- الإعلانات -

چیف الیکشن کمشنرکی تعیناتی کےلئے وزیراعظم کا اپوزیشن لیڈرکوخط

ملکی معیشت کی بہتری کےلئے تاجربرادری کو سہولیات فراہم کرنا انتہائی ضروری ہے جب تک کاروبار فروغ نہیں پائے گا اس وقت تک معاشی مضبوطی بعدازقیاس ہے ،اس سلسلے میں وزیراعظم عمران خان خصوصی توجہ دے رہے ہیں اور تاجر برادری کوسہولیات فراہم کرنے کے لئے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں اسی وجہ سے انہوں نے ماضی قریب میں بھی ٹیکس اورنیب کے حوالے سے تاجروں کے مطالبات کو تسلیم کرتے ہوئے اُن کو نیب کے خوف سے آزاد کیاتھا، یہ اقدامات اس لئے تھے کہ تاجربرادری کاخوف دور ہو اور وہ پراعتمادطریقے سے اپنی کاروباری سرگرمیوں کو ترقی سے ہمکنارکرسکیں ۔ اس کے علاوہ حکومت اوربھی مزید اقدامات اٹھارہی ہے جوملکی معیشت کومضبوط بنانے کےلئے سنہراکردار اداکریں گے ۔ کسی بھی ملکی ترقی کادارومدارمعیشت پرہوتا ہے اب حکومت کو یہ دیکھناچاہیے کہ کتنی عوام خط غربت سے نیچے زندگی گزاررہی ہے ۔ ہم یہاں حکومت کو یہ بھی مشورہ دیں گے کہ کپتان کوچاہیے کہ وہ سمال بزنس منصوبہ بھی لے کرآئے اورملک میں ٹیکنیکل تعلیم کو فروغ دینے کےلئے اقدامات اٹھائے ، چھوٹے چھوٹے سافٹ ویئرہاءوسز بنائے کیونکہ یہ زمانہ آٰئی ٹی کاہے اور پوری دنیا ایک گلوبل ویلج ہے ۔ نوجوان نسل جتنازیادہ انفارمیشن ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھاسکتی ہے شاید ہی کسی سے اٹھاسکے ۔ اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ کپتان کاویژن بہتری میں ہے تاہم ٹیم کی معاونت انتہائی ضروری ہے ۔ اسی سلسلے میں وزےراعظم عمران خان نے اسلام آباد میں ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت ملک مےں تاجروں اور غےر ملکی سرماےہ کاروں کو سازگار ماحول فراہم کرنے کےلئے پرعزم ہے ۔ اجلاس میں ملک مےں حال ہی مےں متعارف کرائی گئی ای کامرس پالےسی پر موثر عملدرآمد کےلئے کئے گئے اقدامات کا جائزہ لیا گیا ۔ وزےراعظم نے کہا کہ ای کامرس پالےسی سے نوجوانوں کو ملازمتوں کے مواقع فراہم کرنے ، چھوٹے اور درمےانے درجے کے کاروبار کے فروغ، خواتےن کو با اختےار بنانے اور ملک مےں براہ راست غےر ملکی سرماےہ کاری بڑھانے میں مدد ملے گی ۔ اجلاس کے دوران وزےراعظم کو پالےسی پر موثر عملدرآمد کےلئے کئے گئے حکومت کے اقدامات سے متعلق برےفنگ دی گئی ۔ ا وزیراعظم نے سٹیٹ بنک اور وزارت تجارت کو ہدایت کی کہ وہ ایک حکمت عملی بنائیں تاکہ اس پالیسی سے نوجوان زیادہ سے زیادہ مستفیدہوسکیں ۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو سامان کی ترسیل پرنقدادائیگی اور کمپیوٹر کے ذریعے سرمائے کی منتقلی پر ٹیکسوں کے خاتمے کے حوالے سے تجاویز کا جائزہ لینے کی بھی ہدایت کی ۔ دوسری جانب وزیراعظم عمران خان نے چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کے حوالے سے اپوزیشن لیڈرشہبازشریف کو خط لکھتے ہوئے تین نام بھیج دیئے ہیں اورامیدظاہر کی ہے کہ یہ مسئلہ حل ہوجائے گا ۔ اپوزیشن اورحکومت بھی یہ خیال کررہی ہے کہ پیرکے دن اس مسئلے پراتفاق رائے قائم ہوجائے گا ۔ یہ مسئلہ اتنی طوالت پکڑ چکاہے لہٰذا اس کو اب حل ہوناچاہیے ، حکومت اور اپوزیشن کو بھی چاہیے کہ وہ باہمی اتفاق سے مل بیٹھ کراس کو حل کریں اور جو نام تجویزکئے گئے ہیں ان میں سے کسی ایک کا انتخاب کرکے مسئلے کو حل کریں کیونکہ ابھی تک جتنے بھی اجلاس ہوئے وہ محض نشستاً اوربرخاستاً دیکھے گئے اتفاق نہیں ہوسکا ۔ اب وزیراعظم نے جونام تجویز کئے ہیں امیدواثق ہے کہ مسئلہ حل ہوجائے گا ۔

خطے میں امن وامان کےلئے وزیرخارجہ کی اہم ملاقاتیں

پاکستان نے افغانستان کے مسئلے کے حوالے سے بہت اہم کرداراداکیا ہے اوراب بھی وزیرخارجہ نے امریکی ہم منصب سے ملاقات کے دوران کہاکہ پاکستان نے افغانستان سے امریکی انخلا پر تحفظات کا اظہار کرتے کیاہے، افغانستان سے امریکی افواج کی ذمہ دارانہ واپسی کی جائے اور 80کے عشرے کی غلطی نہ دہرائی جائے،وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی نے امریکہ کو یہ بھی باورکرایاکہ مسئلہ کشمیرحل ہونے تک جنوبی ایشیاء میں قیام امن ناممکن ہے مسئلہ افغانستان اورکشمیر ایک ایسے مسائل ہیں جو خطے کے لئے سلگتی ہوئی چنگاری کے مترادف ہیں ان میں کسی وقت بھی ذرا سی غلطی کی وجہ سے آگ بھڑک سکتی ہے جودنیابھرکےلئے خطرناک ثابت ہوگی ۔ پاکستان کی کاوشیں انتہائی سودمندثابت ہوتی جارہی ہیں ۔ وزیرخارجہ کادورہ انتہائی کلیدی ہے وہاں پر انہوں نے دونوں مسائل کے حوالے سے انتہائی اہم پیشرفت کی ہے ۔ امریکی وزیرخارجہ کوانہوں نے مزید کہاکہ مسئلہ کشمیر کے حل تک امریکا اور پاکستان کا پرامن جنوبی ایشیا کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا،پاکستان خلوص نیت کے ساتھ افغان امن عمل کی اس مشترکہ ذمہ داری کو نبھا رہا ہے، پاکستان خطے میں امن و استحکام کا خواہاں ہے اور خطے میں پائی جانے والی کشیدگی کے خاتمہ کےلئے اپنا کردار ادا کرنے کیلئے پرعزم ہے ۔ وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے اپنے حالیہ دورہ ایران و سعودی عرب کے دوران ہونے والی ملاقاتوں کی تفصیلات سے امریکی وزیر خارجہ کو آگاہ کیا ۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کا خواہاں ہے اور خطے میں پائی جانے والی کشیدگی کے خاتمے کےلئے اپنا کردار ادا کرنے کیلئے پرعزم ہے، وزیر خارجہ نے امریکی ہم منصب کو بھارت کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے گزشتہ 5ماہ سے 80لاکھ کشمیریوں کو کرفیو کے ذریعے محصور کر رکھا ہے، شاہ محمود قریشی نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان اور صدر ٹرمپ کے جامع دوطرفہ پاک امریکہ تعلقات کے وژن کو عملی جامہ پہنانے کےلئے دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے کی ضرورت ہے ۔ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے افغانستان کے سیاسی تصفیہ افغان امن عمل اور پرامن ہمسائیگی کیلئے پاکستان کی مخلصانہ، مصالحانہ کاوشوں کو سراہا ۔ امرےکہ اور اےران کے درمےان حالےہ کشےدگی ختم کرانے مےں پاکستان کا کردار قابل تعریف ہے ۔ موجودہ حکومت خطے مےں پائےدار امن کے قےام کےلئے عالمی سطح پر موثر سفارتکاری پر عمل پےرا ہے ۔ افغان تنازع کا کوئی فوجی حل نہےں ہے اور پاکستان جنگ سے تباہ حال ملک مےں امن کے فروغ کےلئے افغانوں کی قےادت مےں افغان امن عمل کی حماےت جاری رکھے گا ۔

بھارت میں حراستی

مراکزکاقیام، لمحہ فکریہ!

