- الإعلانات -

’’گر نواز چل کر آتے تو کچھ اور بات ہوتی‘‘ (1 )

کسے معلوم نہیں کہ ہندوستان کے ساتھ پاکستان کے تعلقات زیادہ تر نشیب و فراز کا شکار رہے ہیں بلکہ اگر یہ کہا جائے تو شاید بے جا نہ ہو کہ پاکستان کی تمام تر کوششوں کے باوجود دہلی کے حکمران ٹولے نے اپنی روش تبدیل نہیں کی جس کا تازہ ترین مظہر نئے بھارتی آرمی چیف کی لاف زنی ہے ۔ مبصرین کے مطابق ایک جانب بھارتی حکمران وطن عزیز کے خلاف ففتھ جنریشن وار فیئر چھیڑے ہوئے ہیں تو دوسری جانب علی وزیر جیسے افراد اپنی دیرینہ منفی روش ترک کرنے پر آمادہ نہیں ۔ سنجیدہ حلقوں کے مطابق پاک بھارت تعلقات ہمیشہ ہی کشیدگی اور تناءو سے بھرپور رہے ہیں ، دونوں ممالک کے مابین بنیادی تنازعہ جموں و کشمیر پر بھارت کا ناجائز تسلط ہی ہے ۔ اسی سلسلے میں قریباً 19 سال پرانی تحریر راقم کی نظر گزری جو 11 اور 13 اگست 2001 میں دو حصوں میں روزنامہ نوائے وقت میں شاءع ہوئی تھی ۔ اتنا عرصہ گزرنے کے باوجود اس میں سے بعض شخصیات کے صرف ناموں کو اگر تبدیل کر دیا جائے تو بنیادی صورتحال میں کوئی جوہری تبدیلی رونما نہیں ہوئی اور پاک بھارت تعلقات تاحال جوں کے توں ہیں ۔ اس تحریر میں مذکور چند افراد دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں جن میں اٹل بہاری واجپائی ، سابق بھارتی قومی سلامتی مشیر جے این دکشت اور کلدیپ نیئر شامل ہیں جبکہ جسونت سنگھ ذہنی توازن کھو کر پچھلے چھ سال سے کومہ کی حالت میں ہیں ۔ تحریر من و عن پیش قارئین ہے ۔ ’’ بھارتی وزیر اعظم واجپائی نے سات اگست 2001 کو بھارتی پارلیمنٹ کے ایویں زریں (لوک سبھا) میں آگرہ سربراہ مذاکرات کی ناکامی کےلئے پاکستان کو پوری طرح ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے جو دلائل دیے اور زبان استعمال کی اس پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے پاکستانی ترجمان نے واجپائی کے بیان کو نامناسب اور من گھرٹ ریمارکس پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسی باتوں سے نہ تو حقائق کو تبدیل کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی پاک بھارت تعلقات کو معمول پر لانے کی کوششوں کو کسی قسم کی تقویت ملے گی ۔ حکومت پاکستان نے بھارتی وزیر اعظم کے دیے گئے بیان میں پاک چین سرحدی معاہدے سے متعلق ریمارکس کو بھی پوری طرح سے واجپائی کے تخیل کی پیداوار کہا ہے اور وضاحت کی ہے کہ آگرہ مذاکرات میں اس حوالے سے کوئی بات ہوئی ہی نہےں ۔ عالمی ذراءع نے اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے بجا طور پر کہا ہے کہ دونوں ممالک کے مابین اس لفظی جنگ اور بیان بازی کے نیتجے میں پاک بھارت تعلقات میں کشیدگی عیاں ہونے لگی ہے ۔ زیر نظر تحریر میں واجپائی کے الزامات سے مختلف بھارتی دانشوروں کی رائے کا احاطہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔ آٹھ اگست کو کثیر الاشاعت ہندی روزنامے’نو بھارت ٹائمز‘نے اس ضمن میں صفحہ اول پر جو شہ سرخی جمائی وہ انتہائی دلچسپ ہونے کے ساتھ پاکستانی عوام کے نزدیک معنی خیز بلکہ ذو معنی ہوسکتی ہے ۔ ’’گر نواز آئے ہوتے تو کچھ اور بات ہوتی‘‘ ظاہر ہے کہ ایک پرانے فلمی گیت ’اگر آپ چل کر آتے تو کچھ اور بات ہوتی‘ میں قطع برید کے بعد تو نو بھارت ٹائمز کی شہ سرخی ’گر نواز چل کر آتے تو کچھ اور بات ہوتی‘خاصی دلچسپ ہوگئی ہے ۔ اس پر تبصرہ کرتے ہوئے بھارتی صحافی’ونود دوہا‘نے واجپائی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ میں یہ کہہ کر کہ جنرل پرویز مشرف کی جگہ اگر نواز شریف آگرہ آتے تو نتاءج مختلف نکلتے،بھارت کے سو کروڑ لوگوں کو گویا بےوقوف اور یادداشت سے عاری قرار دے دیا ہے کیوں کی سبھی کو معلوم ہے کہ 1999کے اوائل میں لاہور سمجھوتے کے فورا بعد واجپائی نے بھارت پہنچ کر کہا تھا کہ پاک بھارت میں اگر تنازعہ کشمیر کی بابت کچھ بات ہوئی بھی ہے تو وہ آزاد کشمیر سے متعلق ہوگی ۔ ایسے ماحول میں کوئی عقل کا اندھا ہی لاہور سمجھوتے کو فریقین کےلئے قابل قبول اور پائیدار امن کی جانب مثبت پیش رفت قرار دے سکتا ہے ۔ اس موقع پر جواہر لعل نہرو یونیورسٹی دہلی کے پروفیسر ’’پرشوتم اگروال‘ نے رائے ظاہر کی ہے کہ صدر پرویز مشرف نے کشمیر کی بابت اپنے خیالات کبھی بھی چھپا کرنہےں رکھے تھے ۔ وہ بھارت آنے سے ایک روز پہلے تک برملا کہہ رہے تھے مذاکرات کی واحد بنیاد تنازعہ کشمیر ہی ہوگا ۔ لہٰذا واجپائی اور ان کے ساتھیوں کا یہ کہنا کہ پاکستانی صدر کی ضدکی وجہ سے مذاکرات کامیاب نہےں ہوئے سمجھ سے بالاتر ہے ۔ ان سب باتوں کی بابت بھارتی حکمرانوں کو پہلے سے غور کرنا چاہیے تھا اور اپنی ناکامیوں کو چھپانے کےلئے یہ کہنا کہ فلاں شخصیت ہوتی تو یوں ہوتا کی بجائے یہ کہنا چاہیے کہ ’ڈبویا مجھ کو ہونے نے نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا ۔ کثیر الا اشاعت ہندی اخبار’جن ستا ‘کے ایڈیٹر اوم تھانوی کا کہنا ہے کہ واجپائی نے اپنے قو ل و فعل سے ثابت کر دیا ہے کہ انہےں حکومت کرنے اور سفارت کاری کا سرے سے ڈھنگ ہی نہےں آتا حالانکہ انہےں ایوان اقتدار میں ساڑھے تین سال سے زائد کا عرصہ ہو چکا ہے اور سرکاری ملازمین کی اہمیت جانچنے کا عرصہ بھی ایک سال کا ہوتا ہے ۔ جس کے بعد نا اہلی کی صورت میں انہےں فارغ کر دیا جاتا ہے لہذاواجپائی حکومت اگر رضا کارانہ طور پر اپنی ناکامیوں کے اعتراف میں مستعفی نہےں ہوتی بھارتی عوام کو تحریک چلا کر انہےں فارغ کر دینا چاہیے ۔ سابق سیکرٹری خارجہ بھارت’ایس کے سنگھ کے مطابق واجپائی اور جسونت سنگھ کے ان الزامات میں کوئی صداقت نہےں کہ پاکستانی سربراہ خاطر خواہ ہوم ورک اور تیاری کے بغیر بھارت آئے تھے اسلیے مذاکرات کی بیل منڈھے نہےں چڑھی بلکہ حقیقت یہ ہے کہ بھارتی حکمرانوں نے اس ضمن اصل مسائل پر ہوم ورک کرنے کی بجائے اپنی ساری توانیاں نہر والی حویلی اور تاج محل کی سیر جیسے نمائشی اقدامات پر صرف کر دیں ۔ ٹریبون کے بیوروچیف راما چندرن نے انتہا پسند نظریات کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا آگرہ مذاکرات میں پاک سربراہ کی بے لچک پالیسی اور مقبوضہ کشمیر میں بڑھتے ہوئے تشدد کا واحد حل یہ ہے کہ جموں کشمیر کو ’کے پی ایس گل ‘ جیسی شخصیت کے حوالے کرکے انہےں مشرقی پنجاب کی طرح فری ہینڈ دے دیا جائے اور چاہے اس کےلیے ہزاروں افراد مارنے پڑیں وہ اسی طرح امن قائم کرئے جیسے خالصتان تحریک کو کچلنے کےلئے کیا گیا تھا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ( جاری ہے)