- الإعلانات -

بحران افراد اور اقوام کو بے نقاب کرتے ہےں

وطن عزےز کا ہر باشندہ ہےجانی کےفےت کا شکار ہے،ہر خاص و عام اپنے ہی مفادات اور مسائل مےں گھرا ہوا ہے ،کوئی معاشی بد حالی و بے روزگاری سے تو کوئی مہنگائی و غربت کے مسائل سے پرےشان ہے ساغرصدےقی نے کہا تھا

زندگی جبر مسلسل کی طرح کاٹی ہے

جانے کس جرم کی پائی ہے سزا ےاد نہےں

ساغر صدےقی نے تو ےہ شعر اپنی ذاتی زندگی کے بارے مےں کہا ہو گا لےکن دےکھا جائے تو آج پورا معاشرہ مجموعی طور پر اےسی ہی صورت حال سے دوچار ہے جس مےں زندگی کسی نا کردہ جرم کی سزا محسوس ہوتی ہے ۔ پورا ملک شدےد بحرانوں کا شکار ہے لےکن قابل افسوس حقےقت ےہی ہے کہ کوئی بھی حکومتی عہدےدار کسی بھی بحران کی ذمہ داری قبول کرنے کےلئے تےار نہےں ہوتا ۔ اداروں کے ذرےعے حکومت چلانے کی بجائے والےان اختےار و اقتدار نے ذاتی پسند و نا پسند کو اولےت کا درجہ دے رکھا ہے ۔ ان کے ےہ پےارے جو وزارتوں پر براجمان ہےں اور چند بےوروکرےٹ ہی فےصلہ ساز ہےں ۔ بحرانوں کی بھی کئی قسمےں ہےں ان مےں سےاسی بحران ،معاشی بحران و اقتصادی بحران ،سماجی بحران اور اخلاقی بحران شامل ہےں ان سب بحرانوں کی بنےاد اقتصادی بحران بنتا ہے جس کے کارن ملکی معےشت تباہ ،افراط زر مےں اضافہ ،قےمتےں انسانی دسترس سے باہر اور رےاستی باشندوں کی زندگی اجےرن ہو جاتی ہے ۔ بدقسمتی سے ےہ تمام بحران ہمارے ہاں موسموں کی طرح ےکے بعد دےگرے نزول کرتے ہےں اور عوام کو بحرانی کےفےت سے دوچار کر کے گھائل کر دےتے ہےں پھر دلوں کی اداسی سے جسم ہی نہےں بلکہ روحےں بھی بحران زدہ ہو جاتی ہےں ۔ بقول ستار سےد

