- الإعلانات -

امن معاہدہ۔۔۔ظلم رہے اور امن بھی ہو

دنیا بھر کے سبھی با ضمیر حلقوں نے ڈونلڈ ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان ہونے والے نام نہاد امن معاہدے کو انتہائی قابل مذمت قرار دیا ہے اور اس بابت اپنی رائے ظاہر کرتے کہا ہے کہ یوں تو 1948 سے امریکہ اور اسکے طفیلی اسرائیل نے فلسطین پر قبضے کے حوالے سے ایسی بدترین روش اپنا رکھی ہے جس کا کما حقہ ہو اظہار بھی الفاظ کے ذریعے ممکن نہیں مگر دو روز قبل تو جس طرح اعلانیہ ڈھنگ سے ٹرمپ اور اسرائیل نے فلسطینیوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کی بات کی، اس پر ہر کس و ناکس افسردہ بھی ہے اور رنجیدہ بھی ۔ مودی ، ٹرمپ اور نتےن ےاہو پاکستان اور مسلم دشمنی میں ےد طولیٰ رکھتے ہےں اور تینوں رہنما اس امر کا اےک سے زائد بار اظہار کر چکے ہےں کہ ان ملکوں کی دوستی لامحدود وسعتوں کی حامل ہے ۔ اسی تناظر میں اس بات کا تذکرہ کرتے سنجیدہ مبصرین نے کہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیلی حکمرانوں کے اس گٹھ جوڑ کو اگر مودی، ٹرمپ اور نیتن یاہو کی جارحانہ روش کی ایکسٹیشن قرار دیا جائے تو بے جا نہ ہو گا ۔ جس طرح 5 اگست کو مودی نے تمام سفارتی آداب کو بالائے طاق رکھتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کو ہڑپ کیا اور مقبوضہ ریاست کو دنیا کی سب سے بڑی جیل میں تبدیل کر کے رکھ دیا، اسی طرح صیہونی ریاست نے ٹرمپ کی ملی بھگت سے دنیا بھر کے امن کو خطرے میں ڈال دیا ہے اور درحقیقت پورا خطہ اس وقت ایک فلیش پوائنٹ بن چکا ہے جس کی معمولی سی چنگاری کسی بھی وقت عالمی امن کو تہہ و بالا کر سکتی ہے ۔ مبصرےن کے مطابق ےہ امر پےش نظر رہنا چاہیے کہ ٹرمپ کی حالےہ ےاوہ گوئی ،ےروشلم کو اسرائےلی دارلحکومت قرار دےنے اور مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کو الگ الگ دےکھنا غالباً اےک بھول ہوگی ۔ فلسطینی رہنماؤں نے اسرائیل کو متنبہ کیا کہ اگر انھوں نے مقبوضہ مغربی کنارے کے کسی علاقے کو اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کی تو فلسطین اور اسرائیل کے مابین اب تک ہوئے تمام معاہدے منسوخ کر دیے جائیں گے ۔ یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پیش کیے گئے مشرقِ وسطی امن منصوبے میں ایک انتہائی محدود فلسطینی ریاست اور مقبوضہ مغربی کنارے پر آباد بستیوں پر اسرائیلی خودمختاری تسلیم کرنے کی تجویز دی گئی ہے ۔ فلسطینی وزیر اعظم نے کہا ہے کہ ’اگر ہم اس ڈیل کو تسلیم کر لیتے تو ہ میں اچھا قرار دیا جاتا ۔ سادہ سی بات یہ ہے کہ کیوں کہ ہم اپنی قومی سلامتی کے مسئلے پر ڈٹے ہوئے ہیں اس لیے ہم اب مزید اچھے نہیں رہے ۔ اگر اچھا اور برا قرار دینے کا یہی پیمانہ ہے تو ہم برا بننے کو ترجیح دیں گے کیونکہ ہم اپنی عوام کی امنگوں کی ترجمانی کرتے ہیں ۔ یہ ہمارا قانونی حق ہے کہ فلسطین کو تسلط سے آزاد کروایا جائے اور یروشلم فلسطین کا دارالحکومت ہو ۔ یاد رہے کہ ٹرمپ اور نیتن یاہو کے مکروہ منصوبے کے مطابق جن علاقوں کو ٹرمپ نے اسرائیلی علاقہ تسلیم کیا ہے ان میں امریکہ اسرائیل کی مکمل خودمختاری تسلیم کرے گا ۔ اس پلان میں ٹرمپ نے ایک مجوزہ نقشہ بھی پیش کیا ہے جس میں اسرائیلی علاقہ کی نشاندہی کی گئی ہے ۔ ٹرمپ کے پلان کے مطابق یروشلم اسرائیل کا غیر مشروط اور غیر منقسم دارالحکومت ہو گا ۔ مظلوم فلسطینیوں نے اس پر بجا طور پر موقف اختیار کیا ہے کہ اس پلان کے تحت انھیں تاریخی طور پر فلسطینی علاقوں کا صرف 15 فیصد دیا گیا ہے ۔ فلسطین میں اس مجوزہ ڈیل کےخلاف گذشتہ روز ’ڈے آف ریج‘ یعنی غصے کا دن بھی منایا گیا ۔ فلسطینی صدر نے اس پر اظہار خیال کرتے کہا ہے کہ یروشلم برائے فروخت نہیں ہے، ہمارے حقوق برائے فروخت نہیں ہیں اور ان پر سودے بازی نہیں ہو سکتی جبکہ عرب لیگ نے اس پر ردعمل دیتے کہاکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اعلان کردہ امن منصوبے میں فلسطینیوں کے حقوق پامال کیے گئے ہیں ۔ فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے بیچ منصوبے کے ابتدائی مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس میں فلسطینیوں کے قانونی حقوق کو بڑے پیمانے پر برباد کیا گیا ہے ۔ یاد رہے کہ مغربی کنارے کے شہر بیت الحم میں مظاہرہ کر رہے فلسطینی عوام نے اسرائیلی سرحد کے محافظین پر پتھرا کیا جس کے جواب میں ان پر آنسو گیس کے شیل فائر کیے گئے ۔ ایسے میں مبصرین کا کہنا ہے کہ مودی، ٹرمپ اور یاہو کی یہ مثلث پاکستان کی بابت بھی جن عزائم کی حامل ہے اس کے پیش نظر پاکستان کے سبھی حلقوں کو بجا طور پر تشویش ہونی چاہیے کیونکہ ایسے جنونی ٹولے کا کسی بھی حد تک جانا بعید از قیاس نہیں ۔