- الإعلانات -

محکمہ صحت میں تبدیلی

تحریر: *مرزا عامر بیگ *

صحت کا شعبہ کسی بھی ملک کیلئے نہایت اہم ہوتا ہے، وزیر اعظم پاکستان عمران خان کی قیادت میں پاکستان تحریک انصاف نے تبدیلی کے لئے دو دہائیوں سے زائد جد و جہد کے دوران ہرموقع پر اس عزم کا اعادہ کیا تھا کہ اقتدار ملنے کی صورت میں جہاں دیگر بہت سے شعبہ جات پر بھرپور فوکس کیا جائے گا وہیں صحت عامہ ک ی سہولیات کو بین الااقوامی اسٹینڈرڈ کے مطابق بنانے کیلئے وسائل فراہم کئے جائیں گے۔ 2013میں خیبر پختونخواہ میں پی ٹی آئی کی حکومت بنی تو پانچ سالہ مدت پوری ہونے کے بعد جہاں بہت سے شعبہ جات میں اسکی حکومت کی کارکردگی کو زبردست سراہا گیا وہیں صحت کے شعبہ میں اصلاحات پر ہر طبقہ فکر کے باشعور افراد نے بھرپور داد دی۔ گزشتہ عام انتخابات کے بعد ملک کے سب سے بڑے صوبے میں پاکستان تحریک انصاف نے حکومت سازی کی تو وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار کی قیادت میں وزیر صحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد اور انکی ٹیم نے شعبہ صحت کی بہتری کیلئے منصوبہ بندی اور عملی اقدامات کا آغاز کر دیا اور آج محض ڈیڑھ سال کا عرصہ گزرنے کے بعد شعبہ صحت کی کارکردگی بیان کرنے کیلئے کچھ موضوعات کا انتخاب کیا گیا ہے۔
٭ افرادی قوت: حکومت نے محکمانہ سطح پرمختلف وجوہات پر رکی ہو ئی بھرتیوں میں رکاروٹوں کو دور کیا۔ اب تک مجموعی طور پر تقریباٗ 26000 بھرتیاں کی ہیں۔ اب تک صرف ڈاکٹرز کی 14992بھرتیاں کی گئی ہیں جن میں میڈیکل آفیسرز کے علاوہ سینئر رجسٹرار اور پروفیسرز بھی شامل ہیں۔ اس سال میں 4889نرسز کی بھرتیاں کی گئی ہیں جبکہ مزید 5000نرسز کی بھرتیوں کا عمل جاری ہے۔ 4837پیرا میڈیکل سٹاف اور دیگر تکنیکی عملہ کی بھرتیاں کی گئی ہیں۔ پہلی بار پنجاب کے 2503 بنیادی مراکز صحت میں سے 93 فی صد پر ڈاکٹرز کی تعیناتی کو یقینی بنایا گیا ہے۔ 288 ڈینٹل سرجن اور 440فارماسسٹس کی اسامیوں پر بھی بھرتیاں کی گئی ہیں۔ مزید براں 2500 ڈاکٹروں سمیت دس ہزار سے زائد بھرتیاں مکمل ہونے کے قریب ہیں۔ پہلی بار عملہ کی کمی اب 25 فی صد سے بھی کم رہ گئی ہے۔
٭ اگلے دس سالوں کے لیے پنجاب ہیلتھ سیکٹر سٹر یٹیجی 19-2028:
٭ انفرا سٹرکچر: حکومت کی خصوصی توجہ بنیادی مراکز صحت اور دیہی مراکزصحت کی بہتری پر ہے۔ اسی لیے پرائم منسٹر ہیلتھ اینیشیٹیوکے تحت آٹھ اضلاع اٹک، چنیوٹ، ڈی جی خان، میانوالی، جھنگ، قصور، لودھراں اور راجن پور میں مخصوص بنیادی مراکز صحت اور دیہی مراکز صحت کی تعمیر نو اور تزئین کی جا رہی ہے۔ 35 دیہی مراکز صحت میں بچوں کی نرسریز کا قیام، اور ایمر جنسی بلاکس کا قیام بھی عمل میں لایا جا رہا ہے۔اسی طرح 300 بنیادی مراکز صحت کا 24/7 کے مراکز میں شامل ہونا، 8 نئے وئیر ہاوسز کا قیام اور 16 اربن ہیلتھ سنٹرز کو بھی اپ گریڈ کیا جانا بھی شامل ہے۔
٭ بڑے ہسپتالوں میں کام: صوبہ بھر میں ان بڑے ہسپتالوں پر کام جاری ہے جن میں نشتر۔2 ملتان، چلڈرن ہسپتال بہاولنگر، ڈی جی خان انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی، بہاولپور برن سنٹر۔اسی طرح12 ہسپتالوں میں ایمر جنسی کی بہتری، جناح ہسپتال میں سرجیکل ٹاور کی تعمیر، ڈی جی خان میں نئے بلاکس کی تعمیر کے علاوہ، میڈیکل کالج کی اپ گریڈیشن اور
