- الإعلانات -

تشویشناک صورت حال


انٹرنیٹ موجودہ دور کی ایک انقلابی ایجاد ہے ۔ اس کے ذریعے بلاشبہ پوری دنیا میں لوگ ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں ۔ کاروبار کی توسیع بھی انٹرنیٹ کے ذریعے کی جاتی ہے ۔ اس کے مختلف طریقے بھی ہیں ۔ اسی کی وجہ سے سوشل میڈیا کے زریعے نہ صرف تازہ ترین خبریں ملتی ہیں بلکہ اپنے خیالات کا اظہار بھی آج کل اسی کے ذریعے کیا جاتا ہے اور اسی طرح آپ کا پیغام ایک دو منٹ کے اندر پوری دنیا میں پھیل جا تا ہے ۔ یہ تو اس کے مثبت پہلو ہیں جن سے فائدہ اٹھا یا جا سکتا ہے ۔ لیکن منفی سوچ رکھنے والے عناصر اس کا بہت غلط استعمال بھی دھڑلے سے کر رہے ہیں ۔ پاکستان میں ایسے عناصر کے منفی رجحانات کو روکنے کےلئے قانون موجود ہے ۔ اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) اس کے لیئے سرگرم بھی ہے ۔ اس مقصد کے لیئے ایف آئی اے میں ایک باقاعدہ ونگ بھی بنایا گیا ہے ۔ ملک بھر میں ایف آئی اے سائیبر مراکز کی تعداد اس وقت پندرہ ہے ۔ ان مراکز نے گزشتہ ایک سال میں سائیبر کرائم کے بارے میں جو رپورٹ تیار کی ہے اس کے مطابق گزشتہ سال27214 شکایات کی تصدیق کی گئی ہے ۔ 6762انکوائیریاں اور 575مقدمات درج کیئے گئے ہیں ۔ جبکہ ان میں سے صرف 43مقدمات میں سزائیں ہوئی ہیں ۔ جو انتہائی کم اور توجہ طلب معاملہ ہے ۔ اس کی ایک اہم وجہ ادارے میں سائیبر کرائم ونگ میں افرادی قوت کی کمی بھی ہے ۔ جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس ونگ میں 407 ملازمین کنٹریکٹ پر کام کر رہے ہیں ۔ مستقل ملازمین کی کل تعداد صرف 114 ہے ۔ اور سائیبر کرائم سے متعلق تربیت یافتہ افراد کی کل تعداد صرف 15 ہے ۔ اس کے علاوہ یہ قانون جو دو برس قبل بنایا گیا تھا ابھی تک مکمل طور پر نافذ بھی نہیں کیا گیا ۔ قارئین کرام! انٹرنیٹ کے ذریعے بلیک میلنگ،آن لائین فراڈ،جعلی آئی ڈیز،ہیکنگ اور اسی طرح کے دیگر جرائم تو دنیا بھی میں ہو رہے ہیں ۔ اور پاکستان میں بھی ہو رہے ہیں ۔ لیکن فیس بک کے زریعے جو تباہی ہمارے معاشرے کی ہو رہی ہے یہ انتہائی تشویشناک ہے ۔ ہمارا معاشرہ دنیا کے دیگر معاشروں سے قطعی مختلف ہے ۔ یہاں خواتین کی عزت،بڑوں کا احترام اور چھوٹوں سے پیار ہماری تہذیب بھی ہے اور یہ خدا کا حکم بھی ہے ۔ لیکن انٹرنیٹ اور فیس بک نے ہماری مذہبی اور معاشرتی روایات کو بربادی کے دہانے پر لا کھڑا کر دیا ہے ۔ فیس بک کے ذریعے لڑکے لڑکیوں کی دوستیاں ہو جاتی ہیں ۔ پھر تصاویر کا تبادلہ ہوتا ہے اور بات فحش باتوں اور تصاویر اور ویڈیوز تک پہنچ جاتی ہے اور پھر بلیک میلنگ کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے ۔ پاکستان میں شاید سینکڑوں گھرانے اور ہزاروں لڑکیاں فیس بک اور انٹرنیٹ کی بھینٹ چڑھ چکی ہیں ۔ کیا کسی کو اندازہ ہے کہ اسی وجہ سے کتنی لڑکیاں گھروں سے فرار ہو جاتی ہیں اور بد کردار عناصر کے ہاتھوں ساری زندگی تباہ کر دیتی ہیں ۔ دوسری طرف عزت دار گھرانوں کے لوگ کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہتے ۔ اس انٹرنیٹ اور فیس بک سمیت دیگر ذراءع سے دوستیوں کی وجہ سے کئی گھرانے اجڑ گئے ہیں ۔ میاں بیوی کے رشتے ختم ہو گئے ہیں ۔ محبت کی شادیاں بھی زیادہ تر موبائل فون انٹرنیٹ کے ذریعے تعلقات کا نتیجہ ہوتی ہیں اور شادی کے بعد جب حقائق ان دونوں پر آشکار ہو جاتے ہیں تو نتیجہ طلاق اور خلع کی صورت میں نکل آتا ہے ۔ موبائل فون اور انٹرنیٹ نے ہمارے معاشرے کے وہ اقدار ہی ختم کر دیئے ہیں جو ہمارا اثاثہ تھے اور جن پر ہم فخر کرتے تھے اور جو ہمارے دین کا بھی حصہ تھے ۔ ان اقدار کی وجہ سے ہم دیگر معاشروں میں ممتاز مقام رکھتے تھے ۔ وہ اقدار ہماری پہچان تھے لےکن اب ہم ان اقدار سے محروم ہوتے جا رہے ہےں ۔ عجیب بات تو یہ ہے کہ سب کچھ جانتے ہوئے بھی ہ میں کو ئی فکر ہے نہ کوئی احساس ہے ۔ ہم اس سےلاب بلا اور تباہی کو روکنے کے لیئے کچھ بھی نہےں کرتے ۔ واٹس ایپ کا بھی اس بربادی میں بڑا کردار ہے لیکن نہ تو حکومت کی اس طرف کوئی خاص توجہ ہے جو ہونی چاہیئے تھی اور نہ ہم خود اس کے لیئے کچھ کرتے ہیں ۔ دنیا میں کئی ممالک ہیں جہاں ان چیزوں پر سرکار کی طرف سے پابندی ہے لیکن ہمارے ہاں یہ حال ہے کہ ایک بار غالباً یو ٹیوب کو چند ماہ کے لیئے بند کیا گیا تھا تو کچھ این جی اوز اور بعض با اثر افراد نے شور مچایا اور حکومت وقت وہ دباءو برداشت نہ کر سکی اور یو ٹیوب پر لگی وہ پابندی ختم کر دی ۔ یہاں تو ہر حکومت کو عوام کے بجائے اپنی کرسی کی فکر ہوتی ہے ۔ جس کو بچانے کے لیئے وہ کچھ بھی کر تی ہے ۔ کچھ عرصہ قبل ایک خاتون رکن اسمبلی نے موبائل فون کے گھنٹہ پیکج پر پابندی کا اسمبلی کے اندر مطالبہ کیا کہ اس کے ذریعے رات بھر لڑکے لڑکیاں ہر قسم کی گفتگو کھل کر کرتے ہیں ۔ لیکن خود بعض اراکین اسمبلی نے اس مطالبہ کی حمایت نہیں کی ۔ اس کے علاوہ موبائل کمپنیوں نے حکومت کو ایسی پابندی لگانے نہیں دی ۔ کمزور حکومتوں اور غافل قوم کو اندازہ ہی نہیں ہے کہ ہم کس معاشرتی تباہی کی طرف جا رہے ہیں ۔ ہماری نئی اور آنے والی نسلیں گمنامی اور بربادی کے ایسے گڑھے میں گرنے جارہی ہیں جہاں سے نکلنا مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہے ۔ ہم اخلاقی پستی کی اتھاہ گہرائی میں گرتے جا رہے ہیں ۔ لیکن سب کچھ جانتے ہوئے بھی ہم سب نے حکمرانوں سمیت شتر مرغ کی طرح منہ چھپانے میں ہی بچاءو سمجھا ہوا ہے ۔ کہا گیا ہے کہ کسی بھی قوم کو برباد کرنا ہو تو ان سے ان کی روایات اور کلچر چھین کر ان کو اخلاقی طور پر کمزور کر دو ۔ وہ قوم خود بخود برباد ہو جائے گی اور کچھ کرنے کی ضرورت ہی نہیں ہے ۔ ہم اور ہمارے بعض نام نہاد دانشور کیوں ہ میں مغرب اور بھارت کی مثالیں دیتے ہیں ۔ یہ نام نہاد دانشور شاید خود بھی گمراہ ہیں ۔ کیا ہمارے حکمران بھی اس کو کوئی اہمیت نہیں دیتے ۔ سائیبر کرائم کا ایک نا مکمل قانون بنا کر وہ سو گئے ہیں ۔ ریاست مدینہ کے نام پر کیا عوام کو بیوقوف بنایا جا رہا ہے ۔ کیا یہاں عزت برباد کرنے والوں کے لیئے کوئی موثر قانون نہیں بن سکتا ۔ قصور کی ننھی زینب کے نام زینب الرٹ تو بنایا گیا لیکن جب تک ایسے لادین درندوں کو سرعام پھانسی پر نہ لٹکایا جائے جو معصوم بچوں اور بچیوں کی زندگیوں سے کھیلتے ہیں کوئی زینب محفوظ نہیں رہے گی ۔ قوم کی آنکھوں میں باقی تو ہر معاملہ پر دھول جھونکی جا رہی ہے لیکن کچھ تو خدا کا خوف کریں ۔ قوم کی عزتوں اور معصوم بچوں کو بچانے کے معاملہ پر تو فوری اور سخت ترین اقدامات کریں ۔ اس میں حکمران تو زمہ دار ہیں ہی لیکن اپوزیشن جماعتیں بھی برابر کی ذمہ دار ہیں جو اس سنگین معاملہ اور قومی بربادی پر خاموش ہیں ۔ جب کوئی واقعہ ہو جاتا ہے خبروں میں آجاتا ہے تو حکومت کا روائیتی طریقہ کہ وزیراعلیٰ اور وزیراعظم نے فوری رپورٹ طلب کر لی اور اپوزیشن جماعتوں کے رہنماءوں نے شدید مذمت کر لی ۔ اور مجرموں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا وغیرہ وغیرہ ۔ اور اس کے بعد سب امن و شانتی ۔ چند دنوں بعد پھر وہ واقعہ خبروں سے بھی غائب ہو جاتا ہے ۔ سائیبر کرائم کا اگر کوئی ملزم گرفتار بھی ہو جاتا ہے تو صرف ایک بار ایک غیر واضح خبر کے ذریعے لوگوں کو پتہ چل جاتا ہے ۔ اس کے بعد کچھ معلوم نہیں ہوتا کہ اس کو کوئی سزا ہوئی بھی یا نہیں اگر ہوئی بھی تو کتنی ۔ کیونکہ پھر لمبی عدالتی کارروائیاں ، وکیل، شہادتیں ، گواہیاں ، ضمانت اور نہ جانے کیا کیا ۔ لیکن کسی کو متاثرہ خاندان کی بے عزتی اور دکھ کا اندازہ نہیں ہوتا ۔ نہ کوئی اس کا احساس کرتا ہے ۔ اگر سعودی عرب میں سرعام سر قلم کرنے کی سزا ہو سکتی ہے اگر ایران میں کرینوں کے ساتھ سرعام لٹکا کر پھانسی دی جا سکتی ہے تو پاکستان جو ایک اسلامی ملک ہے یہاں کیوں نہیں ۔ ضیاء الحق دور میں لاہور میں بارہ سالہ بچے پپو کے قاتلوں کو لکشمی چوک میں سرعام پھانسی دی گئی تو ایسے جرائم پیشہ سہم کر چھپ گئے اور پھر ایک عرصے تک ایسا جرم نہیں ہوا ۔ کیا ہمارے حکمران امریکہ،یورپ اور این جی اوز کی خوشی کےلئے قوم کی عزتوں معصوموں کی زندگیوں کی بربادی کا سودا کرے رہیں گے ۔ کچھ تو غیرت کے بھی تقاضے ہوتے ہیں اور خوف خدا سے بڑا تقاضا اور کیا ہے ۔ خدا کا خوف کریں ۔ والدین کا بھی فرض ہے کہ اپنی عزتوں اور اپنے بچوں کی زندگیوں کو تباہی سے بچانے کےلئے کچھ بھی قربانی دینی پڑے تو دیں ۔ ہم لوگوں کے پاس بس عزت ہی تو ہے ۔ اور یہ معصوم بچے ہی تو ہمارا سرمایہ ہیں ۔