- الإعلانات -

افواج پاکستان کا بھارت کو دندان شکن جواب

پاکستان ہمیشہ خطے میں قیام امن و امان کا داعی رہا ہے اس سلسلے میں اس کی عملی کاوشیں دنیا بھر کے سامنے ہیں ۔ صرف خطے میں امن و امان ہی نہیں دنیا بھر میں امن کے قیام کی کوششوں کیلئے سنہرا کردارادا کیا لیکن بھارت جہاں پر ایک ایسی دہشت گرد تنظیم آر ایس ایس کی حکمرانی ہے جو ہٹلر کے نہ صرف نازی نظریے سے متاثر ہے بلکہ ہم تو یہاں یہ کہیں گے کہ مقبوضہ وادی میں ہلاکو خان سے بھی زیادہ ظلم و ستم ڈھائے ہوئے ہیں ۔ سونے پر سہاگہ یہ کہ بھارت کی گیدڑ بھبکی بھی ایسی دیتا ہے کہ جس کو دنیا کی کوئی طاقت بھی تسلیم نہیں کرسکتی ۔ بھارتی بزدل دہشت گرد فوج کی حالت یہ ہے کہ 71 سال سے بھارت آج تک چند لاکھ کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو نہیں دبا سکاتو کروڑوں افراد پر مشتمل وطن عزیز پاکستان پر کیونکرقبضہ جمانے کے خواب دیکھ سکتا ہے ۔ ابھی نندن کے واقعہ کو یاد رکھے ۔ اگر اس دن پاکستان نے جو بھارتی شہر لاک ڈاءون کیے تھے ان پر صحیح معنوں میں حملہ کردیا جاتا تو بھارت تاراج ہو چکا ہوتا لیکن پاکستان ایئرفورس نے حملہ کرکے نہ صرف اپنی صلاحیتوں کو دنیا بھر کو معترف کیا کہ دشمن کے خاص مقام کو ہدف نشانہ بنا کر اس کو بتا دیا کہ ہم بھارت کے اندر گھس کر دشمن کو مار سکتے ہیں ۔ جو بھارتی فضائیہ کی حالت ہے اس کو دیکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ اگر بھارت 10گھنٹوں کا دعویٰ کررہا ہے تو پاکستان محض گھنٹے بھر میں بھارت کی تمام تر صلاحیتوں کو تہہ و بالا کردے گا ۔ بھارت کو کسی بھول میں نہیں رہنا چاہیے ۔ ترجمان پاک فوج نے دو ٹوک انداز میں کہا ہے کہ جنگ بھارت شروع کرے گا لیکن ختم ہم کریں گے ۔ بھارت کی گیدڑ بھبکیاں محض اس لئے ہیں کہ وہ اپنے ملک کے اندر ہونے والے خلفشار سے دنیا کی توجہ ہٹا سکے لیکن اب ایسا ممکن نہیں ۔ بھارت نے ابھی تک جو بھی مذموم کوششیں کیں اسے منہ توڑ جواب ملا ۔ پاکستان کی مسلح افواج ایک عرصہ دراز سے دہشت گردوں کیخلاف کارروائیاں کررہی ہیں ، سرحدی حالات بھی اسی طرح سے ہیں لہذا اگر یہ کہا جائے کہ پاک فوج عرصہ دراز سے حالت جنگ میں ہے تو غلط نہ ہوگا ۔ دشمن کسی بھول میں نہ رہے صرف مسلح افواج ہی نہیں پوری قوم بھی فوج کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑی ہوئی ہے ۔ ملکی سالمیت اور استحکام پر کسی قسم کی سودے بازی نہیں ہوسکتی ۔ وطن کا بچہ بچہ اپنے ملک کی آن و شان پر خون کا آخری قطرہ تک بہانے کیلئے برسرپیکار کھڑا ہے ۔ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے میڈیا کوبریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی سول و ملٹری لیڈر شپ خطے میں امن کی خواہاں ہے،جنرل قمر باجوہ کی سپیریئر ملٹری سٹریٹیجی نے جنوبی ایشیا کو بہت بڑی تباہی سے بچایا،;200;رمی چیف نے ;200;پریشن شیر دل سے ضرب عضب تک کی کامیابیوں کو ردالفساد کے ذریعے مستحکم کیا ، مسلط شدہ جنگ کا بھرپور جواب دیں گے،افواج پاکستان کی تیاری، موثر جواب نے امن کا راستہ ہموار کیا،پاکستان اور افواجِ پاکستان ہمیشہ بھارت کو سرپرائز دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں ،جو فوج ;200;ٹھ ملین کشمیریوں کو 71سال سے شکست نہیں دے سکی وہ207ملین پاکستانیوں کو کیسے شکست دے سکتی ہے،بھارتی سول ملٹری لیڈر شپ کو بھی خطے میں امن کی اہمیت کا ندازہ ہونا چاہیے، مقبوضہ کشمیر میں لگی ;200;گ پورے خطے میں پھیل سکتی ہے،دنیا کو بھی اس خطرے کا ادراک ہونا چاہیے،بھارتی لیڈر شپ کو چاہیے کہ مقبوضہ کشمیر میں ظلم وستم کو بند کریں ،پہلے بھی کہا تھا اگر بھارت نے جنگ شروع کی تو ختم ہم کریں گے ،میڈیا کا افواج پاکستان کی کامیابی میں اہم کردار رہا ہے،میڈیا نے افواج اور شہیدوں کے لواحقین کے دل جیتے ہیں ، آئی ایس آئی دنیا کی مانی ہوئی انٹیلی جنس ایجنسی ہے،آئی ایس آئی ، آئی بی اور ملٹری انٹیلی جیس نے مل کر بہت سے دہشت گردی کے واقعات کو روکا ،ہ میں اپنی انٹیلی جنس ایجنسیوں پر فخر ہے ۔

