- الإعلانات -

زرعی بحران کا اندیشہ !

پاکستان قدرتی حسن سے مالامال ہے اور قدرت کا ہر رنگ یہاں موجود ہے ۔ سال کے چار موسم پاکستانیوں کیلئے قدرت کا انعام ہے ۔ زر خیز اراضی ،پہاڑ ، جنگلات، میدانوں اور و صحراءوں میں موجود معدنیات قدرت کا تحفہ ہے ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مستقبل اس خطے کا ہے مگر ہمارا خراب نظام آڑے آجاتا ہے اور اقتدار پر مسلط عناصر نے گزشتہ بہتر برسوں میں قومی سوچ کی بجائے ہمیشہ انفرادی سوچ کو ترجیح دی ہے اور قومی مفاد کو پس پشت ڈال کر زاتی مفاد کو ترجیح دی ہے جس کے نتاءج عوام کے سامنے ہیں اور ترقی معکوس ہے ۔ دو ہزار پانچ کے ہولناک زلزلہ کے بعدملک کے طول و عرض میں زمین کی بڑے پیمانے پر خرید و فروخت میں اضافہ کے نتیجہ میں مانگ اتنی بڑھ رہی ہے کہ اوسط مالی استطاعت رکھنے والے معمولی رہائشی ضروریات کی خاطر چند گز زمین خریدنے کا محض اب خواب ہی دیکھ پا رہے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ زمینوں کے بڑے ڑے بیوپاریوں کے وارے نیارے ہیں ۔ حالیہ برسوں میں زمین کی قیمتوں میں کئی سو گنا اضافہ ہوا ہے جبکہ اس وقت بھی زمین کی قیمتوں میں چڑھاوَ کا تشویشناک رحجان جاری ہے ۔ بنجر اراضی کو تجارتی اور رہائشی مقصد کےلئے استعمال میں لانا قابل فہم ہے لیکن قابل کاشت اراضی اور باغات کو رہائشی اور تجارتی مقاصد کیلئے استعمال میں لانا ملک اور قوم کے ساتھ زیادتی ہے اور سونے پر سہاگہ یہ کہ وقت گزرنے کے ساتھ زمین اور جائیداد وں کی قیمت میں اضافہ انتہاکو چھو رہا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ کرپشن اور بدعنوانیوں کا گراف بھی دن بدن بلند ہوتا جا رہاہے اور جن کے ہاتھ یہ ناجائز اور بغیر محنت کی دولت ہاتھ آئی اس نے ملک کے طول و ارض بالخصوص شہروں کے مضافات میں کئی پوش کالونیوں کو وجود بخشا ہے ۔ زرخیز اراضیوں پربنائی جانےوالی یہ کالونیاں اور سوساءٹیاں اب وسعت اختیار کرتی جارہی ہیں اورنتیجہ کے طور زمین کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا جارہا ہے اور قدرتی حسن غارت ہو رہا ہے ۔ ضرورت کیلئے جائز دولت کے سہارے خریدوفروخت اخلاقی اور قانونی ہے مگر ناجائز اور غلط سرمایہ کاری کے منفی یا بڑے اثرات معاشرے پر مرتب ہوئے ہیں اور ناجائز دولت کے سہارے خریدو فروخت بد دیانتی اور بے ایمانی کی حوصلہ افزائی کا موجب بن رہا ہے اورقابل کاشت اراضی کی خرید و فروخت فوری اور طویل المدتی اقتصادی اور معاشرتی مفادات کے حوالہ سے نقصان دہ ثابت ہورہی ہے ۔ اور پاکستان کوزرعی پیداوار میں دنیا کا محتاج بنایا جارہا ہے ۔ اناج ، آٹا، گندم، مکی، دالیں ، تیل، مصالحہ جات، ملبوسات ، پولٹری، گوشت، ساگ سبزیاں ، دودھ وغیرہ میں ملک کو محتاج بنانے کی کوشش ہورہی ہے ۔ آنے والے دنوں میں بچی کھچی قابل کاشت اراضی کی خرید وفروخت اور قدرتی حسن تبدیل کرنے کا سلسلہ جاری رہا تو اس کے نتاءج نہایت ہولناک ہونگے اور ملک انتہائی گہرائیوں تک دوسروں کا محتاج ہوجائیگا اور زرعی ملک ہونے کے باوجود دوسروں کے دست نگر ہونگے ماحولیاتی آلودگی کا طوفان آجائیگا اور بیماریاں پھیل جائیگی اور دہشت گردی سے بھی زیادہ ایک طرف سیاحت کو نقصان ہوگا اور دوسری طرف زرخیز زمینوں کی آبا کاری اور کالونیوں اور سوساءٹیوں کے قیام سے ایک زرعی ملک میں زرعی بحران کا بھی اندیشہ ہے!