- الإعلانات -

بحرانی کیفیت کب تک؟

ملک بھر میں افرا تفری اور انارکی کا عالم ہے ۔ غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا کوئی شیڈول کوئی ٹائم نہیں، بجلی کب آتی ہے اور کب جاتی ہے کوئی ٹائم ٹیبل نہیں، البتہ جب بجلی جاتی ہے تو لوگ برابھلا ضرور دیتے ہیں جس کے باعث لوگوں کے اخلاق پر منفی اثر پڑ رہا ہے۔ لوڈشیڈنگ کے باعث ہماری صنعت اور معیشت پر ناقابل تلافی مضر اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ فیکٹریاں، ملیں اور کارخانے بند ہوتے جا رہے ہیں جس کا نتیجہ بیروزگاری کی صورت میں ظاہر ہو رہا ہے۔ بیروزگاری سے غربت میں اضافہ ہو رہا ہے اور غریب کے خودکشیوں اور بچوں کو موت کے حوالے کرنے کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
دیکھا جائے تو اس وقت ملک و قوم کو دو شدید اور گھمبیر مسائل کا سامنا ہے، ان میں سرفہرست دہشتگردی ہے، جس پر قابو پانے کیلئے فوجی اور سیاسی قیادت ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو چکی ہے اور قوم کی دعائیں شامل حال ہیں انشاءاللہ اس کے اچھے نتائج بر آمد ہوںگے۔ دوسرا اہم ترین مسئلہ بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا ہے جس نے ملک کی معیشت کو ٹھپ کر دیا ہے۔ مسلم لیگ کی موجودہ حکومت نے انتخابات میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا خاتمے کے وعید اور بلندو بانگ دعوے بھی کئے گئے لیکن مقام افسوس ہے کہ حکومت نے اس بحران کو ختم کرنے کی سنجیدہ کوشش نہیں کی تین سال حکومت کرنے کے بعد حکومت بجلی کی لوڈ شیڈنگ ختم کرنا تو دور کی بات ہے اس بحران میں اضافہ ہی ہوا ہے ۔ ورنہ یہ کوئی ایسا بحران نہیں جس پر قابو نہ پایا جاسکے۔
اس کے علاو ہ پاکستان میں خالص مصنوعات کا تصور اب ایک خواب بنتا جا رہا ہے، دودھ ، مشروبات، تیل، گھی، مصالہ جات، آٹے سمیت دیگر کھانے پینے کی اشیاءمیں ملاوٹ کل وقتی کاروبار بن چکا ہے اوراس کاروبار سے وابستہ افراد ناقص اشیاءکے استعمال کے نتیجے میں صارفین کی صحت کو لاحق شدید خطرات کی قطعاًپرواہ نہیںکرتے ملک بھر بالخصوص بڑے شہروں میں کھلے عام فروخت کی جارہی ہیں اور شہریوں کی بڑی تعداد لاعلمی میں اپنے لیے بیماریاں خرید رہی ہیں ۔ کھانے کی اشیاءمیں ملاوٹ کے علاوہ دیگر غیر معیاری مصنوعات بھی مارکیٹ میں فروخت کی جارہی ہیں محکمہ خوراک کے مطابق ملاوٹ شدہ مصالہ جات، مٹھائیاں، شہد اور بیکری کی مصنوعات کی تیاری اور فروخت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ ادارے اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کررہیں۔پاکستان اسٹینڈرڈ اینڈ کوالٹی کنٹرول کے ادارے میں کرپشن کی وجہ سے موجود قوانین پر عمل نہیں کیا جارہا ہے اور سب سے بڑی بات یہ کہ متعلقہ حکام کی اس خطرے سے نمٹنے میں نہایت کم دلچسپی ہے۔
ہمیں اپنے کردار پر نظر ثانی کرنا پڑے گی۔ ہم عملی طور پر اور اخلاقی طور پر بہت گرے ہوئے لوگ ہیں۔ صرف اپنے آپ کو مسلمان کہنے سے کچھ نہیں ہوگا، مسلمان بن کر دکھانا ہوگا۔ اور اس کا تعلق عمل سے ہے، قول سے نہیں، رسول ﷺنے بڑے واضح الفاظ میں فرما دیا ہے کہ ”رشوت لینے والا اور رشوت دینے والا دونوں جہنمی ہیں۔ دوسری جگہ آپﷺ نے فرمایا: ملاوٹ کرنیوالا ہم میں سے نہیں“۔ گویا ان دو باتوں کا تو فیصلہ ہو گیا کہ رشوت لینے والا، رشوت دینے والا اور ملاوٹ کرنیوالا، یہ تینوں مسلمان ہی نہیں، لہٰذا یہ لاکھ کلمہ پڑھتے رہیں۔ نمازیں پڑھتے رہیں، روزے رکھتے رہیں یا حج کرتے رہیں، یہ لوگ رسول پاکﷺ کی امت میں شامل ہی نہیں۔ ان کا ٹھکانہ صرف اور صرف جہنم ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ادارے اپنے فرائض پورا کریں اورملاوٹ کرنے والے دھشت گردوں کے خلاف بھی مﺅثر اپریشن شروع کریں تا کہ ان جرائم کا قلع قمع ہو سکے اور اور عوام کو ان کے حقوق مل سکیں!۔