- الإعلانات -

ممکنہ امریکہ ایران جنگ۔۔۔خطے کو تباہی سے بچایا جائے

مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے حوالے سے وزیراعظم پاکستان عمران خان نے جن تحفظات کا اظہار کیا ہے وہ انتہائی قابل غور ہیں ، کیونکہ اگر امریکہ اور ایران کے مابین باقاعدہ جنگ چھڑ جاتی ہے تو اس سے صرف پاکستان ہی نہیں پورا خطہ متاثر ہوگا ۔ ایسے میں دائیں ، بائیں وہ ممالک جن کی سرحدیں آپس میں ملتی ہیں وہ یقینی طورپر متاثر ہوں گے ۔ امریکہ کی یہ خاصیت رہی ہے کہ اس نے ہمیشہ اپنی سرحدوں کے اردگرد سکون رکھا اور دنیا کے دیگر ممالک خصوصی طورپر وہ ممالک جو کہ مسلمانوں کے ہیں ان میں آئے دن جنگ کے شعلے بھڑک رہے ہیں ۔ یہ بات بالکل واضح ہے کہ اگر امریکہ کوئی بھی ایسا جنگی قدم اٹھاتا ہے تو اس سے پاکستان بھی براہ راست متاثر ہوگا کیونکہ ایران اور پاکستان کی سرحدیں آپس میں ملتی ہیں ۔ پھر ڈونلڈ ٹرمپ کو اس سلسلے میں کسی بھی قسم کا فیصلہ کرنے سے پہلے یہ سوچ لینا چاہیے کہ پاکستان ایک ایٹمی صلاحیت کا حامل ملک ہے اور پاکستانی قوم ملکی دفاع کیلئے سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہے ۔ لہذا بہترین حل یہ ہے کہ امریکہ ایران کے مابین جو بھی مسائل درپیش ہیں انہیں ٹیبل پر بیٹھ کر مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے ۔ انسانی لہو بہانے سے ہمیشہ حالات خراب ہی ہوئے ۔ لہذا جو مسئلہ بات چیت کے ذریعے حل ہوسکتا ہے اس کیلئے جنگ کرنا کہیں کی عقلمندی نہیں ۔ پھر وزیراعظم پاکستان نے دونوں ممالک کو اس سلسلے میں پیش کش بھی کی ہے اور وہ کہہ چکے ہیں کہ پہلے سعودی عرب اور ایران کے مابین خلش اور پھر واءٹ ہاءوس اور ایران کو بھی قریب لانے کیلئے پرعزم ہیں ۔ گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان نے جرمن نشریاتی ادارے ;39;ڈوءچے ویلے کو انٹرویو دیتے ہوئے کہاہے کہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان فوجی تصادم پاکستان کےلئے تباہ کن ثابت ہوگا اور اسلام ;200;باد کوشش کر رہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات خراب نہ ہوں ۔ وزیر اعظم نے سعودی عرب اور ایران کے درمیان کشیدگی کے حوالے سے کہا کہ یہ درست ہے کہ ہم مشکل ہمسائیوں میں گھرے ہوئے ہیں اور ہ میں اپنے اقدامات کو متوازن رکھنا ہے، اس لیے ایران اور سعودی عرب کے درمیان فوجی تصادم پاکستان کے لیے تباہ کن ہو گا ۔ افغانستان میں قیام امن سے متعلق وزیراعظم کاکہناتھا کہ پاکستان، افغانستان میں قیام امن کے لیے اپنی بہترین کوششیں کر رہا ہے اور ہماری دعا ہے کہ طالبان، امریکا اور افغان حکومت مل کر قیام امن کی منازل طے کریں ۔ بھارتی حکومت کے مسلمان مخالف اقدامات کے حوالے سے وزیر اعظم کاکہناتھا کہ بھارت میں ایک ایسی خاص انتہا پسندانہ نظریاتی سوچ غالب ;200; چکی ہے جو ;39;ہندوتوا کہلاتی ہے، یہ ;200;ر ایس ایس کی نظریاتی سوچ ہے جو جرمن نازیوں سے متاثر ہو کر قائم ہوئی اور جس طرح نازی نظریے کی بنیاد اقلیتوں سے نفرت پر رکھی گئی تھی، ;200;ر ایس ایس کی بنیاد بھی مسلمانوں اور مسیحیوں سمیت دیگر اقلیتوں سے نفرت ہی ہے ۔ یہ بھارت اور اس کے ہمسائیوں کےلئے ایک المیہ ہے کہ اس ملک پر ;200;ر ایس ایس نے قبضہ کر لیا ہے، وہی ;200;ر ایس ایس جس نے عظیم مہاتما گاندھی کو قتل کروایا تھا، بھارت ایٹمی ہتھیاروں کا حامل ایک ایسا ملک ہے جسے انتہا پسند چلا رہے ہیں ۔ بھارت میں ;200;ر ایس ایس کے نظریات پوری طرح غالب ;200;نے کی بات اس وقت بھی پوری طرح ظاہر ہو گئی تھی جب بھارت نے یکطرفہ طور پر کشمیر کو اپنے ریاستی علاقے میں ضم کر لیا، حالانکہ اقوام متحدہ کی کئی قراردادوں کے مطابق بھی یہ خطہ پاکستان اور بھارت کے مابین ایک متنازع علاقہ ہے ۔ ;200;زاد کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق سوال کے جواب میں وزیر اعظم نے کہاکہ اس کا پتہ چلانا بہت ہی ;200;سان ہے، ہم دنیا کے کسی بھی حصے سے کسی کو بھی پاکستان ;200;نے کی دعوت دیتے ہیں ;200;ئیے، پہلے اس طرف کے کشمیر کا دورہ کیجیے اور پھر بھارت کے زیر انتظام حصے کا اور خود ہی فیصلہ کر لیجیے، تاہم مجھے یقین ہے کہ یہ مبصرین ;200;زاد کشمیر میں جا سکتے ہیں مگر انہیں مقبوضہ کشمیر میں جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔ مسئلہ کشمیر پر عالمی برادری کی جانب سے بھرپور ;200;واز نہ اٹھائے جانے کے حوالے سے عمران خان نے کہا کہ بدقسمتی سے مغربی ممالک کے لیے ان کے تجارتی مفادات زیادہ اہم ہیں ، بھارت ایک بڑی منڈی ہے اور یہی وجہ ہے کہ 80لاکھ کشمیریوں اور بھارت میں مجموعی طور پر اقلیتوں کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے، اس پر عالمی برادری کے رویے میں قدرے سرد مہری پائی جاتی ہے ۔ بھارت کا متنازع شہریت ترمیمی قانون واضح طور پر اقلیتوں کے خلاف ہے، خاص طور پر بھارت کے 20 کروڑ مسلمانوں کےخلاف لیکن ان تمام امور پر دنیا کے خاموش رہنے کی وجہ زیادہ تر تجارتی مفادات ہیں ۔

