- الإعلانات -

حکومت اور اتحادی افہام و تفہیم سے معاملہ حل کریں

جمہوریت میں اختلاف رائے کوئی بری بات نہیں لیکن جب اختلاف حد سے بڑھ جائے تو یہ بذات خود جمہوریت اور جمہوری رویوں کے لئے زہر قاتل بھی بن جاتاہے ۔ چاہے یہ اختلاف جماعتوں کے اندر ہو، حکومت یا حکومتی اتحاد میں پایا جاتا ہے اس کے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔ اس وقت حکومت ایک بڑے اتحاد کے تحت چل رہی ہے اور اسے ابھی ڈیڑھ سال کا عرصہ ہوا ہے مگرحکومتی اتحاد کی چند بڑی جماعتوں میں بے چینی بڑھنے لگی ہے ۔ اس بے چینی کا اظہار قائدین کے بیانات سے اچھی محسوس ہونے لگا ہے ۔ اتوار کے روز مسلم لیگ (ق) ،ایم کیو ایم اور بی این پی مینگل گروپ نے ایک بار پھر حکومت کے ساتھ اپنے شکوے شکایات کے انبار لگا دیئے ۔ مسلم لیگ (ق)کے مرکزی رہنماءوں کا کہنا ہے کہ ہم ملکی مفاد میں اب تک حکومت کیساتھ ہیں لیکن ہمارے ساتھ طے شدہ معاہدوں پر عملدر;200;مد نہیں ہورہا، مسلم لیگ ق کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین کا کہنا ہے کہ طے شدہ سیاسی امور میں بار بار تبدیلی سے بداعتمادی پیدا ہوتی ہے،ان کا یہ کہنا کسی حد تک درست بھی ہے ایسا نہیں ہونا چاہئے، انہوں نے اس جانب بھی توجہ دلائی کہ چند وزرا غلط فہمیاں پھیلا رہے ہیں ۔ اسی طرح چوہدری پرویز الہی کا کہنا ہے کہ تبدیلی اچھی بات ہے لیکن بار بار تبدیلی اچھی بات نہیں ہوتی ۔ پاکستان مسلم لیگ کے صدر و سابق وزیراعظم چوہدری شجاعت حسین نے اپنی پارٹی کے اعلیٰ سطحی ہنگامی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پہلے طے شدہ معاملات پر عملدرآمد کیا جائے پھر پی ٹی آئی سے اگلی بات ہوگی ۔ جلاس میں اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہٰی، سینیٹر کامل علی آغا، ارکان قومی اسمبلی مونس الہٰی اور حسین الہٰی اور دیگر رہنماءوں نے شرکت کی ۔ اجلاس میں وزیراعظم، حکومتی پارٹی کے ارکان کے حالیہ بیانات، حکومت کے ساتھ تعلقات اور پی ٹی آئی کی نئی مذاکراتی ٹیم کی تشکیل اور ملکی صورتحال پر تفصیل سے تبادلہ خیال کیا گیا ۔ تمام شرکا نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پی ٹی آئی قیادت کو یہ باور کرایا جائے کہ سیاسی معاملات طے ہو جاتے ہیں تو پھر بار بار تبدیلی سے بداعتمادی پیدا ہوتی ہے کیونکہ پہلے جو چیزیں طے ہوئی تھیں وہ دونوں جانب سے پوری مشاورت سے طے ہونے کے بعد آگے بڑھا گیا تھا ۔ تحریک انصاف سے ہمارا الیکشن سے پہلے کا تحریری معاہدہ ہے جس پر آج تک کوئی عملدرآمد نہ ہو سکا، پھر حکومت بنانے کے بعد پہلی مذاکراتی ٹیم بنی مگر اس کے کسی فیصلہ پر کوئی عملدرآمد نہ ہوا، اس کے بعد دوسری کمیٹی سے معاملات طے ہوئے مگر اس کمیٹی کو بھی فارغ کر دیا گیا اور اب تیسری کمیٹی بنائی جا رہی ہے، ہمارا خیال ہے کہ جو فیصلے دوسری کمیٹی میں ہوئے ان پر پہلے عملدرآمد ہو جائے تو پھر نئے معاملات پر بات کی جائے ۔ اس سے محسوس ہوتا ہے حکومتی اتحاد میں تناوَ سنجیدہ نوعیت کا ہے اسے نظر انداز نہیں کرنا چاہئے ۔ اتحادیوں سے کئے گئے وعدوں کی تکمیل حکومت کی ذمہ داری ہے تاہم اتحادی بھی حکومتی مشکلات کا مکمل احساس کریں ، ایسا نہ ہو کہ یہ چھوٹے موٹے اختلافات بڑے اختلاف پر منتج نہ ہوں ، اپوزیشن اس سے خوب فائدہ اٹھا رہی ہے ۔ اس حوالے سے گورنر پنجاب چوہدری سرور کا کہنا ہے کہ کوئی بھی اتحادی حکومت گرانے کی بات نہیں کر رہا ہے،تاہم ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اتحاد ختم ہونے سے تحریک انصاف اور (ق)لیگ دونوں کو نقصان ہوگا ۔ حکومت نے اتحادیوں کے تحفظات دور کرنے کے لئے نئی کمیٹی تشکیل دی ہے لیکن بی این پی مینگل نے بھی نئی مذاکراتی کمیٹی مسترد کردی ہے ۔ سینیٹر جہانزیب جمالدینی کا کہنا ہے کہ حکومت ٹیم تبدیل کرے، نئی ٹیم کو کچھ علم نہیں ، مذاکرات وقت کا ضیاع ہونگے جبکہ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماءوں سے کراچی میں ملاقات کی اور متحدہ کے تحفظات دور کرنے کی یقین دہانی کرائی تاہم وہ خالد مقبول کو وزارت واپس لینے کے حوالے سے منانے میں ناکام رہے ۔ وزیر دفاع پرویز خٹک کہتے ہیں کہ وزیراعظم نے اتحادیوں کے تحفظات کا نوٹس لیتے ہوئے اتحادیوں کیساتھ کیے گئے وعدوں کو جلد تکمیل کی ہدایت کی ہے اور اس سلسلے میں جمعرات اہم اجلاس طلب کیاگیا ہے ۔ امید ہے حکومتی ذمہ داران اس قضیئے سے نجات کےلئے ٹھوس اقدامات کریں گے اسی میں سب کا مفاد ہے ۔ حکومت کےلئے معاشی چیلنجز ابھی اتنے باقی ہیں کہ وہ مزید کسی چیلنج کی متحمل نہیں ہو سکتی ۔ یہاں حکومت کی اتحادی جماعتیں بھی تحمل اور ذمہ داری کا ثبوت دیں ،تاکہ تمام مسائل کا حل افہام و تفہیم سے نکالا جاسکے ۔

