- الإعلانات -

امریکہ کا نام نہاد امن معاہدہ

;200;خر بلی تھیلے سے باہر ;200; ہی گئی اور گریٹر اسرائیل کا جو خواب اسرائیلی برسوں سے دیکھ رہے تھے اس کی راہ ہموار ہونے لگی ہے ۔ گزشتہ ہفتے 29جنوری کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو سے دو سالہ طویل مذاکرات کے بعد فلسطین سے متعلق ایک منصوبہ پیش کیا جسے ڈیل آف دی سنچری کا نام دیا گیا ہے ۔ جب یہ منصوبہ پیش کیا جا رہا تھا توواءٹ ہاوَس میں اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن ہاہو بھی موجود تھے ۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے اس منصوبے کو فلسطینیوں نے کلیتاً مسترد کر دیا ہے جبکہ نیتن یاہو نے اسے تاریخ ساز موقع قرار دیا کیونکہ اس منصوبہ کے تحت اسرائیلی سرحدوں کا حتمی تعین کیا جاسکے گا ۔ نیتن یاہو نے امریکی صدر کو واءٹ ہاوَس میں رہنے والے اسرائیل کے سب سے بڑے دوست قرار دیتے ہوئے فلسطینیوں سے کہا کہ وہ اسرائیل کو یہودی مملکت کے طور پر تسلیم کریں ۔ امریکی صدرٹرمپ کے مطابق امن منصوبہ دونوں فریقین کے لیے مفید ہے یہ فلسطین اور اسرائیل کے لیے ایک مضبوط راہ دکھاتا ہے، فلسطینیوں کے پاس تاریخی موقع ہے کہ وہ اپنی آزاد ریاست حاصل کرسکیں گے اور اسرائیل کے خطرات بھی کم ہوں گے ۔ اس موقع پر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر اعلان کیا کہ یروشلم ہی اسرائیل کا غیر منقسم دارالحکومت رہے گا ۔ اس منصوبے کے سامنے ;200;تے ہی غزہ کی پٹی میں ہزاروں افراد نے شدید احتجاج کرتے ہوئے سڑکوں کا رخ کیا ۔ انہوں نے صدر ٹرمپ اور نیتن یاہو کی تصاویر کو آگ لگائی اور بینروں کے ذریعے یہ پیغام پہنچایا کہ فلسطین برائے فروخت نہیں ۔ فلسطینی صدر محمود عباس سے شدید اختلافات رکھنے کے باوجود فلسطینی تنظیم حماس نے بھی صدر کے بیان کی تائید کی ۔ ادھر فلسطینی وزیرِ اعظم محمد اشتیہ نے اپنے بیان میں کہا کہ صدر ٹرمپ کا منصوبہ فلسطینی مزاحمت اور مقصد کے خاتمے کا ایک منصوبہ ہے جسے ہم مسترد کرتے ہیں کیونکہ یہ بین الاقوامی قوانین کے خلاف اور فلسطینیوں کے حقوق چھیننے کے مترادف ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ فلسطینیوں کو خطرہ ہے کہ اس حل کو قبول کرنے سے مقبوضہ مشرقی یروشلم، مقبوضہ مغربی کنارے اور دس سال سے محصور غزہ کی بطور آزاد ریاست کی امیدیں دم توڑ جائیں گی ۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے امریکی صدر بننے کے بعد گریٹر اسرائیل کی کوششیں تیز ہو گئی تھیں ۔ اس سلسلے میں ڈونلڈ ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان گزشتہ دو سال سے بات چیت چل رہی تھی ۔ یہ اسی بات چیت کا ہی نتیجہ تھا کہ دسمبر 2017 میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مقبوضہ بیت المقدس (یروشلم)کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے امریکی سفارت خانے کو تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کرنے کی ہدایات جاری کی تھیں ۔ جسکے بعد 14مئی 2018کو اسرائیل کے قیام کی 70ویں سالگرہ کے موقع پر امریکہ نے یروشلم میں اپنا سفارتخانہ کھول دیا تھا اور اسکی افتتاحی تقریب میں شرکت کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ کی صاحبزادی ایوانکا ٹرمپ خصوصی طور پر اپنے شوہرجیرڈ کشنر کے ہمراہ اسرائیل پہنچی تھیں ۔ ڈیل ;200;ف سنچری نامی اس منصوبے کے روح رواں بھی ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر ہی ہیں جو خود یہودی النسل ہیں ۔ اسرائیل 1967 سے فلسطین پر قابض چلا ;200; رہا ہے ۔ اس قبضے سے اب تک بلا کا کشت و خون ہو چکا ہے ۔ سلامتی کونسل نے دسمبر 1981 میں قرارداد منظور کی تھی جس میں اسرائیل کے گولان ہائیٹس پر قبضے کو کالعدم قرار دیا تھا ۔ ٹرمپ کے نام نہاد امن منصوبے پر اقوام متحدہ اور یورپ کی جانب سے غیر جانبدارانہ ردعمل دیا گیا ہے جبکہ اہم اسلامی ممالک نے اسے مسترد کرتے ہوئے فلسطین سے غداری قرار دیا ہے ۔ پاکستان بھی ان ممالک میں شامل ہے جو فلسطینیوں کے حق کو تسلیم کرتا ہے اور سلامتی کونسل کی قرادروں کے مطابق دوریاستی حل کی حمایت کرتا ہے ۔ دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان بات چیت کے ذریعہ مسئلہ فلسطین کے منصفانہ اور دیرپا حل کی حمایت جاری رکھے گا ۔ پاکستان عالمی تسلیم شدہ قواعد اور 1967 سے قبل بارڈرزکی بنیاد پر فلسطینی ریاست کا حامی ہے ۔ ایسی فلسطینی ریاست جس کا دارالحکومت القدس ہو ۔ مشرق وسطیٰ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے متعارف کرائی گئی خود ساختہ امن ڈیل کے بعد ترکی کے صدر رجب طیب اردوان کا کہنا ہے کہ امن معاہدے کو یکسر مسترد کرتے ہیں ، بیت المقدس ہمارے ہاتھ سے چلا گیا تو پھر ہم مدینہ اور مکہ کو نہیں بچاپائیں گے ۔ بیت المقدس کا مطلب استنبول، اسلام ;200;باد، جکارتا، مدینہ، قاہرہ، دمشق اور بغداد ہے،ان کا کہنا تھا کہ بیت المقدس برائے فروخت نہیں ہے، ٹرمپ کی ڈیل فلسطین پر قبضے کا منصوبہ ہے جسے مسترد کرتے ہیں ۔ فلسطین بھائیوں کی جدوجہدِ آزادی کی ہر سطح پر حمایت جاری رکھیں گے اور نامساعد حالات کے باوجود فلسطین پر اپنے موقف سے ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے ۔ اسرائیل سے آزادی فلسطین کی تقدیر ہے اور فلسطین کی تقدیر کوئی تبدیل نہیں کرسکتا ۔ ہزاروں فلسطینی اپنی جدوجہد کو جاری رکھیں گے ۔ رجب طیب اردوان کا مزید کہنا تھا کہ ہمارے نزدیک اسرائیل کی ایک بد معاش ریاست ہے، مقبوضہ بیت المقدس کو مکمل طور پر اسرائیل کے شکنجے میں دینا انسانیت کی سب سے بڑی توہین ہے ۔ فلسطین کی صورتحال انتہائی تشویش ناک ہے ،اور امریکہ کی یکطرفہ ڈیل سے خطرناک عزائم واضح ہو گئے ہیں ۔ امت مسلمہ باہمی اختلافات کا شکار نہ ہوتی توآج یہ صورتحال پیدا نہ ہوتی ۔ یہ کتنی بدقسمتی کی بات ہے کہ ایک دو عرب ممالک امریکہ کی طرف جھکاوَ رکھتے ہیں ۔ سعودی عرب نے اس معاہدے کو ویلکم کیا ہے،تاہم پاکستان کا موقف دو ٹوک اورصائب ہے ۔ پاکستان کشمیر اور فلسطینیوں کی جدوجہد کی مکمل حمایت کرتا ہے ۔