- الإعلانات -

منسٹری آف ٹورازم اور سیاحت


اِس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں مگر ہماری یہ بدقسمتی ہے کہ ہم ایسے ٹیلنٹ کو ضائع کردیتے ہیں ۔ ہمارے انجینئرز، ڈاکٹر ز اوردیگر شعبوں کے افراد بیرون ممالک میں اپنے کام کی مہارت کی وجہ سے ایک نام رکھتے ہیں ۔ ہمارے طالب علم ہر سال اواے لیول اور دیگر آئی ٹی شعبوں کی سرٹیفیکیشن میں ریکارڈ بناتے ہیں ۔ ہماری قوم دُنیا کی ذہین ترین قوم ہے ۔ ہ میں اپنی خوبیوں کو بھی بیان کرنا چاہیے کہ بطور قوم ہم کسی سے کم نہیں ہیں ۔ چند سال پہلے پانی سے گاڑی ;223;موٹر سائیکل چلانے والوں کے بھی میڈیا پر اِنٹرویو دکھائے گئے ۔ سستی بجلی ہر گھر کے لیے بنانے کے پراجیکٹ بھی ہمارے نوجوانوں نے دکھائے ۔ ہیلی کاپٹر تک بنائے مگرکوئی ایک بتا دیں جس کو منسٹری آف سائنس وٹیکنالوجی نے حوصلہ افزائی کی ہو ۔ پاکستان دُنیا کا خوبصور ت ترین سیاحتی مُلک ہے ۔ ہمارے حکمران اگر ٹوراِزم کے شعبے میں توجہ دے تو یقین جانیں ہم ہر سال سیاحوں کی آمد سے ایک خطیر زرمبادلہ حاصل کرسکتے ہیں ۔ یہاں کاغان وادی،نیلم وادی ،سوات وادی ،ہنزہ وادی ،مری اور اسکے اردگرد کے پہاڑی مقامات سیاحوں کو سوئزلینڈ جانے کی بجائے پاکستان کی طرف سیر وسیاحت کےلئے مجبور کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں ۔ یہ قدرتی وادیاں دیکھ کر سیاح حیران ہوجاتے ہیں کہ پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے اتنے خوبصورت علاقے دیے ہیں ۔ سیاحت کےلئے سہولتوں کو بہتر معیار میں دینے سے ہی سیاح آسکتے ہیں ۔ جو یہاں دورے پر آئیں وہ واپس جا کر ہماری مہمان نوازی اور حکومتی سہولتوں سے متاثر ہوکر ہی اپنے مُلک جا کر اپنے تجربات اور دورے کی تفصیل اپنے مُلک کے شہریوں سے شیئر کرکے ہماری ٹورازم اِنڈسٹری کو پروموٹ کرسکتے ہیں ۔ فرحت علی بیگ بھی ان ذہین نوجوانوں میں سے ایک ہے جو ایک پنجاب کے سرکاری سکول میں اٹک شہر میں گذشتہ اٹھارہ سال سے تعلیم دے رہاہے ۔ وہ ایم اے اِسلامیات ،ایم ایڈ ہے ۔ اُس کی کوششوں میں طالب علموں کو اِنگلش کی سکلز سکھانا کا بھی ہے ۔ وہ مذہبی موضوعات پر بھی ایک نیشنل سطح پر چھپنے والی اخبار میں اور مقامی اِخبارات میں بھی لکھتے رہتے ہیں ۔ جدید ٹیکنالوجی کو روشنا س کرنے کےلئے اپنی ذہنی صلاحیتوں کو وہ استعمال کرتے ہوئے کوششوں میں لگے رہتے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ ٹیکنالوجی جد ت پر کام کرنا میرا شوق اور ایک الگ شعبہ ہے جس پر میں کام اپنے فارغ اوقات میں کرتاہوں ۔ میں نہ تو انجینئرہوں اور نہ ہی کوئی ٹیکنیشن مگر اپنے شوق ومحنت سے آئیڈیاز کو پراجیکیٹ بنا کر عملی زندگی میں لانے پر کام کرتا ہوں ۔ چند سا ل پہلے اُنہوں نے یہ محسوس کیا کہ مساجد میں لگی پانی کی ٹوٹیوں سے چارسے پانچ لٹر پانی روزانہ بغیر اِنسانی جسم کو چھوئے ہوئے ضائع ہوجاتاہے ۔ اُس نے جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے اِس کا حل نکالا اور ایسی ٹیکنالوجی کے ذریعے یہ ٹوٹیوں کا سسٹم بنادیا گیا کہ اب پانی کاضیاع نہیں ہوتاتھا ۔ اَب چند سالوں کی محنت اورجستجو کے ساتھ اُس نے نئے چیر لفٹ کا آئیڈیا اورماڈل پیش کیا ہے ۔ اُس کاکہناہے کہایوبیہ، پتڑیاٹہ چیئر لفٹ جو کہ ٹیکنالوجی سے درآمد شُدہ ہے میں نقاءص ہیں ۔ اس میں ایک آئرن رسی ہوتی ہے اور ساتھ سیٹنگ کا سسٹم چلتاہوا نظر آتاہے ۔ اِس میں اکثر رسہ ٹوٹنے کا خطرہ رہتاہے ۔ ڈی ٹریک ہوجاتاہے ۔ بجلی چلی جائے تو گھنٹوں لفٹ جا م بھی ہوجاتی ہے ۔ حادثات بھی رسہ ٹوٹنے سے ہوتے ہیں ۔ فرحت علی بیگ کہتے ہیں کہ جو چیئرلفٹ کاماڈل میں نے بنایاہے اِس میں ایک یا دو افراد زیادہ سے زیادہ بیٹھ سکیں گے اور اِس کا کنٹرول آپ کے اپنے ہاتھ میں ہوگا اور آپ دوران ِ سفر جہاں اُترنا چاہیں گے وہاں پر یہ لفٹ آپ کو اُتار دے گی اِس سے ایک فائدہ یہ ہوگا کہ جو اِس ہوائی سفر میں نیچے علاقے آرہے ہیں وہاں پر مقامی آبادی والے ہوٹل ،ریسٹوران بھی بنا سکتے ہیں جس سے ٹوراِزم کوفائدہ ہوگا اورلوگوں کو روزگاربھی ملے گا ۔ بڑے پارکوں میں لگا کر یہ سسٹم دیکھ سکتے ہیں جیسے ایوب پارک راولپنڈی،فاطمہ جناع پارک اِسلام آباد ، لاہور ،پشاور ،کراچی وکوءٹہ اور دیگر بڑے شہروں کی پارکوں میں یہ چیرلفٹ لگا کر ٹیسٹ کیا جاسکتاہے کہ اِ س کے فوائد کتنے اور کیا اِس سسٹم میں کمی ہے جس پر مزید کام کیا جا سکتا ہے تاکہ پھر بڑی جگہوں پر یہ چیرلفٹ متعارف کروائی جاسکے ۔ ایک چھوٹا سا سسٹم 30-35 ہزار میں بنا کر اُن حکومتی افراد کو دکھایا جا سکتا ہے جو کہ ایسے سسٹم کونصب کرنے کی اتھارٹی رکھتے ہیں ۔ یہ شمالی علاقہ جات میں بھی سسٹم لگا کر لوگوں کی زندگیوں کو آسانی کی طرف لے کر جاسکتے ہیں جیسے اِن علاقوں میں برفباری کی وجہ سے کئی کئی ماہ رابطہ پہاڑی علاقوں پر رہنے والوں کےلئے دُوسرے شہروں سے ختم ہو جاتا ہے ۔ اشیاء خوردنوش ختم ہونے کے بعد وہ بذریعہ سڑک دُوسرے شہر نہیں جاسکتے ہیں ۔ ایمرجنسی کوئی ہوجائے تو وہ پہاڑی مقامات پر رہنے والے نیچے دُوسرے شہروں میں ہسپتال نہیں پہنچ سکتے ہیں ۔ اِس لفٹ کو ریسکیو کے طور پربھی اِستعمال کیا جاسکتاہے ۔ ایک ایسا سسٹم بنایا جاسکتاہے جس میں انویسٹر کو ایک ٹریک لگاناہوگا اور اُس سسٹم کو چلانے کےلئے ایک ٹیم رکھنی ہوگی اور جو بھی اُس سسٹم کو اِستعمال کرنا چاہے گا وہ وہ ایک یا دو افراد والا کیبن کوئی بھی خرید کر اِس ٹریک کے انویسٹر ساتھ ماہانہ یا سالانہ کوئی فیس ادا کر جتنا چاہے اس ٹریک کے ذریعے ایک پوائنٹ سے دوسرے پوائنٹ تک جاسکے گا ۔ اِیسے ٹریک لگانے سے لوگوں کو آسانیاں بھی ملیں گی اور ساتھ ہی بے روزگاری بھی کم ہوگی کیونکہ مارکیٹ میں ایسے کیبن تیار کیے جائیں گے اور ساتھ جو یہ ٹریک چلا رہے ہوں گے وہ اِس نظام کو چوبیس گھنٹے دیکھنے کےلئے اپنے پاس چند افراد ٹیکنیکل اور ایڈمنسٹریشن کو دیکھنے کےلئے بھی بھرتی کریں گے ۔ یہ سسٹم اُن ہاءوسنگ سوساءٹیز میں بھی لگایا جاسکتاہے جہا ں پر پبلک ٹرانسپورٹ نہیں ہے وہاں یہ کیبن چیئرلفٹ بہت کامیابی سے چل سکتی ہے ۔ عارف علی بیگ ایک جینیس پاکستانی ہے اِس نے مکمل یہ نیا چیر لفٹ کا سسٹم تیار کررکھاہے ۔ ایسے افراد کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے ۔ چائنا اور دیگر ممالک میں قو میں اپنے مُلک کے افراد کے بنائے ہوئے قومی پراجیکٹ کی حوصلہ افزائی کرتی ہے توہم ایسا کیوں نہیں کرسکتے ۔ درآمد شدہ پراجیکٹ کی بجائے ہم مُلک کے ذہین وقابل افراد کی صلاحیتوں سے فائدہ کب اُٹھائیں گے ۔