- الإعلانات -

خطہ میں کوئی نیاتماشا نہ ہوجائے

بھارت کا ’’یوم جمہوریہ‘‘ہرسال 26 جنوری کو منایاجاتا ہے مگربھارتی جمہوریہ کا یہ دن پاکستان سمیت آزادجموں وکشمیراوردنیا بھر میں آباد کشمیری عوام ’’یوم سیاہ‘‘ کے طورپر مناتے چلے آرہے ہیں اوراس بار تو اور بھی زیادہ کشمیری عوام شدید صدمے اورغصے کی کیفیتوں میں مبتلا دیکھ رہے ہیں دنیا کی جانب کہ وہ کب بیدار ہونگے بھارت کو کب جمہوری راہ پر چلنے اورکشمیریوں کے انسانی حقوق اْنہیں دینے پر آمادہ ہونگے مگر2014 کے عام چناوکے بعد ایک بار پھر2019 کے الیکشن میں مودی دوبارہ بھارت کے وزیراعظم بن گئے اور اس بار اْنہوں نے کشمیریوں کے انسانی حقوق پر ہی شب خون نہیں مارا بلکہ این آر سی اور سی اے اے جیسے کالے قوانین کا اطلاق آسام سمیت پورے دیش میں لاگو کردیا ہے اب صرف کشمیری ہی نہیں چلارہے بلکہ پورے دیش میں صدیوں سے آباد اقلیتوں کو’’غیرملکی قرار‘‘دے کر سراپا احتجاج بنادیا گیا ہے دیش کی سب سے بڑی مسلمان اقلیت کو ’’دیش سے بیدخل کرنے‘‘کے خطرے سے دوچار کردیا ہے ایک طوف یہ اندرونی سیاسی ابتری کی صورتحال جبکہ بھارت کے ممتازماہرین اقتصادیات بہت زورشور سے دیش کے اور دیش کے باہر کے عالمی فورموں پر مودی سرکار کی آئے روز کی متعصب سیاسی پالیسیوں اورنا اہل اقتصادی فیصلوں پر کھل کر تنقید کررہے ہیں کہ مودی حکومت کی اختیار کردی ایسی سبھی متعصب پالیسیوں اور نا اہلیوں کی وجہ سے دیش آجکل شدید اور تشویش ناک معاشی بحران میں پھنس گیا ہے بھارتی معیشت کا مستقبل ہرصاحب نطرکو اب تاریک نظر آتا ہے پانچ اگست دوہزار انیس کے متنازعہ کشمیر فیصلے اور اس کے بعد ’’این آر سی اور سی اے اے‘‘جیسے کالے قوانین کے نفاذ نے بھارت کی معاشی صورتحال پر بڑی کاری ضرب لگائی ہے ہر کسی کو صاف دکھائی دے رہا ہےکہ بھارتی معیشت کوسمت دکھانے والا اہم ممبئی شہر اور ریاست مہاراشٹر بھی ناقابل بیان اقتصادی بحران کی زد میں ہیں ان دونوں ریاستوں میں 5 پانچ سال میں سب سے زیادہ کارخانے اور فیکڑیاں بند ہوتی جارہی ہیں اب عام بھارتی ماننے لگے ہیں کہ موجودہ بھارتی معاشی بدحالی کی مکمل ذمہ داری مودی حکومت پرعائد ہوتی ہے بھارتی معاشی اعدادوشمار کی مندی کی وجہ سے سب کو دکھائی دے رہا ہے کہ چین سے درآمدات تیزی سے بڑھنے لگی ہیں ایک تازہ معاشی سروے کے مطابق حالیہ مدت میں درآمدات 1;46;22 لاکھ کروڑ روپے بڑھے ہیں عام بھارتی کاروباری حلقہ شدید تشویش کاشکار ہے کہ بھارت میں سرمایہ کاری نہیں ہورہی جس کی وجہ سے روزگار کا مسئلہ بڑھتا جارہا ہے بھارت کے دیہی علاقوں میں کسانوں میں مایوسی کاماحول ہے اب اس میں کوئی دورائے نہیں کہ موجودہ مودی حکومت کی ناقص اقتصادی پالیسیوں کی وجہ سےمعاشی مندی کا سیلاب امڈے گا جس کا براہ راست اثرمتوسط کاروباری اورعام لوگوں پر، کسانوں اور مزدوروں پربڑی معاشی آفات کا سبب بنے گا آج بھی صورتحال بدلی نہیں کسانوں کی خودکشیوں میں مہاراشٹر اوّل نمبر پر ہے ،سابق بھارتی وزیراعظم اور عالمی سطح کے ممتازماہر اقتصادیات منموہن سنگھ کہتے ہیں کہ پونا شہر کو ملک کی آٹو انڈسٹری کا حب کہا جاتا تھا، لیکن اب یہ صنعت بھی بری طرح زوال پذیری