- الإعلانات -

آئی ایس پی آر ۔ ملکی افواج کے ترجمان ادارے کی کامیابیاں

ہ میں تو معلوم ہے دنیا کوہم یہ باورکرانا چاہتے ہیں کہ’’مذہبی شدت پسندی اورجنونی عسکریت پسندی کے جس تباہ کن عفریت کا پاکستان کو سامنا کرنا پڑا یہی نہیں بلکہ بھپرتے ہوئے اْس عفریت کی تکہ بوٹی کرنے میں ہماری مسلح افواج نے اپنے عوام کے بھروسہ پر اوراْن کے بھرپور اعتماد کی طاقت پر یہ جنگ بڑی بے جگری سے لڑی ہے، جو اب بھی دیگر فوجی آپریشنز کے بعد موجودہ ’’آپریشن ردالفساد‘‘ کے نام سے ملک میں جاری وساری ہے انشا اللہ پاکستانی افواج اور عوام دہشت گردی کی ہرقسم کے دہشت گردوں کو عبرتناک شکست دے کر سرخرو ضرور ہونگے‘‘ اسی طرح کی بہت ہی حساس اوراطلاعاتی گفتگوکرنے‘ٹوئیٹس کرنے اور اپنے جرات مندانہ‘ٹھوس‘موثراوربے باک مدلل بیانات کے بعد آنے والے تلخ و ترش سوالات کے تحمل مزاجی اورمدبرانہ ٹھہراوَ کے لب ولہجہ میں جوابات دینے میں ایک یادگار تاریخ رقم کرنے والے میجر جنرل آصف غفوربطورڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر اپنی تین سال اور ایک ماہ کی بہترین خدمات انجام دینے کے بعد معمول کے عسکری قوانین کے مطابق اب اوکاڑہ چھاونی میں انفنٹری ڈیو کی کمانڈنگ پوسٹ پرتعینات کردئیے گئے ہیں ، بطورنئے ڈی جی آئی ایس پی آرمیجر جنرل بابر افتخارکے بارے میں سنا گیا ہے کہ وہ بھی اپنے پیشرو کی طرح صاحب مطالعہ شخصیت ہیں ، یقینا اس میں رتی برابر کسی کو شک وشبہ نہیں ہونا چاہیئے کہ میجرجنرل بابرافتخار بھی عین اْن ہی پیشہ ورانہ خطوط پراپنے عسکری فراءض نبھائیں گے جو میجر جنرل آصف غفور نے فوج کے تعلقات عامہ کے اس اہم شعبہ میں ثبت کیئے جنہیں دشمن بھی یاد کرکے اب تک اندازہ نہیں لگا سکا کہ اْسے کتنے بڑے بڑے نقصان پہنچ چکے ہیں ، پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے بطورسربراہ جنرل آصف غفور کا شمار اْن سربراہوں میں سرفہرست ہوگا جنہیں اندرون ملک ہی نہیں بلکہ بیرون ملک اوردشمن ملک بھارت میں بھی پسند کیا جاتا رہا ہے، میجرجنرل غفور نے بہت ہی کمال ہنرمندی کے نظم وضبط کی اجتماعی سوچ کے ساتھ اپنا عہد گزارا ہے، یقینا ہماری اس رائے سے اْن کے ساتھ اُن کے اسٹاف ممبران کام کرنے والے عسکری اور سویلین حکام ضرور اتفاق کریں گے کہ میجر جنرل آصف غفور نے بھارتی فوج کو چین کی نیند سونے نہیں دیا اور اُن ہی نہیں بلکہ ملک کے ازلی وابدی دشمنوں کے اْن آلہ کاروں کو ہمیشہ زچ کیئے رکھا جو کسی بھی دنیاوی لالچ کے عوض فوج پر تنقید کرتے رہے اور نام کے ساتھ بہت کچھ لیتے رہے افغانستان سے ہدایات لینے والے اور’’را‘‘سے مالی مفادات کے بدلے ملک کو عدم استحکام کرنے میں پہل کرنے والوں کو جنرل غفورنے ڈنکے کی چوٹ پراپنی اس وزنی منطق اور دلیل سے بے بس کردیا تھا بقول جنرل غفورکے’’کسی نجی مسلح گروہ کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ ایک آزادوخود مختار مملکت پاکستان کے نظم اجتماعی کے آئینی حدو اختیارکو چیلنج کرئے قوم کی طرف سے جمہوری فیصلے کا حق تفویض کیے جانے کے بغیر ازخود کوئی فیصلہ کرکے اس کے پُرخطر نتاءج وعواقب کی ذمہ داری خود قبول نہ کرئے، بلکہ قوم کے سرمنڈھ دے‘‘سبکدوش ہونے والے ڈائریکٹر جنرل جنرل غفورنے یہاں ملک دشمنوں کے ملکی حماءتیوں