- الإعلانات -

سیاسی حضرات یہ کالم نہ پڑھیں

کسی گاءوں میں ایک پھڈے باز شخص چچا فضلو کے نام سے مشہور تھا ۔ جب بھی گاءوں میں کسی کے ہاں کوئی تقریب ہوتی چچا فضلو ان سے بہانے بہانے سے ناراض ہو جاتے اور تقریب میں پھربد مزگی پیدا کرنے کی کوشش کرتے ۔ ہر تقریب میں چچا فضلو کا شامل ہونا گاءوں والوں کی مجبوری تھی لہٰذا ناراض ہونے پر سارے گاءوں کو اسے منانا پڑتا تھا ۔ اس کی منت سماجت کرنی پڑتی تھی ۔ اگر کوئی خوشیوں میں انہیں شامل نہ کرتا تو چچا فضلو پھر اس کی خوشیوں کا بیڑا غرق کر دیتا ۔ لہٰذا اس موقع پر کسی اور کا خیال کوئی رکھے نہ رکھے خوشی والے گھر کے افراد چچا فضلو کا خیال ضرور رکھتے ۔ گاءوں میں ایک شادی تھی ۔ یہ شادی اس گھر کی پہلی شادی تھی ۔ لہٰذا بڑی دھوم دھام سے منانے کی تیاریاں جاری تھیں ۔ اس فیملی کو گاءوں والوں نے بتایا بابا فضلو کو راضی کرنا ضروری ہے ۔ لہٰذا اس کی خدمت خاطر میں کوئی کسر باقی نہ رکھنا ۔ انہوں نے پھر ایسا ہی کیا ۔ شادی سے چند روز قبل یہ چچا فضلو کو اپنے گھر لے آئے اور بالائی منزل پر انہیں ایک کمرہ دے دیا ۔ خدمت کرنے میں کوئی قصر نہ چھوڑی ۔ بارات کا دن بھی بڑے اچھے انداز سے گزرا ۔ اس روز تک چچافضلو بالکل خاموش اور سکون سے رہے ۔ سارے گاءوں میں بے چینی تھی کہ کیا وجہ ہے چچا فضلو چپ ہے کوئی ہنگامہ نہیں کیا ۔ اپنے اس رویہ پر چچا فضلو خود بھی بے چین تھے ۔ ولیمہ کی صبح اٹھے اور بستر سے اتر کر جوتے پہن کر زور زور سے کمرے میں اچھلنا شروع کر دیا ۔ نیچے سے دولہا کے والد نے شور سن کر اونچی آواز سے پوچھ لیا یہ کون اوپر اچھل کود کر رہا ہے ۔ یہ سنتے ہی چچا فضلو نے کہا اچھا اب میں کون ہو گیا ہوں اور پھر ایک ہنگامہ کھڑا کر دیا ۔ پھر وہی کچھ ہوا جس کی ہر ایک کو فکر تھی ۔ چچا فضلو ناراض ہوکر چیختا چلاتا اپنے گھر چلا گیا ۔ کہا آج تم ولیمہ کر کے دکھاءو میں آپ کی کہانیاں باہر سے آنے والے مہمانوں کو سناءوں گا ۔ جس پر سب پریشان ہو گئے تمام گاءوں چچا فضلو کو دولہے اور اس کے والد کے ساتھ کچھ دیر بعد اس کے گھر منانے پہنچ گئے ۔ ساتھ میں ایک گدھا گاڑی جس پر ایک آٹے کی بوری ، دس کلو چینی ، ایک گھی کا کنستر چچا فضلو کےلئے لے کر پہنچ گئے یہ سب دیکھ کر چچا فضلو خوش ہو گیا ۔ کہا آپ کی عزت میری عزت آپ کی خوشیاں میری خوشیاں ۔ آپ میرے گھر آ گئے ہو لہٰذا میں معاف کرتا ہوں ۔ لیکن ولیمہ کھانے نہیں آءونگا البتہ آپ میر ا کھانا میرے گھر بھجوا دینا ۔ اب مجھے آپ سے کوئی گلہ شکوہ نہیں رہا ۔ اس کے بعد سب نے چچا فضلو زندہ باد کے نعرے لگائے اور واپس اپنے اپنے گھروں کو چل دئیے ۔ چچا فضلو والا کردار ہر شہر ہر گاءوں ،ہر صوبے ،ہر ملک میں موجود ہے ۔ اگر کہا جائے تو ایک ایسا ہی کردار ہمارے پڑوسی ملک کی ایک سیاسی جماعت کا ہے ۔ اس سیاسی پارٹی کے اپنے اتنے ممبر نہیں جو اپنی حکومت بنا سکتے ہوں ۔ مگر اقتدار میں آنے والی ہر جماعت کے ساتھی ہوتے ہیں ۔ پھر یہ جماعت کچھ عرصہ حکومت کا ساتھ دیتی ہے پھر ان کی حالت بھی چچا فضلو جیسی ہو جاتی ہے ۔ یہ جماعت کسی بہانے سے حکومت سے الگ ہو جاتی ہے ۔ پھر پریس کانفرنس کرتی ہے ۔ بہرحال ان کا ہر حکومت میں شامل ہونا ان کی مجبوری بھی ہوتی ہے یا یہ کہےں کہ ہر حکومت کی انہیں اپنی حکومت میں شامل کرنا بھی ان کی مجبوری ہوتی ہے لیکن چونکہ ان کا کردار چچا فضلو جیسا ہوتاہے لہٰذا ایسا رول یہ ادا کرتے رہتے ہیں ۔ شکر ہے ایسی جماعت ہمارے ہاں نہیں ہے ۔ اس سال ہمارے ہاں سردی اور برف زیادہ پڑی ہے ۔ اس موسم میں کئی گھاس کئی ہریالی دکھائی نہیں دیتی ۔ پچھلے سال ساون کے موسم میں ہر طرف گھاس ہی گھاس تھی ۔ یہاں تک کہ مولا نصیرالدین کے گھر کی چھت پر بھی گھاس تھی ۔ مولانا نے ایک گدھا پال رکھا تھا ۔ ایک روز مولانا گدھے کو اٹھاکر اپنے گھر کی چھت پر لے گئے کہ گدھا یہ گھاس لے ۔ یہ گدھا پر پر کرتے ہوئے ایک ساتھ ساری گھاس ختم کرگیا ۔ اب گدھے کو مولانا نے چھت سے اتارنے کی کوشش کی لیکن گدھا نیچے اترنے کو تیا نہ ہوا ۔ تھک ہار کر مولانا چھت سے نیچے اتر آئے ۔ گدھے نے زور زور دولتیاں چھت پرمارنی شروع کر دیں ۔ چھت لکڑی کی تھی ۔ خطرہ ہو چلا کہ چھت کر جائے گی ۔ مولانا جلدی سے چھت پر گئے اور گدھے کی رسی کو کھنچنا شروع کر دیا کہ یہ سیڑھی کے راستے چھت سے زمین پر آ جائے لیکن گدھا تھا کہ ٹس سے مس نہ ہوا ۔ مولانا نے گدھے کو کان سے پکڑ کر سیڑھی کی جانب کھینچا لیکن گدھے نے دولتی مارتے ہوئے مولانا کو نیچے گرا دیا ۔ اس کے بعد گدھے نے مزید تیزی سے چھت پر دولتیاں مارنی شروع کر دیں ۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے گدھا چھت سمیت زمین پر آ گرا ۔ مولانا کے گھر کے باہرلوگ یہ تماشا دیکھنے کو جمع تھے اس پر مولانا نے کہا ان سب سے مخاطب ہو کر کہا اے لوگوں یہ میری نصیحت سب کےلئے ہے کہ کبھی بھی گدھے کو مقام بالا پر نہیں لے جانا ۔ ایک تو یہ خود کا نقصان کرتا ہے اور دوسرا اس مقام کو بھی خراب کرتا ہے تیسرا اوپر لے جانے والے کو بھی نقصان پہنچاتا ہے ۔ اکثر میرے جیسے حضرات اس نا اہل گدھوں کو مقام بلندپر لے جاتے ہیں ۔ انہیں پھر بڑے بڑے القابات سے نوازتے ہیں ۔ پھر یہ گدھے ہم کو ہی نیچے پھینک دیتے ہیں اور اس منصب کو بھی خراب کر دیتے ہیں ۔ لہٰذا گدھوں کو مقام بلند پر لے جانے کی آئندہ کوئی کوشش نہ کرے کیونکہ انہیں پھر مقام بلند سے نیچے لانا مشکل ہو جاتا ہے ۔ ایسا ہی حال ہمارے پڑوسی ملک بھارت کے وزیراعظم مودی کا ہے ۔ جس نے اپنے ملک کا برا حال کر رکھا ہے ۔ دنیا میں شائد مودی جیسے اور بھی کئی وزیراعظم ہو مگر مودی تو وخری ٹاءپ کا نکلا ۔ دعا کریں اسے حیا آ جائے ، شرم آ جائے، عقل آجائے اور خود ہی نیچے اتر جائے ۔ اسی سوچ میں ایک خبر نظر سے گزری کہ چالیس سالہ امیر ترین شخص جو جاپانی نیشنل ہے ۔ وہ عنقریب چاند پر جا رہا ہے ۔ لیکن جانے سے قبل اس نے خواہش کا اظہار کیا ہے کہ میں اپنے ساتھ چاند پر ایک لیڈیز کی تلاش میں ہوں جو دلیرہو ، جوان ہو اور خوبصورت ہو ۔ دیکھتے ہیں کس کی لاٹری نکلتی ہے ۔ کچھ کہہ رہے ہیں دعا کریں اس خبر پر ہماری ٹک ٹاک دوشیزاءوں میں سے کسی ایک سہیلی کو چاند پر جاپانی اپنے ساتھ لے جائے ۔ ہمارے ہاں یہ دو شیزائیں ایسی ہیں جھنوں نے نامی گرامی شخصیات کی نیندیں حرام کر رکھی ہیں ۔ کئی جگہوں پر ان کی وجہ سے تھپڑ چل چکے ہیں ۔ کہا جاتا ہے ایک تھپڑ کھانے والے نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا ۔ جواب ملا قانون میں تھپڑ کی کوئی سزا نہیں ۔ لہٰذا مقدمہ خارج ۔ جس سے حالات مزید خراب ہونے کے چانسس بڑھ گئے ہیں ۔ ان دوشیزاءوں کو بھی مقدمات کا سامنا ہے ۔ ایک پنڈی والے سیاسی لیڈر کے بارے میں انکشاف کر چکی ہیں کہ میری سہیلی کی ان سے شادی ہو چکی ہے ۔ ان بے باک نڈر دوشیزاءوں سے بہت ساری شخصیات کے خون خشک ہو چکے ہیں کہ کئی ہماری ویڈیو وائرل نہ کر دیں ۔ اب تو شادی بیاہ کی تقریبات میں بڑی احتیاط سے مہمانوں کو بلایا جانے لگا ہے تانکہ خوشی کے موقع پر کوئی رنگ میں بھنگ نہ ڈال سکے ۔ یہی وجہ ہے اب اس شہر کے بہت سے شرفا کی خواہش ہے کہ بہتری اسی میں ہے کہ یہ دوشیزائیں چاند پر چلی جائیں ۔ ابھی تک یہ دوشیزائیں چاند پر تونہیں گئیں لیکن انہوں نے چن ضرور چڑھا رکھا ہے ۔ اب صرف ان کا چاند پر جانا ہی باقی بچا ہے ۔ قانون خاموش ہے ۔ ادارے خاموش ہیں ۔ انہیں رنگ برنگی وڈیو وارل کرنے سے روک نہیں رہے ۔ شاعر اپنی شاعری سے انہیں سمجھانے کی کوشش کرتے ہوئے کہتا ہے کسی کو دکھ کبھی دینا تو ذرا سوچ کر دینا ۔ کسی کی آہ لگنے میں ذرا سی دیر لگتی ہے ۔ زمانہ دوست ہو جائے تو بہت محتاط ہو جانا کہ اس کے رنگ بدلنے میں ذرا سی دیر لگتی ہے ۔ کوئی جو خواب دیکھو تو اسے فوراً بھلا دینا ۔ کہ نیندیں ٹوٹ جانے میں ذرا سی دیر لگتی ہے ۔