- الإعلانات -

وزیر خارجہ کا دورہ امریکہ ،کشمیر کی بگڑتی صورتحال کا نوٹس لینے پر زور

وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کامیابی کے ساتھ تین روزہ دروہ امریکہ مکمل کر کے وطن پہنچ رہے ہیں ۔ وزیر خارجہ کا یہ دورہ امریکہ دو مرحلوں پر مشتمل تھا، پہلے مرحلے میں وزیر خارجہ نیویارک گئے جہاں ان کی سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ، صدر سیکیورٹی کونسل اور صدر جنرل اسمبلی کے ساتھ اہم ملاقاتیں ہوئیں جن میں انہوں نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال اور پاکستان کے خدشات سے ;200;گاہ کیا جب کہ دوسرے مرحلے میں امریکی سینیٹ کے سینیئر اراکین، وزیر خارجہ مائیک پومپیو، امریکی مشیر برائے قومی سلامتی اور دیگر اہم شخصیات سے ملاقاتیں کیں ۔ اِن ملاقاتوں میں شاہ محمود قریشی نے مشرق وسطیٰ میں پائی جانے والی کشیدگی کو کم کرنے، افغان مفاہمتی عمل، خطے میں قیام امن کیلئے پاکستان کی کاوشوں اور اپنے حالیہ دورہ ایران و سعودی عرب سے ;200;گاہ کیا ۔ امریکی حکام کی طرف سے قیام امن کیلئے پاکستان کی مخلصانہ کوششوں کا سراہا جانا پاکستان کی بہت بڑی کامیابی ہے ۔ وزیر خارجہ نے واشنگٹن میں پاکستان کانگریشنل کاکس اور پاکستانی کمیونٹی سے بھی الگ الگ ملاقاتیں کیں اور پاک امریکہ تعلقات کو ;200;گے بڑھانے اور اسے مزید مستحکم بنانے میں ان کے کردار کی تعریف کی ۔ دورے کے دوران وزیر خارجہ نے بین الاقوامی میڈیا کو خطے کے حالات سے برابرآگاہ کئے رکھا ۔ خطے میں بدلتی ہوئی صورتحال کے تناظر میں وزیر خارجہ کے اس دورہ امریکہ کو اہم سفارتی کامیابی سمجھا جا رہا ہے، سفارتی حلقوں میں اسے بہت پذیرائی ملی ہے ۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے مشرق وسطیٰ میں پائی جانے والی کشیدگی اور خطے میں امن و امان کی صورتحال کے تناظر میں وزیر اعظم عمران خان کی ہدایت پر امریکہ کا دورہ کیا ۔ اس سے قبل شاہ محمود قریشی سعودی عرب اور ایران کا دورہ کرچکے ہیں جس میں دونوں ممالک کی قیادت سے تحمل سے کام لینے کا مطالبہ کیا گیا ۔ واپسی سے قبل وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے امریکہ کے مشیر قومی سلامتی رابرٹ او برائن سے واءٹ ہاوَس میں ملاقات کی ۔ رابرٹ وبرائن کی ستمبر 2018 میں مشیر قومی سلامتی کے عہدے پر تعیناتی کے بعد پاکستانی وزیر خارجہ کےساتھ یہ انکی پہلی ملاقات تھی ۔ دفتر خارجہ سے جاری بیان کے مطابق شاہ محمود قریشی نے باہمی تعلقات اور مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کو درپیش چیلنجز کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے امریکی مشیر قومی سلامتی کو بھارت کے زیر قبضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے بارے میں بریف کیا، جسکی صورتحال اگست 2019 ء سے کرفیو کے نفاذ کے بعد مزید بگڑ چکی ہیں ۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جموں کشمیر کے حوالے سے ثالثی کی پیشکش کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکہ کو بھارت پر مقبوضہ وادی کا لاک ڈاوَن ختم کرنے، لائن آف کنٹرول پر اشتعال انگیزی سے باز رکھنے، کشمیر میں اقوامِ متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد کروانے اور کشمیریوں کو استصواب رائے کا حق دینے پر زور دینا چاہیے ۔ ایسا اس لئے بھی ضروری ہے کہ ہندو لیڈر شپ نے کشمیر کو ہڑپ کرنے کی نیت سے ہی دانستہ طور پر کشمیر کی متنازعہ حیثیت پر حملہ کر کے خود عالمی برادری کو بھی دوراہے پہ لا کھڑا کیا ہے ۔ یہ بھارتی لیڈرجواہر لال نہرو ہی تھے جواپنے ہی پیدا کردہ اس تنازعہ کے تصفیہ کیلئے اقوام متحدہ گیا ۔ اس پریواین سلامتی کونسل نے قرارداد منظور کر لی اور کشمیریوں کے استصواب کا حق تسلیم کرتے ہوئے بھارت کو کشمیر میں حق خود ارادیت کے اہتمام کی ہدایت کی جس پر ;200;ج تک عملدر;200;مد نہیں ہو رہا ۔ یہ ایک بڑا سوال ہے جس کے جواب کا بوجھ عالمی برادری خصوصا ًیو این کے کرتا دھرتاوں کے کندھوں پر ہے ۔ پاکستان اس سلسلے میں ہر طرح کے تعاون کرنے کے لئے تیار ہے مگر بھارت مسلسل بھاگ رہا ہے ۔ وزیر خارجہ نے اپنے دورہ امریکہ کے دوران امریکی حکام کی توجہ اس جانب مبذول کرائی ہے کہ وہ اس سارے معاملے کانوٹس لیں ۔

