- الإعلانات -

انتہا پسند ہندو محبت کی نشانی ’تاج محل‘ کے درپے

بھارتی سپریم کورٹ کی مہربانی سے بابری مسجد کا فیصلہ ہنددوَں کے حق میں کیا آیا وہ تو اب ہر معاملے میں شیر ہوگئے ہیں ، خصوصاً مسلمانوں کی مخالفت میں ہر جائز و ناجائز کام کرنا چاہتے ہیں ۔ ان کی تشنہ خواہشات ایک ایک کر کے سامنے آنے لگی ہیں ۔ مسئلہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ ہو یا شہریت کا ترمیمی بل،ان کے پس منظر میں ہر جگہ آپ کو مسلم دشمنی ہی ملے گی ۔ بابری مسجد کو مندر بنانے کے بعد اب انتہا پسند ہندووَں کا اگلا اقدام تاج محل کو مسمار کر کے اس مندر کی شکل دینی ہے ۔ جس کےلئے انتہا پسند بی جے پی کے رکن اسمبلی وینے کتیار نے دعویٰ کیا ہے کہ جلد ہی تاج محل کو گرا کر تیج مندر بنایا جائےگا ۔ ان کے دعویٰ کے مطابق تاج محل بھی بابری مسجد کی طرح ایک مندر کو گرا کر اس کی باقیات پر تعمیر کیا گیا ہے ۔ لہٰذا اس کو اصلی شکل یعنی مندر کی شکل میں تعمیر کیا جائےگا ۔ کتیار بابری مسجد کی شہادت میں کردار ادا کرنے کے مقدمے کا سامنا بھی کررہے ہیں ۔ اکتوبر 2017 میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ تاج محل شیو مندر کو گرا کر بنایا گیا ہے تاہم اب 2 سال بعد تاج محل کا معاملہ پھر سے اٹھا دیا ہے ۔ ونے کتیار کے مطابق تاج اور تیج (مندر) میں زیادہ فرق نہیں ہے ۔ یہ ہمارا مندر ہے اور بہت جلد تاج محل کو بھی مندر میں تبدیل کردیا جائے گا ۔ بی جے پی رہنما ونے کتیار نے ہرزہ سرائی کی ہے کہ چاہے کاشی وِشراتھ کا مندرہو، چاہے متھرا کا کشی جن مندر ہو، چاہے ایودھیا کے رام مندر کا سوال ہو، انہیں مغلیہ بادشاہوں نے ہی توڑا ہے ۔ یہاں تک کہ جو تاج محل ہے، جس کو سنگیت سوم نے بولا ہے ۔ وہاں پر دیوی دیوتاؤں کی ساری نشانیاں ہیں ۔ کچھ ہندوانتہا پسند وکلا نے دعویٰ کیا کہ یہاں کسی زمانے میں مندر تھا جس پر تاج محل کی تعمیر کی گئی لیکن بھارت کی حکومت نے ان کے دعوی کے برخلاف عدالت کو بتایا ہے کہ اسے اس بات کے کوئی شواہد نہیں ملے کہ آگرہ میں واقع تاج محل ماضی میں ہندووَں کا کوئی مندر تھا ۔ اس سے قبل بھارتی عدالت میں ہندو انتہا پسند وکلا نے دعویٰ کیا تھا کہ تاج محل کو ہندو مندر قرار دیا جائے اور ہندووَں کو وہاں پوجا کی اجازت دی جائے کیونکہ یہ شیو مندر ہے ۔ اس سے قبل بھارت کے محکمہ آثار قدیمہ نے بھی اس دعوے کو مسترد کر دیا تھا کہ آگرہ میں موجود 17 ویں صدی کے مغل فن تعمیر کے اس نمونے کا ہندووَں سے کوئی تعلق ہے ۔ حقیقت میں ایک متنازع ہندو تاریخ دان نے کچھ عرصہ قبل یہ بحث شروع کی تھی جس میں اس کا دعویٰ تھا کہ فن تعمیر کا یہ نمونہ دراصل ایک قدیم مندر کا حصہ ہے جو ہندو راجہ جے سنگھ نے بنوایا تھا ۔ انتہا پسند ہندووَں کی خواہش ہے کہ مسلمان حکمرانوں کے دور میں فنی تعمیرات کے نادر نمونوں اور شاہکاروں کو ختم کر دیا جائے یا ان کی ہیءت بدل دی جائے لہٰذا دہلی کالال قلعہ ہویابابری مسجد، گیان وانی مسجد ہو یا تاج محل ، بھارت کے جنونی ہندوہروہ نشانی مٹانے پرتلے ہیں جووہاں مغل بادشاہوں نے تعمیر کرائی ۔ تاج محل کی تاریخی حیثیت بدلنے کی کوششوں میں بھارتی حکمران جماعت بی جے پی سب سے آگے ہے ۔ اس حوالے سے بی جے پی صدر لکشمی کانت واجپائی کا ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہنا ہے کہ مغل حکمران شاہ جہاں نے اس عمارت کی تعمیر کےلئے کچھ زمین ہند راجہ جے سنگھ سے خریدی تھی ۔ واجپائی کا دعویٰ ہے کہ اس سے متعلق دستاویزات اب بھی موجود ہیں ۔ تاج محل میں پانچ وقت کی نماز پڑھنے کا مسلمانوں کا خواب کبھی پورا نہیں ہوپائے گا ۔ تاج محل کا نقشہ جس طرح سے بنایا گیا ہے ہندو اسے دید مندر کا حصہ قراردیتے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ تاج محل کے مغرب کی سمت جو مسجد ہے وہ تو سمجھ میں آتی ہے لیکن مشرق میں جو مسجد نما عمارت ، جسے نقار خانہ کہا جاتا ہے ۔ اس کی موجودگی کے بارے میں سوال اٹھائے جا رہے ہیں ۔ ہندووَں کا کہنا ہے کہ مقبروں میں نقار خانے نہیں بنائے جاتے ۔ نقار خانے پرانے زمانے میں ہندو مندروں میں ہی بنائے جاتے تھے ۔ ان کا کہنا ہے کہ تاج محل کی عمارت جو عربی آیات کندہ ہیں ۔ وہ بھی مندر کے نقش ونگار کو چھپانے کےلئے بنائے گئے ہیں ۔ تاج محل میں ایک کنواں بھی ہے جس کے بارے میں ہندو انتہا پسندوں کا کہنا ہے کہ پرانے دور میں مندروں میں ایسے کنویں بنائے جاتے تھے تاکہ خزانہ چھپایا جاسکے ۔ اس طرح کے اوٹ پٹانگ دعوووَں کے ذریعے تاج محل کو مندر قرار دینے کی سازش کی جارہی ہے ۔ حالانکہ دنیا جانتی ہے کہتاج محل نئی دہلی سے دو سوکلومیٹر دور آگرہ میں موجود سفید سنگ مرمر سے تیاریہ شاندارمقبرہ سترہویں صدی میں مغل بادشاہ شاہ جہاں نے اپنی بیوی ممتاز محل کی یاد میں تعمیر کروایا تھا ۔ ممتاز محل کا انتقال 1631ء میں زچگی کے دوران ہوا تھا ۔ خود مغل شہنشاہ شاہجہان کو بھی ان کے انتقال کے بعد تاج محل ہی میں دفن کیا گیا تھا ۔ تاج محل کا شمار دنیا کے 7 عجوبوں میں ہوتا ہے اور یہاں ہر سال اوسطا 60 لاکھ سیاح آتے ہیں لیکن گزشتہ سال اتر پردیش حکومت کی جانب سے سیاحت کے حوالے سے شاءع کتاب میں اس کا ذکر بھی نہیں کیا گیا ۔ تین صدیاں بیت جانے کے بعد بھی محبت کی یاد گاراور فن تعمیر کا دلکش نمونہ تاج محل اب بھی لوگوں کے ذہنوں میں ترو تازہ ہے جس کی تعمیر کبھی بھی متنازعہ نہیں رہی ۔ فارسی زبان میں ایسی تاریخوں کی کمی نہیں جس میں اس عمارت کی تفصیلی کیفیات اور بنانے والوں کے نام تک درج ہیں ۔ اس ضمن میں عدالت نے اس استدال کو مسترد کردیا ۔ ہندو فرقہ پرستوں کا دعویٰ ہے کہ یہ کوئی سو پچاس سال پہلے کی کہانی نہیں ۔ اب ہندووَں کے دعوے کو دیکھا جائے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ شیوا مندر تھا تو اس کے دعویٰ میں اربوں ہندووَں میں سے صرف چند انتہا پسند ہی کیوں واویلا مچا رہے ہیں ۔ تاج محل شاہ جہاں کی محبت کی نشانی کے طور پر زندہ ہے اور تا قیامت رہے گا ۔ چاروں کے چاروں محل کی بنیاد سے اٹھائے گئے ہیں اور ایسا زلزلے کہ ممکنہ نقصانات سے تحفظ کے لیے کیا گیا ۔ اگر کبھی کوئی ہولناک زلزلہ آیابھی تو صرف مینار ہی گرے گا باقی عمارت محفوظ رہے گی ۔ اس وقت کے ماہر تعمیرات نے اس تعمیر میں فیثا غورث کا فارمولا اپنایا اور توازن کے تمام ریاضیاتی فارمولوں سے استفادہ کیا ۔ تاج محل ایک عمارت نہیں بلکہ ایک عجوبہ ہے ۔ اگر تمام دن اس کو غور سے دیکھیں تو اس کی عمارت کے رنگ بدلتے محسوس ہوں گے ۔ صبح سویرے اس کی عمارت کا رنگ گلابی دکھائی دیتا ہے، جوں جوں شام ہوتی ہے تو یہ دودھیا سفیددکھائی دیتا ہے اور چاندنی رات میں سنہری دکھائی دیتا ہے ۔ محل وقوع کے اعتبار سے اس کی پشت پر دریائے جمنا بہتا ہے اور سامنے کی طرف کرسی کے نیچے ایک حوض ہے جس میں فوارے باغ بھی ہیں ۔ کہنے کو تو بھارتی تاج محل کو دنیا کا عجوبہ قرا ر دیتے ہیں اور اس کی سیاحت کی وجہ سے لاکھوں روپے بھی کمار ہے ہیں مگر ابھی تک اس کی حفاظت کا کوئی خاطر خواہ انتظام نہیں کیا گیا ۔ تاج محل کی سنگ مرمر سے بنائی گئی عمارت اس علاقے میں اسموگ اور شدید نوعیت کی ماحولیاتی آلودگی کی وجہ سے پیلی پڑتی جا رہی ہے ۔ اب تک آثار قدیمہ کی حفاظت اور تحفظ ماحول کے لیے سرگرم بہت سی تنظیموں کی یہ کاوشیں بھی ناکام ہی رہی ہیں کہ آگرہ شہر میں تاج محل کے ارد گرد کے علاقوں میں بہت زیادہ فضائی آلودگی پھیلانے والی صنعتیں بند کی جائیں ۔ اس پس منظر میں بھارتی سپریم کورٹ نے اب اتر پردیش کی حکومت سے یہ تفصیلات طلب کر لی ہیں کہ اگر اس نے تاج محل کی دیرپا بنیادوں پر حفاظت کا کوئی منصوبہ بنا رکھا ہے، تو عدالت کو اس کی تفصیلات سے آگاہ کیا جائے ۔ عدالت نے ریاستی حکومت سے یہ بھی کہا ہے کہ وہ ایک ایسا ’وژن ڈاکومنٹ‘ بھی تیار کرے، جس میں یہ بتایا گیا ہو کہ وہ عجائبات عالم میں شمار ہونے والی اس عمارت کی حفاظت کےلئے کیا کچھ کرنا چاہتی ہے ۔ حکومت کو یہ رپورٹ ایک ماہ کے اندر اندر سپریم کورٹ میں پیش کرنا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ تاج محل کے ارد گرد کے علاقے میں بہت سے نئے ہوٹلوں کی تعمیر کے علاوہ چمڑہ سازی کے بہت سے نئے کارخانے بھی کیوں بنائے جا رہے ہیں ۔ جس سے آلودگی میں اضافہ ہورہا ہے ۔ صرف آلودگی ہی اس کےلئے نقصان دہ نہیں بلکہ خود دریائے جمنا کا آلودہ پانی بھی تاج محل کو نقصان پہنچا رہا ہے ۔ بہرحال ہندوستان کے محکمہ آثار قدیمہ نے پہلی بار تسلیم کیا ہے کہ تاج محل مندر نہیں بلکہ اسلامی تاریخی عمارت اور مقبرہ ہے ۔ ہندوستانی آثار قدیمہ حکام نے عدالت میں اس بات کے ثبوت میں 1920ء میں جاری کردہ سرکاری نوٹیفیکشن بھی پیش کیا جس میں تاج محل کی حفاظت کو یقینی بنانے کا حکم دیا گیا تھا ۔ بھارتی حکومت ہر سال تاج محل سے 50 کروڑ سے زائد کی آمدنی حاصل کرتی ہے ۔ اسی لیے انتہا پسند ہندو تنظی میں اس پر نظریں گاڑ کر بیٹھی ہوئی ہیں اور اس کوشش میں ہیں کہ کسی طرح تاج محل ان کو مل جائے تو نہ صرف سیاحوں کی آمدنی ان کے ہاتھ لگے گی بلکہ دولت مند ہندو،ہندوعقیدت مند، ذات پات، کےلئے اربوں روپے فراہم کریں گے ۔