- الإعلانات -

یہ شمع کبھی نہیں بجھے گی

ملک میں مسلک اور فرقہ کے نام پر جو سیاست ہو رہی ہے اس کے نہایت ہولناک نتاءج نکل رہے ہیں ملک اب صرف دہشت گردی تک ہی محدود نہیں ہے، بلکہ فرقہ پرستی اور لسانیت کے لپیٹ میں ہے ۔ فرقہ پرست سیاست سب سے پہلے دوسرے مسلک کے ماننے والوں کے خلاف نفرت پھیلاتے ہیں حالانکہ دین لوگوں کو جوڑتا ہے، توڑتا نہیں ہے، مگر آج کی سیاست لوگوں کو ذات پات ، مسلک اور لسانیت کی بنیاد پر تقسیم کر رہی ہے ۔ اس تقسیم کو ختم کرنے میں اہل قلم کا کردار بہت اہم ہے ۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ ’’جب سیاست لڑکھڑاتی ہے تو ادب اسے سنبھالتا ہے ۔ ‘‘ یہ جملہ آج پوری طرح سچ ثابت ہو رہا ہے ۔ تاریخ کا یہ سبق ہے کہ جہاں ایک طرف کچھ لوگ سیاست کو پراگندہ کر تے ہیں اور مسلک، فرقہ، ذات اور زبان کی بنیاد پر تقسیم کرکے مفاد پرستی کی سیاست کر تے ہیں ، تو دوسری طرف ادیب، شاعرو ادیب اورصحافی اورقلم کار کثرت میں وحدت کا پیغام عام کرنے کی کوشش میں مصروف ہوتے رہے ہیں ۔ یہ لوگ سماجی ہم آہنگی کیلئے انسانیت، محبت، رواداری اور اتحاد و اتفاق کی شمع روشن کرکے ملک کے شیرازہ کو بکھیرنے کی سیاسی سازش میں ملوث لوگوں کو بے نقاب کرنے اور شعوری بیداری کا فریضہ پورا کرتے ہیں ۔ شاعری کا مفہوم ہے، موزوں الفاظ کے چناءو میں کسی واقعہ ،حادثہ ،کیفیت،نظریے ، ماضی ،حال مستقبل وغیرہ کو بیان کرنا ۔ شعر کہتے ہیں جاننے ،پہچاننے ،واقفیت کو ۔ اس میں دو مصرعے ہوتے ہیں ۔ شاعر معاشرے کا حساس فرد ہوتا ہے ،ہر فرد جو سوچتا ہے ۔ اسے چاہتا ہے دوسروں تک پہنچائے ،اپنی سوچ و خیالات دوسروں تک مناسب ،موزوں الفاظ میں پہچانے کو شاعری کہتے ہیں ۔ ’’حمدو نعت‘‘’’غزل‘‘;34;شعر;34;’’نظم ‘‘;34;قطعہ ;34;’’سہر ا ‘‘ ’’منقبت‘‘ ’’ ہجو‘ ‘’ ’ وسوخت‘‘ ’’گیت‘‘ ’’مثنوی‘‘’’مناجات‘‘کے علاوہ ، قوالی، ریختی، ماہیا،دوہا،ہائیکو،وغیرہ شاعری کی اقسام ہیں ۔ شاعر اور ادیب جہاں لب ورخسار اور محبوبہ کے نقش ونگار اور اس کی موٹی موٹی آنکھوں ، سیاہ زلفوں کی درازیوں اور جمالیاتی حسن کو موضوع بحث بنا کر یادکرتے ہیں وہاں وہ دھرتی میں بھی محبت عام کرنے کی بات کرتے ہیں اور دنیا کو یہ باور کراتے ہیں کہ انسانیت کے مابین محبت رشتے کا قومی ترقی میں اہم کردار ہوتا ہے اس لیئے اس رشتے کو مضبوط بنایا جائے ۔ محبت کی طاقت جیسے جیسے کمزور ہوتی ہے، اسی تناسب سے نفرت کا اندھیرا بڑھتا چلا جاتا ہے دلوں کو جوڑنے کے کام میں شاعروں اور ادیبوں نے ہردور میں اپنا حصہ ڈالا ہے اورفرقہ پرستی اور فسطائی قوتوں کے ناپاک عزائم کو ناکام بنایا ہے اور موٹی موٹی آنکھوں کے تذکرے اور لب ورخسار کی حاشہ آرائیاں در اصل اس عظیم مشن کے استعارے ہیں جسے بنیاد بنا کر انہوں نے عظیم مشن کی تکمیل کی ہے اب وقت کا تقاضا ہے کہ تشدد کا راستہ ترک کر کے قلم کو بطور ہتھیار استعمال کیا جائے تو کوئی شک نہیں کہ ترقی کے منزل کو پہنچنا آسان ہوجائیگا ۔ فی زمانہ ضروری ہے کہ ہمارے شعراء صرف لب ورخسار ،غم جاناں کو اپنی شاعری کا محورر نہ بنائیں بلکہ پنی ذمہ داریوں کا احساس کریں کیوں کہ ادب اور سماج کا آپس میں گہرا رشتہ ہے ،سماج ادب سے تشکیل پاتا ہے اور ادب سماج کو سنوارتا ہے ۔ رومانی شاعری نہ کی جائے ہم یہ کہہ رہے ہیں موجودہ عہد کو سامنے رکھ کر اس کے مسائل پر بھی شاعری کی جائے ۔ قلم کو بطور ہتیار استعمال کرنے اور ادب اور شاعری کے ذریعے دلوں کو جوڑنا ضروری ہوجاتا ہے ۔ لیکن یہ سب کچھ اس وقت ممکن ہوتا ہے جب ملک میں صالح نظام موجود ہو جہاں انارکی ہو وہاں یہ نسخہ کارگر نہیں ہے وہاں انقلابی جدوجہد کی ضرورت ہوتی ہے اور اس جدوجہد کے دوران بھی قلم ہی کا کردار ہوتا ہے ۔ یہ بات ثابت شدہ ہے کہ انقلابی جدوجہد کے دوران شعراء اور ادیبوں نے قلم کا استعمال کیا ہے اور ’’ہاتھوں کو مسلح کرنے سے پہلے دماغ کو مسلح ‘‘کرنے کا پیغام پہنچایا ہے ۔ تاریخ اس کی گواہ ہے کہ امن کے داعی شعراء نے نا موافق حالات میں بھی انسانیت کے بنیادی اصولوں سے انحراف نہیں کیا ہے او رہر دور میں وہ محبت و انسانیت کی شمع جلاتے رہے ہیں اور انسانیت کے مابین تفریق کو ختم کرکے ان کو صرف ایک محبوب کے رنگ میں رنگ جانے اور اس کے آگے سر جھکا دینے کا درس دیا ہے اور سچائی پر مبنی یہ پیغام دیا کہ’’ پیار و محبت امن کا راستہ ہے‘‘ ۔ انسا نیت کا یہ درس دیتا ہے انسان کا احترام ہونا چائیے ۔ اس پیغام کو گھر گھر پہنچانے کی بھی کوشش ریاستی اداروں اور سماجی اور سیاسی تنظیموں کی مشترکہ ذمہ داری بنتی ہے ۔ تاریخی حقائق کی روشنی میں عوام کو یہ باور کرانے کی کوشش کی گئی کہ ملک کی اصلی طاقت اتحاد اور یکجہتی ہے ۔ دلوں کو جوڑنے والے لوگ ہر دور میں رہے ہیں آج بھی موجود ہیں اور رہیں گے ۔ محبت کی شمع نہ کبھی بجھی ہے او رنہ کبھی بجھے گی ۔ اور اس کے مقابل دلوں کو توڑنے والے لوگ بھی ہر دور میں رہے ہیں اور آج بھی دندناتے پھر رہے ہیں اوران کی سازشوں سے دنیا تنگ ہے ایسے لوگوں کی سازشوں کو ناکام بنانے کا بس ایک ہی راستہ ہے کہ دلوں کو جوڑنے اور محبت کا چراغ روشن رکھنے کی مہم کو مسلسل جاری رکھا جائے اور یہ بات ثابت شدہ ہے کہ جیت بالآخر روشنی کی ہی ہوتی ہے ۔