- الإعلانات -

بنگلہ دیش میں پاکستان دشمنی عروج پر

بنگلہ دیش میں 2010ءسے دو مختلف ٹریبونل جنگی جرائم کے مقدمات کی سماعت کر رہے ہیں۔ان عدالتوں کی تشکیل وزیرِ اعظم شیخ حسینہ واجد کے احکامات پر کی گئی تھی اور ان کا کام جنگِ آزادی کے دوران کیے جانے والے جرائم کا جائزہ لینا ہے۔2010ءسے اب تک ان عدالتوں نے 13 افراد کو مجرم ٹھہرایا ہے جن میں سے زیادہ تر کا تعلق حزبِ اختلاف کی پارٹی جماعتِ اسلامی ہے۔بنگلہ دیش میں عوامی سطح پر جنگی جرائم میں ملوث افراد کو سزائیں دینے کے حق میں مظاہرے بھی ہوئے ہیں،جبکہ جماعتِ اسلامی کا کہنا ہے کہ یہ تمام مقدمات سیاسی بنیادوں پر قائم کیے گئے ہیں۔ حکومت جنگی جرائم کے ٹریبونل کو اپنے سیاسی مخالفین کو نشانہ بنانے کے لئے استعمال کر رہی ہے۔اس کے علاوہ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ’ہیومن رائٹس واچ‘ بھی کہہ چکی ہے کہ اس عدالت کا طریق کار بین الاقوامی معیار کے مطابق نہیں ہے۔اقوامِ متحدہ اس ٹربیونل کو تسلیم نہیں کرتی ہے۔بھارت اور اس کے زیرسایہ عوامی لیگ کی حکومت، بنگلہ دیش کو خانہ جنگی کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ وزیراعظم حسینہ واجد کا12 دسمبر کو دیا جانے والا یہ بیان بڑی اہمیت کا حامل ہے : ”فوج، انتظامیہ اور عوام سے مَیں یہ کہتی ہوں کہ جو لوگ ’جنگی جرائم‘ کے ٹربیونل کو ناکام بنانا چاہتے ہیں، آپ آگے بڑھ کر انھیں عبرت کی مثال بنا دیں“۔ کیا کوئی جمہوری حکومت فوج , انتظامیہ اور عوام کو اس اشتعال انگیز انداز سے ابھارکر، اپنے ہی شہریوں پر حملہ آور ہونے کی دعوت دے سکتی ہے؟ لیکن سیکولر، جمہوری، ترقی پسند اور بھارت کے زیرسایہ قوت حاصل کرنے کی خواہش مند عوامی لیگ کی حکومت اسی راستے پر چل رہی ہے۔ انتقام کی آگ میں وہ اس سے بھی عبرت حاصل نہیں کر رہی کہ ایسی ہی غیرجمہوری، آمرانہ اور بھارت کی تابع مہمل ریاست بنانے کی خواہش میں ان کے والد شیخ مجیب الرحمن، ہم وطنوں کے ہاتھوں عبرت کا نشان بنے تھے۔بنگلہ دیش کی پاکستان سے علیحدگی کے وقت لاکھوں انسانی جانیں ضائع ہوئی تھیں۔ بنگلہ دیش میں اس وقت شیخ حسینہ کی حکومت ہے۔ وزیر اعظم حسینہ کا کہنا ہے، ” جنگ میں تین ملین کے قریب افراد ہلاک ہوئے تھے۔ بہت سے قتل قابض پاکستانی افواج کے بنگلہ دیشی اتحادیوں نے کیے تھے۔“حسینہ واجد کو یہ نہیں یاد کہ ان کے والد نے بھارت سے مکتی باہنی سے الحاق کر لیا تھا اور بھارتی دہشت گردوں نے نہتے اور غریب بنگالیوں کو چن چن کر مارا اور الزام پاک فوج پر لگا دیا۔ پہلے شیخ مجیب الرحمن بھارت کے ہاتھوں میں کھیلتے تھے اب حسینہ واجد بھارتی گود میں بیٹھ کر محب وطن اور خصوصاً اپوزیشن جماعت اسلامی کے بزرگ رہنماو¿ں کو خود ساختہ جنگی ٹربیونل کے ذریعے ختم کر رہی ہیں۔ کیا وہ سمجھتی ہیں کہ ایسا کرنے سے بھارت خوش ہو کر انہیں مزید اقتدار دلوادے گا۔؟ میر جعفر کے خاندان سے تعلق رکھنے والے غدار مجیب الرحمان کی بیٹی حسینہ واجد اپنے باپ سے زیادہ بھارت کی وفادار ہے اور پاکستان سے اپنی نفرت کو کھلے عام ظاہر کرتی ہے۔ حسینہ واجد جو بھارت کی وفاداری میں میرجعفر کا روپ دھار کراپنے ہی لوگوں کو پھانسی چڑھارہی ہے اور پاکستان سے اپنی نفرت کا اظہار کرنے کا کوئی موقعہ نہیں چھوڑتی چاہے وہ کرکٹ کا میچ ہی کیوں نہ ہو، اقتدارمیں آنے کے بعد سے حسینہ واجد پاکستان دشمنی میں پیش پیش ہے۔پاکستان کی وزارت اطلاعات نے 1971ء میں ایک کتاب "ٹیررز ان ایسٹ پاکستان” چھاپی۔ اس کتاب میں وہ تصاویر موجودتھیں جو انسانیت کو شرمارہی تھیں۔ حاملہ عورتوں کے پیٹ چاک کیے جارہے تھے، بچوں کے پیٹوں میں بندوقوں کی سنگین ڈال کر ا±نکو مردہ حالت میں اٹھاکر ناچا جارہا تھا۔اور یہ سب کچھ وہی مکتی باہنی کررہی تھی جسکا ذکر بنگلہ دیش کے حالیہ دورے کے دوران بھارتی وزیراعظم نریندرمودی نے کیا اور اپنی دہشتگردی کا برملااظہار کرتے ہوئے کہا کہ "بنگلہ دیش کا قیام ہر بھارتی کی خواہش تھی اوربھارتی فوج مکتی باہنی کے ساتھ ملکرلڑی تب ہی بنگلہ دیش کو آزادی نصیب ہوئی”۔ بھارتی وزیراعظم نریندرمودی نے برملا اور سینہ ٹھونک کر اِس کا بھی اعتراف کیا کہ وہ 1971ءمیں مکتی باہنی کی حمایت میں ستیہ گرہ تحریک میں بطور نوجوان رضاکارشرکت کے لئے دہلی آئے تھے۔ نریندر مودی کی طرف سے 1971ءکے سقوط ڈھاکہ میں بھارت کے ملوث ہونے کے اعتراف نے ا±سکی پاکستان دشمنی کو پورئے طریقے سے ننگا کردیا ہے۔ دہشتگرد نریندر مودی نے ڈھاکہ یونیورسٹی میں اپنے خطاب کے دوران چار مرتبہ پاکستان کا نام لیا اور دہشتگردی کے حوالہ سے بے بنیاد الزام تراشیاں کیں۔ بھارتی وزیر اعظم نریندرمودی جب بنگلہ دیش کے دارلحکومت ڈھاکہ میں اپنی بہن بنگلہ دیشی وزیراعظم حسینہ واجد سے سے ملنے پہنچا تو وہ بہت جذباتی تھا، دونوں بہن بھائی میں ایک قدر جو مشترک ہے وہ ہے پاکستانی دشمنی۔اس مشترکہ دشمنی کا اظہار کرنے کےلیے حسینہ واجد نے نریندر مودی کے دورہ بنگلہ دیش کے دوران ایک تقریب میں سابق بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کو انتہائی قابل احترام سیاستدان قرار دیا اور نہ صرف بنگلہ دیش کی جنگ میں ا±نکے "فعال کردار” کا ذکر کیابلکہ پاکستان توڑنے اور غیرمستحکم کرنے کے اعتراف میں واجپائی کو "فرینڈز آف بنگلہ دیش لبریشن وار ایوارڈ” دیا گیا جو نریندر مودی نے وصول کیا۔ اس سے قبل حسینہ واجد 2012ء میں اندرا گاندھی کو بھی اسی ایوارڈ سے نواز چکی ہے جسے کانگریس پارٹی کی سربراہ سونیا گاندھی نے وصول کیا تھا۔ اب حسینہ واجد 26 مارچ کو ایک اور تقریب سجانے جا رہی ہیں جس میں ان پاکستانی فوجیوں پر جھوٹے مقدمات چلائے جائیں گے اور ان کو سزائیں دی جائیں گی جنہوں نے ان کے خیال میں بنگلہ دیش کی آزادی کی جنگ میں پاکستان کا ساتھ دیا یا بنگالی عوام کی قتل و غارت میں حصہ لیا۔ حالانکہ یہ سب کچھ بھارتی فوج نے کیا تھا۔ بنگلہ دیشی وزیر اعظم حسینہ واجد کے دلوں میں موجود پاکستان مخالفت کی نفرتوں کو دوبارہ عروج پہ پہنچانے میں کسی اور نہیں بلکہ بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ نے یقینا اپنی مذموم مہم جوئی کی جس کا نتیجہ ہم گزشتہ ایک دو برسوں سے دیکھ رہے ہیں۔ جب سے حسینہ واجد نے بھارت نوازی کا ’چولا ‘ پہنا اور عوامی لیگ کی سینٹرل سطح کے فیصلے کرنے والی کرسیوں پر’را‘ کے ایجنٹوں کو بیٹھایا وہ دن ہے اور آج کے یہ افسوس ناک اور شرم ناک لمحات ‘ بنگلہ دیش اور پاکستانی قوم کے درمیان فاصلے اور دوریاں بہت تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ بدقسمتی سے نواز شریف کے سامنے ا±ن کی اپنی پارٹی یا ملک میں کوئی ایک فرد بھی ایسا نہیں ہے جسکو وزیر خارجہ بنایا جاسکے۔ وزارت خارجہ کا جو حال نواز شریف حکومت میں ہوا ہے اتنا برا حال کبھی بھی نہیں ہوا۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ہماری وزارت خارجہ پاکستان کے مشترکہ دشمنوں بنگلہ دیش اور بھارت کا اصل چہرہ دکھانے سے سے قاصر رہی ۔جسطرح کا جواب بنگلہ دیش اور بھارت کو جانا چاہیے تھا اسطرح کا جواب نہیں گیا۔ پاکستان کو چاہیے کہ بنگلہ دیش کے بارئے میں اپنی خارجہ پالیسی کو بدلے۔ کیا وزارت خارجہ بنگلہ دیش کی حکومت اور خاصکر حسینہ واجد کی پاکستان دشمنی سے ناواقف ہے۔ حسینہ واجدکہتی ہیں کہ مودی صاحب بنگلہ دیش کو اپنا دوسرا گھر سمجھیں۔پاکستا ن کے کچھ لوگوںنے حسینہ واجد سے تمغے لئے ہیں ، وہ بیگم صاحبہ کا یہ اعتراف پڑھیں کہ بھارت نے اکہتر کی تحریک آزادی میں بنگلہ دیش کی تاریخی مدد کی تھی گویا پاکستان کے تمغے لینے والے بھارت کی صف میں کھڑے کر دیئے گئے۔یہاں ہم اپنے سیاسی حکمرانوں کو بھی یہ بتا نا اپنا فرض سمجھتے ہیں کہ وہ بنگلہ دیش کی موجودہ حکومت کی پاکستان دشمن پالیسیوں پر گہری اور عمیق نظریں رکھے۔ گزشتہ دنوں بنگلہ دیش میں ہونے والی ’سیاسی پھانسیوں ‘ پر پاکستانی وزارت ِ خارجہ نے کسی رد ِ عمل کا اظہار کیوں نہیں کیا ۔ پاکستان دشمنی اور پاکستان کے خلاف بنگلہ دیشی عوامی حلقوں میں ریاستی پیمانے پر فضا ہموار کی جارہی ہے اور یہاں ’مسلم بنگلہ دیش ‘ اور بنگلہ دیشی برادری ‘ کے پ±رفریب نعرے لگائے جارہے ہیں۔ اگر یہ کہا جائے تو یقینا بے نہ ہوگا کہ بنگلہ دیش پاکستان دشمنی میں بھارت سے بھی آج ایک قدم آگے نکل آیا ہے۔ پاکستانی قوم بنگلہ دیش کی موجودہ سیاسی جماعت کے اِس بہیمانہ طرز ِ یکطرفہ طرز ِ عمل پر شدید اور سراپا احتجاج کرتی ہے یعنی اب ہم بنگلہ دیش کو بھی ’بھارتی صوبہ ‘ یا بھارتی ریاست تصور کریں چونکہ بنگلہ دیشی وزیر اعظم حسینہ واجد ’را‘ کے بتائے ہوئے نقش ِ قدم پر چلنے سے باز آتی دکھائی نہیں دیتیں ہماری حکومت کے لئے یہ لمحات ’لمحہ ِ فکریہ ‘ ہیں۔