- الإعلانات -

بلوچستان،حالات اور اہمیت

رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ بلوچستان ہے ۔ آبادی دیگر تمام صوبوں سے کم ہے ۔ یہ صوبہ معدنی دولت سے مالا مال ہونے کے باوجود غربت کا شکار ہے ۔ جغرافیائی لحاظ سے بلوچستان ملک کا انتہائی اہم صوبہ ہے ۔ واضح رہے کہ رقبے کے لحاظ سے بلوچستان پورے ملک کا 40فیصد ہے ۔ بیش قیمت معدنیات، سونے اور تانبے کی کانوں کے علاوہ یہاں نہایت اہم گوادر بندر گاہ بھی ہے ۔ اس بندرگاہ کی دیگر تجارت کے علاوہ بڑی اہمیت تیل کی ترسیل ہے کہ یہ روٹ چین کےلئے تیل کی درآمد کا مختصر ترین زریعہ ہے ۔ بلوچستان کی ایک اور اہمیت یہ ہے کہ اس صوبہ کے زریعے پاکستان کی سرحد پڑوسی ملک ایران کے ساتھ ملتی ہے جو کہ تیل اور گیس پیدا کرنےوالا اہم ملک ہے ۔ علاوہ ازیں بلوچستان کی سرحدیں بھارت، افغانستان اور چین سے بھی ملتی ہیں ۔ بلوچستان میں سوئی کے مقام سے نکلنے والی قدرتی گیس پاکستان کی بہت حد تک ضروریات کو پورا کرتی ہے ۔ ان تمام منفرد خصوصیات اور اہمیت کے باوجود افسوسناک امر یہ ہے کہ یہ صوبہ تعلیم،صحت اور دیگر بنیادی سہولیات سے محروم ہے ۔ عوامی سطح کے ترقیاتی پروگرام میں بھی بلوچستان کو نظر انداز کیا جاتا ہے ۔ تعلیمی لحاظ سے یہ صوبہ پاکستان کا سب سے پسماندہ صوبہ ہے ۔ یہاں تعلیمی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں ۔ کوءٹہ اور دیگر بڑے شہروں کو چھوڑ کر صوبے کے باقی اضلاع اور تحصیلوں میں یا تو سرے سے سکول ہی نہیں ہیں اور اگر کہیں ہیں بھی تو ان کی حالت ناگفتہ بہہ ہے ۔ ممکن ہے کہ سرکاری کاغذات میں بلوچستان میں تعلیم پر کروڑوں اربوں روپے خرچ کیئے جا رہے ہوں لیکن زمینی حقائق نہ صرف بلوچستان کی تقریباً ہر صوبائی حکومت اور ہر وفاقی حکومت کا منہ چڑا رہے ہیں ۔ اسی طرح صحت کے بارے میں بھی اس اہم ترین صوبہ کا برا حال ہے ۔ بڑے شہروں کے ہسپتالوں کا یہ عالم ہے کہ ڈاکٹر ہے تو دوا نہیں ،ضروری مشینری نہیں ۔ یہاں تک کہ مریضوں کےلئے بیڈ دستیاب نہیں ہیں ۔ اگر بڑے شہروں کے ہسپتالوں کا یہ حال ہے تو دیہی اور دور دراز علاقوں کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہاں دیہی مراکز صحت میں کیا حال ہوگا ۔ دیہی اور دو دراز علاقوں میں مراکز صحت کی تعداد انتہائی کم ہے اور جہاں دیہی مراکز صحت ہیں ان میں ڈاکٹر ہی نہیں ہوتے ۔ دوا دارو کا کیا رونا رویا جائے ۔ بلوچستان میں روزگار کی عدم دستیابی اور ذراءع نہ ہونے کے برابر ہیں ۔ یہاں سے معدنیات نکال کر دوسرے صوبوں میں منتقل کیا جاتا ہے لیکن اس صوبہ میں کارخانے نہیں لگائے جاتے جن سے بےروزگاری اور غربت میں کمی لائی جا سکتی ہے ۔ اس کے علاوہ بھی صوبائی یا وفاقی حکومتوں کی طرف سے یہاں روزگار کی فراہمی کےلئے عملی اقدامات نظر نہیں آتے ۔ بلوچستان میں جتنی بھی قو میں آباد ہیں اور ان کی جو بھی زبان اور بولی ہے ۔ لیکن ایک بات بلاشک وشبہ کہی جا سکتی ہے کہ بلوچستان کی عوام نہایت محب وطن ہے ۔ ان کی حب الوطنی پر کوئی شک و شبہ نہیں کیا جا سکتا ۔ پھر بھی یہاں اکثر و بیشتر چھوٹے بڑے بد امنی کے واقعات کیوں رو نما ہوتے ہیں ۔ یہ ایک اہم اور قابل توجہ سوال ہے ۔ دراصل بلوچستان کی پاکستان کے لیئے اہمیت سب پر واضح ہے ۔ مذکورہ بالا مسائل اور اس صوبہ کو نظر انداز کرنے یا بھرپور توجہ نہ دینے کی وجہ سے بیرونی طاقتیں مذموم کوششیں کرتی رہتی ہیں ، یہاں کے ناخواندہ طبقہ کو گمراہ کیا جاتا ہے اور یہاں کی عوام کی محرومیوں کو بطور آلہ استعمال کیا جاتا ہے لیکن ایسے افراد کی تعداد آٹے میں نمک کے برابرہے ۔ حالات کی خرابی میں بیرونی طاقتیں اپنے مخصوص کارندوں کے ذریعے براہ راست ملوث ہوتے ہیں ۔ یہ لوگ بلوچستان کے وسیع اور غیر آباد رقبے کا بھی فائدہ اٹھاتے ہیں ۔ اور جغرافیائی لحاظ سے طویل سرحدی سلسوں کا بھی ۔ ایران اور افغانستان کے راستے شر پسند عناصر بلوچستان میں داخل ہو کر مذموم کارروائیاں کرتے ہیں ۔ پاک فوج اگر مشرقی سرحد کی نگرانی کےلئے ہمہ وقت کمر بستہ ہے تو مغربی سرحدوں سے بھی غافل نہیں ہے ۔ افغان ایران سرحدوں پر پاک فوج کی دن رات نظر ہے ۔ بلوچستان میں گذشتہ چند سالوں میں دہشت گردی اور امن و امان کی خراب صورت حال پر پاک فوج نے جانوں کے نذرانے دے کر اور کامیاب حکمت عملی کے زریعے قابو پایا ۔ بلوچستان کے غیور اور محب وطن عوام نے پاک فوج کا نہ صرف ساتھ دیا بلکہ پاک فوج کی قربانیوں اور صوبے میں امن قائم کرنے پر پاک فوج کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں ۔ صوبے میں مواصلاتی نظام اور سڑکوں کی توسیع و تعمیر میں بھی پاک فوج اور اس سے متعلقہ اداروں ک اہم کردا ر ہے ۔ لیکن بات یہاں ختم نہیں ہوتی ۔ صوبے کی ترقی اور عوام کی خوشحالی پاک فوج کی نہیں صوبائی اور وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے ۔ اگر پاک فوج اپنی زمہ داریوں کو بھرپور طریقہ سے ادا اور پورا کرتی ہے تو وفاقی اور صوبائی حکومتیں کیوں اپنی زمہ داریوں کو پورا نہیں کرتیں ۔ فنڈز کے معاملے میں وفاقی حکومتیں اس صوبہ کو پورا حق کیوں نہیں دیتیں ۔ آخر کار اس اہم ترین صوبہ کو کیوں نظر انداز کیا جاتا ہے ۔ اور اگر وفاق کی طرف سے فنڈز ملتے بھی ہیں تو کیا صوبائی حکومتیں ان فنڈز اور صوبہ کے محاصل کو درست اور جائز طریقہ سے خرچ کرتی ہیں ۔ شاید ایسا نہیں ہوتا ۔ سرکاری اداروں میں سب سے زیادہ کرپشن بلوچستان میں نظر آتی ہے ۔ سیاستدانوں کو تو تب ہر برائی اور بدعنوانی کے مرتکب قرار دیا جائے جب منصوبے ان کے گھروں میں بنتے ہوں اور منصوبوں کےلئے رقوم ان کے ذاتی اکاءونٹ میں جمع ہوتی ہوں ۔ منصوبے بنتے بھی سرکاری اداروں اور دفاتر میں ہیں اور ان منصوبوں پر خرچ ہونے والی رقوم بھی ان اداروں کے ذریعے ہوتی ہیں ۔ البتہ صوبائی حکومتوں کے عملداروں کی یہ ذمہ داری ضرور بنتی ہے کہ وہ سرکاری اداروں کی کارکردگی پر نظر رکھیں اور جانچ پڑتال کریں ۔ ان اداروں کے کرتا دھرتاءوں کے ساتھ ملی بھگت نہ کیا کریں ۔ موجودہ وفاقی اور صوبائی حکمران یہ کہہ کر اپنی زمہ داریوں سے جان چھڑانے کی ناکام کوشش کرتے ہیں کہ بیورو کریسی تعاون نہیں کرتی تو اس کا سادہ جواب یہ ہے کہ بیورو کریسی آپ کے ماتحت ہے آپ بیورو کریسی کے ماتحت نہیں ہیں ۔ اگر آپ کے ہاتھ صاف ہیں تو آپ پھر بیورو کریسی کے رحم و کرم پر کیوں ہیں ۔ آپ وفاقی اور صوبائی سطح پر نظام میں تبدیلی کیوں نہیں لاتے ۔ لیکن یہ تب ہوگا کہ آپ اس گردان کو چھوڑ دیں کہ یہ چور ، وہ چور ، پکڑیں گے ،نہیں چھوڑیں گے ۔ بلکہ موجودہ حکمرانوں نے تو بیورو کریسی کو کھلی چھوٹ دے دی ہے ۔ پنجاب اور بلوچستان کی حکومتیں واضح طور پراب بیورو کریسی کے رحم و کرم پر ہیں ۔ جہاں حکومتیں کمزور ہوتی ہیں ۔ جہاں حکمرانوں کو عوام کے بجائے کرسی کی فکر ہو وہاں کبھی بھی نہ ملک ترقی کر سکتا ہے نہ عوام کو خوشحالی نصیب ہو سکتی ہے ۔ ایسے کئی ممالک کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں ۔ کچھ بھی ہو اور کچھ بھی کریں لیکن خدارا بلوچستان کو مزید نظر انداز نہ کریں ۔ نہ پاک فوج کی قربانیوں اور محنت کو ضائع ہونے دیں اور نہ وہاں کی عوام کی امیدوں کو ڈوری ٹوٹنے دیں ۔ آپ تسلیم کر لیں کہ بلوچستان ہر لحاظ سے نہایت اہم صوبہ ہے ۔ یہاں کی عوام نہایت پس ماندہ ہیں ، بہت غریب ہے، ناخواندگی ہے ۔ تعلیم ، صحت اور روزگار کا فقدان ہے ۔ یہاں کی عوام پاکستان کے دیگر صوبوں کی عوام اور آپ کی طرح بہت محب وطن ہیں ۔ ان کو ترقی اور خوشحالی دیں کہ یہ بھی پاکستانی ہیں ۔