- الإعلانات -

رب رحمان کے مہمان

لا تعداد سفر ناموں پر اپنی نگاہ صرف ورق گردانی اور کتابوں سے گرد اڑاتی گزری ہے مگر بیت اللہ شریف اور روضہ رسول ﷺ کے زیر سایہ بیٹھ کر لکھا گیا سفر نامہ حجاز کا یہ اعجاز ہے کہ وہ اپنی روحانی قوت کی بنا پر پوری توجہ اپنی طرف مرکوز کرتا ہوا آدھا حج او رپورا عمرہ کرادیتا ہے ۔ یہ اعجازاور کمال اس ہستی کے قلم کے ہنر کا ہے جس کا ہوش، خرد، جان و دل سارے مدینہ کی گلیوں اور دل و نگاہ گنبد بے در کی بلندیوں پر پہنچے ہوئے ہیں ۔ ڈاکٹر آصف محمود جاہ کی اور بھی تصانیف عالمی سطح پر قارئین سے خراجِ تحسین وصول کر چکی ہیں مگر اس کی جزا کی سزا واری کا آصف جاہ قارئین سے بالکل تقاضا نہیں کرتا اس کا تعلق اللہ کعبہ اور بندہ ہی کے درمیان ہے ۔ بیت اللہ اور روضہ رسول کی روح پرور چھاءوں تلے بیٹھ کر یہ سفر نامہ نہیں بلکہ آخرت کا زادراہ ہے ۔ تکلفات سے بالکل پاک اپنے اندر کے انسان کو جس مقام پر موجود پاکر مصنف کی جو کیفیت ہوگی اس کا تصور ہم نہیں کرسکتے جس مقام پر جنید و بایزید نفس گم کردہ آتے تھے اُسی مقام پر آصف جاہ نے نفسِ گم کردہ ہوکر یہ سفر نامہ لکھا ہے ۔ کیونکہ محبت کی زباں اور جذبات کے تاثرات کسی اصطلاحی زبان کے محتاج نہیں ہوتے ۔ یہ سفر نامہ بے مثال بے نظیر اور لاجواب ہے ۔ ایسا لکھاری اور ایسا سفر نامہ نگار آپ کو پوری دنیا میں چراغ رخ زیبا لے کر ڈھونڈنے نکلو گے تو نہ پاسکو گے ۔ آپ کی مصروفیت کا یہ عالم ہے کہ ایک طرف تھر کے پیاسوں کے لئے آب شیریں کی سہولت فراہم کرنا اور دوسری طرف دنیا کے کسی بھی خطے میں کوئی ناگہانی آفات کا نزول ہورہا ہو آپ اُن کا ورود دیکھ رہے ہوں گے ۔ اللہ کعبہ اور بندہ کے کئی نسخے شاءع ہوچکے ہیں او راس کے بعد رب رحمان کے مہمان کا آپ کی روحانی قوت کا اعجاز ہے ۔ انسانوں کی فلاح کے کثیر المقاصد منصوبہ جات کو پایہَ تکمیل تک پہنچانے کے ساتھ ساتھ سفری روداد پر مبنی روحانی اور مادی تجربات بھی اہل ذوق و شوق سے اشتراک کرتے ہیں ۔ رب رحمان کے مہمان بیت اللہ اور مسجد نبوی کے میناروں کے زیر سایہ لکھا گیا ہے اور اس کی اہمیت، توقیر اور تطہیر کئی گنا بڑھ جاتی ہے ۔ ایمان افروز، دل افروز اور چشم تر افروز سفر نامہ حج نے مسلمانوں کے سارے رنج دور اور اپنے رب رحمان کے قریب کر دیا ہے ۔ اتنا موَثر اور بلیغ ترین سفر نامہ آپ کی نظروں سے پہلے نہیں گزرا ہوگا ۔ اسلام کے اس اہم رکن کو جس سلیقے اور قرینے سے کسی منصوبہ بندی اور پیشگی تیاری کے بغیر لکھا ہے یہی وجہ ہے کہ دل میں اترتا چلا جاتا ہے اور اس سفر نامے کو آپ رسمی یا اپنا انداز تحریر حسن تحریر کا محتاج ہو ۔ مصنف اس گئے گزرے دور کے زندہ ولی اور بے شمار محاسن کا مجموعہ ہیں ۔ حج کا سفر اور اس کی تکلیفوں کو کمال محبت اور عشق کے جذبات کی سیاہی میں ڈبو کر قلم کا سر قلم کرکے اپنے ہاتھوں کو قلم ہونے سے بچایا ہے اور بیت اللہ شریف اور روضہ َ رسول کے سائے تلے دست دعا پوری امت مسلمہ کے لئے دراز کرتے ہوئے پاکستان کی تعمیر و ترقی کے لیے دعائیں کی ہیں ۔ یہ کتاب اُن لوگوں کے لئے ارمغانِ حجاز ہے جن کے نصیبوں میں زیارت روضہَ رسول کی بشارت موجود ہے ۔ رب رحمان کے اس مہمان نے انسان کو اس کی انسانیت کی عظمت سے روشناس کروایا ہے ۔ ڈاکٹر آصف محمود دکھی انسانوں کے دردکا درماں بن جاتے ہیں او رپھر آپ کے درد کا درماں کون بنے گا ۔ اللہ کے بندوں سے پیار کرنے والے پر اللہ کا پیار ہمیشہ غالب رہا ہے ۔ اس کتاب کا انتساب اس ہستی کے نام کیا ہے جو وجہ َ تخلیقِ کائنات ہیں ۔ جس ہستی کے حضور جنیدبایزید نفس گم کردہ آتے ہیں

