- الإعلانات -

اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا

کہتے ہیں کہ لوگ ;200;تے جاتے رہتے ہیں مگر زمانہ اپنی چال اپنی رفتار پر ہمیشہ سے چلتا رہتا ہے اور ازل تک چلتا رہے گا اور رہے گانام تو بس اللہ کا، لیکن اسی اللہ کی دھرتی پر اللہ کے ایسے ایسے بندے بھی ;200;ئے جو ابدی جہاں کی طرف منتقل ہونے کے باوجود صدیوں یاد رکھے جاتے ہیں اور ان جیسی ہستیوں ہی کے بارے میں انکے دنیا سے اٹھ جانے پر کسی غمگسار نے کیا خوب کہا تھا;34; اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا;34; ۔ میری اپنی زندگی میں ایسے لاتعداد نفوس ;200;ئے جو نا صرف اعلی انسان کے ساتھ ساتھ بہت ہی اچھے دوست بھی تھے جو مجھے ہمیشہ کیلئے اپنے دل کے قریب کر گئے،اور جو بھولے سے بھی نہیں بھولتے، لیکن ان میں سب سے ذیادہ جس عظیم انسان کو میں اپنا ، محسن، رہبر، راہنما اور مربی کا درجہ دیتا ہوں ، جس نے میری زندگی کا رخ ہی موڑ دیا ہو، وہ مرحوم ملک غلام محمد کندی ایڈووکیٹ ہیں ۔ جنہوں نے مجھے بھٹکنے سے بچایا،دھرتی سے ;200;فاق تک کی راہ دکھائی، مجھے روزگار کی تلاش میں ادھر ادھر ٹکریں مارتا دیکھ کر انہوں نے میری اسوقت انگلی پکڑی جب بے روزگاری میں بڑے بڑے دوست منہ موڑ جاتے ہیں ۔ اپنے بے گانے اور دشمن چبانے کو پھرتے ہیں ، یہ وہ دور تھا جب مجھے ایک بڑے محکمے میں سرکاری بھرتیوں میں ایک مقامی افسر کی مچائی اقربا پروری کے خلاف احتجاج پر نوکری سے کھڑے کھڑے نکال دیا گیا، وہ مجھے چپ کرانا چاہتے،،، جو ناممکن تھا، میرے بڑے افسروں کو یہ بات ناگوار گزرتی کہ میں نے اپنے کمرے میں واللہ خیر الرازقین کا فریم کیوں لگوا رکھا ہے، میرا سب ساتھ چھوڑ گئے، ساتھیوں نے الوداعی پارٹی کا اہتمام کیا، لیکن سب کو سختی سے منع کیا گیا، جب ہر طرف مایوسی نظر ;200;رہی تھی کہ کندی صاحب ایک شمع کی مانند اچانک میری زندگی میں چمکے اور پھر اسکے بعد وہ دن اور ;200;ج کا، روزگار، ترقی، علم و عرفان کی وہ ،وہ قندیلیں میری زندگی میں روشن ہوئیں جنہوں نے صرف چند سالوں کے اندر اندر میری زندگی کے ہر شعبے کو گل و گلزار کر دیا ۔ میں صدق دل اور کامل یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ ;200;ج الحمد للہ میں جو کچھ بھی ہوں اس ۔ اللہ لوک انسان ۔ کی اس بنیادی راہنماء کا نتیجہ ہے جو انہوں نے میرا ہاتھ اسوقت تھاما جب میں ہر طرف سے فارغ تھا، کوئی سفارش تھی نہ کوئی بڑا بیک گراونڈ، میرے اندر انہوں نے کچھ ضرور دیکھ لیا تھا، کچھ نہ کچھ ضرور تھا کہ 1980 کے اوائل ہی میں انہوں نے مجھے بلایا، حالات پوچھے اور پھر میرا ہاتھ پکڑ کر سیدھاسیشن جج صاحب میانوالی کے دفتر میں لے گئے، اسوقت میں محض میٹر یکیو لیٹ تھا، کچھ سابقہ تجربہ ضرور تھا، سفید کاغذ میرے ہاتھ میں تھما کر خود درخواست لکھوائی، اور ایک ہفتے کے اندر سرکاری نوکری دلا کر بطور ۔ مختصر نویس ۔ بھرتی کروایا، جہاں سے میں بعد میں ترقی کی تمام منازل طے کرکے لا گریجویٹ اور بالا ;200;خر ۔ ;200;فیسر ۔ کے سکیل میں با عزت اور از خود ریٹائر ہوا ۔ یقینا;34; میں ;200;ج جو کچھ بھی ہوں انہی کی بروقت راہنماء اور مشاورت کا نتیجہ ہے کہ ;200;ج میں ایڈووکیٹ سپریم کوٹ کیلئے بھی کوالیفائی کر رہا ہوں ۔ مرحوم پر میں خود ایک کتاب لکھ سکتا ہوں ، انکے سامنے بھی بہت کچھ کہنا چاہتا تھا کیونکہ وہ ایک ایسی ہستی تھے کہ ایک دفعہ ان سے جو بھی ملا، وہ یہی تاثر لے کر ;200;یا کہ یہ صرف میرے ہیں ، اسی لیئے میرے دل میں بھی چونکہ بہت ساری یادیں ہیں اور میں بھی انہیں کسی نا کسی طرح ظاہری طور پر خراج عقیدت پیش کرنا چاہتا رہا، لیکن مجھ سے پہلے چند ;34; کندی لورز;34; نے ایک کتاب لکھ کر شاید اپنے دل کا کچھ نا کچھ غم ہلکا کرنیکی کوشش کی ہے ۔ ایک خوبصورت کتاب اس خوبصورت انسان کے نام ;34;شجر سایہ دار ;34; ;200;پکے صاحبزادے پروفیسر فضل احمد اور دوست جناب پروفیسر ڈاکٹر عبدالکریم قاسم کی کاوشوں کا بہترین نمونہ ہے ۔ کندی صاحب ،وہ ہستی یہ وہ لوگ تھے جو صدیوں بعد پیدا ہوتے ہیں اور صدیوں ہی یاد رکھے جا تے ہیں ، انکی زندگی کے اوراق کو بغور پڑھیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ ملک غلام محمد کندی پیدا ہی دوسروں کیلئے ہوئے تھے، کوئی دن ایسا نہیں کہ انہوں نے کسی گرتے کو سہارا نہ دیا ہو، ظاہری و پوشیدہ جہاں جہاں موقع ملتا، ہر انسان کی بلا تفریق خدمت کرتے، ;200;خری ایام میں شدید علیل رہے، لیکن مزاج وہی عاجزانہ و فقیرانہ، بستر سے ہل نہ پاتے ہوئے بھی کسی کا غم سن کر شدید افسردہ ہوتے اور اپنی بے چارگی پر اوپر کی طرف دیکھتے ۔ ;200;خری دنوں میں نے چند ملاقاتوں میں روزنامہ پاکستان میں چھپے اپنے چند کالم بھی پیش کئے جو شاید ;200;ج بھی انکی لائبریری میں محفوظ ہوں ۔ ;200;خر میں مرحوم کی مغفرت اور درجات کی بلندی کی دعا کے ساتھ ;34; شجر سایہ دار ;34; سے ہی ایک شعر پیش کرتا ہوں :-

کبھی مجھ کو ساتھ لے کر کبھی میرے ساتھ چل کر

وہ بدل گئے اچانک میری زندگی بدل کے