- الإعلانات -

سرفراز ورک۔۔۔ پولیس افسریا اللہ کامجاہد

Azam-Khan

میانوالی خیبرپختونخواہ کے بارڈر پر واقع وہ ضلع ہے جس کی سرحدیں کوہاٹ ، کرک ، لکی مروت اورڈیرہ اسماعیل خان سے ملتی ہیں جن اضلاع کی سرحدیں کے پی کے سے ملتی ہیں ان پر ان کا اثر اور رنگ بھی غالب دکھائی دیتا ہے ۔ میانوالی بھی پنجاب کا ایسا ضلع ہے جس کے رسوم و رواج اور ثقافت پر کے پی کے کا غلبہ دکھائی دیتا ہے ۔ محکمہ پولیس کی اصطلاح میں میانوالی کو کالے پانی سے تعبیر کیاجاتا ہے یہاں کوئی افسر آنے کیلئے تیار نہیں کیونکہ کمانڈ اگر پڑھے لکھے اور سلجھے ہوئے لوگوں پر کی جائے تو اس کا مزہ کچھ اور ہے اور اگر کم پڑھے لکھے اجڈ اور سخت گیر لوگوں پر کرنی پڑے توماحول کا رنگ تبدیل ہوجاتا ہے اس ضلعے میں عموماً شکایتی طورپر تبادلہ کیے جانے والے افسروں کو بطور سزا بھیجا جاتا ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ کچھ ایسے افسران بھی یہاں آئے ہیں جنہوں نے رضا کارانہ طورپر میانوالی ضلع خود مانگا یہ بے لوث خدمت اور بے خوف قیادت کے حامل پولیس افسران ہوتے ہیں۔ قیام پاکستان سے قبل میانوالی کا ضلع مفروروں اور جرائم پیشہ لوگوں کی آماجگاہ سمجھا جاتا تھا ، برٹش پولیس آفیسرز میں ایس ایس پی سمتھ کا نام اچھے الفاظ میں لیا جاتا ہے کہ اس نے گھوڑے پر سوارہوکر پورے ضلع کو کنٹرول میں رکھا اور اپنے دور میں پیدا ہونے والے ایک مفرور سیدا کو اپنے انجام تک پہنچایا۔ ذوالفقار علی بھٹو کے عہد حکومت میں چیمہ نام کا ایک ایس پی یہاں آیا اور اس نے یہاں کے جرائم پیشہ افرادکو بتایا کہ اگر ایس ایس پی ایماندار، دیانتدار اور جرأت مند ہو تو علاقے کے عوام کو راتوں کو جاگنے کی ضرورت نہیں پڑتی بلکہ وہ سکھ چین کی نیندسوتے ہیں اور ان کی حفاظت کافریضہ ان کی پولیس سرانجام دیتی ہے ۔90ء کی دہائی میں یہاں سید احسن محبوب اور امجد سلیمی نام کے ایس ایس پی تعینات ہوئے یہ دونوں افسران بھی پولیس کے محکمہ میں اچھی شہرت کے حامل ہیں۔ سید احسن محبوب نے جب جرائم پیشہ افراد اور منشیات فروشوں کے خلاف جہاد کا آغاز کیا تو واں بچھراں کے مقام پر انہوں نے منشیات سے بھرا ایک ٹرک پکڑا یہ ٹرک سدا بہار ایک صوبائی وزیر کے حمایتی کا نکلا اپنے حمایتی کو چھڑانے کیلئے اس وزیر نے پہلے تو ہائیکورٹ کے ایک جج کے گھرجاکر ضمانت کروائی اور پھر اسی پر بس نہیں کیا بلکہ اس وقت کے آئی جی محمد عباس خان کو جاکر شکایت کی کہ مذکورہ ایس پی خود منشیات کا سمگلر ہے اس کی انکوائری کی جائے اس پر سرگودھا ڈویژن کے ڈی آئی جی نے شاہ جی کو بلوایا اور کہاکہ شاہ صاحب آپ میرے محکمہ کے ایک دیانتدار اور اچھے افسر ہیں مگر اس صوبائی وزیر نے آپ کے خلاف یہ شکایت کی ہے اس پر دیانتدار اور ایماندار ایس ایس پی نے کہا کہ سر میں تو ایک پرائمری سکول ٹیچر کا بیٹا ہوں اگر منشیات کا دھندہ کرنا ہوتا تو پولیس آفیسر بن کر اتنا بڑا چیلنج قبول نہ کرتا ۔ صوبائی وزیر کی وزارت ختم ہوگئی مگر وہ دیانتدار پولیس افسر آج بھی اپنے محکمے کے ماتھے کاجھومر ہے ۔ یہ بات مجھے سیداحسن محبوب نے خودبتائی تھی اتنی بڑی تمہید لکھنے کا مقصد یہ تھا کہ میانوالی کے عوام خوش قسمت ہیں کہ انہیں ایک بار پھر ایک دیانتدار ، ایماندار ، قابل اور پڑھا لکھا افسر سرفراز ورک کی صورت میں میسر آیا ہے ۔ ورک جٹوں کا قبیلہ ہے اور جٹ بھی وہ کہ جنہوں نے تحریک پاکستان میں اپناکردار ادا کیاورنہ بہت سارے جٹ انگریز کے ساتھ وفاداری کا دم بھر کے ان سے جاگیریں بھی لیتے رہے ۔ ورک قبیلے کو میں ذاتی طورپر جانتا ہوں۔ ہر شخص اپنے قبیلے کا ، علاقے کا، صوبے کا اور ملک کا سفیر ہوتا ہے۔ چوہدری توکل اللہ ورک کے صاحبزادے یحییٰ ورک اسلام آبادمیں کافی عرصہ تعینات رہ چکے ہیں انہیں بینظیر کے دور حکومت میں براہ راست ڈی ایس پی بھرتی کیا گیا تھا کچھ عرصہ وہ اٹک کے ڈی پی او بھی رہے ۔ ورک قبیلے کے لوگ جو بات ٹھان لیں اسے کرکے دکھاتے ہیں۔ سرفراز ورک سے میری براہ راست ملاقات تو نہیں مگراس سے غائبانہ تعارف ان دنوں کا ہے کہ جب وہ جہلم پولیس کا کمانڈر تھا۔ میرے نمائندہ شہباز بٹ نے دفتر آکرکہا کہ جہلم میں ایک ایسا پولیس افسر تعینات ہوا ہے جوسودخوروں اور منشیات فروشوں کا دشمن ہے اس کے حق میں خبریں چل سکتی ہیں کیونکہ عام طورپر پولیس کے حق میں کوئی اخبار ، کوئی ٹی وی چینل کلمہ خیر کہنے کیلئے تیار نہیں ہوتا۔ میرے اخبار اور ہمارے روز ٹی وی چینل نے یہ حق بخوبی ادا کیا کہ اس پولیس افسر نے جہلم میں جس مگر مچھ پر ہاتھ ڈالا ہم نے اسے ایکسپوز کیا اور جس منشیات فروش اور سود خور کی نشاندہی شہباز بٹ نے کی پھر وہ حوالہ زنداں ہی ہوا۔ سننے میں آیا ہے کہ سرفراز ورک نے میانوالی کا تبادلہ اپنی خواہش پر کروایا ہے اور اسے ایک چیلنج سمجھ کر قبول کیا ہے ۔ میانوالی کے عوام کیلئے یہ ٹھنڈی ہوا کا جھونکا بن کر آیا ہے کیونکہ منشیات فروشوں نے آنے والی نسلوں کو زندہ درگور کرکے رکھ دیا مگر کوئی پولیس افسر ان کے خلاف کارروائی کرنے کی جرأت نہ کرتا اور اگر کرتا بھی تو محض خانہ پری کیلئے ۔ اینٹی نارکوٹکس فورس میں تعینات میرے ایک دوست جو لیفٹیننٹ کرنل کے عہدے پر تعینات ہیں اکثر گلہ کرتے ہیں کہ میانوالی کی پولیس ان کے ساتھ سنجیدگی اور ایمانداری سے تعاون نہیں کرتی مگر اب ان کا گلہ اس لئے ختم ہوکر رہ گیا ہے کہ اے این ایف کی کارروائی سے قبل ہی سرفراز ورک نے منشیات فروشوں کا گلا گھونٹتانظر آتاہے۔ میری جنم بھومی میانوالی ہے مگر تعلیم اور سلسلہ ہائے روزگار کے حوالے سے نصف سے زائد زندگی اسلام آباد میں گزر گئی ۔ میانوالی سے آنے والی خبریں یہ بتاتی ہیں کہ وہاں پر کوئی ڈی پی او تعینات نہیں ہوا بلکہ اللہ کا کوئی نیک بندہ یا فرشتہ میانوالی کے ان مظلوم افراد کی آواز بن کر پہنچ گیا ہے جس نے انہیں سودخوروں اور منشیات فروشوں کے جہنم سے نکالا۔ میرا میانوالی بہت کم جانا ہوتا ہے مگر جب بھی گیا تو وہاں کے حالات دیکھ کر خوشی نہیں ہوئی۔ میں نے بہت سارے منشیات کے عادی افراد کو اپنی جوان بہنوں کے جہیز میں رکھے نئے کپڑے اور زیور محض منشیات کے ایک سگریٹ کیلئے فروخت کرتے دیکھا ہے کئی اچھے گھرانوں کے نوجوانوں کو منشیات کی لت پوری کرنے کیلئے غیر اخلاقی کام کرتے دیکھا ہے اس کے ساتھ ساتھ کئی بار ایسابھی دیکھا کہ سود لے بیٹھنے والے افراد کو اپنے دروازے پر گڑگڑاتے روتے بھی دیکھا مگرکوئی ان کا پرسان حال نہ بنا اور اپنی صورتحال یہ ہے کہ میرے قلم میں شاید اتنی طاقت نہیں زنجیر عدل ہلا سکوں کیونکہ جو بھی افسران تعینات ہوتے آئے انہوں نے یا تو علاقے میں ذاتی دوستیاں بنائیں یا پھر اگلے گریڈ میں پروموشن کیلئے انہوں نے سیاسی عمائدین کو ناراض نہ کرنا چاہا۔ سرفراز ورک یقیناً ایک ایماندار اور اچھا پولیس افیسر ہے کہ اس نے اللہ کے ساتھ جنگ کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا آغاز کرکے جہادکا آغاز کیا ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺ کافرمان ہے کہ جس نے سودکا کاروبارکیا یا سود کے لین دین میں گواہ بنا یا تحریر لکھی یا تحریر کیلئے کاغذ قلم فراہم کیا یہ سب اللہ کے ساتھ جنگ کرنے والے لوگوں میں شامل ہے اور اللہ کے ساتھ جنگ کرنے والوں کے خلاف جو شخص کارروائی کرتا ہے وہ اللہ کا مجاہد ہوتا ہے۔ سرفراز ورک اللہ کا مجاہد بھی ہے اور اللہ کا سپاہی بھی ہے اس نے جس بڑے جہاد کا آغازکیا ہے میانوالی کے عوام اور پوری سوسائٹی کو اس کا ساتھ دے کر اپنا نام جنت کے حق داروں میں لکھوانا چاہیے ۔ میانوالی کے اکثریتی عوام نیازی ہیں مگر سرفراز ورک اللہ کا غازی ہے۔