کا شکار ہو چکی ہے جبکہ مودی سرکار آٹو انڈسٹری کی بحالی کے لئے کوئی موثر کردار ادا نہیں کر رہی، بھارتی جنونی عوام کی اکثریت جن میں زیادہ تر نیم خواندہ یا بالکل ہی لکھنے پڑھنے سے تہی دست اور سوچنے سمجھنے سے عاری ’’ہندوتوا‘‘کی جنونیت سے متاثر ہونے والے اب تو’’ہندوتوا کے مزاج، حالات اور ماحول‘‘ میں تقریبا ڈھل چکے ہیں ایسے انتہاپسند ذہنیت کے رجحان میں مبتلا عوام کواگرآج کوئی بات بہت بھاتی ہے تو وہ ہے پاکستان مخالفت کے سیاسی نعرے‘پاکستانی فوج اور خاص کر پاکستانی سپریم انٹیلی جنس ایجنسی آئی ایس آئی کو ہدف تنقید بنانے والے سیاسی نعرے آرایس ایس نے بھارت میں اس زہریلے مزاج کی آڑ میں عوام سے ووٹ لینے کا حربہ خوب استعمال کرلیا مودی دوبارہ وزیراعظم بن بیٹھا اب اس نفرتوں پر قائم اس سیاسی ماحول کو مودی کب تک برقرار رکھ سکتا ہے یہ سوال بھارت میں ہر ایک سمجھ بوجھ رکھنے والے ایک دوسرے پوچھ رہے ہیں مودی نے جیسا انسانیت کش ماحول بھارت میں قائم کردیا انسانوں کے مابین نفرتوں پر بننے والے اس مزاج میں ،ایسے ماحول میں سیاسی برداشت اورسیاسی بردباری کیسے پیدا ہوسکتی ہے آخر کب تک دیش کے عوام کومودی،امت شا اور اجیت ڈوبھال کی انتظامی تثلیث انتقاماً فریب زدگی کے دلاسے دیتی رہے گی وقت اْن کی مٹھیوں میں سے ریت کی مانند پھسلاجارہا ہے لہٰذا پاکستان دنیا کی توجہ فوری طور پر نئی دہلی کی طرف متوجہ کرنے کا اپنا اہم امن پیغام پہنچادینا چاہتا ہے مودی کو اگر اب کوئی سیاسی فرصت اور مہلت مل سکتی ہے تو وہ صرف اپنے جنونی عوام کے ساتھ ساتھ ترپ کایہ پتہ کہیں کھیل نہ جائے جس کا اندیشہ ہم پاکستانیوں کو ہے یہ مودی کا ٹریک ریکارڈ ہے ہر موقع پر موقع کی نازکتوں کی آڑ میں جیسا 2019کے عام چناو سے چند روز قبل ’’پلوامہ حملہ‘‘کرادیا گیا جس کے بعد ’’فروری کے فضائی حملے‘‘ ہوئے جس میں بھارت کو پاکستانی فضائیہ کے شاہینوں نے ’’تسلی بخش سبق‘‘سکھایا تھا کہیں اس بار بھارت کے یوم جمہوریہ کے موقع کا فائدہ اْٹھا کر چھبیس جنوری سے قبل مودی حکومت عوامی مسائل کی توجہ ہٹانے اورملک میں جاری مسائل مکالموں کا رخ بدلنے کےلئے ایسی کوئی جنونی حرکت نہ کربیٹھے جس سے خطہ کے امن کےلئے کوئی آلارمنگ صورتحال نہ بن جائے دنیا بلکہ اقوام متحدہ اور امریکا اپنی آنکھیں کھلی رکھیں ہ میں یہ کبھی فراموش نہیں کرنا ماضی میں بھی ایسا ہوتا رہا جب بھی بھارتی حکومتیں اپنے عوام سے کیئے گئے انتخابی وعدوں میں ناکام رہتی ہیں تووہ اپنے اقتدارکوقائم رکھنے کے لئے جنگوں کا سہارا لیتی رہی ہیں باقاعدہ جنگیں نہ سہی‘اپنے ہی دیش میں یا کشمیری سرحدی علاقوں میں کوئی ’’فالس فلیگ آپریشن‘‘کا ڈرامہ رچا کر عوامی جذبات کواکسا دیا گیا ایسے ماضی میں کئی فرسودہ اقدامات خطہ میں دیکھے گئے اور اپنے سیاسی مقاصد کےلئے کتنے ہی بے قصور لوگوں اور جوانوں کو قربانی کابکرا بنادیا گیا اقوام متحدہ اور دنیا کی بڑی طاقتیں کیسے انکار کرسکتی ہیں پاکستان نے بارہا بھارت کو کشمیر سمیت ہر معاملے پر’امن مذاکرات‘ کی پیشکش کی یہ بھارت ہے جو ہمیشہ انکار کرتا ہے لہذا’بھارت کے جنگی جنون‘کا جلد دنیا کو علاج کرنے میں اپناکردار ادا ہوگا ۔