کوبارہا دعوت فکر دی کہ’’ہرمحب وطن کا یہ پہلا فرض بنتا ہے کہ وہ اپنے آپ کوہمہ وقت گہرے طوراسی فکر میں غوطہ زن رکھے اْسے چاہیئے کہ ہم ایسے وہ قدم کون سے اْٹھائیں کہ ہمارا ملک پاکستان مزید مضبوط ہوسکے،معاشی اعتبار سے مستحکم ہوسکے اور یہ کیسے ہوگا مضبوط اور ترقی یافتہ جمہوریت کی بدولت ہی پاکستان اس خطہ میں امن وآشتی کا گہوارہ بن سکتا ہے اور یاد رہے کہ پندرہ دسمبر دوہزار سولہ کو میجر جنرل آصف غفورڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر کے عہدے پر فائز ہوئے تھے تین سال ایک ماہ تک اْنہوں نے اہم عہدے پر رہ کر ملکی افواج کی ترجمانی کے فراءض ادا کیئے نہ صرف عسکری حلقوں میں مقبولیت حاصل کی بلکہ میجر جنرل آصف غفورنے عسکری اطلاعات کی دنیا میں پہلی بار مقبوضہ کشمیر میں ایک ’’سیلیبریٹی‘‘ کی سی مقبولیت کی انتہاءوں کو جا چھوا تھا کچھ لوگ جو غیروں کے اشاروں کو کٹھ پتلی بنے رہنے کوترجیح دیتے ہیں وہ اور کچھ نہیں تو لے دیکے ہمہ وقت آئی ایس پی آر پر اور اس اہم عسکری دفتر کے سربراہ کو بلاوجہ ہدف تنقید بنائے رکھتے ہیں ، جان بوجھ کر مگرتسلیم نہیں کرتے کہ’’ خطہ میں عسکری اطلاعات کی جنگ میں آئی ایس پی آرنے تاریخ سازجیت حاصل کی اورملکی آئی ایس پی آر کل بھی بھارتیوں کے اعصاب پر سوار پر تھا اور ہمیشہ سوار رہے گا ،مقبوضہ کشمیر میں میجرجنرل آصف غفور کے پوسٹرز اور ہینڈ بلزکا آویزاں ہونا بہت غیرمعمولی واقعہ ہے اْن پوسٹرز اورہینڈ بلز پر نمایاں رنگوں میں لکھا گیا تھا’’ کشمیریوں کیلئے آخری گولی اور آخری سپاہی تک یہ لڑائی جاری رہے گی‘‘اوریہ نعرے بھی لکھے ہوئے تھے کہ ’’کشمیر کے لوگ مل کر بھارت کو جنت نظیر وادی سے نکال دیں گے‘‘بھارتی سیکورٹی فورسنزسمیت گودی میڈیا بھی ان بینرز اورپوسٹرز کودیکھ کر ہیبت ناک خوف میں پاگل ہوگیاتھا پانچ اگست کے بھارتی اقدام کے بعد سری نگر میں پاک فوج کی حمایت میں ریلی نکالی گئی،شاہراہوں اورگلیوں میں ترجمان پاک فوج کی تشہیر دیکھ کر بھارتی انتظامیہ ہکابکا رہ گئی ’’عسکری بیانئیے‘‘کی لمحہ لمحہ میں کروٹ بدلتی ہوئی ایک جدید جنگ کا تعارف غالبا پہلی بار’’باجوہ ڈاکٹرائین‘‘کی اہم ملکی دستاویز کی صورت میں قوم کے سامنے آیا ملکی افواج کے سینئر کمانڈروں ،اہم حساس سیکورٹی اداروں اورفوج کے ترجمان ادارے آئی ایس پی آر کے سبکدوش ہونے والے سربراہ میجرجنرل آصف غفورنے اپنے تین سالہ دور میں اپنی ہر پریس کانفرنس میں ’’ففتھ جنریشن وارفیئر‘‘کی حسیاست کے پہلووں کو اجاگرکرنے کی اہمیت پر بریفنگ دی یہ اْن کا آئینی فرض تھا جو اْنہوں نے بخوبی ادا کیا جس کے نتیجے میں قوم میں اتحاد واتفاق اورثقافتی یکجہتی کے احساسات فروغ پائے وطن پرستی کا انمٹ جذبہ ابھرا اور ایک قوم ہونے کے قومی احساس کو بہت زیادہ تقویت ملی وہ لوگ اور وہ بکے ہوئے گروہ ناکام ہوئے جوقوم میں نظریاتی،مسلکی اورفکری ایشوز کھڑے کرکے قوم کو منقسم کرنے کے عزائم رکھتے تھے قومی طبقات میں مسلکی،لسانی،علاقائی یا فرقہ پرستی کے نام پرسماجی دوریاں پیداکرنے جیسے مذموم عزائم رکھتے تھے کچھ اب بھی یقینا ایسے افراد سرگرم ضرور ہونگے جن کے ’’ تصوراتی جنات‘‘ کا قلع قمع کرنے کے لئے اب تازہ دم نئے ڈی جی آئی ایس پی آرمیجر جنرل بابر افتخار آگئے ہیں ، ہوشیار باش! ۔