- الإعلانات -

سب دیکھتے رہ گئے۔۔۔۔۔۔اوروہ گیا!

کسی نے کہا غدار ہے ، کسی نے کہا ڈکٹیٹر ہے ، کسی نے کہا آرٹیکل 6کے زمرے میں آتا ہے ، کسی نے کہا بیرون ملک نہیں جانے دینا ، کسی نے کہا کہ بلا خود ہی پنجر ے میں آگیا ہے اب اس کو فرار نہ ہونے دیا جا ئے ، کسی نے کہا عرصہ دراز کے بعد ایسا موقع آیا ہے کہ اس پر آرٹیکل 6لاگو کر دیا جائے تو کسی کو مارشل لاءلگانے کی ہمت نہیں ہو گی ، کسی نے کہا کہ اگر یہ شخص باہر چلا گیا تو کم از کم میں تو حکومت کا حصہ نہیں رہوں گا ، وزارت سے مستعفی ہو جاﺅں گا اورہمیشہ کیلئے سیاست کو خیر آباد کہہ دوں گا مگر و ہ بھی کمال اوصاف کا آدمی تھا اس کی شخصیت بھی ایسی جب باہر سے آیا تو سیاست پر چھانے کیلئے مقدمہ نے آن گھیرا کبھی عدالتوں میں پیش ہو ا تو کبھی حاضری سے استثنیٰ حاصل کرتے ہوئے مستثنیٰ قرار دیا گیا ،سب تجزیے کرتے رہے سیاست چمکاتے رہے اوپر سے لیکر نیچے تک ہر ایک خواہش تھی اس کے گرد گھیرا تنگ کر دیا جائے مگر وہ بھی کمال فن سے سب کو غچہ دے کر نکل گیا اب ہر کوئی بیان داغ رہا ہے گونگلووں سے مٹی چھاڑ رہا ہے خفت مٹا رہا ہے کوئی کہہ رہا ہے ہمیں ظالم قراردیا جاتا اگر اس کو روک لیتے کوئی کہہ رہا ہے کہ وہ وعدہ کر کے گیا ہے کہ وہ علاج کے بعد واپس آجائے گا کوئی کسی کی چھتری تلاش کر رہا ہے کوئی کہہ رہا ہے کہ جو حکم ملا وہ کر دیا ،غرض کہ ہر ایک بھانت بھانت کی بولی بول رہا ہے اصل بات تو یہ ہے کہ بس اس حمام میں سب ہی ننگے ہیں ،جو مرضی کوئی کچھ کہے جو ہونا تھا وہ ہو چکا سانپ کے گزرنے کے بعد لکیر پیٹنے کا کیا فائدہ اب بڑا پن یہ ہے کہ بس یاتو خاموشی اختیار کر لی جائے یا پھر تسلیم کر لیا جائے کہ بابا معاملات ہمارے کنٹرول سے باہر تھے ،وہ شخص یہاں رہا بھی تو انتہائی حفاظتی حصار میں جب گیا تو بھی حفاظتی حصار میں کوئی اس کا بال بیکا نہ کر سکا اب مشترکہ اجلاس آرہا ہے پی آئی اے کو پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی قرار دینے کیلئے بہتر ہے کہ اس اجلاس میں آرٹیکل 6کو بھی آئین سے متفقہ طور پر باہر کر دیا جائے تاکہ چلیں کوئی تو خفت مٹانے کا بہانا ملے جی ہاں یہ شخص سابق صدر پرویز مشرف ہی ہے جو ناکہ کبھی پریشر میں آیا اور نہ ہی کوئی اسے پریشر دے سکا بہر حال کہا جا رہا ہے کہ مشرف علاج کرانے کیلئے باہر گئے ہیں اور پھر وہ واپس آجائیں گے ، بہتر تو رائے یہی ہے کہ فی الحال باہر بیٹھ کر ہی حالات کا جائزہ لیں وقت کا انتظار کریں پھر اس کے بعد کوئی فیصلہ کریں ابھی تو حکمرانوں کو عوام کے سامنے جواب دینا ہے یہ زرا کرکٹ کا بخار ختم ہو جائے پھر دیکھتے ہیں کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے