- الإعلانات -

کروناوائرس : حلال، پاکیزہ غذائیں

اے لوگو! ان چیزوں میں سے کھاوَ جو زمین میں حلال پاکیزہ ہیں ، اور شیطان کے قدموں کی پیروی نہ کرو،بے شک وہ تمہارا صریح دشمن ہے(سورۃ البقرہ:168)الحمدوللہ ہم مسلمان ہیں اورکوشش کرتے ہیں کہ کھانے پینے میں حلال وحرام کی تمیزکی جائے یہاں تک کہ کمائی کے حلال یاحرام ہونے میں بھی فرق کرناہمارافرض ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے کھانے پینے کی چیزوں میں بہت ساری چیزوں کوحرام قراردیاہےجن میں خنزیر، شراب، چمگادڑ، چوہا، گدھا، گھوڑا، کتا،بلی،کوا،چیل،گِدھ اورکئی دیگرشامل ہیں ۔ بطورمسلمان احکام الٰہی کی پیروری کرناہمارافرض ہے اور بطور باشعور انسان تحقیق کرنا اوردوسروں کوآگاہ کرنابھی اولین فرض ہے ۔ مرشِدسرکارسیدعرفان احمد شاہ فرماتے ہیں کہ لقمہ حلال اورپاک کھاو تاکہ اللہ تعالیٰ مہربان رہے اورمزید فضل فرمائے، مرشِد سرکارحلال وحرام کے ساتھ مردارکے متعلق بھی مفیدعلم ودانش سے مستفید فرماتے ہیں ‘‘جیساکہ آپ کے علم میں ہوگاکہ چین سے شروع ہونے والے کوروناوائرس نے پوری دنیاکوپریشان کرکے رکھ دیاہے ۔ آج پوری دنیاکورونا وائرس کے باعث بے حد پریشان ہے ۔ کورونا وائرس کے معاملے پر عالمی ادارہ صحت نے 194 ممالک کو ہدایات جاری کی ہیں ۔ آخری اطلاعات کے مطابق پندرہ ممالک میں کوروناوائرس پھیل چکا ہے ۔ اب تک 7 ہزار 831 سے زائد مریضوں میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوچکی جبکہ چین میں 170 لوگ اس بیماری کی وجہ سے جان کی بازی ہارچکے ہیں ۔ چین میں مقیم چار پاکستانی طلبہ بھی کورونا وائرس سے متاثر ہوئے ہیں جن کی حالت خطرے سے باہربتائی جاتی ہے ۔ اب تک تھائی لینڈ ، فرانس، امریکہ، یواے ای، اور آسٹریلیا سمیت 16 دیگر ممالک میں کورونا وائرس سے متاثر 70 سے زائدکیسوں کی تصدیق ہوچکی ہے تاہم چین سے باہر کسی ملک سے ہلاکت کی اطلاع نہیں آئی ۔ چین کے صوبہ ہوبائے کا دارلخلافہ شہر ووہان اس وائرس سے شدید متاثرہ علاقہ ہے اورممکنہ طورپریہاں سے ہی اس وباء نے جنم لیا ہو گا ۔ چین میں کورونا وائرس میں مبتلا مریضوں کے علاج کیلئے بڑے پیمانے پر اقدامات شروع کئے جا چکے ہیں ،ایک رپورٹ کے مطابق چین میں کورونا وائرس کے علاج کیلئے پہلا اسپتال صرف دو دن کے اندر قائم کیاجاچکاہے اور انتظامیہ مزید دو اسپتال بھی جلد قائم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے ۔ کورونا وائرس انسانی جسم پر حملہ آورہوکرتیزی سے پھیلتاہے جس سے سانس کے نظام میں شدید انفیکشن ہوجاتا ہے جس کا مقابلہ کرنے کیلئے تا حال کوئی ویکسین یا علاج موجود نہیں ہے ۔ چینی صدر شی جن پنگ نے کورونا وائرس کو ’شیطان‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ چین اسے شکست دے گا ۔ ماہرین کاخیال ہے کہ کورونا وائرس کا تعلق وائرسز کے اس خاندان سے ہے جس کے نتیجے میں مریض ،زکام،کھانسی،بخار میں مبتلا ہوتا ہے ۔ یہ وائرس اس سے قبل کبھی نہیں دیکھا گیا ۔ خدشہ ہے کہ کورونانامی وائرس جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوکرتیزی سے پرورش پاتا اور تعداد بڑھاتا ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ چین میں ہی 2003 ء میں چمگادڑوں سے شروع ہونے والا وائرس پہلے بلی،کتے یا دیگر جانوروں میں منتقل ہوا اور پھر انسانوں تک پہنچا جس نے انسانوں کے نظام سانس کوشدید متاثر کیاتھا ۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے کئی سوسال قبل قرآن کریم میں ارشاد فرمایا کہ ’’اے لوگو! ان چیزوں میں سے کھاوَ جو زمین میں حلال پاکیزہ ہیں اور شیطان کے قدموں کی پیروی نہ کرو، بے شک وہ تمہارا صریح دشمن ہے (سورۃ البقرہ:168)الحمدللہ آج غیرمسلم بھی یہ بات تسلیم کررہے ہیں ۔ چینی صدر شی جن پنگ نے کوروناوائرس کو ’شیطان‘ قرار دیا ہے ۔ یہ بات اپنی جگہ حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ انسان کواُس کی محنت کاپھل ضرور عطا فرماتا ہے پراحکامات کی پیروی میں جوسکون و راحت ہے وہ محنت کے نتیجے میں میسرنہیں آتے ۔ چین میں لوگ حلال و حرام سے بے خبر کیڑے مکوڑے بھی کھاجاتے ہیں ۔ چین میں ہی 2003 ء میں کوروناوائرس سے ملتا جلتا وائرس چمگادڑوں سے پہلے جانوروں تک پہنچا اور پھرانسانوں میں منتقل ہواقوی امکان ہے کہ حالیہ کورونانامی وائرس بھی چمگاڈروں سے ہی پھیلاہو ۔ اہل چین چمگادڑکاسوپ بنا کر پیتے اورکچے چوہے کھاجاتے ہیں ۔ افسوس اس بات پرہے کہ ترقی یافتہ دور میں چین جیساتیزی سے ترقی کرتاخوش حال ملک بھی اپنے شہریوں کیلئے صاف،شفاف اورصحت بخش غذاء فراہم کرنے یاکم ازکم آگاہی فراہم کرنے سے قاصرہے جس کی سب سے بڑی وجہ حقیقی ضابطہ حیات دین اسلام کی تعلیمات سے نا واقفیت اوردوری ہے ۔ ہم اہل دنیا خاص طورپرترقی یافتہ اقوام کودعوت فکر دینا چاہتے ہیں کہ اپنی آنکھوں سے جہالت اور بغض کی عینک اتارکرقرآن مجیدکی تعلیمات پر غور او ر تحقیق کریں ۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ رب العامین، رسول اللہ ﷺ رحمت العامین ہیں اور قرآن مجیدکل کائنات کیلئے ضابطہ حیات ہے لہٰذا غیرمسلم بھی دین اسلام کی تعلیمات اور احکامات سے بڑی حد تک مستفید ہوسکتے ہیں ۔ ہم پریہ اللہ تعالیٰ کاخاص کرم ہے کہ ہم حلال وحرام کی تمیزکرتے ہیں پھربھی مزید غور و فکرکی ضرورت ہے جیساکہ برائلرمرغی ظاہری طورپرحلال دیسی مرغی کی نسل ہے پراس کی پرورش جس طریقے اورغذاء سے کی جاتی ہے وہ انتہائی خطرناک ہے ۔ بہت ساری روپوٹس کے مطابق برائلرمرغی کودی جانے غذاء (فیڈ) میں خطرناک کیمیکل اورحرام جانوروں کے اعضاء بھی شامل کئے جاتے ہیں جوانسانی صحت کیلئے انتہائی نقصان دے ہوسکتے ہیں ۔ چین نے فقط دودن میں سینکڑوں مریضوں کیلئے اسپتال قائم کرلیاجبکہ ہم اسی کام میں کئی سال لگادیتے ہیں لہٰذاہ میں انتہائی سنجیدگی اور فکرمندی کی ضرورت ہے ۔ حرام سے پرہیز، اپنی اوردوسروں کی غذا میں کسی قسم کی ملاوٹ نہ کرناہی پہلافرض ہے اورعلاج معالجے کے بہترسے بہترانتظامات دوسرافرض ہے ۔ اللہ تعالیٰ سے دُعاہے کہ چین سمیت پوری دنیاکے انسانوں اورتمام مخلوقات کو آفتوں ،وباءوں سے محفوظ فرمائے ۔