بھارتی بڑھکیں خطے میں امن وامان تہہ و بالا کرنے کے مترادف ہیں ، محض بھارت میں ہونیوالی اندرونی خلفشار سے توجہ ہٹانے کے لئے آئے دن یاتو بھارت ایل او سی پربلا اشتعال فائرنگ کرتاہے یا اُس کا آرمی چیف یاڈپٹی چیف کوئی نہ کوئی اونگ پٹانگ بیان داغ دیتا ہے تاکہ اصل مسئلے سے توجہ ہٹ سکے ۔ اب جوبھارت نے حراستی کیمپ بنانے کامنصوبہ بنایا ہے وہ بھی انسانی حقوق کے انتہائی خلاف ہے کیونکہ مودی اورآرایس ایس ہٹلرکے بانی ہیں اسی وجہ سے اُن کی پیروکاری کر رہے ہیں ، حراستی مراکز میں معصوم بچوں کو رکھ کران پریقینی طورپرتشدد کیاجائے گا جوکہ ایک لمحہ فکریہ ہے ۔ پاکستان نے تواس کی بے انتہا مذمت کی ہے مسئلے کودنیا کے سامنے رکھا انسانی حقوق کی تنظیموں کو چاہیے کہ وہ آگے بڑھیں اوربھارت کو ان اقدامات سے روکیں یوں تو مقبوضہ کشمیربھی اس وقت دنیاکا سب سے بڑا حراستی مرکز بن چکاہے ۔ ترجمان دفتر خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ جموں کشمیر میں دہشت گردی کا مرتکب بھارت دہشت گردی کے معاملے پربات نہیں کر سکتا، جموں کشمیر کو دنیا کی سب سے بڑی جیل میں تبدیل کردیا گیا، بھارتی بیان ایف اے ٹی ایف کی تکنیکی کارروائی کو سیاسی بنانے کی مذموم کوشش ہے، پاکستان نے عالمی برادری کو بھارت کی بدنیت کوششوں سے متعدد بار آگاہ کیا ہے ۔

آٹابحران ترجیحی بنیادوں پر

حل کرنے کی ضرورت

زندہ رہنے کےلئے تین نہیں تو کم ازکم دووقت کی روٹی انتہائی ضروری ہے ،کچھ بھی نہ ہو غریب آدمی پانی ہی سے روٹی کھاکراپنی زندگی بسرکرلیتا ہے لیکن اب حالت یہ ہے کہ گندم کی قیمت کنٹرول سے باہرہوچکی ہے روٹی اورنان بھی انتہائی مہنگاہورہاہے محض ایک سال میں چوتھی مرتبہ آٹے کی قیمت میں اضافہ ہواہے اس پروزیراعظم نے نوٹس لیتے ہوئے دووفاقی وزراء کو ٹاسک سونپ دیاہے جبکہ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدارنے بھی اس سلسلے میں ایکشن لیتے ہوئے کچھ افسران کومعطل کردیاہے اورخصوصی ایکشن کی بھی ہدایات کردی گئی ہیں ۔ اصل مقصد یہ ہے کہ ان اقدامات سے کیا یہ مسئلہ حل ہوجائے گا اصل وجوہات تلاش کرنے کی ضرورت ہے کہ آٹاکیوں مہنگاہورہاہے ،غریب کے منہ سے دو نوالے بھی کیوں چھینے جارہے ہیں عوام کہاں جائے گی مہنگائی کی چکی میں بری طرح پس رہی ہے ۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ ایسے فلاحی اقدامات اٹھائے جس کا براہ راست عوام کوپہنچے ۔ آٹامہنگاکرنے والے عناصرکے خلاف فی الفور کارروائی کرنی چاہیے کیونکہ اگراس جانب قدم نہ اٹھایاگیا تو عوام بے حدپریشان ہوگی ۔