٭ زچہ بچہ صحت کے پانچ نئے ہسپتال: موجودہ حکومت نے اس معاملہ پر پوری تندہی سے کام کیا ہے اور صوبہ بھر میں میانوالی، اٹک، راجن پور، لیہ اور بہاول نگر میں پانچ نئے زچہ و بچہ ہسپتالوں کی تعمیر پر کام شروع کیا جا رہا ہے۔ میانوالی میں تعمیر کا عمل شروع ہوچکا جبکہ دیگر پراجیکٹس کے لیے پلاننگ اور دفتری مرحلہ مکمل کیا جا چکا ہے۔ گنگا رام ہسپتال لاہور میں 400 بستروں پر مشتمل زچہ و بچہ کواٹنری ہسپتال پر کام شروع کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ چلڈرن ہسپتال لاہور میں ایک نئی چائلڈ ہیلتھ یو نیورسٹی کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے۔
٭ سیکنڈری ہیلتھ کئیر: صوبہ بھر میں 40 ہسپتالوں کی ری ویمپنگ پر کام جا ری ہے جن میں 25 ڈی ایچ کیو اور 15ٹی ایچ کیو شامل ہیں۔گزشتہ حکومت نے ہسپتالوں کو ادھیڑ دینے کے بعد کام روک دیا تھا۔ اس کی رکاوٹوں کو دور کر کے کام شروع کیا جا چکا ہے۔پہلا مرحلہ تکمیل کے قریب ہے۔ اب اگلے مرحلے میں پچاسی مزید ہسپتالوں پر کام جاری ہے۔
٭ صحت انصاف کارڈز کی تقسیم: حکومت پنجاب کی جانب سے صحت انصاف کارڈز کا دائرہ کار پورے پنجاب تک پھیلایا جا رہا ہے اور گزشتہ ایک سال میں صوبہ بھر کے 32 اضلاع میں پچاس لاکھ گھرانوں میں یہ کارڈز تقسیم کیے گئے ہیں جلد ہی صوبہ کے تمام 36اضلاع میں اس کا دائرہ کارپھیلا دیا جائیگا۔ اس کارڈ کے تحت ایک گھرانہ 720,00تک مختلف سرکاری اور پرائیویٹ ہسپتالوں میں علاج کی سہولیات سے استفادہ کر سکتا ہے۔ رقم کی حدختم ہونے کی صورت میں اس میں اضافے کی سہولیات کی درخواست بھی دی جا سکتی ہے۔
٭ مہمان خانہ جات: پنجاب کے بڑے ہسپتالوں میں مہمان خانہ جات بنائے جا رہے ہیں اور لاہور کے چار بڑے ہسپتالوں میں ان کو مکمل کر دیا گیا ہے۔ ان مہمان خانہ جات میں مریضوں کے لواحقین کو چھت اور کھانے کی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔ پنجاب کے دیگر اضلاع میں ان پر کام جاری ہے
٭ پنجاب کا سب سے بڑا سکول ہیلتھ پروگرام: پنجاب میں تاریخ کا سب سے بڑا سکول ہیلتھ نیوٹریشن پروگرام شروع کیا گیا ہے جس کے تحت کے تحت سکول جانے والے بچوں کے غذائی اور طبی معائینہ کیا جا رہا ہے۔ اضلاع میں موبائل ہیلتھ یو نٹس کے ذریعے بچوں کا معائنہ شروع کیا گیا ہے۔ بچوں کی نشوونما کی نگرانی بھی کی جا رہی ہے۔ پہلے مرحلے میں سرکاری سکولوں کے پچاس ہزار بچوں کا طبی معائینہ کیا جا رہا ہے۔ اس کا دائرہ کارپرائیویٹ ہسپتالوں تک پھیلا یا جائیگا۔
٭ قوانین اور پالیسیز: حکومت نے پہلے سے موجود قوانین کا تکنیکی جائزہ لیا ہے اور سروس ڈیلیوری میں رکاوٹ بننے والے معاملات میں انتظامی اصلاحات متعارف کروانے کی کوشش کی ہے۔ نئے قوانین میں پی کے ایل آئی ایکٹ اور میڈیکل ٹیچنگ انسٹیٹیوشن ایکٹ شامل ہے۔جبکہ تکنیکی اور دیگر جائزے کے عمل میں تبدیلی

ادارے کا اس تحریر سےمتفق ہونا ضروری نہیں ہے !