بی آئی ایس پی ،غریب مستحقین کا حق مارنے والوں کی صرف برطرفی نہیں سلاخوں کے پیچھے بھی بھیجا جائے

بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے ناجائز فائدہ اٹھانے والے 14ہزارسرکاری ملازمین اور افسران کے خلاف کارروائی کا آغاز ہو گیا ہے ،اس سلسلے میں ملازمتوں سے برطرفیوں کا سلسلہ شروع کرتے ہوئے چارافسران کو نوکری سے برطرف کردیا گیا ہے ۔ ان افسران سے دھوکہ دہی سے وصول کیے گئے 4 لاکھ 40 ہزار 196 روپے بھی واپس لے لیے گئے ہیں ۔ نعمان زحیم، شفیع اللہ، سید فضل امین اور سبیل خان نامی ان مجرمان کا تعلق ایبٹ ;200;باد اور ڈیرہ اسماعیل خان سے ہے ۔ یہ سلسلہ یہیں رکنا نہیں چاہئے ، تاہم معلوم ہوا ہے کہ پہلے مرحلے میں وفاقی حکومت کے ایسے افسران کو شوکاز نوٹس بھیج دیئے گئے ہیں جنہوں نے بی آئی ایس پی کے فنڈز سے دھوکہ دہی سے فائدہ اٹھایا ہے جبکہ دیگر صوبوں اور علاقوں کے محکموں کے سرکاری افسران اور ملازمین کو بھی رواں ہفتے شوکاز نوٹس جاری کرنے کیلئے فہرستیں اور تفصیلات متعلقہ محکموں کو بھیج دی گئی ہیں ۔ کتنے شرم کی بات ہے کہ 14000سرکاری ملازمین میں 2543افسران گریڈ17سے گریڈ 21تک کے ہیں جنہوں نے شریک حیات کے نام پر مستحق افراد کے حق کو غصب کرتے ہوئے کئی برس تک بی آئی ایس پی کا وظیفہ حاصل کیا ۔ اخلاقی پستی اور گراوٹ کی ایسی مثال شاید ہی کہیں ملے ۔ ان بدبختوں میں اکثریت ایسے افراد کی شامل ہے جو جہازوں پر سفر کرتے ہیں ۔ پاسپورٹ ایگزیکٹیو فیس جمع کرا کے بنواتے ہیں ۔ اس حوالے سے عوام کا مطالبہ تو یہ ہے کہ انہیں ذراءع ابلاغ پر مشتہر کیا جائے ۔ ان پر ;200;ئندہ ہر قسم کی سرکاری اور پرائیویٹ ملازمتیں بین کی جائیں ۔ ایک عام اَن پڑھ شہری چار پیسوں کی خاطر ایسا گھناوَنا فعل کرتا تو اسے نظر انداز بھی کیا جا سکتا ہے لیکن یہ صاحبانِ حیثیت لاکھوں مستحقین کے مجرم ہیں ،یہ کسی رعایت کے مستحق نہیں ہیں ۔ چین میں ایسی کرپشن اور فراڈ پر سزائے موت ہے ۔

آٹے کی آسمان کو چھوتی قیمتیں ، کریک ڈاءون میں تاخیر نہ کی جائے

ہر شہری کی بنیادی اور لازمی ضرورت ;200;ٹے کا بحران اور اس کی بے قابو ہوتی قیمت قبل ازیں اس کے کہ حکومت کی کشتی میں سوراخ کا باعث بنتی وزیراعظم عمران خان نے سخت نوٹس لیتے ہوئے ذخیرہ اندوزوں کے خلاف فوری کریک ڈاون کا حکم دیا ہے ۔ یہ فیصلہ بروقت اور اشد ضروری تھا کیونکہ عوام کی چیخیں نکل چکی ہیں ۔ اس وقت حکومت سے عوام کو متنفر کرنے کےلئے بعض عناصر منصوبہ بندی کے تحت اشیایہ ضروریہ کی قیمتیں بڑھا چکے ہیں ۔ عوام کے لئے یہ ایک حوصلہ افزاء خبر ہے کہ اس حوالے سے وزیراعظم ;200;فس کی جانب سے چاروں صوبائی چیف سیکریٹریز سے رابطہ کیا گیا ہے اور انہیں پیغام دیا گیا ہے کہ وہ ;200;ٹے کا مصنوعی بحران پیدا کرنے والوں کے خلاف فوری کریک ڈاوَن کی تیاری کریں ۔ بلاشبہ اس وقت اس کی اشد ضرورت ہے کہ منڈی اور مارکیٹ میں لوٹ مار کرنے والوں کے خلاف فوری اور سخت کارروائی کی جائے چاہے اس کام کےلئے رینجرز کو ہی بلانا پڑے ۔ کراچی میں جب سٹریٹ کرائم اور بھتہ خوروں کے سامنے پولیس اور ضلعی انتظامیہ جب بے بس ہوئی تھی تو رینجرز ہی کے ذریعے ہی اس کا حل نکلا ، اس وقت لوٹ مار کرنے والا مافیا جس طرح بے خوف ہو چکا ہے شاید یہ پولیس کی چند کارروائیوں سے قابو میں ;200;نے والا نہیں لگتا ۔ بڑے تاجر سے لے کر چھوٹے دوکاندار تک عوام کو تبدیلی کے مزے لینے کا طعنہ دے کر دونوں ہاتھ سے سرعام لوٹا جا رہا ہے ۔ ہماری حکومت سے التجا ہے کہ وہ محض نوٹس لینے اور چند دکھاوے کی کارروائیوں سے کام لے کر واہ واہ کے چکر میں نہ رہے بلکہ عملی اور فوری ٹھوس کارروائی کرے ۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا کہ مہنگائی کے حوالے حکومت کئی بار نوٹس لے چکی ہے مگر بات اس سے ;200;گے نہیں بڑھتی ۔ خدا کرے اب کی بار ایسا نہ ہو اور ذخیرہ اندوز اور منافع خور سلاخوں کے پیچھے ہوں ۔