- الإعلانات -

خواتین کے حقوق کے جعلی علمبردار

قائداعظم ؒ نے فرمایا کوئی بھی قوم اُس وقت تک ترقی نہیں کرسکتی جب تک عورت مرد کے شانہ بشانہ کھڑی نہ ہو۔ عورت کو یورپ والے نہیں شریعت کے مطابق حقوق دلوائیں گے ۔ کے پی کے میں سو نئے قائم ہونے والے سکولوں میں 70سکول طالبات کے ہونگے ۔ یہ تھے الفاظ پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے ۔ عورت کے حقوق کے لئے بنائے گئے حکومت پنجاب کے بل نے مذہبی حلقوں میں بڑا اشتعال اور بد اعتمادی کی فضا پیدا کی ۔ جس کی وجہ حکومت کے پرانے اتحادی مولانا فضل الرحمن نے حکومت وقت سے علیحدگی کی بھی ڈھکی چھپی دھمکی دے ڈالی ۔ اسی طرح معاشرے کے کئی دوسرے افراد نے بھی موجودہ خواتین تحفظ بل کو ڈرامہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس بل کے پاس ہونے اورلاگو ہونے سے خاندانوں میں انتشار پھیلے گا۔ خاندانی اور اسلامی کلچر پر زد پڑے گی ۔ کچھ لوگوں نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ یہ قانون موجودہ حکومت کی ڈرامہ پالیسی کا حصہ ہے ۔ اگر موجودہ حکومت خواتین کے لئے کام کرنا چاہتی ہے ۔! خواتین کی بہتری کیلئے اقدامات اٹھانا چاہتی ہے ۔! خواتین کی ترقی کی راہ ہموا ر کرنا چاہتی ہے۔! خواتین کو معاشرے کی معتبر شہری بنانا چاہتی ہے ۔! خواتین کومضبوط اور محفوظ بنانا چاہتی ہے تو خواتین کے لئے تعلیمی ماحول ، مدارس ، یونیورسٹیاں بنائے ۔ تاکہ خواتین اعلیٰ تعلیم یافتہ ہو کر معاشرے میں باوقار طریقے سے زندگی بسر کرسکیں ۔ یہ سچ ہے اعلیٰ تعلیم یافتہ مائیں بڑی معیاری اور اعلیٰ نسل تیار کرتی ہیں ۔ہمارے ہاں سستی شہرت حاصل رکنے کے لئے اسمبلیاں اور افراد قانون تو بنادیتی ہیں ۔ مگر عملی میدان میں نہ ممبران اسمبلی کردار ادا کرتے ہیں اور نہ بڑے بڑے عہدوں پر براجمان لوگ۔ جس شہر ، جس ضلع ، جس ڈویژن یا جس بھی صوبے مین دیکھا جائے حکومتوں کا پراپیگنڈہ زورو شور سے جاری ہے کہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی حق ہے ۔ پرائمری سکولوں کے اساتذہ کا انتظامیہ نے جیناحرام کررکھا ہے ۔ درجن بھر ٹیمیں سکولوں کے دوروں پر رہتی ہیں ۔ خواتین کو مرد حضرات روزانہ چیک کرنے آئے ہوئے ہوتے ہیں ۔ روزانہ کی چیک پڑتال سے اساتذہ اندر سے ٹوٹ چکے ہیں ۔ افسران کی پیشیاں بھگت بھگت کر استاد بھی اب مجرم کی طرح بے حیا بنایا جارہا ہے ۔ یقینا صفائی ، حاضری ، اور سکول کی معلومات تک کے معاملات بہتر ہوگئے ہیں ۔ مگر معیار تعلیم پہلے سے گر گیا ہے ۔بلکہ سرکاری اداروں میں تعلیمی نظام آخری ہچکیاں لے رہا ہے ۔ پرائمری سکولوں میں جہاں بچوں کی بنیاد رکھی جاتی ہے ۔ وہاں ہر وقت کئی چیکروں کے سامنے سولی چڑھتا رہتا ہے ۔ دوسری طرف ہائی سکول ، کالجز ، یونیورسٹیاں میں اساتذہ کو پوچھنا والا کوئی نہیں ۔ پرائمری سکول ٹیچر چھٹی نہیں لے سکتا ۔ آدھی چھٹی کیلئے بھی پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں ۔ جب کہ ہائی سکولوں ، کالجز اور یونیورسٹیز کے اساتذہ مرضی سے کلاسز لیتے ہیں مرضی سے اداروں میں آتے ہیں۔ حکومت پنجاب نے تعلیمی میدان میں بہتری لانی ہے تو ہائی سکولز ، کالجزاور یونیورسٹیز سطح پر بہتری کی منصوبہ بندی کرکے عملہ اقدامات کرے ۔ پرائمری سکول ٹیچر دن مین پانچ گھنٹے پڑھاتے اور کالج کا ٹیچر دن میں ایک دو کلاسز لے کر چھٹی کرے تو اسے کیا نام دینگے ۔ بات خواتین کی بہتری کیلئے قانون سازی کی ہورہی تھی۔ عمران خان نے نئے گورنر کے پی کے کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کو اسلامی قانون کے مطابق حقوق و احترام دلائیں گے ۔ مخولی حقوق اور احترام عورت کو ذلیل و خوار کرتے ہیں ۔ مغرب میں عورت کو بے حیائی کا مرکز بنادیا ہے عورت کو جو احترام اسلام نے دیا ہے عورت کو وہ اسلامی حقوق مل جائیں تو عورت کا رتبہ کہیں بلند ہوجائے گا۔ اسلام میں عورت ماں کی خدمت کرنے والے کو جنت کا حقدارقرار دیا گیا ہے ۔ ہر مرد عورت کا بیٹا ہے ۔ عمران خان کے بقول عورت کو اسلام نے جو حقوق دیئے ہیں وہ کوئی دوسر ا معاشرہ مذہب دے ہی نہیں سکتا ۔ عورتوں کے حقوق کے علمبردار وں کو چاہئے کہ ہر ضلع میں ایک خواتین یونیورسٹی کا کیمپس قائم کرکے ہر خاتوں کیلئے یونیورسٹی میں داخلے کیلئے سہولت باہم پہنچائی جائے ورنہ عورت کے حقوق کے بل پاس کرنے والے پہنچان لئے جائینگے ۔ لڑکیاں اعلیٰ تعلیم کیلئے دھکے کھا رہی ہیں اور یونیورسٹیوں میں خواتین طالبات کو داخلے نہیں ملتے ۔ اور خواتین کے حقوق کے جعلی علمبردار میاں کے بیوی کو جھڑکنے پر خاوندوں کیلئے سزائیں اور جرمانے تجویز کررہے ہیں ۔ خواتین کے حقوق کے علمبردار ہر ضلع میں خواتین کیلئے یونیورسٹی کیمپس کا بندوبست کریں ورنہ چپ رہ کر بلیک میل کرنا چھوڑ دیں ۔