- الإعلانات -

مفاداتی طرزِعمل اور ملک

کھیت میں جو فصل بوئی جاتی ہے وہی کاٹی جاتی ہے ۔ گویا ;200;ج بہتر برسوں بعد جن خدشات اور چیلنجز کا اس قوم کو سامنا ہے ان میں بیشتر وہی ہیں جن کی بنیاد ماضی میں رکھی گئی تھی ۔ بانی پاکستان قائداعظم محمدعلی جناح کی با اثر قیادت میں جو لوگ تیار ہوئے وہ دوسروں کے لئے رول ماڈل تھے ۔ ان کےلئے ملک اور اس کا ;200;ئین ہمیشہ مقدم رہا ۔ انہوں نے پاکستان کو اپنی جائیدادیں اور اثاثے بنانے کےلئے استعمال نہیں کیا بلکہ ان میں زیادہ ترلوگ ایسے تھے جو ہندوستان میں بھاری پراپرٹی چھوڑ کر ;200;ئے تھے اور اس کے بدلے میں انہوں نے اس نئے ملک میں ;200;کر جائیدادیں الاٹ نہیں کروائیں ۔ وہ ایک مشن سمجھ کر پاکستان ;200;ئے اور جان و مال اس ملک کے لئے قربان کردیا ۔ انہوں نے اپنی ;200;ئندہ نسلوں کی تربیت بھی اس انداز سے کی کہ انہیں ملک کا مفاد ہمیشہ عزیز رہا ۔ لیکن ;200;ہستہ ;200;ہستہ ایسے افراد اور ٹولے ایوانِ سیاست اور ایوانِ اقتدار میں گھستے چلے گئے جن کامطمع نظر ہی لوٹ کھسوٹ تھا ۔ ملک اور عوام کی خدمت ان کا کبھی شعارنہیں رہا ۔ شومئی قسمت سے ملک میں ایسے ایسے لیڈر سامنے ;200;تے گئے جن کا اپنا رہن سہن اور بودو باش تو شاہانہ ہوتا مگر نعرے کی حد تک وہ غریب اور اس کے حقوق کی بات کرتے ۔ بانی پاکستان قائداعظم اپنے دور کے مہنگے ترین وکیل تھے اور ایک اچھے امیر خاندان سے تعلق رکھتے تھے ۔ پہننے کا بہترین ذوق بھی تھا لیکن جب وہ گورنر جنرل بنتے ہیں تو جو کھانا گورنر جنرل کےلئے بنتا وہ انتہائی ساد ہ ہوتا اور کھانے میں صرف ایک ڈش ہوتی ۔ ایک دفعہ کھانے میں محترمہ فاطمہ جناح کے کہنے پر کوئی دوسری ڈش بھی رکھ دی گئی تو اس پر قائداعظم نے برا منایا اور کہا کہ گورنر جنرل کے لئے کھانے کے مینو میں جو بھی ہو صرف وہی بنایا جائے اور قومی خزانے کا ضیاع نہ کیاجائے ۔ پاکستان کی بدقسمتی کہ قائداعظم زیادہ دیر زندہ نہ رہے ۔ وہ چلے گئے تو ان کے بعد لیاقت علی خان جیسے رہنماءوں کو شہید کردیا گیا اور اِکا دکاسیاسی رہنما جو سیاسی شعور اور سمجھ بوجھ رکھتے تھے کو بھی سائیڈ لائن کردیا گیا اور ایسے لوگ ایوانِ اقتدار میں گھس گئے جو اپنے خاندان کو اس کام کو سود مند کاروبار سمجھتے ہوئے اس میں لے ;200;ئے اور;200;ج تک ان کی لکن میٹی چلتی ;200;رہی ہے ۔ درمیان میں غیر سیاسی حکومتیں بھی ;200;تی رہیں ۔ ظاہر ہے غیر سیاسی حکومتیں سیاسی طرز سے تو حکومتیں نہیں کرتیں اور وہ حکومتیں عوام کی نمائندہ حکومتیں نہیں ہوتیں ، انہیں عوام اور ;200;ئین دونوں سے کوئی سروکار نہیں ہوتا ۔ ایسے لوگ بھلے خود کو سیاسی گردانتے ہوں لیکن سیاسی طور طریقوں سے پروان نہ چڑھے ہوں تو وہ بھی وقت ;200;نے پر اس طرح سے پرفارم نہیں کرپاتے جس طرح سے کرنا ہوتا ہے ۔ ہماری یہ بدقسمتی رہی ہے کہ یہاں ہر پارٹی خود کو محب وطن اور دوسروں کو ملک دشمن سمجھتی چلی ;200;ئی ہے ۔ اس میں کسی خاص پارٹی کا ہی نہیں سبھی پارٹیوں کا ایک جیساہی حال ہے ۔ جو پارٹی برسرِ اقتدار ہوتی ہے وہ مخالفین کا احتساب کرتی ہے ۔ یہ انڈر سٹڈ ہوتا ہے کہ جب تک وہ اقتدار میں ہیں ان کی صفوں میں کوئی ایک بندہ بھی کرپٹ نہیں ہوتا اور نہ ہی کوئی ملک دشمن ہوتا ہے ۔ وہ سب کے سب اس وقت تک دیانتدار اور محبِ وطن ہوتے ہیں جب تک کوئی اپوزیشن پارٹی حکومت میں نہیں ;200;جاتی ۔ گویا ایک میوزیکل چیئرچل رہی ہوتی ہے ۔ دوسروں کی داڑھی میں تنکا ;200;سانی سے دکھائی دیتا ہے لیکن اپنی ;200;نکھ کا شہتیر بھی نظر نہیں ;200;تا ۔ ملک کا بھلا تب ہوگا جب ادارے اور افراد ملک میں انصاف ، مساوات اور باہمی اخوت کےلئے کام کریں ۔ جب ادارے باہمی تفاوت اور تفریق کے لئے کام کریں گے تو ان کی اپنی ساکھ بھی پامال ہوتی ہے اور وہ عوام کا اعتماد بھی کھوبیٹھتے ہیں ۔ ہمارے ہاں پولیس کے محکمے کی بیش بہا خدمات ہیں ۔ امن عامہ کے لئے اور شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے اس ادارے نے بہت کام کیا ہے لیکن وجوہات کچھ بھی ہوں پولیس کے محکمے کی اس معاشرے میں کم از کم وہ عزت اور وقار نہیں ہے جس کا یہ محکمہ متقاضی ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بسا اوقات جھوٹی ایف ;200;ئی ;200;ر کاٹی جاتی ہیں لوگوں پر ظلم روا رکھا جاتا ہے، لوگ حصولِ انصاف کے لئے پولیس تھانوں میں جاتے ہوئے ہچکچاتے ہیں کہ وہاں شنوائی نہیں ہوتی بلکہ الٹا درخواست لے کرجانے والا دھر لیا جاتا ہے ۔ اسی طرح جو جو ادارے بھی سیاسی اور ذاتی رنجشوں کی بنیاد پر استعمال ہوں گے ان کی ساکھ اور وقار ختم ہوتا چلاجائے گا ۔ بہت سے اداروں کا ہو بھی رہا ہے جو ایک لمحہ فکریہ ہے ۔ یہ بھی امرِ حقیقت ہے کہ اگر کسی ادارے میں کوئی ایک ;200;فیسر بھی نظم وضبط کا حامل، دیانتدار ;200;جائے تو وہ اپنی جگہ بھاری پتھر ثابت ہوتا ہے ۔ ایسے افسران کوسیاسی، معاشرتی اور دفتری سمیت مختلف پریشرز کا سامنا ہوتا ہے لیکن ان کے پائے استقامت میں لغزش نہیں ;200;تی ۔ ملک شائد ایسے ہی گمنام ہیروز کے دم قدم سے چل رہا ہوتاہے وگرنہ بعض بیورو کریٹس کی شاہانہ ٹھاٹ بھاٹ ان کے گریڈز کے حساب سے ان کے رہن سہن کے معیار میں مطابقت دکھائی نہیں دیتی ۔ ان کی ظاہری اور خفیہ جائیدادوں کی ایک طویل فہرست ہوتی ہے وہ سرکار کے پیسے اور پراپرٹی کو جس بے رحمانہ انداز میں استعمال کرتے ہیں اور لوگوں پر نچھاور کرتے ہیں وہ ایک گھمبیر داستان ہے ۔ ایسے لوگوں کو دیکھ کر نہیں لگتا کہ ;200;ئندہ چند سالوں میں ملک کی حالت بہتر ہونے جارہی ہے بلکہ نعوذ با اللہ یوں معلوم ہوتا ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ملک کے حالات مزید خراب ہوتے جائیں گے ۔ بہتری سے متعلق مثبت اقدامات دکھائی نہ دیں تو بہتری کی توقع رکھنا عبث ہے ۔ قوم کے بہتر برس اسی ;200;پا دھاپی اور دھینگا مشتی میں گزرگئے ہیں اب بھی اگر ہم نے اپنی روش نہ بدلی تو ہم خدانخواستہ کہیں پاکستان کے موجودہ حالات اور امکانات بھی نہ کھودیں ۔ پاکستان اور اس میں بسنے والے عوام کے حالات میں بتدریج بہتری دکھائی دینی چاہئے اور اس میں ملک کے ہر ادارے اور ہر فرد کو اپنا حصہ ڈلنا چاہئے ۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ بہتری کی خواہش کرنے والے افراد اور ادارے خود قومی بہتری کے لئے کام نہ کرسکیں ۔ ملکی ترقی اور وقار کے لئے ہر کسی کو کردار ادا کرنا ہے اورذاتی منفعت اور مفاد کو پسِ پشت ڈال کر کرنا ہے ۔ دوسرے تبھی درست دکھائی دیتے ہیں جب ہم خود مثبت طرزِ فکر رکھتے ہوں ۔ ملک سب کا ہے اور اس کو سنوارنے کی ذمہ داری بھی سب کی ہے ۔ وقت کا دھارا بہت تیز ہوتا ہے یہ نہ ہو یہ بھی گزر جائے اور ہم بحیثیت قوم ایک مرتبہ پھر ہاتھ ملتے رہ جائیں ۔ یہی وہ وقت ہے جب ہم نے ایک دوسرے کو محض زچ کرنے کے لئے انتقامی پالیسیوں سے اجتناب کرتے ہوئے ملک کو ;200;گے لے کر چلنا ہے ۔ یہی وہ وقت ہے جب ہم نے ;200;ئین کی پاسداری کو یقینی بنانا ہے اور ملک کو کوئی اکھاڑہ سمجھنے یا بنانے کے بجائے ایک ایسا مقام دینا ہے جہاں لوگوں کی عزتیں محفوظ ہوں ، جہاں اظہارِ رائے کی ;200;زادی ہو، جہاں انصاف کا بول بالا ہو،جہاں عوام الناس کا ملک کے اداروں پر اعتماد بحال ہو ۔ اور ایسا بہت ;200;سانی سے ہو سکتا ہے صرف نیک نیتی اور خوش اسلوبی شرط ہے یہی وہ وقت ہے جب قوم کو خوابِ غفلت سے جاگنا ہے اور اپنی اپنی ذمہ داریاں اداکرنی ہیں ۔ قوم خدانخواستہ ایک دوسرے کی ہنسی اڑانے اور ٹھٹھا گری میں پڑ جائیں تو پھر قوم قوم نہیں بنتی ہجوم بن جاتی ہے ۔ ہ میں قوم بننا ہوگا ۔ تبھی ہم اس قابل ہو پائیں گے کہ ہم اپنی قومی ذمہ داریاں بطریقِ احسن نبھا سکیں ۔