- الإعلانات -

ملک میں درپیش بحرانوں پر قابو پانے کیلئے حکومتی اقدامات

ملک میں درپیش بحرانوں پر قابو پانے کیلئے حکومتی اقدامات

صدر،وزیراعظم کیمپ آفس بنانے کا اختیار ختم کرنے کیلئے بھی قانون میں ترمیم کی منظوری دیدی گئی

اس وقت ملک میں جو بھی بحران کارفرما ہیں ان پر قابو پانے کیلئے حکومت ہر ممکن کوشش کررہی ہے ۔ اس سلسلے میں تو وزیراعظم نے پہلے ہی عندیہ دیدیا ہے کہ وہ مہنگائی کرنے والوں کو کسی صورت نہیں چھوڑیں گے اور ساتھ ہی انہوں نے کہاکہ ذخیرہ اندوزوں کیخلاف بھی گھیرا تنگ کیا جائے گا ۔ آٹا بحران پیدا کرنے والے مافیا کےلئے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی بنائی گئی ہے، ان سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا ، آٹا بحران پر تحقیقاتی رپورٹ کی روشنی میں ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ہو گی،وفاقی کابینہ نے اعتراضات کے باوجود آٹا بحران پر قابو پانے کےلئے 3 لاکھ ٹن گندم در;200;مد کرنے کی منظوری دیدی ۔ اقتصادی رابطہ کونسل کے فیصلے کی توثیق کرتے ہوئے آٹے کی قلت پوری کرنے کیلئے بیرون ملک سے 3 لاکھ ٹن گندم منگوانے کی منظوری دی گئی ، وفاقی کابینہ میں شامل سندھ سے تعلق رکھنے والے وزرا سمیت اکثریت نے صوبائی پولیس کے سربراہ کےلئے تجویز کردہ مشتاق مہر کے نام پر تحفظات کا اظہار کیا ہے جس کے بعد کابینہ نے آئی جی سندھ کےلئے مشتاق مہر کا نام واپس کر دیا ہے ،وزیر اعظم نے گورنر سندھ کو وزیراعلیٰ سے ایک مرتبہ پھر مشاورتی عمل شروع کرنے کا فیصلہ کیا اور ہدایات دی ہیں ،چین کے شہر ووہان میں موجود پاکستانیوں کی مدد اور رپورٹ دینے کی ہدایت کی گئی ہے ، مشیر صحت اس حوالے سے تفصیلی طور پر آگاہ کریں گے،الیکشن کمیشن کا آزادانہ اور شفاف کردار ہے، وزیراعظم نے شفاف الیکشن کےلئے پارلیمانی کمیٹی کو فریقین سے مشاورت کی ہدایت کی ہے، یوریاکھاد کی بوری پر ٹیکس کم کرنے سے 395روپے کا ریلیف ملے گا، نور الحق کو وائس چیئرمین اوگرا تعینات کرنے کی منظوری دی گئی ہے، کابینہ نے سستے گھروں کی فراہمی کےلئے وزارت ہاءوسنگ کی جامع پلان پیش کرنے کی ہدایت کی ، 5فروری کو یوم یکجہتی کشمیر بھرپور طریقے سے منایا جائے گا، پاکستان براڈ کاسٹنگ ایکٹ اور اے پی پی آرڈیننس میں