مسئلہ کشمیر کے حوالے سے

عالمی برادری کردارادا کرے

مسئلہ کشمیر کے حوالے سے بھارت ابھی تک اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے، پورے انڈیا میں مسلمانوں کا عرصہ حیات تنگ کررکھا ہے، پاکستان نے بھی تہیہ کیا ہوا ہے کہ وہ کشمیریوں کی اخلاقی و سفارتی حمایت ہر صورت جاری رکھے گا ۔ اسی سلسلے میں وزیرخارجہ قومی سلامتی کونسل کے اجلاس میں شرکت کیلئے گئے وہاں انہوں نے بھارت کی تمام تر چیرہ دستیوں سے دنیا کو آگاہ کیا ۔ کارنر ملاقاتوں اور دیگر ممالک کے سربراہوں سے ملاقاتوں میں وزیر خارجہ نے یہ باور کرایا کہ پاکستان مسئلہ کشمیر کے حوالے سے مذاکرات کیلئے ہر طرح تیار ہے لیکن بھارت ہمیشہ راہ فرار اختیار کرتا رہا ہے ۔ جیسا کہ مودی حکومت اب کررہی ہے جس نے مقبوضہ وادی میں مسلمانوں کے ساتھ بھیڑ بکریوں والا سلوک کررکھا ہے اور نہتے کشمیریوں کو مولی ، گاجر کی طرح کاٹا جارہا ہے ۔ لیکن ان تمام بھارتی چیرہ دستیاں کسی طرح بھی کامیابی سے ہمکنار نہیں ہورہیں ۔ اب تو بھارت کے اندر سے جو قانونی شہریت کا متنازع بل ہے اس کیخلاف آوازیں اٹھ رہی ہیں اور انڈیا کی اندرونی ریاستیں آزادی کی ڈیمانڈ کررہی ہیں ۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے صدر تجانی محمد باندے سے ملاقات کی ، وزیر خارجہ نے صدر جنرل اسمبلی کومقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی جارحیت سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کو 165روز گزر چکے ہیں ، نہتے کشمیریوں کو ظلم و بربریت کا نشانہ بنایا جا رہا ہے مقبوضہ جموں و کشمیر کے 80لاکھ کشمیریوں کو بھارتی جبرواستبداد سے نجات دلانے کیلئے اقوام متحدہ جنرل اسمبلی اور سیکورٹی کونسل جیسے عالمی اداروں کو اپنا موثر کردار ادا کرنا ہو گا ۔ دونوں رہنماءوں کی ملاقات کے دوران کرپشن کے خاتمے اور لوٹی ہوئی قومی دولت کو واپس لانے کیلئے بین الاقوامی سطح پر تعاون کے فروغ کی ضرورت پر زور دیا گیا وزیر خارجہ نے صدر اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کو مشرق وسطی میں کشیدگی کم کرنے کیلئے پاکستان کی جانب سے کی جانے والی کاوشوں سے بھی ;200;گاہ کیا ۔ ھارت مقبوضہ جموں و کشمیر میں گذشتہ پانچ ماہ سے ظلم و بربریت کا بازار گرم کیے ہوئے ہے،بھارت مقبوضہ جموں و کشمیر میں حالات کے معمول پر ہونے کا جھوٹا دعوی کر رہا ہے جبکہ حقیقت بالکل اس کے برعکس ہے ۔ پاکستان خطے ، افغانستان میں امن کا خواہاں ہے پاکستان نے جو مصالحانہ ذمہ داری اٹھائی تھی اسے با عافیت نبھایا ہے خواہش ہے کہ خطے میں امن قائم ہو اور اس کا فائدہ افغانستان کو بھی ہو اور پاکستان کی عوام کو بھی ہو ۔ دوسری جانب ترجمان دفتر خارجہ عائشہ فاروقی نے کہا ہے کہ سلامتی کونسل ارکان نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر اظہار تشویش کیا ہے عالمی برادری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر نوٹس اور مودی سرکار پر دباءو ڈالے ۔

پاک فوج میں تقرریاں و تبادلے

پاک افواج میں تقرریاں و تبادلے ایک روٹین کا مسئلہ ہے ۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کو تبدیل کردیا گیا ہے اورمیجر جنرل آصف غفور کو اوکاڑہ میں پیشہ وارانہ خدمات سرانجام دینے کیلئے تعینات کیاگیا ہے ۔ نئے ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابرافتخار اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں کے حوالے سے یکتا ہیں ، ان کی اسی اہلیت کو مدنظر رکھتے ہوئے ترجمان پاک فوج مقرر کیا ہے ۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق پاک فوج میں تقرر و تبادلے کئے گئے ، میجرجنرل ;200;صف غفور کو عہدے سے ہٹا کر میجر جنرل بابرافتخار کو نیا ڈی جی ;200;ئی ایس پی ;200;ر تعینات کردیا گیا جبکہ میجر جنرل ;200;صف غفور کو جی او سی اوکاڑہ مقرر کیا گیا ہے ،چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے تقرر و تبادلوں کی منظوری دیدی ہے ۔ نئے تعینات ہونے والے ڈی جی آئی ایس پی آر میجرجنرل بابرافتخار اس سے قبل اہم عہدوں پرفراءض سر انجام دے چکے ہیں ، انھوں نے شمالی وزیر ستان میں بھی فراءض انجام دیے ہیں ، میجرجنرل بابرافتخار نے مارچ 1990 میں پاک فوج میں کمیشن حاصل کیا، وہ کمانڈاینڈاسٹاف کالج کوءٹہ سے گریجویٹ ہیں ۔ نئی ذمہ داری سے قبل میجرجنرل بابرافتخار;200;رمڈڈویژن کی کمانڈ کر رہے تھے جبکہ وہ پاکستان ملٹری اکیڈمی،نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں فراءض انجام دے چکے ہیں ۔ ، میجر جنرل بابر افتخاراسٹاف اور کمانڈ کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں ۔