ہم کےوں نہ ہوں اداس کہ بحران کے سوا

حالات کو ئی خبر دے نہےں رہے

شب ڈھل چکی افق پہ ہےں خون رنگ سرخےاں

کےوں تم ہمےں نوےد سحر دے نہےں رہے

کس کس بحران کا ذکر کےا جائے ،کون کون سا دکھڑا بےان کےا جائے ،کس کس روگ کا اظہار کےا جائے اگر اےک طرف معےشت کی حالت دگرگوں ہے تو دوسری طرف گےس کی لوڈ شےڈنگ ہے ۔ رےاست مدےنہ کو ماڈل قرار دےنے والوں کےلئے ضروری تھا کہ وہ عوام کو پےٹ بھر کھانے کی فراہمی ےقےنی بناتے لےکن ان کے دور حکومت مےں تو عوام فاقہ کشی پر مجبور کر دیے گئے ہےں ۔ فےلڈ مارشل محمد اےوب خان کے دور مےں چےنی کی قےمت مےں صرف 25پےسے اضافہ ہونے پر پورا ملک سراپا احتجاج بن گےا تھا ۔ اس احتجاجی تحرےک کو لوگ آج بھی ےاد کرتے ہےں اسی احتجاجی تحرےک سے کئی سےاسی قوتوں نے جنم لےا تھا جو سےاسی منظر نامے پر چھائی رہےں لےکن آج پاکستان کے شہری بحرانوں کی زد آکر قوت احتجاج سے بھی ےکسر محروم ہو چکے اور ان کی احتجاج کی قوت بھی شاید دم توڑ چکی ہے ۔ آج پورے ملک مےں آٹا 75 روپے کلو تک فروخت ہو رہا ہے ۔ چےنی کی قےمت بھی80روپے کلو تک پہنچ چکی ہے عام آدی کےلئے روٹی کا حصول تک مشکل بنا دےا گےا ہے جو انسانی زندگی کی بنےادی ضرورت ہے اس کے بغےر تو جسم اور روح کا رشتہ برقرار رکھنا ہی ممکن نہےں ،صرف آٹا ہی نہےں بنےادی ضرورت کی ہر چےز مہنگی ہو گئی ہے ۔ گرانی پر کسی کا کنٹرول نہےں رہا ۔ عوام بے بسی کے شکنجے مےں بری طرح جھکڑے ہوئے ہےں ،غرےب اور فاقہ زدہ لوگوں کی تعداد مےں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے ۔ لوگ بھوک،افلاس اور بے روزگاری کی وجہ سے خودکشےاں کر رہے ہےں ۔ گےس و بجلی سستی کرنے کے دعووں کے ساتھ حکومت سنبھالنے والے اب تک بجلی کے نرخوں مےں 158 فےصد ،گےس کی قےمتوں مےں 300فےصد اور پٹرول کی قےمتوں مےں 23 فےصد اضافہ کر چکے ہےں ۔ اور آگے آگے دےکھئے ہوتا ہے کےا ۔ کتنی افسوس ناک بات ہے اےک زرعی ملک مےں گندم وافر ہونے کے باوجود اس کی قلت پےدا کر دی جاتی ہے ۔ آٹے کے نرخ اپنی مرضی سے بڑھا دیے جاتے ہےں ۔ اپنی گندم سستے داموں برآمد کر دی جاتی ہے پھر مہنگے داموں باہر سے منگوائی جاتی ہے ۔ گندم کی سبسڈی مد مےں اربوں روپے خرچ کئے جاتے ہےں لےکن عوام کو اےک پےسے کا رےلےف نہےں ملتا ۔ محکمہ خوراک کے اہلکاروں اور بحران کے ذمہ داروں کی کرپشن کے خلاف کوئی کاروائی نہےں ہوتی ۔ دنےا کے تمام مہذب ممالک اور دانشمندانہ قومےں اپنے مستقبل کی ضرورےات کا پورا پورا ادراک کرتے ہوئے پچےس ،تےس سال پہلے ہی بھرپور منصوبہ بندی کر کے ےہ اہتمام کر لےتی ہےں کہ انہےں ان ضرورےات کو کس طرےقے سے پورا کرنا ہے لےکن افسوس کہ ہمارے ہاں آئندہ ربع ےا نصف صدی کی ضرورےات تو درکنار چھ ماہ ےا اےک سال تک منصوبہ بندی کا بھی دور دور تک نشان نہےں ملتا ۔ ہمارے ہاں برسر اقتدار آنے والی ہر پارٹی کا ےہی چلن رہا ہے کہ جب وہ حکومت مےں ہوتی ہےں تو چھوٹے چھوٹے جھگڑوں اور سر پھٹول مےں اپنی قوت ضائع کرتی رہتی ہےں اور قومی مسائل کو حل کرنا تو کجا اس کے بارے مےں سوچنے کا بھی انہےں وقت نہےں ملتا اور طرفہ تماشا ہے کہ جب وہ اقتدار کے اےوانوں سے باہر نکل آتی ہےں تب بھی انہےں ملک و قوم کو درپےش مشکلات کو دور کرنے کےلئے سنجےدگی سے غورو فکر کرنے کی توفےق نہےں ملتی جس طرح آٹے کے حصول کےلئے عوام ذلےل ہوئی آےا اسے کسی طور بھی وقار انسانی سے ہم آہنگ قرار دےا جا سکتا ہے ۔ رسوائی اور ہزےمت کا احساس تو اسی ذہن کو کچوکے لگاتا ہے جس مےں کسی احساس کے قےام کی گنجائش ہو ۔ عام آدمی کی زندگی آسان بنانے کےلئے اسے درپےش مسائل کو حل کےا جانا بہت ضروری ہے ےہ صرف اسی وقت ممکن ہے جب صاحب اختےار لوگ خود اپنا دامن صاف رکھےں اور اپنے ضمےر کی آواز پر لبےک کہےں ۔ بنےادی ضرورےات کی اشےاء کےلئے پالےسےوں کو پارٹی عہدےداروں کے مفادات سے الگ رکھا جائے ۔ آج بھی بحرانوں کی ذمہ داری سرکاری محکموں کے علاوہ چند سےاسی رہنماءوں پر عائد کی جا رہی ہے جن کے مفادات گندم اور شوگر ملوں سے وابستہ ہےں اور وہی سےاسی رہنما تحرےک انصاف کی پالےسےاں بنا رہے ہےں ۔ اگر اےسی ہی پالےسےوں کا تسلسل برقرار رہا تو پھر مسائل کے انبار بڑھتے ہی جائےں گے اور عام آدمی کی زندگی مشکل سے مشکل تر ہوتی جائے گی ۔

