- الإعلانات -

کفالت پروگرام ریاست مدینہ کی جانب اہم قدم

وزیراعظم عمران خان نے احساس کفالت پروگرام کے باقاعدہ اجراکی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاہے کہ ابھی پاکستان پر مشکل وقت ہے، حکومت مشکل حالات کے باوجود پسے ہوئے طبقات کو ریلیف دینے کیلئے پُرعزم ہے، مستحق اور پسی ہوئی خواتین کیلئے 200 ارب روپے کی لاگت سے پاکستان کی تاریخ کے سب سے بڑے فلاحی پروگرام کا آغاز کر دیا گیا ہے جو براہ راست مستحقین تک پہنچیں گے، ماضی میں مستحقین کے فنڈز چوری ہوتے رہے، احساس پروگرام میں فنڈز چوری کا راستہ بھی بند کر دیا گیا ہے، 70لاکھ مستحق خواتین کو معاشی سرگرمیوں میں حصہ بٹانے کیلئے گائے بھینسیں دینگے، کفالت کارڈ پر یوٹیلٹی اسٹور سے راشن بھی ملے گا، وظیفہ میں ایک ہزار روپے اضافہ کر کے سہ ماہی چھ ہزار روپے فی کس کر دیا گیا ہے ، جو اب ماہانہ بنیادوں پر ملے گا، غریب گھرانوں کے بچوں کو تعلیمی وظاءف دیئے جائیں گے، دیہات کے اندر تبدیلی آرہی ہے، نوجوانوں کیلئے قرضہ پروگرام انکی فلاح و بہبود کیلئے کلیدی کردار ادا کریگا، ہماری حکومت کا سب سے بڑا کارنامہ 60لاکھ خاندانوں کو صحت کارڈ کی فراہمی ہے، دوہفتے میں احساس کا اگلا پروگرام جاری کیا جائیگا،احتساب، شفافیت اور اصلاحات بڑی ترجیحات، ادارے اتنے مضبوط کردونگا جتنے پہلے کبھی نہیں ہوئے،بڑے کرپٹ لوگ ملک لوٹیں گے تو پکڑے بھی جائینگے ۔ نوجوانوں کو قرضے دینے کا پروگرام بہت زبردست ہے،نئے سروے سے جو ڈیٹا اکٹھا ہورہا ہے اس سے کمزور طبقے کی مدد کا طریقہ مل جائیگا اور یہ بنیاد ایک فلاحی ریاست کی ہے یہ قائداعظم اور علامہ اقبال کا پاکستان ہوگا ۔ احتساب، شفافیت اور ریفارمز موجودہ حکومت کی سب سے بڑی ترجیحات ہیں ۔ احساس پروگرام کے تحت نچلا طبقہ اوپر آئےگا ۔ حکومت کا غریبوں کےلئے احساس پروگرام کا آغازایک قابل تعریف ا قدام ہے ، حکومت نے ایسا کام کیا جو ماضی کی حکومتوں نے نہیں کیا، اب غریب اور مستحق خواتین کو ہر ماہ رقوم ملیں گی، پروگرام کا مقصد پسماندہ طبقات کی ترقی بالخصوص خواتین کو با اختیار بنانے کے علاوہ ان کی مالیاتی شمولیت کا فروغ اور عوام کی ڈیجیٹل سروسز تک رسائی کےلئے ڈیٹا اور ٹیکنالوجی جیسی اکیسویں صدی کے جدید طریقوں کو بروئے کار لا کر فلاحی ریاست کی تشکیل ہے ۔ پروگرام انتہائی غریب افراد، یتیموں ، بیواءوں ، بے گھر افراد، معذوروں ، بےروزگاروں ، غریب کسانوں ، نادار مریضوں ، محنت کشوں ، کم آمدنی والے طالب علموں اور غریب خواتین کے ساتھ ساتھ بزرگ شہریوں کےلئے بھی ہے، منصوبہ ان پسماندہ علاقوں کے بارے میں ہے جہاں غربت بہت زیادہ ہے ۔ کفالت پروگرام مستحق خواتین کی معاشی معاونت میں اہم کردار ادا کرےگا ۔ پروگرام کے تحت مستحقین کی مدد کا جو سلسلہ شروع ہوا وہ احسن ہے، مستحقین کا خیال رکھا جانا ضروری ہے جو پہلے نہیں ہوا ۔ ماضی میں غریبوں کے نام پربہت لوٹ مار کی گئی ہے، بی آئی ایس پی میں توافسران کی بیگمات بھی فائدہ اٹھاتی رہی ہیں ۔ کسی بھی پروگرام کوکامیاب بنانے کےلئے اس میں شفافیت ضروری ہوتی ہے ۔