ترمیم، اسلم خان کو پی آئی اے بورڈ میں پرائیویٹ ممبر تعینات کرنے کی منظوری دی گئی جبکہ وفاقی وزیر مواصلات مرادسعید نے کہاکہ سابق حکمرانوں سے اضافی اخراجات کی رقم وصول کرنے کا فیصلہ کیا ہے، سابق حکمرانوں کےلئے گئے قرضے ہم ادا کر رہے ہیں ، کیمپ آفیسرز کے قیام کو روکنے کےلئے قوانین میں ترامیم کی گئی ہے، آصف زرداری نے سیکیورٹی کے نام پر163ارب سے ائد کے اخراجات کئے، شریف خاندان کےلئے سیکیورٹی اہلکاروں کی تعداد2753تھی، شریف خاندان نے27کروڑ روپے سے گھر پر خاردار تار لگائی ۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ ان سابق حکمرانوں سے وہ ساری رقم وصول کرے گی جو ان کی سیکورٹی کی مد میں خرچ ہوتی رہی ۔ یہ بات بالکل درست ہے کہ ماضی میں عوامی خزانے پر جس طرح شب خون مارا گیا اس کی مثال نہیں ملتی ۔ چونکہ مہنگائی کا تعلق ہمیشہ سے طلب و رسد سے ہوتا ہے جب طلب بڑھ جائے اور رسد نہ ہو تو مارکیٹ سے چیزیں عنقا ہو جاتی ہیں ۔ کچھ اس طرح کے حالات خزانے کے ساتھ بھی رہے جب اس کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا جاتا رہا تو پھر معیشت کمزور ہونا ہی تھی ۔ جب معیشت کمزور ہوتی ہے تو پھر مہنگائی بھی منہ پھاڑ کر آجاتی ہے ۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حکومت نے جن پیسوں کی وصولی کے حوالے سے عزم کا اظہار کیا ہے اس کو پایہ تکمیل تک پہنچانا لازمی ہے اسی طرح جس نے بھی کسی بھی مد میں قومی خزانے کو لوٹا ہے اس سے وہ رقم واپس لینی چاہیے چاہے اس کا تعلق حکومت سے ہو یا اپوزیشن سے ، یہ خزانہ قوم کی ملکیت اور عوام کی بہتری پر خرچ کیا جاسکتاہے ۔ جس نے بھی اپنے ذاتی مفاد کیلئے پاکستان کی دولت کو لوٹا ہے وہ مجرم ہے ۔ اصل سیکورٹی تو عوام کو چاہیے تاکہ وہ محفوظ اور پرامن زندگی گزاریں ۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ وی آئی پی کلچر کا خاتمہ کردے گو کہ یہ پی ٹی آئی کے منشور میں شامل تھا لیکن ابھی تک دیکھنے میں آرہا ہے کہ عنان حکومت میں بیٹھے لوگ وی آئی پی نہیں بلکہ وی وی آئی پی کلچر کے مزے اڑارہے ہیں ۔ یہ حساب سب سے ہونا چاہیے کہ جب ایک وزیر نکلتا ہے تو اس کیساتھ 10سے 15 گاڑیوں کا کیا تعلق ہے یہ خزانے پر بوجھ بنتا ہے اس سیکورٹی کا بھی حساب کتاب ہونا ضروری ہے ۔