گندم بحران کے ذمہ داروں کےخلاف کریک ڈاوَن،خوش آئند اقدام

وزیراعظم عمران خان نے طورخم بارڈر پر بغیر ڈیوٹی 350 کنٹینرز کلیئرنس کرنے کے معاملے پر ایف آئی اے کو تحقیقات کا حکم دے دیا ہے ۔ یہ ایک نہایت خوش آئند اقدام ہے،چند کالی بھیڑوں کی وجہ سے عوام نے جہاں اذیت برداشت کی وہاں خود حکومت کی سبکی بھی ہوئی ۔ طورخم بارڈر سے بغیر ڈیوٹی ادا کیے 350 کنٹینر کلیئر کیے گئے جس سے قومی خزانے کواربوں روپے کا نقصان پہنچا ۔ وزیراعظم کی معاون خصوصی اطلاعات ونشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ اسمگلنگ کی روک تھام میں ناکام کسٹمز کے اعلیٰ افسران کے خلاف تحقیقات کا آغاز اور ان کو عہدوں سے ہٹانا نئے پاکستان کی واضح جھلک ہے ۔ آٹا بحران پیدا کرنے والے ذمہ دار افسران کے خلاف کریک ڈاوَن اچھا فیصلہ ہے کیا ہی اچھا ہوتا کہ اس سارے معاملے کی تہہ تک پہنچ کر دیگر افارد کے خلاف بھی کارروائی کی جائے تاکہ مستقبل میں ایسا دوبارہ نہ ہو سکے ۔

