- الإعلانات -

عالمی برادری کی خاموشی اورمسئلہ کشمیر

انتہا پسندی میں جب جبروتشدد کا عنصر اپنی پوری شدومد کے ساتھ شامل ہوجاتا ہے تو یہی ’متشدد انتہا پسندی‘ہے وہ افراد یا وہ گروہ جوانتہا پسندانہ نظریات وافکار کے حامی ہوں اور وہ اپنے منفی وسفلی نظریات کی ترویج واشاعت کےلئے جبروتشدد، ظلم وزیادتی اور وحشیانہ بربریت کا راستہ اختیار کریں ایسے لوگ،ایسے گروہ یا ریاستی حکمران متشدد انتہا پسند یا متشدد بنیاد پرست کہلاتے ہیں جن کے جنونی افکار متشد دانہ عزائم اور فتنہ وفساد پر مبنی ہوتی ہیں چونکہ ہمہ وقت جبر و تشدد اْن کا شیوہ ہوتا ہے لہذا وہ دلیل، منطق،گفت وشنید اور تاریخی حقائق وحقیقت کے برعکس اپنے مذموم مقاصد کی بارآوری کےلئے طاقت کے استعمال کو ترجیح دیتے ہیں انتہاپسندی کی جنونی نظریاتی کے یہی وہ لائق نفریں پہلو ہوتے ہیں جن کے سامنے آنے کے بعد معاشی ، معاشرتی،سیاسی وثقافتی اور انفرادی واجتماعی کے ساتھ ہی قومی وبین الا اقوامی ماحول کے امن کو بہت ہی زیادہ خطرناک مسائل سے سامنا کرنا پڑسکتا ہے یہی وہ بدترین جنونی فکری انتہاپسندی ہے جولمحہ موجود میں ہ میں اورآپ کو بھارت جیسے دنیا کے ایک بڑے ملک میں آکٹوپس کی مانند پھیلتی ہوئی صاف دکھائی دے رہی ہے ’’ہندوتوا کی شناخت کے فقدان‘‘ کی لاعلاج بیماری میں مبتلا سرتاپا غرق آلود مودی سرکار اسی متعدی نفسیاتی کیفیت کو دیکھنے سمجھنے کے باوجود عالمی انسانی حقوق کی مجرمانہ بے حسی اور خاموشی سے کیسے تباہ کن نتاءج برآمد ہونگے;238; بھارت میں یہی مجرمانہ احساس جسے ’بدلہ لینے کی تمنا اور سوچ‘کہا جارہا ہے کس تیزی کے ساتھ تقویت پارہا ہے، جنوبی ایشائی عوام اور ایشیا سمیت دنیا کے امن کو تہہ وبالا کردینے میں اس ’’بدلاوے‘‘کی بھارتی خواہش کتنا طوفان اْٹھائے گی اور دنیا کب اس جانب توجہ دے گی;238; ’’ہندوتوا‘‘ کی انتہا پسندی کی فکری بھگدڑ میں انسانیت کتنی بے توقیر ہوگی;238; اس کا فوری احساس ہے کسی کو;238;انا پرستی،ہٹ دھرمی اور ضد نے بھارتی سیاست کو کس خطرناک دوراہے پر لاکھڑا کیا ہے کیا دنیا طاقتور دنیا یونہی تماش بین بنی رہے گی جناب والا! ذرا غور فرمائیں مقبوضہ وادی میں انسانیت کش بھارتی فوج کی مجرمانہ سرگرمیوں نے اسی لاکھ سے زائد انسانوں پر عرصہ حیات تنگ کیا ہوا ہے مقبوضہ وادی کی کوئی خبر من وعن باہر نہیں آرہی ،مغربی میڈیا کے ذراءع بتا رہے ہیں کہ انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں گزشتہ پانچ ماہ سے 300 صحافیوں کےلئے صرف چھ کمپیوٹروں پر انٹرنیٹ کی سہولیت اگر وادی میں دستیاب ہے تو نئی دہلی کے تعینات کردہ سیکورٹی اداروں کی نگرانی میں مہیا کی گئی ہے پانچ ماہ سے کشمیر سے باہر جانے والی کہانیاں اس قدر محدود;238; پانچ اگست کو بھارتی پارلیمنٹ نے کشمیر کو حاصل وہ سبھی اختیارات کالعدم قرار دیے تھے جن کے تحت کشمیر کا اپنا علیحدہ آئین اور اپناپرچم تھا اورغیرکشمیریوں کو وادی میں جائیداد کی ملکیت اور نوکریوں کا حق حاصل نہ تھا اب بظاہر وہ سب ختم تو ہوگیا مگرعوامی ردعمل کے خدشے کی وجہ سے حکومت نے وادی میں پانچ ماہ سے تاحال کرفیو نافذ کیا ہوا ہے اور دیگر پابندیوں اور قدغنوں کے ساتھ ساتھ انٹرنیٹ اور فون کے آزادانہ رابطے معطل ہیں جس سے مقبوضہ وادی میں زندگی کے تمام شعبے متاثر ہیں لیکن ;39;انٹرنیٹ کرفیو;39; کے باعث سب سے زیادہ متاثراگرکوئی اہم شعبہ ہوا ہے تو وہ ہے مقبوضہ وادی کی صحافت،معتبر آزاد ذراءع سے پتہ چلا ہے کہ حکومت نے ایک سرکاری عمارت میں چھ کمپیوٹروں پر انٹرنیٹ کی سہولت مہیا کر رکھی ہے، جبکہ کشمیر میں فی الوقت تین سو صحافی سرگرم ہیں جو میڈیا سینٹر پر دن بھر قطار میں انتظار کرنے کے بعد رپورٹ فائل کر پاتے ہیں اس’’عبوری انتظام‘‘ کو یہاں کے صحافی نہ صرف ناکافی بلکہ اپنے پیشہ ورانہ امور کےلئے باعث تذلیل سمجھتے ہیں ، انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں کرفیو،راستوں پر فوجی چوکیوں کی رکاوٹیں اور مواصلاتی نظام کی مسلسل بندشوں کے باعث کشمیر میں مصروف صحافیوں کےلئے معلومات فراہم کرنے میں شدید دشواریاں پیش آرہی ہیں تو وہیں اخبار، ٹی وی اور ریڈیو سے وابستہ افراد کےلئے ایک جگہ سے دوسری جگہ سفر کرنا بھی خطرے سے خالی نہیں ہے ’’ہندتوا کی شناخت کے فقدان‘‘کی خلش نے پانچ اگست دوہزار انیس کو مقبوضہ وادی میں انسانی حقوق پر جو شب خون مارا تھا وہ شب خون مقبوضہ وادی تک بس نہیں ہوا آسام تک پہنچا،کیرالا تک پہنچا بلکہ اب تو بھارت کی سب سے بڑی ریاست اترپردیش بھی ایس شب خون کے تھپیڑوں میں آن پھنسا ہے مودی سرکار ’’ہندتوا کی شناخت کے فقدان‘‘ میں بولائی ہوئی ہے بھارت کی سب بڑی مسلم اقلیت کوبھارت بدر کرکے دنیا بھر کے ہندووں کو بھارت میں لابسانے قانون نافذ کردئیے گئے ہیں جسے بھارت کے مسلمان کسی صورت میں قبول کرنے پر آمادہ نہیں ہو رہے بھارت اعلیٰ تعلیم یافتہ اور باشعور نوجوان نسل ’’آر ایس ایس کی جنونی دباو کی سرکار ‘‘ سے آزادی کے’’ ایک نکاتی مطالبہ‘‘ پر بھارت کی سڑکوں پر احتجاج کررہی ہے پولیس، نیم پیراملٹری فورسنز کو ان احتجاجی مظاہروں سے نمٹنے کےلئے کھلی چھوٹ دیدی گئی ہے مقبوضہ وادی پر قبضہ کی خلش کی آگ نے اب پورے بھارت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا آزاد مغربی میڈیا،آزاد عالمی سوشل میڈیا جوکچھ بھی ’’ہندوتوا‘‘ کے نام پر بھارت میں ہورہا ہے، وہ سب دکھا اور سنا رہا ہے ،لیکن عالمی ضمیر مگر بیدار ہونے کو تیار نہیں ، کس قدر مجرمانہ عالمی بے حسی ہے اور بھارت کی سرکشی کا اندازہ لگایا نہیں جاسکتا، جیسا بیان کیا گیا، اس سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ ’’ہندوتوا‘‘ کی بڑھتی ہوئی انتہا پسندی نے ایک ارب چالیس کروڑ کے بھارت کس قدر خطرناک اور پیچیدہ انسانی مسئلہ سے دوچار کردیا ہے اگر بھارتی مودی سرکار کے جنونی انتہا پسندانہ یک رخ فرقہ ورانہ جذبات کو دیکھا جائے تو بھارت میں سکھ محفوظ ہیں نہ عیسائی محفوظ،بھارت میں دلت ہندو محفوظ نہیں نہ ہی بھارت کی سب سے بڑی اقلیت مسلمان محفوظ ہیں اگر دنیا نے بھارت کو اب بھی ٹھوس اور موثر ’’شٹ اپ‘‘ نہ کیا تو پھر تاریخی انسانی کے سب بڑے سانحہ کے رونما ہونے کو شاید ہی کوئی روک پائے ۔