- الإعلانات -

اللہ کی خوشنودی حاصل کرو

جب ہم قرآن کا مطالعہ کرتے ہیں تو یہ بات ہم پر عیاں ہوتی ہے کہ اللہ کی طرف سے جتنے بھی پیغمبر ;174; اللہ کی مخلوق، یعنی حضرتِ انسان کی فلاح بہبود کےلئے اللہ کی طرف سے آئے، ہر پیغمبر ;174; نے وقت کے لوگوں کو کہا کہ میں جوتمہاری اصلاح کیلئے تکلیفیں برداشت کر رہا ہوں مجھے اس کام کےلئے تم سے کوئی اجر نہیں چاہیے ۔ یہی بات جماعت اسلامی اپنے کارکنوں کو سمجھاتی ہے کہ صرف اللہ کی خوشنودی کےلئے سیاست کرو اپنی ذات کےلئے نہیں ۔ پیغمبر ;174; کہتا ہے کہ میرا اجر میرے رب کے پاس محفوظ ہے ۔ الحمد اللہ جماعت کے ممبران اقتدار میں رہ کراپنا صادق اورصادق ہونا ثابت کر چکے ہیں ۔ پیغمبر ;174; کہتا ہے کہ اللہ نے مجھے تمہاری اصلاح کےلئے بھیجا ہے ۔ میرا کام اللہ کے احکاما ت تمہارے تک پہنچانے ہیں ۔ میں بھی اللہ کے احکامات پر عمل کرتا ہوں تم بھی اللہ کے احکامات پر عمل کرو ۔ جماعت اسلامی لوگوں کو اپنی جماعت کی طرف یا اپنے لیڈروں کی طرف نہیں بلاتی بلکہ صرف اللہ کی طرف بلاتی ہے ۔ اللہ کے حکم کے مطابق ہمارے پیارے پیغمبرحضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں اسلامی، فلاحی، جہادی ریاست قائم کر کے دکھائی ۔ جس کے حاکم خود رسول;248;اللہ تھے ۔ داخلہ ، خارجہ، مقننہ، امور ریاست کے سارے محکمے رسول;248; اللہ کے پاس تھے ۔ ریاست کا خزانہ ریاست کی مخلوق کا تھا ۔ رسول;248; اللہ کی مدینہ کی ریاست میں جنتا بھی مال دولت آتی تھی، وہ اسی دن حقداروں کے درمیان تقسیم کر دی جاتی تھی ۔ پانچ وقت نماز کا نظام قائم تھا ۔ مسلمانوں کی معاشی فلاح و بہبود کےلئے زکوٰۃ کا نظام قائم تھا ۔ انسانوں کے درمیان عدل و انصاب کےلئے تعزیرات کا نظام قائم تھا ۔ انسان ہونے کے ناطے سارے انسان برابر تھے ۔ لوگ خوشحال تھے ہر طرف امن و امان تھا ۔ ریاست عوام کاخون نہیں نچوڑتی تھی بلکہ عوام کی خیر خواہ تھی ۔ سید مودودی;231; نے جماعت اسلامی کے قیام سے پہلے محسوس کیا کہ ایسا نظام حکومت دنیا میں کہیں بھی قائم نہیں ۔ اگرپاکستان میں ایسا نظام قائم کرنے کی کوشش کی جائے تو انسانیت دکھوں سے بچ جائے ۔ اسی سوچ کے مطابق جماعت اسلامی کی بنیاد رکھی گئی ۔ جماعت کا کارکن بننے کےلئے سخت معیا رکھا ۔ جماعت کے کارکن لوگوں کے مسائل فی سبیل اللہ حل کرانے کی کوشش کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہ میں اس کا اجر عوام سے نہیں بلکہ اپنے اللہ سے چاہیے ۔ جماعت اسلامی نے افغانستان کے جہاد میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیاجس سے چھ اسلامی ریاستیں آزاد ہوئیں ۔ مذہب بیزارروس ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا ۔ بنگلہ دیش بنانے میں بھارت کی مدد کرنے کا بدلہ بھی لے لیا ۔ کشمیر ،بوسینیا، چیچنیا،برما،دنیا میں ہر جگہ مسلمانوں کی مدد کی ۔ خود پاکستان میں قدرتی آفتوں میں مسلمان بھائیوں کی مدد کی ۔ جہاں تک کشمیر کا تعلق ہے تو کشمیر پاکستان کا فطری،اخلاقی، قانونی ،تہذیبی ۔ ثقافتی ، معاشرتی اور خود بھارت کے تسلیم شدہ تقسیم ہندکے بین الا القوامی فارمولے کے تحت پاکستان کا حصہ ہے ۔ جب کشمیریوں نے جنگ آزادی شروع کی تو بھارت کے وزیر اعظم جواہر لال نہرو ،جنگ بندی کےلئے اقوام متحدہ گئے اور کشمیریوں کو بین لاقوامی طور پر تسلیم شدہ حق خوداداریت دینے کا وعدہ اقوام متحدہ میں کیا ۔ مگر وزیر اعظم بھارت بعد میں اپنے وعدے سے مکر گئے ۔ اب بھارت کی ہٹلر طرز کی قومی برتری کی بنیاد پر قائم ، دہشت گرد تنظیم آر ایس ایس کے بنیادی رکن اور بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی نے ان خصوصی دفعات کو غیر آئینی طور پر ختم کے کے کشمیر کو دو حصوں میں بانٹ کر، عملاًکشمیر کو بھارت میں ضم کر لیا ۔ کشمیری تکمیل پاکستان کی جنگ ۷۴۹۱ء سے لڑ رہے ہیں ۔ کشمیری ا پنے شہیدوں کو پاکستان کے قومی سبز جھنڈے میں لپیٹ کر دفناتے ہیں ۔ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں ظلم کے پہاڑ توڑے ہیں ۔