چینی حکومت کا متاثرہ مریضوں کےلئے زبردست کارنامہ

چین کو اس وقت کرونا وائرس کے نتیجے میں انتہائی مشکل صورتحال کا سامنا ہے جہاں اب تک 14 ہزار سے زائد افراد میں اس کی تصدیق ہوچکی ہے ۔ اس وباء سے نمٹنے کا ایک بڑا چیلنج اسے درپیش تھامگر مریضوں کی بڑھتی تعداد کو دیکھتے ہوئے اس نے حیران کن طور پر چند دنوں میں ایک ہزار بستر کا ہسپتال تعمیر کر کےپوری دنیا کو حیران کردیا ہے ۔ چین کے سرکاری ذراءع کے مطابق ہوشینشان ہاسپٹل کی تعمیر23جنوری کو شروع ہوئی اور 2 فروری (اتوار) کی صبح اسے مکمل کرلیا گیا ۔ اب یہ ہسپتال طبی عملے کے کنٹرول میں دیا جارہا ہے ۔ یہ ہسپتال25ہزار اسکوائر میٹر پر تعمیر ہوا ہے ۔ دسمبر کے ;200;خر میں سامنے ;200;نے والے وائرس کے نتیجے میں اب تک چین میں 304اموات ہوچکی ہیں جبکہ ووہان سمیت متعدد شہروں کو لاک ڈاون میں ڈال دیا گیا ہے ۔ چینی حکام کی جانب سے ایک اور ایمرجنسی ہسپتال بھی ہوشینشان ہاسپٹل سے25میل دور تعمیر کیا جارہا ہے ۔ اس ہسپتال میں 16سو بستروں کی گنجائش ہوگی اور توقع ہے کہ بدھ کو اسے کھول دیا جائے گا ۔ چین نے اس انقلابی اقدام سے اس بات کا ثبوت دیا ہے کہ زندہ قوموں کے لئے کوئی چیلنج بڑا چیلنج نہیں بن سکتا ۔

پاکستان کی کرونا وائرس کی تشخیص کی صلاحیت حاصل کرنا حوصلہ افزا ہے

پاکستان نے چین سے پھیلنے والے موذی کرونا وائرس کی تشخیص کی صلاحیت حاصل کرلی،جبکہ چین سے 10 طالبعلم بذریعہ بنکاک لاہورپہنچ گئے ہیں ۔ معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا ہے کہ الحمدللہ ، آج پاکستان کورونا وائرس کی تشخیص کی صلاحیت رکھتا ہے جس کیلئے این آئی ایچ قیادت اور ٹیم کو وائرس کی تشخیص کیلئے ری ایجنٹ کو محفوظ بنانے میں محنت پر تعریف کرتاہو ں ۔ ادھر یہ بات بھی خوش کن ہے کہ چین کیلئے پروازیں بھی بحال کی جا رہی ہیں اوروہان میں پھنسے 10 پاکستانی طلبا وطن واپس پہنچ گئے ہیں ۔ ڈی جی صحت کے مطابق 2روز میں 50افراد چین سے وطن واپس پہنچ گئے ہیں اسکریننگ کے بعد انہیں گھروں کوجانے دیا گیاہے ، واپس آنےوالے طلبا نے بتایا کہ چین میں ہزاروں پاکستانی طلبا مشکلات کا شکار ہیں ۔ ادھرترجمان پنجاب حکومت مسرت جمشید چیمہ نے چین سے آنےوالے طلبہ کی بغیر اسکریننگ ایئر پورٹ سے جانے کی خبر وں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ چین سے آنے والے تمام مسافروں کی ایئر پورٹس پر مکمل اسکریننگ جاری ہے ۔ تمام متعلقہ ادارے کرونا وائرس سے بچاءو کیلئے مربوط حکمت عملی پر عمل پیرا ہیں اور اس میں کوئی کوتاہی نہیں برتی جارہی ۔