چین میں مقیم چار پاکستانیوں میں کرونا وائرس کی تصدیق

چین میں کرونا وائرس دراصل ایک ایسا بائیولوجیکل حملہ ہے جس سے اس کی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا گیا ہے ۔ تاہم اس کیلئے چین مقابلہ کررہا ہے، وہاں پر مقیم مختلف ملکوں کے شہری خاص کر پاکستانی ہزاروں میں موجود ہیں ، ووہان شہر میں اس وائرس کا زیادہ حملہ ہے اور وہاں کے شہری متاثر ہورہے ہیں ۔ تاہم چین اس سلسلے میں کام کررہا ہے کہ کسی نہ کسی طرح کرونا وائرس کو قابو کیا جاسکے ۔ ابھی تک چین میں موجود چار پاکستانیوں میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوچکی ہے ۔ ڈبلیو ایچ او نے کسی ملک کو نہیں کہاکہ وہاں سے اپنے شہری نکالے جائیں یہ اہم ترین بات ہے کہ چین سے اگر کوئی بھی کرونا وائرس سے متاثرہ مریض کسی بھی ملک میں جاتا ہے تو وہاں پر اس موذی وائرس کا پھیلنا قدرتی آمر ہے چین کے پاس تو بہترین وسائل ہیں جس کی وجہ سے وہ مقابلہ بھی کررہا ہے اگر خدانخواستہ یہ وائرس پاکستان میں داخل ہو جاتا ہے تو پھر بہت گھمبیر مسائل ہوں گے ۔ عالمی ادارہ صحت نے کورونا وائرس کے باعث عالمی ہنگامی صورتحال کا اعلان کردیا ہے ۔ تنظیم کے سربراہ ٹیڈروس ادھانوم نے بتایا کہ جن ممالک کا نظام صحت کمزور ہے وہاں یہ وائرس تیزی سے پھیل سکتا ہے ۔ ہم سب کو مل کر اسے روکنا ہوگا ۔ یہ چین پر عدم اعتماد کا ووٹ نہیں ،تاہم انہوں نے کہا کہ چین پر سفری یا تجارتی پابندیاں لگانا بلا جواز ہوگا ۔ دوسری جانب معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا اور ترجمان دفتر خارجہ عائشہ فاروقی نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ ابھی تک پاکستان میں کرونا وائرس سے کوئی شہری متاثر نہیں ہوا، چین میں چار پاکستانی طلباء کرونا وائرس سے متاثر ہوئے ہیں ، عالمی ادارہ صحت کی 194 اراکین ممالک کو چین سے اپنے باشندوں کو نہ نکالنے کی ہدایت کی ہے، کرونا وائرس کے کنٹرول کےلئے حکومت چین کے اقدامات لائق تحسین ہیں ، صحت عامہ کے حوالے سے چین بہترین حکمت عملی پر عمل پیرا ہے، پاکستانی کمیونٹی کے حوالے سے مسلسل چین کے ساتھ رابطے میں ہیں ، مشکل کی اس گھڑی میں پاکستان چین کے ساتھ کھڑا ہے، تمام بڑے ایئرپورٹس پر ہر ممکن اقدامات کو یقینی بنایا جائے گا، کرونا وائرس سے بچاءو کےلئے ہماری حکمت عملی مکمل ہے ، چین میں مقیم پاکستانی طلباء کی حفاظت یقینی بنانا اولین ترجیح ہے ۔

