم پر آواز بلند کی گئی۔اس سلسلے میں ایک دن منانے کی تجویز دی گئی،جسے متفقہ طورپرمنظورکر لیا گیا اور1993میں22 مارچ کو پانی کا پہلا عالمی دن منا یا گیا۔دنیا کی بات ہم کیا کریں پانچ دریاو¿ں اورایک سمندرکا مالک پاکستان بھی ان ممالک میں شامل ہوچکا ہے جنہیں مستقبل قریب میں پانی کی شدید کمی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ پاکستان میں پانی کے بحران کی ایک وجہ تو ہمارے حکمران طبقات کی چشم پوشی مصلحت کوشی اورسیاسی مفادات کی اسیر ی ہے مگر ایک اور وجہ بھارت ہے جس نے پاکستان کے خلاف آبی جنگ چھیڑ رکھی ہے ۔ 1948سے ہمسایہ ملک بھارت ، پاکستان کو کھنڈرات میں تبدیل کرنے کی سازش کر رہا ہے۔بھارت ایک طویل المدتی پروگرام کے تحت پاکستان کے آبی وسائل اپنی حدود میں کنٹرول کرنے کیلئے یکے بعد دیگرے 91ڈیمز اور ہائیڈل پاور پروجیکٹس تعمیر کر رہا ہے جن میں 62 ڈیمز مکمل ہو چکے ہیں اور درجنوں پروجیکٹس کے ذریعے دریاو¿ں پر قبضہ کرکے جنگی ہتھیاروں کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ یہ سب کچھ بھارت کی پاکستان کو جھکانے کیلئے اختیار کردہ ڈاکٹرائن کا حصہ ہے جو پاکستان کی سلامتی کیلئے انتہائی خطرناک ہے۔ دنیا بھر میں جہاں ماہرین آئندہ عالمی جنگ پانی ہی کے مسئلے پر ہونے کے خدشات کا اظہار کر رہے ہیں وہیں جنوبی ایشیا میں بھارت اور پاکستان کے درمیان پانی کی ملکیت اور تقسیم کے تنازع کو بھی انتہائی خطرناک قرار دیا جا رہا ہے۔چند برس قبل امریکا نے اس خدشے کا اظہار کیاتھا کہ بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں ڈیموں کی تعمیر دونوں ممالک کے درمیان امن مذاکرات کو سبوتا ژکرنے کے ساتھ جنگ کا سبب بھی بن سکتی ہے۔ وکی لیکس کے مطابق 25 فروری 2005 میں نئی دہلی میں امریکی سفارت خانے سے واشنگٹن بھیجے گئے خفیہ مراسلوں میں بتایا گیا ہے کہ اگر پاکستان اور بھارت بگلیہار اور کشن گنگا پراجیکٹس پر اپنے تنازعات حل کر بھی لیتے ہیں تب بھی بھارت جموں کشمیر میں متعدد ڈیمز بنانے کا خواہش مند ہے۔امریکی حکام کے خیال میں پاکستان اور بھارت کے درمیان آبی تنازع کا تصفیہ آسانی سے نہیں ہوسکے گا۔ دوسری جانب اسلام آباد میں تعینات امریکی سفیر این پیٹرسن نے3نومبر2008کو واشنگٹن ارسال کیے گئے ایک خفیہ مراسلے میں لکھا تھاکہ رواں سال دریائے چناب سے پاکستان کی جانب پانی کا بہا و¿کم ہے۔ جس کے باعث اسے چونتیس فیصد پانی کی کمی کا سامنا ہے۔ اس صورتحال میں موسم سرما کی فصلیں متاثر اور ملک بھر میں جاری بجلی کے بحران میں اضافہ ہو گیا ہے۔امریکی سفیرنے بتایا کہ حکومت پاکستان دریائے چناب پر بھارت کی جانب سے آٹھ ممکنہ ڈیموں کی تعمیر کے حوالے سے انتہائی پریشان ہے۔پاکستان اور بھارت کے درمیان آبی وسائل کی تقسیم کا تنازعہ اتنا ہی پرانا ہے جتنی دونوں کی آزادی کی تاریخ ہے۔دونوں ممالک کے درمیان بہنے والے چھے دریاﺅں سندھ‘ جہلم‘ چناب‘ راوی ‘ ستلج اور بیاس کے پانیوں کی تقسیم کا معاملہ سب سے پہلے مئی 1948ءمیں نیودہلی میں دونوں ملکوں کی کانفرنس میں ا±ٹھایا گیا، لیکن کوئی تصفیہ نہ ہو سکا۔پھر 1950ءمیں پاکستان بھارت سے کہا کہ وہ پاکستان کے آبی وسائل کی حدود کو متعین کرے اور اس معاملے کو بین الاقوامی ثالثی عدالت میں لے جانے کی تجویز پیش کی جس کو بھارت نے مسترد کر دیا۔یہ معاملہ دس سال تک یونہی لٹکا رہا،طویل مذاکراتی کوششوں کے بعد عالمی بینک کی مالی معاونت سے 19ستمبر 1960ءکو دونوں ملکوں کے درمیان سندھ طاس آبی معاہدہ پر دستخط کیے گئے۔اگلے دس پندرہ سال اس معاہدے پرعملدرآمد کیا جاتا رہا ہے۔ معاہدے کی ر±و سے سندھ‘ جہلم اور چناب کا پانی پاکستان کے حصے میں آیا جبکہ راوی‘ ستلج اور بیاس بھارت کے حصے میں آئے۔ تقریباً۸۱سال کی خاموشی کے بعد1978ءمیں اس وقت یہ تنازعہ پھ ر سامنے آیا جب بھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں پاکستان کے حصے دریا چناب پر سلال ڈیم تعمیر کرنا شروع کر دیا۔اس پر پاکستان نے احتجاج کیا تو پھر ایک اور معاہدے پر دستخط ہوئے جس کے مطابق بھارت ڈیم کی بلندی کو کم کرنے اور ڈیم کے پانی کو صرف بجلی پیدا کرنے کے لیے استعمال کرنے پر رضامند ہو گیا۔ لیکن 2005ءمیں بھارت نے دریائے چناب پر 450میگاواٹ کا ایک اور ڈیم بگلیہار تعمیر کر لیا جس پر پاکستان کو ورلڈ بینک جانا پڑالیکن ورلڈبینک کے ماہر نے 2011ءمیں فیصلہ پاکستان کے خلاف دے دیا۔ ابھی یہ تنازعہ چل ہی رہا تھا کہ بھارت نے 330میگاواٹ کے کشن گنگا ڈیم کی تعمیر شروع کر دی۔ جس پرپاکستان نے بین الاقوامی ثالثی عدالت سے رجوع کیا تو عدالت نے بھارت کو مزید تعمیر سے روک دیا۔ تاحال یہ معاملہ جوں کا توں ہے۔صرف اسی پر بس نہیں بھارت نے دریائے جہلم پر 1984 میں اس دریا پر وولر ندی کے شروع پر بیراج بنانے کا اعلان کر دیا ،پاکستان کے احتجاج پر یہ تعمیر روک دی گئی۔دونوں ممالک کے مابین یہ تنازعہ حل نہیں ہوپایا ہے کہ اور اسی قسم کا ایک اور ایشو سامنے آرہا ہے۔یہ نیا تنازعہ زیر زمین پانی کا ہے۔پاکستان نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ بھارت سرحدوں کے قریب زیرزمین پانی کا بے دریغ استعمال کررہا ہے اور چوںکہ یہ پانی سرحدوں (تھرپارکر اور چولستان) کے قریب سے نکالا جارہا ہے۔ اس لیے بہت زیادہ امکان ہے کہ سرحدکے قریبی علاقے میں موجود زیرزمین پانی بھی کھینچ لیا جائے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت نے وسیع پیمانے پر زیرزمین کا سروے مکمل کرلیا ہے اور اس کے لیے وہ جرمن جیو ہیلی بورن ٹیکنالوجی استعمال کررہا ہے، جو بہت زیادہ گہرائی تقریباً 1000 نیچے زیرزمین موجود پانی کا بھی سراغ لگا دیتی ہے۔ اس لیے اس حوالے سے ضروری ہے کہ زیرزمین پانی کے استعمال کے لیے کوئی قانون یا قواعد وضح کیے جائیں یا پھر دونوں ممالک کے مابین پہلے سے موجود سندھ طاس معاہدہ کے تحت اس کا احاطہ کیا جائے۔ پاکستان اور بھارت دو پڑوسی اور پڑوسی بھی ایسے کہ صرف 1016 کلومیٹر سرحد ہی نہیں بل کہ زبان، خوراک، لباس، ثقافت اور رشتوں ناتوں کے ساتھ ساتھ ان کے آبی وسائل بھی مشترک ہیں۔آبی تنازعات میں دونوں ممالک کی بڑھتی ہوئی آبادی اہم کردار ادا کررہی ہے۔ بڑھتی ہوئی آبادی سے پانی کی طلب بھی بڑھ رہی ہے جس سے پیچیدگیاں بھی بڑھ رہی ہیں۔