- الإعلانات -

اس جنون کا کیا حل ہے

اربوں ڈالر اسلحہ کی خریداری کرنے والے بھارت نے اگلے روزاگنی ون میزائل کا تجربہ کیا ہے۔بھارتی میڈیا کے مطابق ایٹمی صلاحیت کے حامل درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل اگنی ون کا تجربہ کامیاب رہا ہے، یہ تجربہ اڑیسہ کے مقام پر کیا گیا ہے۔اگنی ون میزائل نو منٹ چھتیس سیکنڈ میں 700 کلو میٹر فاصلے تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس سے پہلے بھارت نے ستائیس نومبر دو ہزار پندرہ کو اسی اگنی ون میزائل کا تجربہ کیا تھا۔بھارتی جنون سے جنوبی ایشیا کے تمام میں بے چینی پائی جاتی ہے۔بھارتی اسلحہ کے بارے میں حال ہی میں سٹاک ہوم انٹر نیشنل پیس ریسرچ کی رپورٹ نے اس جنون کو بے نقاب کیا ہے۔بھارت اسلحے یہ انبار ایک ایسے وقت میں کر رہا ہے جب دنیا بھر کے مختلف ممالک مہلک اور روایتی ہتھیاروں میں کمی پر زور دے رہے ہیں۔ امریکا کی جانب سے جب پاکستان کو ایف 16 طیاروں کی فروخت کی منظوری ہوئی تو بھارت چیخ اٹھا اورامریکی سفیرکوبلاکرباقاعدہ احتجاج بھی کیا تھا۔ ادھر بھارت نے اپنے دفاعی بجٹ میں مزید 4.8 فیصد اضافہ کرکے نیا ریکارڈ قائم کیا ہے۔ گزشتہ سال دفاعی بجٹ 24 کھرب 60 ارب تھا رواں مالی سال 30ارب روپے اضافے کے ساتھ 24 کھرب 90 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔اتنے دفاعی اخرجات کی وجہ کیا ہوسکتی ہے ،ماہرین کے نزدیک پاکستان کے سوا اسکی کسی اورملک سے ایسی دشمنی نہیں ہے کہ وہ اسکے وجود کا دشمن ہو،لہذااسلحہ کے ذخائر بڑھانے کا خبط صرف اور پاکستان کے خلاف ہے۔سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 08-2004ءکے درمیان بھارت دوسرے نمبر پر تھا جبکہ پہلے نمبر پر چین تھا۔تاہم 13-2009ءکے درمیان بھارت ہتھیاروں کی درآمد میں پہلے نمبر پر چلا گیا ۔ ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے مطابق 13-2009ءکے دوران بھارت نے 75 فیصد ہتھیار روس، سات فیصد امریکہ اور چھ فیصد ہتھیار اسرائیل سے خریدے۔ہتھیاروں کی خرید میں 08-2004 ءمیں پاکستان کا حصہ محض دو فیصد تھا، 13-2009 ءمیں پانچ فیصد تھا ۔سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے مطابق 08-2004 ءاور 13-2009ءکے درمیان بھارت کی جانب سے ہتھیاروں کی درآمد میں 111 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ بھارت نے روس سے 222 میں سے 90 Su30MKI لڑاکا طیارے حاصل کیے۔ بھارت نے 45 میں سے 27 MiG29K لڑاکا طیارے بھی حاصل کیے جو کہ اس نے ائیر کرافٹ کیریئر کے لیے خریدے ہیں۔بھارت نے اس دوران 144 روسی T50 اور 126 فرانسیسی رافیل جنگی طیارے بھی منتخب کیے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت نے 2015 میں 3 ہزار 78 ملین ڈالر کا اسلحہ درآمد کیا ۔ ہندوستان کو سب سے زیادہ روس نے ایک ہزار 964 ملین ڈالر کا اسلحہ فروخت کیا جس کے بعد اسرائیل اور امریکا نے بالترتیب 316 اور 302 ملین ڈالر کا اسلحہ برآمد کیا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ اگر ایک طرف اسلحے کی دوڑ مزید بڑھ رہی ہے تو دوسری جانب عالمی امن بھی خطرات سے دوچار ہے۔ ایک اوررپورٹ کے مطابق گزشتہ عشرے کے دوران اسلحے سازی کی 100 بڑی عالمی کمپنیوں کی پیداوار میں 1215فیصد اضافہ ہوا ہے،اسلحہ کی فروخت میں مغربی اور خریداری میں ایشیائی ممالک پیش پیش ہیں،روس اور اسرائیلی اسلحے کا سب سے بڑا خریدار بھارت ہے۔ اسلحے کی بھرمار سے ناصرف دنیا کے بیشتر خطوں کی سلامتی خطرے میں پڑ چکی ہے بلکہ بڑی طاقتوں نے دنیا میں اپنی مکمل اجارہ داری قائم رکھنے کیلئے اسلحہ کا سہارا لے رکھا ہے۔ بھارت جو اسلحہ کی خریداری کے حوالے سے بدستور پہلے نمبر پر ہے نے جنوبی ایشیائی خطے میں ناصرف امن کی دھجیاں اڑا دیں بلکہ اپنے انتہا پسند رویے سے خطے کی سلامتی کو بھی شدید متاثر کر رہا ہے۔ ہندوستان نے اندرا گاندھی کے دور میں ایٹمی دھماکا کرخطے میں پاکستان سمیت دیگر ممالک کو للکارا جس کے جواب میں پاکستان کو فوراً ایٹمی دھماکے کرنا پڑے۔جنوبی ایشیا میں بھارتی چودھراہٹ کا مقابلہ کرنے،اپنی سرحدوں اور دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے پاکستان نے اسلحہ خریدنا پڑتا ہے ۔ اگر بھارت اپنا جنگی جنون ختم کرکے اسلحہ درآمد کرنا بند کر دے تو پاکستان اسلحہ کی خریداری میں مزید تخفیف کر سکتا جو نہ صرف خطے میں قیام امن کے لیے سود مند ثابت ہو گا۔