- الإعلانات -

وزیراعظم عمران خان کی خطے کی صورتحال پر تشویش

وزیراعظم عمران خان کو جب بھی بین الاقوامی ذراءع ابلاغ سے بات چیت کا موقع ملتا ہے خطے کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہیں ۔ ہفتے کے روز بھی انہوں نے اسلام ;200;باد میں ترک نیوز ایجنسی انادولوسے کو جو خصوصی انٹرویو دیا اس میں بھی انہوں نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز کی کارروائیوں ، مشرق وسطیٰ، افغانستان کی صورتحال، پاک ترک تعلقات، ملکی معیشت، موسمیاتی تبدیلیوں ، بھارت کے ساتھ تعلقات اور دیگر امور پر تفصیل سے بات کی ۔ اس تفصیلی انٹرویو میں انہوں نے عالمی برادری کو خبردار کیا کہ بھارت کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی میانمار کی طرز پر اقلیتوں کی نسل کشی کی تیاری کر رہی ہے ۔ متنازع شہریت ترمیمی قانون کے تحت 50 کروڑ افراد کو شہریت کی فہرست سے خارج کردیا جائے گا ۔ ان کا کہنا تھا کہ میانمار میں بھی پہلے رجسٹریشن ایکٹ شروع کرکے مسلمانوں کو الگ کیا گیا اور پھر ان کی نسل کشی کی گئی ۔ بھارت میں موجودہ صورتحال کے پیش نظر پاکستان اور بنگلہ دیش میں نئی دہلی سے تارکین وطن کی ;200;مد کے امکان کے حوالے سے عمران خان نے کہا کہ مجھے لگتا ہے کہ بنگلہ دیش پہلے ہی پریشان ہے کیونکہ بھارت نے ;200;سام میں 20 لاکھ سے زائد افراد کو شہریت سے محروم کردیا ہے لیکن ان لوگوں کا کیاہوگا‘‘ ۔ وزیراعظم عمران نے جن خدشات کا اظہار کیا ہے ان سے قطعا ًانکار نہیں کیا جا سکتا ہے کیونکہ جب سے بھارت میں نریندرا مودی نے اقتدار سنبھالا ہے اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں کا جینا حرام کر دیا گیا ہے ۔ کبھی گاوَ کشی کی ;200;ڑ میں تو کبھی مساجد کے انہدام کی صورت میں مسلم اقلیت کو نشانہ بنانا معمول بن چکا ہے ۔ اب حالیہ دنوں میں جن شہریت قوانین کو نافذ کرنےکی کوشش کی جا رہی ہے وہ اتنے خوفناک ہیں کہ بھارت بھر میں شدید مزاحمت دیکھنے کو مل رہی ہے ۔ یہ انتہاپسندانہ سوچ کی بدترین شکل ہے جس کی مثال نہیں ملتی ۔ بھارتیہ جنتا پارٹی اور اسکے سربراہ وزیراعظم نریندرا مودی بھارت کے معتدل مزاج اور لبرل حلقوں کے لئے سراپا دہشت بن چکے ہیں ۔ ہندو انتہا پسندی اور اس کے پیروکاروں کو اتنی کھلی چھوٹ مل چکی ہے کہ وہ مظاہرین پر سرعام گولیاں برسا رہے ہیں ۔ وہاں کی پولیس بے بس اور عدلیہ مودی کی کٹھ پتلی بن چکی ہے ۔ اقلیتوں کی کہیں شنوائی نہیں ہو رہی ۔ اقوام متحدہ اور امریکہ شاید اسے بھارت کا داخلی معاملہ سمجھ کر نظر انداز کر رہے ہیں ،لیکن حقیقت میں ایسا بالکل نہیں ہے ۔ بھارتی حکومت کی پالیسیوں سے خطے کے پڑوسی ممالک کا بری طرح متاثر ہونے کا خدشہ ہے ۔ وزیراعظم عمران خان نے اسی جانب توجہ دلائی ہے کہ متنازعہ ایکٹ سے بڑے پیمانے پر بے دخلی ہو گی جس کا بوجھ پڑوسی ممالک پر پڑے گا ۔ بنگلہ دیش اس بے دخلی سے سب سے زیادہ متاثر ہو گا ۔ یہی وجہ ہے کہ بنگلہ دیش بھی بھارتی رجسٹریشن ایکٹ پر تنقید کر رہا ہے ۔ میانمار کی روہنگیا مسلم کمیونٹی کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے، وہ ;200;ج تک دربدری کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں وہ نہ میانمار کے ہیں نہ بنگلہ دیش انہیں قبول کررہا ہے ۔ خدانخواستہ بھارت میں بی جے پی کے عزائم تکمیل کو پہنچے تو روہنگیائی مسلمانوں سے زیادہ شدید انسانی بحران پیدا ہو جائے گا ۔ یہی وقت ہے کہ اقوام متحدہ اس معاملے کا سختی سے نوٹس لے اور وہاں کی اقلیتوں کے تحفظ کے اقدامات اُٹھائے ۔