لے سانس بھی آہستہ کہ نازک ہے بہت کام

آفاق کی اس کارگہہ شیشہ گری کا

جنگ اُحد کے شہدا کے اسمائے گرامی بھی اس انتساب کا حصہ ہیں جنہوں نے اُحد پہاڑ کے دامن میں اپنی جانیں حضور ﷺ پر نچھاور کر دیں ۔ اسلم کمال کاکمال ہنر بھی اس کتاب کے تعارف میں بولتا ہے ۔ فرشتہ سیرت استاد ذی وقار محمد بشیر احمد کے سعادت مند فرزند دلبند کے تعارف میں مصورِ پاکستان اسلم کمال نے کوئی مصوری نہیں کی بلکہ حقیقی تصویر پر مو قلم سے نہیں صرف قلم کے ذریعے کی ہے ۔ مولانا طارق جمیل کی تحریر کا انعکاس جمیل ڈاکٹر آصف محمود جاہ کے سفر حج کا پتہ دیتا ہے ۔ وہ یوں رقم طراز ہیں :’’حج کا سفر اسلام کا خوبصورت ترین فریضہ ہے ۔ یہ دراصل سفر عشق ہے ۔ اس سفر کا حقیقی مزاوہی لے سکتا ہے جس میں رنگِ عشق ہو اور ڈاکٹر آصف جاہ کی تحریر میں وہ رنگ نمایاں نظر آتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ اسے قارئین کے لیے مفید اور مشعل راہ بنائے‘‘ ۔ ڈاکٹر سید سلمان ندوی شکاگو میں پروفیسر آف اسلامک سٹڈیز یونیورسٹی آف ڈبلن سے یوں گوہر فشاں ہیں : ’’ فریضہ َ حج ایک ایسا فریضہ ہے جس میں اسلام کی بنیادی تعلیمات کا ہر جزو شامل ہوتا ہے ۔ جس کو یہ موقع مل جائے اور فریضہ حج ادا کرے وہ خوش نصیب ہے ۔ بہت سے حضرات نے اپنے سفر حج کے تاثرات لکھے ہیں ۔ ہر شخص ذاتی قلبی تاثرات کے تحت اپنے سفرحج کو بیان کرتا ہے ۔ ڈاکٹر آصف جاہ کی تحریر بھی ان کے تاثرات کا آئینہ ہے ۔ اللہ تعالیٰ اس تحریر کو دوسروں کے لیے بھی نفع بخش بنائے‘‘ ۔ عرفان الحق المعروف بابا مسجد ابراہیم نزد ڈگری کالج ٹاہلیانوالہ جہلم میں اپنی دنیا آپ بسائے ہوئے ہیں اور دنیا سے بہت دور اپنے پیچھے پوری دنیا لگائی ہوئی ہے حق کے اس عرفان کو خلق خدا بابا کے نام سے یاد کرتی ہے وہ بھی ڈاکٹر صاحب کو ایک مخلص انسان کا خطاب دیتے ہیں اور ایک مخلص انسان کے حج کی روداد یو ں بیان کرتے ہیں :’’رب رحمان کے مہمان ‘‘ کوئی روایتی قسم کا سفر نامہ حج نہیں ہے ۔ یہ ایک ایسے مخلص انسان کے حج کی روداد ہے جس نے قدم قدم پر اپنے رب رحمان کی محبت کے احساس کو اپنے دل کے قریب تر پایا ۔ جس نے رسول پاک ﷺ سے اپنی عقیدت کا اظہار لفظوں سے کم او راشکوں سے زیادہ کیا ہے ۔ یہ کتاب پڑھنے والوں کے لیے ایک ایسا تحفہ ہے جو اِن کے دلوں میں اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ کی محبت کے احساس کو نئے سرے سے بیدار کرکے ان کو خانہ کعبہ اور روضہ رسول ﷺ کی زیارت کے لیے بے تاب کردے گی ۔ یہ کتاب دماغ سے نہیں بلکہ دل سے لکھی گئی ہے‘‘ ۔ کتاب کا دیباچہ مصنف کے قلم ، حلم اور علم و عرفان کے حسین امتزاج کا شہکار ہے ۔ یہ دیباچہ آپ نے 15 ذوالحج 1440ھ 17 اگست 2019 مسجد نبوی ﷺ مدینہ منورہ سعودی عرب کی مقدس سر زمین پر لکھا ۔

جسے چاہا در پہ بلا لیا جسے چاہا اپنا بنا لیا

یہ بڑے کرم کے ہیں فیصلے یہ بڑے نصیب کی بات ہے