افغانستان میں قیام امن

کیلئے پاکستان کی کاوشیں

پاکستان نے افغانستان میں امن کےلئے اہم کردارادا کیا ہے جس کی پوری دنیامعترف ہے ،گزشتہ روز امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد نے بھی پاکستان کے کردارکوسراہاہے اسی سلسلے میں پاکستان اور امریکا نے افغان امن عمل کے حوالے سے مشترکہ کاوشیں بروئے کار لانے کیلئے مشاورتی سلسلہ جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے ۔ امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد نے وزارت خارجہ میں وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی اورجی ایچ کیو میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے علیحدہ علیحدہ ملاقات کی ہے ۔ امریکی نمائندہ خصوصی نے خطے میں امن کیلئے پاکستان کی کاوشوں کو سراہا جبکہ وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ امریکا اور طالبان کے مابین امن معاہدہ طے پانے سے انٹرا افغان مذاکرات کی راہ ہموار ہوگی جو نہ صرف افغانستان کیلئے بلکہ پورے خطہ کے امن و استحکام کیلئے خوش آئند ثابت ہوگا ۔ زلمے خلیل زاد نے امن مذاکرات سے متعلق پاکستان کے مصالحانہ کردار کی تعریف کی ۔ پاکستان مشترکہ ذمہ داری کو نبھاتے ہوئے افغانستان میں قیام امن کیلئے کی جانے والی کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا ۔ دوسری جانب پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ سے افغانستان میں مصالحتی عمل کیلئے امریکا کے خصوصی نمائندہ زلمے خلیل زاد نے ملاقات کی جس میں باہمی دلچسپی کے امور بشمول مجموعی علاقائی سکیورٹی صورتحال اور جاری افغان مفاہمتی عمل پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔ افغانستان میں قیام امن کےلئے پاکستان نے ہمیشہ مذاکرات کی ضرورت پر زوردیاہے ۔

برطانیہ کی یورپی یونین

سے علیحدگی

برطانیہ 47 برس تک رکن ملک رہنے کے بعد بالآخر یورپی یونین سے علیحدہ ہوگیا ۔ برطانیہ کے 73 ارکان یورپی پارلیمنٹ بھی اب یورپ کے اس سب سے بڑے ایوان کا حصہ نہیں رہے ۔ اس طرح اب یورپی یونین کا یہ ایوان 678 کا رہ گیا ہے ۔ برطانوی عوام نے جون 2016 میں ہونےوالے ریفرنڈم میں یورپی یونین سے نکلنے کے حق میں فیصلہ دیا تھا، جس کے بعد برطانیہ کے عوام دو دھڑوں میں تقسیم ہوگئے تھے، اس دوران تین وزرائے اعظم تبدیل ہوئے جبکہ لیبر پارٹی کو 2019 کے انتخابات میں بری طرح شکست ہوئی ۔ یورپی یونین 28 ارکان پر مشتمل ہے، جس میں برطانیہ کے نکلنے کے بعد اب 27 ممالک رہ گئے ہیں ۔ برطانیہ میں ہونے والے ریفرنڈ م میں 52 فیصد عوام نے بریگزٹ کے حق میں ووٹ دیا جبکہ 48 فیصد بریگزٹ کے حق میں نہیں تھے ۔ عام خیال کیا جاتا ہے کہ برطانیہ کے یورپی یونین سے مکمل طور پر نکل جانے کے بعد پاکستان، بھارت اور دوسرے ایشیائی ممالک سے برطانیہ میں ایک مرتبہ پھر امیگریشن شروع ہوجائے گی، تاہم اس کا سارا دار ومدار برطانیہ اور یورپی یونین کے درمیان مستقبل کے معاہدے پر ہے ۔ اگرچہ برطانیہ یورپی یونین سے نکل گیا ہے مگر اس کو یورپ سے مکمل طور پر نکلنے کیلئے اب مزید 11ماہ درکار ہوں گے ۔ برطانیہ اور یورپی یونین 31 دسمبر 2020تک تجارتی، امیگریشن اور دوسرے معاملات پر معاہدے کو حتمی شکل دیں گے ۔ 11ماہ کی اس عبوری مدت کے دوران برطانیہ کو یورپی یونین کے تمام قواعد و ضوابط پر عمل کرنا ہوگا ۔ برطانیہ کے تجارتی تعلقات بھی 31 جنوری 2020 سے پہلے ہی کی طرح رہیں گے ۔ اس دوران برطانیہ کے باشندوں کو یورپ میں اور یورپ کے باشندوں کو برطانیہ میں تمام حقوق حاصل رہیں گے ۔ دونوں آزادانہ طور پر نقل و حرکت کر سکیں گے ۔

پاکستان سیاحت کےلئے

بہترین ملک قرار

برطانیہ کے بعد امریکہ نے بھی پاکستان کیلئے ٹریول ایڈوائزری تبدیل کر دی ہے ۔ امریکی ٹریول ایڈوائزری میں برطانیہ ٹریول ایڈوائزری کا بھی حوالہ دیا گیا ہے ۔ امریکی ٹریول ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ ناروے اور پرتگال نے بھی پاکستان کیلئے ایڈوائزری بہتر کر دی ۔ پاکستان کو 2020 کیلئے سیاحت کا سازگار مقام قرار دیا گیا ہے اور پاکستان کو ایک پرامن ملک قرار دیا گیا ہے ۔ یورپی ممالک بھی پاکستان کو محفوظ ملک سمجھتے ہیں ۔ پاکستان نے امریکہ کی جانب سے ٹریول ایڈوائزری میں تبدیلی کرنے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ٹریول ایڈوائزری میں پاکستان میں امن و امان کے قیام کو تسلیم کیا گیا ہے اسی بنا پر برطانیہ نے بھی اپنی ٹریول ایڈوائزری میں بہتری کی تھی ۔ اقوام متحدہ نے اسلام آباد کو دوبارہ فیملی اسٹیشن قرار دیدیا ہے ۔ پاکستان نے ملک بھر میں سیکیورٹی بہتربنانے کےلئے بھر پورکوششیں کی ہیں ۔ حکومت پاکستان کی آزادانہ ویزاپالیسی اورسیاحت کےلئے ساز گار ماحول کے باعث پُرعزم ہے کہ دنیابھرسے بڑی تعداد میں سیاح پاکستان آئیں گے ۔ سلامتی کی بہترصورتحال کی وجہ سے اقتصادی سرگرمی کے مواقع بڑھے ہیں اور ملک میں براہ راست سرمایہ کاری کوفروغ حاصل ہواہے ۔