- الإعلانات -

دانش مرگیا یا زندہ جاوید ہے

یہی کمال ہے تمثیل کا کہ تُو نہ رہے

رہا نہ تُو تو نہ سوز خودی ، نہ ساز حیات

( اقبال ۔ ۔ ۔ تیاتر)

انسان کے شعور کی آنکھ جب بیدار ہوتی ہے تو تاریخ ادب یہ بتاتی ہے کہ بہت ایسے کردار شہرت کی بلندیوں تک پہنچ گئے جن کا تعلق حقیقت سے نہیں ، افسانے سے زیادہ تھا ۔ ماضی کا ادب افسانوی والف لیلوی زیادہ ہے بلکہ کئی افسانوی ادب کے ۔ تو تخیلات سے بھی ماوراء ہوگئے ۔ جیسا کہ ;82;omio ;74;ulliat، ہیر رانجھا، لیلیٰ مجنوں ، سسنی پتوں اور یونان کا ;79;edipus وغیرہ ۔ برصغیر کی معاشرت ہزار سال سے قنوطیت کا شکار رہی ہے ۔ دیوتاؤں اور پوجا پرستش کی اس سرزمین میں ہررنگ کے ہیرو، ذہن کی اختراع کا باعث بنے ۔ بندروں تک کو’’مسیحا‘‘ اور ’’دیوتا‘‘ ماناگیا ۔ سرسوتی دیوی ’’کو موسیقی کی ’’دیوی‘‘ مانا گیا ۔ مسلمان میں بھی اس تاثیر سے بچ نہ سکے ۔ اپنے ہیروز کی بہادریوں اور ’’ہر کویسی وجود کو اپنے قصے اور کہانیوں کی زینت بنا یا ۔ کہانیاں وہی قوم تخلیق کرتی ہے ۔ جو اپنے حال کو ۔ ماضی کی تاریکیوں اور مستقبل کی خوش گمانیوں کی نذر کردیتے ہیں ۔ ماضی کے ان قصوں اورمحیرالعقول داستانوں کا لباس پہن کر، خود کو نازاں بنا دیتے ہیں اور یوں مختلف تہذیبوں میں لاشعوری طور پر اک مقابلہ پروان چڑھتا ہے ۔ جس کی بنیاد جذبات پرستی اور تو ہم پرستی ہوتی ہے ۔ زمانہ حال کے مسائل اور حقائق سے چشم پوشی اختیار کرتے ہیں ۔ جس معاشرے میں اسلاف پرستی اور ہیرو ورشب کا رجحان ہوتا ہے ۔ مشاہدہ ہے کہ وہ جذباتی، عقل سے عاری اور پسماندہ قوم ہوتی ہے ۔ تصورات میں ڈوبی یہ قوم اپنی راہ نجات ، اسلاف کے کارناموں میں تلاش کرتی ہے ۔ انکے رویے شدت پسندی کا نمونہ ہوتی ہے ۔ محبت جیسے لطیف جذبات میں بھی عشق جیسے شدید جذبات پرستی کی تلاطم خیزیاں پیدا کرتی ہے ۔ گویامایوس اورنا کام ہیرو ۔ تراشا جاتاہے ۔ جو معاشرے کے عمومی المیاتی ’’ڈھب سے میل کھاتے ہیں ۔ ہیرو کی پوجا کیلئے لازم ہے کہ اسکی موت الم ناکی کا شکار ہو ۔ یونانی معاشرہ فنون و لطاءف کا معراج سمجھا جاتا رہا ہے ۔ اس معاشرے میں ’’فیثاغورث‘‘ کے علاوہ کوئی ایسا سائنسدان اور حساب دان پیدا نہیں ہوا ۔ وہ بھی یونانی تہذیب کے اثرات تلے دب گیا اور ’’ثنویت‘‘ کا شکار ہوا ۔ دیوتاؤں اور دیویوں کی سرزمین یونان میں ، ایک بہت بڑا سا نحہ رونما ہوا ۔ ادب اور تخلیق کے ہنر مندون نے اس کردار کو آج تک زندہ رکھا ہے ۔ یونانی المیہ کے پس نظر میں ہمیشہ ’’مذہبی‘‘ اثرات متحرک رہے ہیں ۔ ان ڈراموں کو ’’ایتھنز کے تھیٹر‘‘ میں سالانہ تقریبات میں پیش کیا جاتا تھا اور عوام ان ;84;ragics میں اپنے ویوتاؤں کو تلاش کرتی تھی ۔ ڈرامہ نگار اپنے فن سے پبلک کو مسحور کرلیتا تھا ۔ ;83;ophocles ;6667; 496 ’’ایتھنز‘‘ میں پیدا ہوا ۔ ’’ ہیرو ڈوٹس ‘‘کا بہترین ’’دوست‘‘ تھا ;83;ophoclesکو ڈرامہ اور ادب میں بلند مقام حاصل تھا ۔ ;79;edipus اس کا ;77;aster ;80;ieceسمجھا جاتا ہے ۔ اس ڈرامہ کا کردار ;79;edipusلڑکپن میں فارس اور یونان کی جنگوں میں کھو جاتا ہے وہ ;84;hebesکا شہزادہ ہوتا ہے ۔ جب اس کا باپ قتل ہوجاتا ہے ۔ تو اتناعرصہ دیار غیر میں گزارے کے بعد وہ ;84;hebesلوٹتا ہے ۔ اور بادشاہ بن جاتا ہے ۔ کمال کی بات ہے جنسیات میں بے باکی، معاشرے میں ایسی ہی بات قابل وصف سمجھی جاتی ہے ۔ ;79;edipus انجانے میں اپنی ’’ماں ‘‘ ;74;acasta سے شادی کرلیتا ہے ۔ اس بات سے جب پردہ ہٹتا ہے ۔ تو ;74;acasta خودکشی کرلیتی ہے اور ;79;edipusخود کو اندھا کرلیتا ہے ۔ المیہ ۔ یہی وہ ادب ہے جس نے بعد ازاں یورپ اور برصغیرکی معاشرت کو متاثر کیا ۔ المیہ پن گویا زندگی کا قنوطی رنگ تشکیل ہوا ۔ اس تقلید میں اس تصور ادب نے مقاصد ، اعلی ظرفی ، تربیت اور زندگی کی نشو ونما کے تمام تر خوابوں کو تہہ تیغ کر ڈالا ۔ اب یہ فیشن بن گیا ہے کہ ہم نے زندگی کو المیے کے زاویے سے دیکھنا ہے اور کھانا ہے ۔ اس وقت پاکستانی ڈراما یا فلمز ۔ ایسے ہی ہاتھوں میں ہے ۔ عوام کے المیاتی رنگ کو مارکیٹ کرکے خوب دولت کمائی جارہی ہے ۔ اور المیہ پن کی تقلید میں ;79;edipusکی طرح ایسے کردار تراشے جا رہے ہیں ۔ جو ایک مسلم معاشرت میں پیش کرنا ۔