بیت المقدس کے حوالے سے ٹرمپ کا اعلان ناقابل قبول

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیت المقدس کے حوالے سے ایک ایسا معترضہ اعلان کیا ہے جو کسی صورت بھی کسی مسلمان کیلئے قابل قبول نہیں ، بیت المقدس ہمارا قبلہ اول ہے اس کی حفاظت کیلئے بھی ہر مسلمان کی جان نچھاور ہے یہ کیونکر ممکن ہوسکتا ہے کہ اس کو مکمل طورپر یہودیوں کے زیر تسلط دیدیا جائے ۔ ٹرمپ نے جب یہ اعلان کیا تو اس کے ساتھ اسرائیلی وزیراعظم موجود تھا اور تقریب میں تقریباً سارے یہودی ہی شامل تھے ۔ ایسے موقع پر امت مسلمہ کو متحد ہونا چاہیے ۔ اوآئی سی کو متحرک ہونا چاہیے اور مسلم متحدہ فوج جو بنی ہے اس کو کردارادا کرنا چاہیے ۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فلسطینیوں سے کسی قسم کی مشاورت کے بغیر اسرائیلی وزیرِ اعظم سے دو سالہ مذاکرات کے بعد مشرقِ وسطی اور فلسطین سے متعلق اپنا منصوبہ پیش کردیا جسے ڈیل آف دی سنچری کا نام بھی دیا گیا ہے ۔ واءٹ ہاءوس میں اسرائیلی وزیرِ اعظم کے ساتھ صدر ٹرمپ نے یہ منصوبہ پیش کیا جس کی تفصیلات سے بھی قبل فلسطینی مسترد کرچکے ہیں کیونکہ انہیں خدشہ تھا کہ یہ منصوبہ ہر حال میں اسرائیل کے مفاد میں پیش کیا جائے گا ۔ غزہ کی پٹی میں ہزاروں افراد نے اس فیصلے کے خلاف شدید احتجاج کرتے ہوئے سڑکوں کا رخ کیا ۔ انہوں نے صدر ٹرمپ اور نیتن یاہو کی تصاویر کو آگ لگائی اور بینروں کے ذریعے یہ پیغام پہنچایا کہ فلسطین برائے فروخت نہیں ۔ اس اعلان کے بعد الفتح سے تعلق رکھنے والے فلسطینی صدر محمود عباس سے شدید اختلافات رکھنے والی تنظیم حماس نے بھی صدر کے بیان کی تائید کی ۔ فلسطینی وزیرِ اعظم محمد اشتیہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ صدر ٹرمپ کا منصوبہ فلسطینی مزاحمت اور مقصد کے خاتمے کا ایک منصوبہ ہے جسے ہم مسترد کرتے ہیں کیونکہ یہ بین الاقوامی قوانین کے خلاف اور فلسطینیوں کے حقوق چھیننے کے مترادف ہے ۔

پروگرام سچی بات میں عبدالقدوس بزنجو کی اہم گفتگو

سپیکر بلوچستان اسمبلی عبد القدوس بزنجو نے روزنیوز کے پروگرام ’’ سچی بات ‘‘ میں ایس کے نیازی کے ساتھ گفتگو میں کہاکہ نیازی صاحب بلوچستان کے ایشوز پر پروگرام کرنے پرآپ کا مشکور ہوں ،2011سے پہلے بلوچستان میں تنخواہیں دینے کیلئے پیسے نہیں تھے ،18ویں ترمیم کے بعدمعاملات کچھ بہتر ہوئے ،بلوچستان کے پاس بہت سارے ریسورسز موجود ہیں ،ہمارے اندر اعتماد کا فقدان ہے ،جام کمال سے میرا کوئی ذاتی مسئلہ نہیں ،جام کمال صاحب بہت ساری چیزوں میں بہتر ہیں ،لوگوں کو توقعات ہیں ہم مسائل کو حل کریں گے ،میرے پاس عوامی نہیں ،آئینی عہدہ ہے ، میں اس عہدے پر نہیں جہاں عوام کے معاملات کو لیکر چلوں ، میں اپنی پارٹی کا مشکور ہوں ، معاملے کو پرسنل نہیں لیا،کمیٹی بنانے پر وزیراعظم اور چیئرمین سینیٹ کا مشکور ہوں ،کمیٹی عوامی مسائل سنے گی ،وزیراعلیٰ اور ہمارے معاملات کو طے کریگی،بلوچستان کو آگے کیسے بڑھانا ہے کمیٹی نے اس چیز کو بھی لیکر چلنا ہے ،میرامقصد بلوچستان کے عوام کو ریلیف فراہم کرنا ہے ،گوادر میں گزشتہ 6سال سے گورنمنٹ پانی خرید کر لوگوں کو دے رہی ہے ۔ بارشوں کے بعد ڈیم بھر گئے ہیں ،اب دو ،تین سال تک پانی کا مسئلہ نہیں ہوگا ،بلوچستان کم آبادی والا صوبہ ہے ،تھوڑی سے توجہ دیکر بہتر کیا جاسکتا ہے ،بلوچستان کے لوگوں کو وزیراعظم سے بہت سی توقعات ہیں ،جام کمال سمجھتے ہیں وہ چیزوں کو بہترکررہے ہیں ،ہ میں آپس کی لڑائی کے بجائے صوبے کے مسائل پر توجہ دینا ہوگی