- الإعلانات -

کر بھلا ہو بھلا

جب آپ کسی اپنے یا غیر کے مشکل میں یا مصیبت میں کام آتے ہیں ۔ اس کی مدد کرتے ہیں تو قدرت آپ کو اس نیکی ا س بھلائی کا صلہ ضرور دیتی ہے ۔ یہ صلہ کب اور کس سے ملے گا اس کا کسی کو نہیں اندازہ نہیں ۔ یہ ضروری بھی نہیں ہے کہ جس کے ساتھ آپ نے نیکی کی ہے بھلائی کی ہے وہی شخص آپ کو اس کا صلہ بھی دے ۔ ایسا بعض اوقات دکھائی بھی نہیں دیتا لیکن جو نیکی جو اچھائی آپ کر گزرتے ہیں اس کا صلہ اگروہ بندہ نہیں دیتا جس کے ساتھ آپ نے نیکی یا بھلائی کی ہو لیکن قدرت اس کا صلہ کسی نہ کسی رنگ میں روپ میں ہمیشہ دیتی ہے ۔ جتنے بھی انسان ہیں ،حیوان ہیں ،چرند پرند ہیں ، درخت ہیں ان کا بھی اگر کوئی خیال رکھتا ہے ان سے پیار کرتا ہے تو اس کا صلہ بھی قدرت آپ کو ضرور دیتی ہے ۔ یہ صلہ بعض او قات خدا کی ذات اسے بندے سے دلوا دیتی ہے اور بعض اوقات کسی دوسرے وصیلے سے اس نیکی کا صلہ آپ کو مل جاتا ہے ۔ اس لئے ضروری یہ ہے کہ نیکی کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیں ۔ اس لئے کہا جاتا ہے کہ کر بھلا ہو بھلا ۔ آپ سب کا راقم ممنون و مشکور ہے جھنوں نے میرا لکھا ہوا کالم اعمال کا دارومدار نیت پر ہے کو بہت زیادہ پسند کیا ۔ آپ سب نے اس خواہش کا اظہار کیا ہے کہ آئندہ بھی ایسے واقعات لکھا کریں جس سے نیکی کرنے کا جذبہ ہم میں پیدا ہو ۔ میرا آج کا کالم بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ اسکاٹ لینڈ کے گاءوں میں ایک کسان اپنے کھیتوں کی طرف جا رہا تھا کہ راستے میں اسے بچے کی چیخوں کی آواز سنائی دی ۔ یہ کسان اس چیخ کی جانب تیزی سے بڑھا ۔ دیکھتا ہے کہ ایک بچہ دلدل کے ایک جوہڑ میں ڈوب رہا ہے ۔ مدد کےلئے پکار رہا ہے ۔ کسان نے ایک درخت کی ٹہنی کاٹ کر اس بچے کی جانب کی اور کہا کہ اس کو پکڑ لو ۔ جب بچے نے اس ٹہنی کو مضبوطی سے پکڑ لیا تو کسان نے اس ٹہنی کو کھنچ کر بچے کو اس دلدل سے باہر نکالنے میں کامیاب ہو گیا ۔ بچے سے کہا چلو میرے ساتھ میں پانی سے گند کو صاف کر دیتا ہوں ۔ لیکن بچے نے اس کسان کا شکریہ ادا کیا اور بھاگ کر گھر چلا گیا ۔ دوسر ے روز صبح کسان جب گھر سے باہر نکلا تو دیکھا کہ گھر کے باہر ایک بگھی کھڑی ہے جس میں ایک رعپ دار شخص نمودار ہوا ۔ اس نے کسان کا شکریہ ادا کیا کہ کل آپ نے میرے بیٹے کو ڈوبنے سے بچا لیا ۔ اب میں اس کا صلہ آپ کو دینا چاءتا ہوں ۔ غریب کسان نے کہا میری جگہ کوئی بھی ہوتا تو وہ بھی یہی کچھ کرتا جو میں نے کیا ہے ۔ آپ کی مہربانی ، مجھے کسی صلے کی ضرورت نہیں ۔ اس ریئس نے بہت اسرار کیا لیکن کسان نے اس کی کوئی آفر قبول نہ کی ۔ جاتے جاتے اس ریئس کی نظر کسان کے بیٹے پر پڑی ۔ کہا کیا یہ آپ کا بیٹا ہے ۔ کسان نے پاس کھڑے بیٹے کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے پیار کرتے ہوئے کہا جی یہ میرا بیٹا ہے ۔ ریئس نے کہا چلو ایک کام کرتے ہیں میں آپ کے اس بیٹے کو اپنے ساتھ لندن لے جاتا ہوں ۔ اسے وہاں تعلیم دلواتا ہوں ۔ کسان نے یہ پیشکش قبول کرلی اور کسان کا بیٹا لندن چلا گیا ۔ پھریہ بچہ پڑھ لکھ کر دنیا بھر میں الیگزینڈر فلیمنگ کے نام سے مشہور ہوا ۔ جی ہاں یہ ہی فلیمنگ تھا جس نے پنسلین ایجاد کی تھی ۔ جس نے کروڑوں مریضوں کی جان بچائی اور وہ رئیس جس کے بیٹے کو کسان نے ڈوبنے سے بچایا وہی بیٹا جنگ عظیم سے پہلے ایک بار پھر ہسپتال میں زندگی اور موت کی کشمکش میں تھا ۔ پھر دوبارہ فلیمنگ کی پنسلین سے اس کی زندگی بچائی گئی ۔ وہ رئیس جس کے بیٹے کو ڈوبنے سے بچایا گیا تھا اس کا نام روڈولف چرچل تھا ۔ اس کا بیٹا ونسٹن چرچل تھا جو جنگ عظیم میں وزیراعظم بر طانیہ بنا ۔ اس کا کہنا تھا کہ بھلائی کا کام ہ میں ہمیہ کرتے رہنا چائیے کیو نکہ بھلائی پلٹ کر واپس آ تی ہے ۔ خدا ہم سب پر نظر رکھتا ہے ۔ نیتوں کو جانتا ہے ۔ جس نے بھی کسی انسان کسی حیوان کسی چرند پرند سے اس کے مشکل وقت میں اس کاساتھ دیا اس کی مدد کی اس کا صلہ دینے والی وہی ذات ہے جو تمام جہانوں کا مالک ہے ۔ اس وقت دنیا ساری میں چین میں پیدا ہونے والے کرونا وائرس کے پھیلنے سے پریشان ہیں ۔ راقم کے دوست بھائی نوری اسپتال میں ڈاکٹر ہیں ۔ جن کا کام ہی مریضوں کی مدد کرنا ،انہیں زندگی کی امید دینا ان کا کام ہے ۔ جب سے کرونا وائرس کا نام سنا ہے ڈاکٹر فہیم صاحب مسلسل روز اس کرونا وائرس کے حوالے سے واٹس اپ پر معلومات شیئرکر رہے ہیں ۔ بتایا جاتا ہے کرونا وائرس کےلئے حفاظتی اقدامات دنیا ساری میں کئے جا رہے ہیں ۔ بعض ممالک نے چین سے اپنے ممالک کی پروازیں معطل کر دی ہیں ۔ اب تک اس وارئرس سے تین سو سے زیاد اموات ہو چکی ہیں ۔ ;877279; کے ادارے نے گلوبل ایمرجنسی نافذ کر رکھی ہے ۔ دو ہزار کیسز ابھی تک دنیا میں اس کرونا وائرس کے کنفرم ہو چکے ہیں ۔ چین کے شہر بوہا ن ایریا کے تمام اسپتالوں میں فوج نے کنٹرول سنبھال رکھا ہے ۔ مرنے والوں کی باڈی کوجلایا جا رہا ہے ۔ اس علاقے میں رہنے والے کسی افراد کو جانے یا آنے کی اجازت نہیں ہے ۔ اس ایریا میں گیارہ ملین لوگ رہائش پذیر ہیں ۔ اس ایریا کی تمام سڑکوں کو ریت ڈال کر کسی بھی ٹریفک کےلئے بلاک کر دیا ہے ۔ کرونا وائرس کے حوالے سے امریکہ میں دوہزار گیارہ میں ایک امریکی فلم ;67;ontagion کے نام سے رہلیز ہو چکی ہے ۔ اس فلم میں کرونا وائرس کا بتایا کہ یہ چین میں پیدا ہوا پھر یہ دنیا ساری میں پھیل گیا ۔ اس فلم میں بتایا گیا ہے کہ کرونا وائرس کی وجہ چین کے لوگوں کا چمگادڑوں کو اپنی غذا کا حصہ بنانا ہے ۔ چین میں ہر وہ چیز کھائی جاتی ہے جس کا ان کو کھانے کا دل چائیے ۔ سانپ ، کتے ،مینڈک ،چھپکلیاں ، مکڑی ، خنزیر سب کچھ کھا جاتے ہیں ۔ جب کہ قدرت نے ایسی چیزیں کھانے سے منع کر رکھا ہے ۔ دنیا میں اسلام واحد ملک ہے جس نے انسانوں کو بتا رکھا کہ کون کون سے جانور انسان کھا سکتا ہے ۔ حلال حرام کا جو تصور اسلام نے دیا ہے اب یہ دنیا میں سچ ثابت ہو رہا ہے ۔ صفائی کے بارے میں خا ص کر کہا گیا ۔ پاکیزگی ایمان کا حصہ ہے ۔ اس پر دنیا کے تمام ترقی یافتہ ممالک عمل کرے ہیں لیکن ہم میں سے اکثر اس پر عمل کرتے دکھائی نہیں دیتے ۔ میٹ شاپ میں کام کرنے والے مسلم ہیں ۔ مگر جس انداز سے کام کررہے ہوتے ہیں ان میں اکثرانسان بھی نہیں لگتے ۔ بھیڑ بکری ، بھینس گائے کا گوشت دوکان کے باہر لٹکا ہوا ہوتا ہے ۔ وہاں اس کے نیچے محلے کی گندگی والا پانی گزر رہا ہوتا ۔ جس ڈبے میں مرغی ذبح کر کے ڈالی جاتی ہے اس میں یہ مرغی کی آنتیں ، پوٹے ،خون جمع کرتے ہیں ۔ مرغی ذبح ہونے کے بعد اسی میں جان دے دیتی ہے ۔ اس کا اپنا خون اور پھر وہاں پر موجود اس ڈبے کی گندگی اس مرغی کے پروں پر لگ جاتی ہے ۔ مرغی فروش اس گندے ڈبے سے ہاتھوں سے مرغی نکالتا ہے اس کے گندے پروں کو سیکن سمیت صاف کرتا ہے ۔ اور گوشت بنا کر آپ کے حوالے کرتا ہے ۔ ان آنتوں سے بننے والے کوکنگ آئل سے پکوان تیار کرتے ہیں اور مزے لے لے کر کھاتے ہیں اگر ہم اس غلاظت سے بچے ہوئے ہیں تو اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں وہ سہولت نہیں ہیں جو بتا سکے کہ اس بیماری میں کون سے وائرس آپ نکل چکے ہیں ۔ قدرت کو شاید ہم پر ترس آ جاتا ہے کہ یہاں ان حالات میں بیماریاں وائرس کا روپ نہیں اتارتیں ۔ اس پر ہم جتنا بھی شکر ادا کریں کم ہے ۔ ہم جو کچھ کھا رہے ہیں پی رہے ہیں ان کو کئی بار سپریم کورٹ کے حکم پر چیک ہو چکے ہیں پتہ چلا کہ جو پانی بوتلوں میں پیتے ہیں وہ بھی مضر صحت ہیں ۔ جو دودھ مارکیٹ میں کھلے عام فروخت ہو رہا ہے اور جو دودھ بند پیکٹوں میں فروخت ہو رہا ہے وہ دودھ بھی مضرے صحت ہیں ۔ نشان دہی ہو گئی کہ یہ سب انسانی زندگی کےلئے مضرصحت ہیں مگر اس کے بعد ہر کوئی خاموش ہے قانون کچھ نہیں کرتا ۔ قدرت انسانوں کو سمجھانے منع کرنے کےلئے کبھی زلزلے کبھی طوفانی بارشوں سے سیلا ب لے آتا ہے ، کبھی وبائی امراض پھیلا دیتا ہے تانکہ ہم باز آ جائیں ۔ جس پر ہم وقتی طور پر توبہ کرتے ہیں ۔ پھر اسی ڈگر پر چل پڑتے ہیں جس سے منع کیا ہے ۔ ہ میں خطرہ ہے ایٹمی وار سے ۔ ہم جانتے نہیں کہ قدرت اس کرونا وائرس سے ہی لاکھوں کروڑوں انسانوں کو بھسم کر سکتی ہے ۔ لہٰذا ہم سب کو اپنے اپنے معاملات کو ٹھیک کرنا ہو گا ۔ انسان انسان کو زہر کھلا نے سے باز رہنا ہوگا ۔ اپنا کام عبادت سمجھ کرنا ہو گا ۔ ایسا کرنا یہ بھی ایک نیکی کا کام ہے ۔ اسی پہ ہی عمل کریں ۔ انشا ا;203; بہتری آئے گی ۔