- الإعلانات -

وزےر اعلیٰ پنجاب کی نگاہ التفات کے منتظر اےجوکےٹرز

صدر پاکستان جنرل پروےز مشرف کے دور حکومت مےں وطن سے بے روزگاری کے خاتمے کے عملی اقدامات مےں سے اےک اہم قدم ملازمےن کی کنٹرےکٹ پر بھرتی کا عمل تھا ۔ اس وقت کے وزےر اعلیٰ پنجاب چودھری پروےز الٰہی نے اس عمل کو مزےد آگے بڑھاےا ۔ اس کنٹرےکٹ کے عمل سے پکی ملازمتےں قصہ پارےنہ بنا دی گئےں ۔ بعد ازاں آنے والی حکومتوں نے اس عمل کو جاری رکھا اور کم و بےش تمام سرکاری محکموں مےں کنٹرےکٹ پر ملازمےن کے بھرتی کے عمل مےں اضافہ ہوا ۔ سرکاری ملازمتوں کا دور گزر گےا ،مستقبل مےں اس رنگ و روپ مےں اس کے دوبارہ نمودار ہونے کے آثار بتدرےج ختم کرنے کی کوششےں تےز کر دی گئےں ،آسامےاں گھٹا دی گئےں ،اہلےت کا معےار بڑھا دےا گےا ۔ محکمہ تعلےم کے حوالے سے شائد حکومت اس کو اپنے اوپر بوجھ سمجھتی تھی اور جلد از جلد اس سے رہائی چاہتی تھی ۔ کسی زمانے مےں بدےہی کمپنےاں برصغےر مےں بےراجوں ،ڈےموں اور چھاءونےوں جےسے پراجےکٹ کی تعمےر و تکمےل کےلئے مقامی مزدوروں ،کارکنوں اور کلرکوں وغےرہ کو اختتام پراجےکٹ تک کنٹرےکٹ پر بھرتی کرتی تھےں ۔ اس مقامی لےبر کو مذہبی تہواروں پر تعطےلات اور اضافی تنخواہ جےسی مراعات دےنے مےں کسی قسم کے بخل سے کام نہ لےا جاتا لےکن وطن عزےز مےں کنٹرےکٹ کے ساتھ عجب معاملہ آن پڑا تھا ،ان کو نہ ہی تعطےلات کی ضرورت تھی ،نہ ہی ےہ بےمار ہوتے اور نہ ہی مذہبی عبادات حج و عمرہ کی ادائےگی ان پر فرض تھی ۔ اس وقت کے ارباب اختےار نے انہےں پتھر کے مجسمے فرض کر لےا تھا جو جذبات اور حسرتوں سے تہی دامن تھے اور مہنگائی کے پنجہ استبداد سے بھی آزاد ۔ بعد ازاں اساتذہ کی نمائندہ تنظےموں خصوصاً پنجاب ٹےچرزےونےن نے ان اساتذہ کے حقوق کے حصول کےلئے جدوجہد کی جس کے صلے مےں انہےں رےگولر کر دےا گےا ۔ جن قوموں کے صاحبان اختےار مستقل کی بجائے عارضی منصوبہ جات کی پلاننگ کرتے ہےں وہ زمےنی حقائق سے چشم پوشی کرتے ہےں اور خود اپنے ہاتھوں تباہےوں ،بربادےوں اور آفتوں کے سامان کرتے ہےں ۔ وہ پختہ کی بجائے کچے گھروندے تعمےر کرتے ہےں جو طوفانوں کا مقابلہ کرنے سے عاجز رہتے ہےں ۔ کسی بھی منصوبے کی پلاننگ جو لمبے عرصے کےلئے مفےد ہو وہی کارگر ثابت ہوتی ہے ۔ کسی بھی معاشرے کی معاشی ،سماجی ،اخلاقی ،مذہبی ،سےاسی ، انفرادی ےا اجتماعی ترقی کے حصول مےں تعلےم کی اہمےت کو نظر انداز نہےں کےا جا سکتا ۔ جو قومےں اس شعبہ کی بہتری کےلئے سوچتی ،مستقل بنےادوں پر منصوبے تےار کرتی اور اسے تمام شعبوں کی نسبت اولےت دےتی ہےں وہی قومےں ہمےشہ زندگی کی دوڑ مےں بلند مقام حاصل کرنے مےں کامےاب ہوتی ہےں ۔ آج بھی 37ہزار اےجوکےٹرز کا مستقبل تارےک ہونے کا خدشہ پےدا ہو گےا ہے ۔ ان اےجوکےٹرز کی بھرتےاں سال 2014 ء اور 2016ء کے درمےان اس وقت کی صوبائی حکومت کی منظور شدہ رےکروٹمنٹ پالےسی مےں درج قواعد و ضوابط اور طرےقہ کار کے تحت عمل مےں لائی گئی تھےں ۔ سابقہ حکومت نے رےگولرائزےشن کے نام پر پنجاب کے ان ہزاروں سےکنڈری سکول اےجوکےٹرز کی مستقلی کو ;80808367;سے مشروط کر دےا ہے جبکہ ےہ تمام اےجوکےٹرز ;788483;کا ٹےسٹ دے کر مےرٹ پر بھرتی ہوئے جنہےں دوبارہ اےک نئے امتحان کی طرف دھکےلا جا رہا ہے جو انہےں کسی صورت قبول نہےں ہے ۔ ےہ رےگولرائزےشن اےکٹ 2018ء شہباز شرےف حکومت کے آخری دنوں مےں بناےا گےا تھا جبکہ اےجوکےٹرز 2014ء اور اس کے بعد بھرتی ہوئے ۔ ان کے بھرتی کے وقت نہ تو پالےسی مےں کوئی اےسی شرط تھی اور نہ ہی کنٹرےکٹ لےٹر پر اس بابت کچھ تحرےر تھا ۔ ان اساتذہ کا تےن سالہ کنٹرےکٹ پےرےڈ تھا جس کے مطابق انہےں رےگولرکےاجانا تھا بجائے اس کے ان اساتذہ کو حکومت رےگولر کرتی اچانک رےگولرائزےشن اےکٹ سامنے لے آئی ۔ ان اےجوکےٹرز کا کہنا ہے کہ اےجوکےٹرز کے پے پروٹےکشن پر عمل درآمد کے عدالتی فےصلہ کو بھی نظر انداز کر دےا گےا ہے ۔ محکمہ ہےڈ ٹےچرز ،سبجےکٹ سپےشلسٹ اور اساتذہ کی ہزاروں اسامےاں خالی پڑی ہےں ۔ حکومت اےجوکےشن پنجاب نے جلد بازی کے چکر مےں جو کمپےوٹرائزڈ طرےقہ ;837383;اختےار کےا وہ بری طرح ناکامی سے دوچار ہے اس کی وجہ سے پروموٹ ہونے والے اساتذہ کئی کئی ماہ سے خوار ہو رہے ہےں اس پر متزاد ےہ کہ کنٹرےکٹ کی ننگی تلوار ان دہاڑی دار اساتذہ پر لٹک رہی ہے کےونکہ ان کو کسی قسم کا تحفظ بھی حاصل نہےں ہے ۔ ان پڑھے لکھے لوگوں کو معاشی تحفظ نہ دے کر بنےادی سہولےات سے محروم رکھے جانا کتنے ستم کی بات ہے ۔ ستم بالائے ستم ےہ کہ ;80808367;کا امتحانی قدغن لگا کر مزےد ذلت و رسوائی ان کے مقدر مےں لکھ دی گئی ہے ۔ تعلےمی شعبہ کی ترقی و فلاح کےلئے سب سے اہم کردار استاد کا ہے ۔ استاد ہی ہوتا ہے جو نو نہال طالب علموں کو اےک ذمہ دار ،محب وطن ،فرض شناس، دےانتدار اور قانون کی پابندی کرنے والا مودب شہری بنانے کےلئے اپنی تمام تر جسمانی ،ذہنی اور روحانی توانائےوں کو صرف کرنے مےں شب و روز کوشاں و سرگرداں رہتا ہے ۔ جس سرکاری ےا نجی ملازم کو ملازمت کا تحفظ حاصل نہ ہو اس سے پےشہ وارانہ فراءض کی ادائےگی دلجمعی اور اطمےنان کے ساتھ کرانے کی توقع کرنا خےال خام اور اسے محض خوش فہمی سے ہی تعبےر کےا جا سکتا ہے کےونکہ وہ بھی گوشت پوست;70;lesh and bloodکا مجموعہ ہوتے ہےں ۔ آج کنٹرےکٹ سےکنڈری سکول ٹےچرز اور اے ای اوز کو اپنے حقوق اور مسائل کے حل کےلئے اکابرےن اختےار کو آگاہ کرنے کے باوجود محرومی کے عمےق و گہرے گھڑوں مےں ڈال دےا گےا ہے ۔ اخبارات ،رسائل اور جرائد کے ذرےعے حکومت کو آگاہی دےنے کے باوجود ان کو نظر انداز کےا جا رہا ہے ۔ احتجاجی مظاہرے اور رےلےاں منعقد کرنے کے باوجود حکومت’’ٹس سے مس ‘‘ ہونے مےں اہانت محسوس کر رہی ہے ۔ صاحبان اختےار بےوروکرےسی کی معےت مےں اپنے غلط مفروضوں اور تجربات کےلئے ان ستم رسےدوں کو مزےد تختہ ستم بنا رہے ہےں ۔ ضرورت اس امر کی تھی کہ مستحکم اداروں کی جڑےں کاٹ دےنے والی کنٹرےکٹ پالےسی پر نظر ثانی ہوتی اور آئی اےم اےف کے چنگل سے نجات حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی لےکن افسوس کہ ان دیہاڑی دار اساتذہ کو کنفرم کرنے کی بجائے ان پر اےک اور امتحان پاس کرنے کا بوجھ ڈال دےا گےا ہے ۔ انسانی ہمدردی سے خالی افسر شاہی ان کے جائز مطالبہ کو ماننے کی بجائے ان بے چاروں کو تحقےر آمےز سلوک کا سزاوار جان رہی ہے ۔ خبر ہے ،اس مےں کتنا سچ ہے معلوم نہےں کہ سےکرٹری اےجوکےشن کی طرف سے ان کنٹرےکٹ اساتذہ کےلئے اےک سمری وزےر اعلیٰ پنجاب کو ;65;pprovlکےلئے بھےجی گئی ہے ۔ ےہ کنٹرےکٹ اساتذہ وزےر اعلیٰ پنجاب کی نگاہ التفات کے شدت سے منتظر ہےں اور اپنے جائز حق کےلئے فرےاد کناں ہےں ،جس دور مےں اساتذہ مےں طبقاتی کشمکش کو فروغ حاصل ہو اور ان کو ذلےل و رسوا کےا جائے ،تارےخ اسے تارےک دور کی حےثےت سے ہمےشہ اپنے دامن مےں محفوظ کر لےتی ہے ۔