زےست مشکل اسے اور بھی مشکل نہ بنا

ان خود ساختہ آزمائشوں نے وطن عزےز کے ہر باسی کو گھےر رکھا ہے ،چار سو ماےوسی نے ڈھےرے ڈال رکھے ہےں کہےں اناج نہےں ملتا کہےں طبےب کہےں دوا اور کہےں علاج نہےں ۔ کبھی گےس ،کبھی چےنی اور کبھی آٹے کا بحران جنم لےتا ہے ۔ سر تسلےم خم ہے جو مزاج ےار مےں آئے ۔ ےہ دنےا بدلتے موسموں ،بدلتے منظروں اور بدلتے حالات کی دنےا ہے ،گردش ماہ و سال ہر بار اےک نےا منظر نامہ تخلےق کرتی ہے جس مےں کردار اور چہرے تبدےل ہوتے رہتے ہےں مگر کشمکش جاری رہتی ہے ۔ مہاتما بدھ نے ٹھےک کہا تھا کہ ےہ دنےا مصےبتوں اور دکھوں کا گھر ہے ۔ اگر ضرورےات پوری نہ ہوں ،آرزوئےں بر نہ آئےں ،توقعات ثمر بار نہ ہوں اور امےدوں پر پانی پھر جائے لےکن آرزوءوں کو بڑھنے دےنا ،توقعات کو ےونہی وابستہ کر لےنا ،موہوم امےدےں باندھ لےنا دانشمندی نہےں ،عوام کی نادانی ہے جس کا تسلسل اےک طوےل عرصے سے ےونہی جاری ہے ۔ صرف دکھ دےنے کے مرض مےں مبتلا ےہ سےاستدان کےا ہمےں کبھی راحت،سکھ اور چےن کی نوےد دےں گے ;238;صرف بہلانے پھسلانے کا گر ہی ےہ سےاستدان جانتے ہےں اور اس کے سوا کچھ نہےں جانتے ۔ منصوبہ بندی تو کجا ےہاں تو بنےادی حقوق کا ادراک تک نہےں کےا جاتا ۔ بحران افراد اور اقوام کو بے نقاب ضرور کرتے ہےں ۔ ذمہ دارےاں تو بہر حال ان کی ہوتی ہےں جنہےں ا;203; تعالیٰ اقتدار کی مسند پر بٹھاتا ہے اور مخلوق خدا کی نگہداری اور انہےں آسانےاں بہم پہنچانے کا فرےضہ سونپتا ہے ۔