جنگی جنون میں مبتلا مودی حکومت کا دفاعی بجٹ میں بھاری اضافہ

بھارت جس نے پہلے ہی اسلحہ و بارود کے انبار لگا رکھے ہیں اس نے اپنے دفاعی بجٹ میں 6 فیصد اضافہ کرتے ہوئے آئندہ مالی سال کےلئے لگ بھگ 34 کھرب بھارتی روپے مختص کر دیئے ہیں جو پاکستانی ستر کھرب روپے کے برابر ہیں ۔ جب کہ پنشن کی مد میں دی جانے والی رقم اس کے علاوہ ہے ۔ بھارتی میڈیا کے مطابق وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے ڈھائی گھنٹے پر مشتمل اپنی تقریر میں یونین بجٹ پیش کیا، اب تک اسمبلی میں کی جانے والے بجٹ تقاریر میں یہ سب سے طویل تقریر تھی ۔ نریندرامودی حکومت نے دفاعی بجٹ میں 6فیصد تک اضافہ کرکے اپنی جنگی ترجیحات کا اظہار کر دیا ہے ۔ اس بھاری بھرکم بجٹ سے جدید اسلحہ، لڑاکا طیارے، جنگی بحری جہاز اور دیگر فوجی ساز و سامان خریدا جائے گا ۔ اس سے نہ صرف خطے میں تناوَ بڑے گا بلکہ اسلحہ کی دوڑ بھی شروع ہو جائے گی ۔ دوسری طرف دیکھا جائے تو بھارت کی معیشت بری طرح زبوں حالی کا شکار ہے، اسٹاک ایکسچینج میں بھی مسلسل مندی کا رجحان چل رہا ہے ۔ اس کے باوجود اپنے شہریوں کو ٹوائلٹ جیسی بنیادی اور سستی سہولت تک نہ دے پانے والی مودی حکومت کا جنگی جنون پاگل پن کی حدوں کو چھو رہا ہے ۔ بھارتی عوام کو سوچنا ہو گا کہ ان کے حکمران کس ڈگر پر چل نکلے ہیں ۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ یہ بھاری اضافہ عوام کے مفاد کےلئے استعمال کیا جاتا ۔

