- الإعلانات -

پی ٹی ایم ۔ آئینی اداروں کے خلاف ہزرہ سرائی نہ کرئے

’’پی ٹی ایم‘‘پشتون تحفظ تحریک کے کسی موضوع اور موضوع زہریلا ہو اگراس بارے میں کوئی اپنی بات کرنا چاہئے یا پی ٹی ایم کے کسی لیڈر کی جانب سے جب ملکی آئینی اداروں میں سے کسی ادارے کو بلاوجہ کی تنقید وتنقیص کی زد میں لے کر نشانہ بنایا جائے تواْن کے تشنہ الزامات کا جواب کسی نہ کسی نے تودینا ہی ہے توایسے میں یار لوگ کچھ سوچے سمجھے بنا یہ طعنہ کس دینے میں منٹ نہیں لگاتے کہ یہ بندہ یا یہ کالم نگار حقائق سے اپنی نظریں چرارہا ہے اور ملکی اسٹبلشمنٹ کا ایجنڈا بیان کررہا ہے ایسی لفاظیاں کرتے ہوئے وہ اپنی باتوں پر یا پی ٹی ایم والے کھلے عام جلسوں میں جوبڑکیں لگاتے ہیں ، عوامی جذبات سے کھیلتے ہیں ، عوامی جذبات کو غصہ ور کرتے ہیں ، اپنے مخاطبین کو اکساتے ہیں اور ملکی افواج کا نام لے لے کر طعن وتشنع ’’فرماتے‘‘ہیں اوریہ کام کوئی اور نہیں ممبران قومی اسمبلی کرنے لگیں ، جنہوں نے ‘‘آئین پاکستان‘‘کا حلف لیاہوا ہے اور آئین پاکستان میں درج ہے کہ ملکی عدلیہ اور ملکی افواج پر تنقید نہیں کی جاسکتی تو کیا یہ آئین پاکستان کے نکات کی خلاف ورزی کے زمرے میں آنے والی بات نہیں ;238;‘‘ پاکستانی افواج نے گزشتہ دس پندرہ برسوں میں اپنے کئی آپریشنز کے ذریعے جنوبی اور شمالی وزیرستان سمیت افغان بارڈر سے ملحق سرحدی علاقوں میں شجاعت وہمت،ایثار وجاں نثاری اور اپنی بھرپور پیشہ ورانہ عسکری صلاحیتوں کے ساتھ دنیا کے سفاک وظالم دہشت گردوں کو شکست فاش دی اور اپنی عسکری بصیرت وآگاہی اوردوبدولڑنے کی کمال ہوشیاری اور شبانہ روز بیداری کے جوہر دکھائے اپنے بہادر اور دلیر سپاہیوں اور جواں سال افسروں کی قربانیاں پیش کیں پشتونوں کی نسل کشی کرنے والے دہشت گردوں سے جنوبی وشمالی وزیرستان کو مار بھگایا یہ کہاں کا انصاف ہے;238; اب جب دہشت گرد ہلاک کردئیے گئے افغا نستان بھاگ گئے، تو اچانک سے کچھ سیاسی مفاداتی لوگ گروہوں کی شکلوں میں سامنے آگئے ہیں ’’پشتونوں کے حقوق‘‘کی مانگ پاکستانی قوم کے سر آنکھوں پر،مگر جب یہ بولے تو علم ہوا کہ یہ لوگ پختونوں کے ہمدرد اور وفادار نہیں ہیں ان کے اصل مقاصد کچھ اور ہیں جس کا اندازہ قوم کو اس وقت ہوا جب یہ کھل کر بولے ہیں تو افغانستان میں بیٹھے ہوئے بھارتی نوازافغانی حکام ٹولے اور’’را‘‘کی زبانیں کبھی محسن داوڑ کے منہ میں اور کبھی علی وزیرکے منہ میں کیسے آجاتی ہیں ;238;پاکستانی فوج اگردنیا میں کسی کی آنکھوں کا کانٹا بنی ہوئی ہے تو صرف بھارتی اداروں کی آنکھوں میں کھٹکتی ہے جنوبی ایشیا میں پاکستانی فوج’’اکھنڈ بھارت‘‘کے ناپاک منصوبہ کی راہ میں ہمیشہ حائل رہے گی خیبرپختونخواہ کے شہر بنوں میں گزشتہ روز12 جنوری کومنعقد ہونے والے جلسہ میں پی ٹی ایم کے حمایت یافتہ قبائلی اضلاع کے آزاد ارکان اسمبلی محسن داوڑ اور علی وزیرنے نہ صرف افواج پاکستان کے خلاف شدید اور ناقابل بیان ہرزہ سرائی کی بلکہ پاک افغان سرحد پر دوطرفہ سیاسی مذاکرات اورسفارتی گفت وشنید کے نتیجے میں کثیرمالیت سے تعمیر ہونے والی سرحدی باڑکے خلاف جو زہریلی زبان استعمال کی اْس کی جتنی مذمت کی جائے وہ کم سمجھیں علی وزیر کی تقریر یہی قابل مذمت ریکارڈ شدہ حصہ اب سوشل میڈیا پر شیئر کیا جارہا ہے ہم تویہ سنا ہے کہ پشتون ’’غیرت مند پشتون نسل‘‘کبھی بھی اپنے محسنوں کی عزت نفس کو مجروح نہیں کرتی، پی ٹی ایم کے لیڈروں کے منہ سے اگلتی ہوئی آگ کے شعلوں نما یہ باتیں کہ;34;پاک افغان بارڈر پر لگے ہوئے خاردار تاروں اورباڑوں کوہم کاٹ دیں گے اوران باڑوں کی جگہ پاکستانی فوجیوں کوپھانسی پر لٹکائیں گے‘‘ایسے انتہائی لائق نفریں بیانات کا دوسرا اہم پہلو یہ ہے کہ منظور پشتین کے بارے میں عام کہا جاتا ہے کہ’پی ٹی ایم ‘کا زہریلا پودا انہوں نے ہی لگایا ہے، پاکستان دشمن عالمی میڈیا اوربالخصوص ’’را‘‘ کا میڈیا سیل منظور پشتین کا تیار کردہ سیاسی سودا ہمیشہ بڑی خوش اسلوبی اورتیزی کے ساتھ مزید بناسنورا کربیچتا رہتا ہے یہ منظور پشتین سب کچھ کرتا ہے اس کا دل کابل کے ساتھ ضرور دھڑکتا ہے، لیکن افغانستان کے عوام کے قاتل گروہ داعش جسے’’را‘‘ اور ’’ہائی پروفائل انٹیلی جنس ایجنسیوں کی مکمل پشت پناہی حاصل ملی ہوئی ہے، منظور پشتین کے منہ سے کبھی نہیں اُن کی مذمت میں ایک لفظ تک نکلتا ایک اوراہم نکتہ وہ یہ ہے کہ افغانستان کا جھکاوقیام پاکستان سے آج تک نئی دہلی کی طرف رہا کابل اور آل انڈیا کانگریس کی ملی بھگت بھی بہت پہلے سے چلی آرہی ہے اسی ملی بھگت کی وجہ سے قیام پاکستان کے بعد سابقہ فاٹا کے علاقوں کی پاکستان میں شمولیت کے خلاف منظم مہم شروع کردی گئی تھی یاد رہے کہ صوبہ سرحد کی پاکستان میں شمولیت کے نام پر ’’ریفرنڈم‘‘کی جومہم سامنے آئی تھی یہ نئی دہلی کی تجویز تھی وہ سمجھ رہے تھے کہ وہ ’’ غفار خان کی پشت پناہ صوبائی حکومت‘‘کی اثرورسوخ کی بدولت ریفرنڈم میں پختون صوبے کے عوام کا اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے;238;یہی اْن کی بھول تھی،جبکہ قائداعظم محمد علی جناح نے ریفرنڈم کی تجویز قبول کر لی، ان کی سیاسی فراست اور مستقبل میں دور تک دیکھنے کی نظر وں نے ریفرنڈم کے نتاءج کو بھانپ چکی تھی انہیں اپنے دو قومی نظریہ کی صداقت اور آزادی کیلئے اپنے کھلے سچے موقف کی کامیابی پرمکمل یقین تھا منظورپشتین ذرا پختونوں کی پاکستان کے ساتھ نسلی وابستگی کا اندازہ لگائے کانگریسی اچکزئی اورمولانا فضل الرحمان کے’سیاسی سحر‘سے باہرنکلے’ کابل اور عبدالغفار خان کی طرف سے پختون‘ قوم پرستی ابھارنے اور صوبہ سرحد کے پختونوں کو افغانی ثابت کرنے کیلئے کی جانے والی اُس زمانے کی تمام تر کوششوں کے باوجود 20 جولائی1947 کا دن آن پہنچا یہ ریفرنڈم کا تاریخی دن تھا ریفرنڈم آغازہوا جس کا سلسلہ 30 جون تک جاری رہا جب اس کے نتاءج سامنے آئے تو دنیا دنگ رہ گئی پاکستان کے حق میں پڑنے والے ووٹوں کی تعداد کو دیکھ کر لگتا تھا کہ پاکستان کا قیام عمل میں آچکا ہے کل ووٹوں کی تعداد 572799 تھی 292118 ووٹ کاسٹ ہوئے جو 50;46;11 فیصد بنتا ہے جسے اس وقت کے مورخین نے بڑی تعداد قراردیا ڈالے گئے ووٹوں میں پاکستان یعنی دو قومی نظریہ کے حق میں 289244 اور مخالفت میں صرف 2874 ووٹ پڑے، جیت کا تناسب 99;46;02 فیصد رہا جو پختونوں کا قائداعظم کی قیادت اور پاکستان کے قیام پر جو ابھی وجود میں نہیں آیا تھا اس پر جنوبی اور شمالی وزیرستان کے پختونوں کے سیاسی اعتماد کا بھرپور اظہار تھا ۔