اقدار سے دوری !ثقافت سے دوری !

دینی احکام سے بغاوت کے مترادف ہے! ڈرامہ ’’میرے پاس تم ہو‘‘ کے ڈرامہ نگار خلیل الرحمن قمر نے المیاتی تقلید کی راہ پر چلتے ہوئے، دانش اور مہوش کے روپ میں ایسے کردار تخلیق کئے ۔ جس نے گھر گھر، عورت، مرد اور بچوں ۔ حتیٰ کہ وزیروں اور سیاستدانوں ، کو دانش کی المیاتی موت سے رونے پر مجبور کر دیا آخری قسط دیکھنے کیلئے پہلی بار ’’سینماؤں ‘‘ کے ہال بک ہوگئے ۔ یعنی سرمایہ داروں نے اس ڈرامے اور عوام کے جذبات کو خوب کیش کیا ۔ یہ درست ہے کہ معاشرے میں اس قسم کی برائیوں اور لاعلمی کے بیش بہا کہانیاں پڑی ہیں ۔ مگر جب آپ یہ طے ہی نہیں کرپاتے کہ ’’معاشرے‘‘ کو کس مثبت outcomeسے روشناس کرانا ہے ۔ تاکہ وہ سوچنے پر مجبور ہوجائیں کہ قانون فطرت کسی جرم کو معاف نہیں کرتی ۔ جرم چھپ سکتا ہے لیکن اس کے نشانات قائم رہتے ہیں ۔ مہوش کے کردار نے اپنے شوہر دانش کو فقط اس لئے چھوڑا کہ وہ دولت پرست تھی ۔ دانش کا جذباتی لگن اپنی بیوی سے بھی قابل نمونہ تھا ۔ پہلا جرم مہوش نے کیا اور تمام اصول و ضوابط کو توڑ کر ۔ ایک نامحرم شہوار کے پہلو میں 6ماہ تک، نکاح کے بغیر، اسکی تعیش کا سامان بنی رہی ۔ جب آخر وہاں سے دُھتکارنے کے بعد ۔ وہ دانش کے پاس جانے کی جتن کرتی ہوئی اپنے سابقہ شوہر سے رجوع کرنا چاہتی تھی ۔ یہ کس قدر غیر اخلاقی پہلو ہے ۔ جو اک پیغام کی صورت عوام کو تجسس میں مبتلا کرکے ۔ قرآن کے حکم کو ڈرامہ نگار نے اپنی عقل و جذبات کے تابع کر لیا ۔ بجائے اس کے کہ عوام ۔ مہوش سے نفرت کرتے کہ ’’کوئی عورت‘‘ یا ’’مرد‘‘ جب ’’زنا‘‘ کرتے ہیں تو اس کی تعذیر ’’100‘‘ درے ہیں تاکہ اس جرم کی سزا کے تحت وہ اپنی آئندہ زندگی کے بارے محتاط ہو جائے ۔ اس ڈرامے میں پیغام کچھ نہ تھا ۔ بلکہ المیاتی انجام تک پہنچنے کی درجہ بندیاں پیش کی گئیں ، اور کھیل کا مقصد ’’جادو‘‘ طاری کرنا تھادانش کا کردا نفسیاتی تگ و دو میں مبتلا رہا ۔ جس طرح ’’دلیپ کمار‘‘ کی شہرہ آفاقی ’’دیوداس‘‘ میں پیش کیا گیا تھا ۔ مہوش کے ساتھ جذباتی محبت کی شدت بھی تھی ۔ مگر اس کا گناہ اور جرم ہمارے دینی اقدار کے آڑے آتی تھی ۔ سو ڈرامہ نگار نے بہ کمال ہنراپنے اس مرکزی کردار کو ماردیا ۔ یہ اس کا المیہ پن ہے ۔ جو ہمارے معاشرے کا محبوب موضوع ہے ۔ اگر ڈرامہ نگار ۔ دانش کی شادی ۔ اُستانی سے کروا دیتا تو دو کام ہوجاتے ۔ ا ۔ مہوش ہمیشہ کےلئے راندہ درگاہ ہوجاتی اور ایسا دکھانے سے کسی مقصد کی تشریح ہوجاتی ۔ ۲ ۔ رومی (بچہ کا کردار) مستقبل میں confused life سے محفوظ ہوجاتا ۔ اس سے یہ ہوتا کردار اپنے منطقی اور فطری انجام تک پہنچتے ۔ معاشرے میں طربیہ یا مثبت پیغام کی آج کل کے دور میں اشد ضرورت ہے ۔ کیونکہ وہ یہ جانتا تھا کہ اس کی ماں میرے بات کو چھوڑ کر غیر مرد کے ساتھ رہ رہی ہے اور 10سال کے بچے کواتنا شدید نفسیاتی صدمہ دے کے جارہے ہو ۔ ماں سے نفسیاتی طور پر وہ دور ہوا;238; اور تم نے محبت محبت محبت کرکے گناہ گار عورت کو سر سوتی دیوی بنا دیا!بزنس کے حوالے سے یہ ڈرامہ کامیاب رہا ۔ مگر عوام کو المیے کا رنگ دے کر شکست سے دو چار ہوا ۔ نئی ٹیکنالوجی کے software میں ڈھلا یونانی ڈرامہ ;79;edipusکا چربہ معلوم ہوا!اگر ڈرامہ نگار اس کے طربیہ نتاءج یا انجام پر غور کرتا ، تو اس کا اثر معاشرے کی تربیت کے حوالے سے نہایت مقدس ہوتا ۔ اس وقت سارے پاکستان میں ایک ہی موضوع زیر بحث ہے کہ ’’دانش مرگیا یا زندہ جاوید ہے‘‘ اس سارے المیے میں بچے یا رومی کی صورت میں بچوں کی نمائندگی کرنے والا ، مفت میں مارا گیا اور کوئی شک نہیں کہ ایسے بچے تقسیم ذات کا شکار ہوجاتے ہیں ۔ نفسیات میں ایسے بچوں کو ;84;win ;80;ersonalityیا ;68;epressedذات کہا جاتا ہے ۔ ان کی محرومی ان کے والدین کے آپس میں بد اعتباری اور عرف عام میں بے وفائی کا نتیجہ ہوتے ہیں ۔ ڈرامہ نگار اگر اس نفسیاتی عمل پر غور کرتے تو سماج کو ایک عمدہ اور صحت مند پیغام دے سکتے تھے ۔ ابلاغ کا بنیادی فرض یہی ہوتا ہے کہ اچھے کو اچھا اور برے کو برا بتایا جائے ۔ اس ڈرامے میں یہ تمام اقدار رد کئے گئے ہیں ۔ صرف روایت ، تقلید اور زندگی کے منفی رخ کو ، اچھا پیش کرنے کی کوشش کی ہے ۔ یہ کوشش صرف بزنس اور شہرت تک کامیاب رہی ہے ۔ اس کا پیغام مزید منفی اثرات چھوڑگیا ہے ۔ ہمارے پاس قرآن پاک واضح دلیل موجود ہے ۔ حیرت کی بات ہے کہ ڈرامہ نگار نے اپنے مشاہدے اور عقل کو استعمال کیاہے ۔ اگر وہ قرآن سے عائلی مسائل ، موضوع دیکھ لیتے تو اس ڈرامے کو جس کا ہماری نفسیات سے گہرا تعلق ہے ، شاید ہ میں کسی چراغ کی روشنی میں چلنے کی ضرورت نہ ہوتی ۔ علامہ اقبال نے ضرب کلیم میں نظم ’’تیاتر‘‘ کے نام سے ۔ سٹیج ، ڈرامے، تھیٹر اورفلم کی درجہ ذیل اشعار میں خوب عکاسی پیش کی ہے ۔

حریم تیرا ، خودی غیر کی! معاذ اللہ

دوبارہ زندہ نہ کر، کاروبار لات و منات

یہی کمال ہے تمثیل کا کہ تونہ رہے!

رہا نہ توُ تو نہ سوز خودی، نہ ساز حیات