ٹرمپ بارے خدشات درست ، امریکہ قابل بھروسہ نہیں ہے

لاہور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹ میں اسٹینڈنگ کمیٹی برائے امور خارجہ کے چیئرمین مشاہد حسین سید نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کشمیر پر بار بار ثالثی کی پیشکش پر متنبہ کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور امریکہ کو نظریہ ضرورت کے تحت پاکستان کی ضرورت ہے کیونکہ امریکہ کو معلوم ہے کہ افغانستان میں امن کا راستہ پاکستان سے ہو کر جاتا ہے ۔ امریکہ کی فلسطین کے متعلق نام نہاد ڈیل فلسطینیوں کے ساتھ سب سے بڑا دھوکہ ہے اور اس کے ذریعے گریٹر اسرائیل کی بنیاد رکھ دی گئی ہے ۔ امریکی صدر ٹرمپ سے مسئلہ کشمیر پر مصالحت کی بات نہ کریں ، انہوں نے ایسا ہی حل پیش کر دینا ہے جیسا فلسطین کیلئے کیا ہے ۔ ان کا اشارہ تنازعہ فلسطین کے حل کےلئے ٹرمپ کے حالیہ امن معاہدے کی طرف ہے جس کے تحت قبلہ اول مکمل اسرائیل کے قبضے میں چلا جائے گا ۔ مشاہد حسین سید نے اس پس منظر میں جس خدشے کا اظہار کیا ہے اس میں کافی وزن محسوس ہوتا ہے ۔ تنازعہ فلسطین بھی مسئلہ کشمیر کی طرح نصف صدی سے حل طلب چلا ;200; رہا ہے ۔ ;200;ج تک امریکہ نے ایک کلمہ خیر فلسطینیوں کے حق میں نہیں کہا اور قابض اسرائیل کو ٹانگیں پسارنے کا مکمل موقع فراہم کرتا ;200; رہا ہے ۔ چندروز قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے جس امن معاہدے کا ڈھنڈورہ پیٹا ہے اسے مسلم امہ کی اکثریت نے مسترد کردیا ہے ۔ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے امریکی صدر کی پیشکش اگرچہ بھارت کی جانب سے قبولیت نہیں مل رہی ہے تاہم پاکستان کو اسے احتیاط سے لینا چاہئے ۔ مشاہد حسین سید نے درست کہا ہے کہ اس وقت پاکستان علاقائی سیاست کا محور بن چکا ہے اور امریکہ افغانستان سے نکلنا چاہتا ہے ۔ اسلئے اسے پاکستان کی سخت ضرورت درپیش ہے ۔ ضرورت نکلنے پر امریکہ وہی کرے گا جو ماضی میں اس نے پاکستان کےساتھ کیا تھا ۔ مشاہد حسین سید کا یہ کہنا بھی درست ہے کہ ٹرمپ کو اپنے مفادکے تحت پاکستان کی ضرورت ہے، ہم جتنا انحصارچین پر کرسکتے ہیں اور کسی ملک پر نہیں کرسکتے ۔ ماضی کے تلخ تجربات کی بنا پر کہا جا سکتا ہے کہ ہاتھی کے دانت دکھانے کے اور کھانے کے اور کے مصداق امریکہ کا ٹریک ریکارڈ یہی ہے ۔

چین میں پھنسے پاکستانیوں

کی واپسی،ہرقدم احتیاط

سے اُٹھایا جائے

وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے قومی صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا ہے کہ وزیر اعظم کو سب سے زیادہ فکر، چین میں موجود پاکستانیوں کے حوالے سے کوئی اور چیمپئن نہ بنے، پاکستانیوں کی فوری واپسی نہیں ہوسکتی، مکمل صحت یابی تک وہیں رہیں گے ۔ چین میں وائرس سے متاثرہ 4پاکستانی طلباکی صحت بہتر ہورہی ہے،ذمہ دار ملک کی حیثیت سے عالمی ایڈوائزری کی پاسداری کرینگے ، فیصلہ کیا ہے14دن آبزویشن کے بغیر کسی کو پاکستان نہ لایا جائے ۔ چین میں پھنسے پاکستانیوں کے حوالے سے ملک بھر میں تشویش پائی جاتی ہے لیکن اس موقع پر ضروری ہے کہ ہر قدام احتیاط سے اُٹھایا جائے تاکہ جلدبازی میں کہیں پورا ملک اس لپیٹ میں نہ آجائے ۔ یہ بات درست ہے کہ یہ موقع بلاوجہ کی سیاست کا نہیں ہے ۔ خدانخواستہ کوئی ایک متاثرہ فرد بھی پاکستان آگیا اور وائرس پھیلنے لگا تو پھر اسے قابو کرنا مشکل ہو جائے گا ۔