دہشت گرد کبھی بھی مذموم عزائم میں کامیاب نہیں ہوسکتے

ملک میں معاشی استحکام کیلئے دہشت گردوں کی بیخ کنی انتہائی ضروری ہے، گوکہ اب پاکستان میں بہت حد تک دہشت گردی کا خاتمہ کردیا گیا ہے تاہم اس کے باوجود بھی گاہے بگاہے یہ دہشت گرد اور شر پسند سر اٹھاتے نظر آتے ہیں ۔ یقینی طورپر ایسے مذموم واقعات کے پیچھے پاکستان دشمن قوتیں ہی کارفرما ہیں لیکن وہ کبھی بھی اپنے مذموم عزائم میں کامیاب نہیں ہوسکتیں ۔ ہم پاک فوج کے ان جوانوں کو سلام پیش کرتے ہیں جو اس وطن کی مٹی کی اپنے خون سے سینچ کر آبیاری کررہے ہیں ۔ پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے ملک کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں کیں جن کے نتیجے میں 10دہشتگرد ہلاک ہوگئے ۔ ;200;پریشن میں 2سیکورٹی اہلکار بھی شہید ہو ئے ۔ کارروائی خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر شمال مغربی صوبہ خیبر پختونخوا میں شمالی وزیرستان کے قبائلی ضلع دتہ خیل کے علاقے میں دہشتگردوں کی موجودگی پر کی گئی ۔ سیکیورٹی فورسز نے کارروائیوں کے دوران بڑی تعداد میں ہتھیار اور گولہ بارود بھی بر;200;مد کیا ۔ ہلاک ہونے والے دہشت گرد عوامی مقامات اور ملک کے دیگر علاقوں میں قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملے کی منصوبہ بندی کررہے تھے ٹھوس خفیہ معلومات کی بنیاد پر ان کا خاتمہ کردیا گیا ۔

موٹروے پر ٹریفک حادثہ، وجوہات تلاش کرنے کی ضرورت

موٹروے سفر کیلئے محفوظ ترین راستہ ہے تاہم یہاں پر پیش آنے والے حادثات لمحہ فکریہ ہیں ۔ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ گاڑی میں آگ لگنے کے بعد وہ کونسی ایسی وجوہات ہیں جن کی وجہ سے یہ حادثات پیش آتے ہیں ۔ ادھرفیصل آباد سے راولپنڈی جانیوالی ایک ہائی ایس وین بھیرہ کے قریب حادثے کا شکارہو گئی جس کے نتیجے میں 11افراد جاں بحق ہوگئے ۔ بد قسمت ہائی ایس ڈرائیور سے بے قابو ہو کر پول سے ٹکرائی جس کی وجہ سے سلائیڈنگ ڈور جام ہو گیا اور شارٹ سرکٹ کی وجہ سے آگ بھڑک اُٹھی جس سے ہائی ایس میں پھنسے ہوئے مسافروں کو باہر نکلنے کا موقع نہ مل سکا ۔ حادثے کی اطلاع پاتے ہی ڈی آئی جی موٹروے اشفاق احمد اور سیکٹر کمانڈر سلمان علی خان موقع پر پہنچ گئے اور امدادی کارروائےوں کی نگرانی کرتے رہے ۔