- الإعلانات -

پاک سعودی تعلقات میں اہم پیش رفت

Azam-Khan

پاکستان میں تعینات کے جانے والے نئے سعودی سفیرعبداللہ بن مرزوق الزیروی اپنی سفارتی ذمہ داریاں نبھانے کیلئے اسلام آباد پہنچ چکے ہیں اوران سطورکے شائع ہونے تک وہ اپنی اسناد سفارت ایوان صدرمیں صدرمملکت ممنون حسین کوپیش کرچکے ہوں گے نئے سفیرایک اعلیٰ تعلیم یافتہ اورمنجھے ہوئے سفارت کارہیں تقریباً ایک سال تک سعودی عرب کا سفارت خانہ قائم مقام سفیرجاسم خالدی کے ذریعہ چلاجاتا رہا ہے جنہوں نے اپنا فریضہ نہایت کمال مہارت سے سرانجام دیا ۔نئے سفیرپاکستان میں تعینات کئے جانے سے قبل لبنان میں سعودی سفارت خانے میں ڈپٹی چیف آف مشن کے طورپر اپنی ذمہ داریاں نبھارہے تھے کہ انہیں پاکستان میں سفارت کافریضہ سونپ دیاگیا ان کے پیشرو ڈاکٹرابراہیم القدیر جب اپنی مدت مکمل کرکے وطن واپس لوٹے توعلی سعیداسیری کو پاکستان میں نیاسفیرتعینات کرنے کا فیصلہ اعلان کیاگیا تھا اس وقت لبنان میں سعودی عرب کے سفیرکافریضہ سرانجام دے رہے تھے ۔علی سعید اسیری کے سفیرنامزد کئے جانے کاپاکستانی حلقوں میں خوش دلی سے خیرمقدم کیاگیا تھا کیونکہ اس سے قبل پاکستان میں بطورسفیرتعینات رہ چکے تھے اوریہاں کے سیاسی عسکری سفارتی اورصحافتی حلقوں میں وہ خاصے پاپولر تصورکئے جاتے تھے نئے تعینات ہونے والے سفیرعبداللہ بن مزروق الزہروی بھی اس سے قبل پاکستان میں بطورڈپٹی ہیڈآف مشن کے طورپر کام کرچکے ہیں اس لئے پاکستان کے سیاسی صحافتی اورعسکری حلقوں میں یہ بھی اپنا منفرد مقام رکھتے ہیں سعودی عرب کوپاکستان کی خارجہ پالیسی میں نہایت اہم اور معتبرمقام حاصل ہے سعودی عرب کے سفیرکوعمومی طورپر خادم حرمین شریفین کا سفیر تصور کیا جاتا ہے چنانچہ عوامی سماجی سیاسی ثقافتی اورمذہبی حلقوں میں اسے نہایت عقیدت اوراحترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے مملکت سعودی عرب کے دنیا بھرمیں غالباً198کے لگ بھگ سفارت خانے موجود ہیں مگرسعودی حکمران پاکستان اورواشنگٹن میں موجود اپنے سفارتخانے کواہم قراردیتے ہیں یہی حالت پاکستان کی بھی ہے کہ اسلام آباد میں غالباً 183کے لگ بھگ غیرملکی سفارتخانے قائم ہیں مگرسب سے زیادہ اہمیت کا حامل سفارت خانہ سعودی عرب کاتصورکیاجاتا ہے پاکستانی حکمران اور یہاں کے مقتدراورموثرحلقے ہوسکتا ہے کہ کسی سپرپاورکی بات کوکونال دیں مگر ان کی بات کو ٹالنا ممکن نہیں۔بردارملک سعودی عرب پاکستان تعلقات ہمیشہ سے بہتر ہے ہوں دونوں ممالک میں حکومتی اورعوامی سطح پرجوگرجوشی چلی آرہی ہے وہ کسی اورمملکت کے ساتھ دکھائی نہیں دیتی سعودی حکمرانوں سابق شاہ خالد شاہ فیصل شاہ فہدشاہ عبداللہ کے ادوارمیں پاکستانیوں کے ساتھ جومحبت اورخلوص کاسلسلہ روارکھا گیا وہ بھی اپنی مثال آپ ہے اوراب تاریخ کاحصہ بن چکا ہے موجودہ شاہ سلمان بن عبدالعزیز کواپنے سابقہ پیشروحکمرانوں کوبھی ایک قدم پیچھے چھوڑگئے اورانہوں نے مارچ 2015ء میں سعودی عرب کادورہ کرنے والے پاکستانی وزیراعظم میاں محمدنوازشریف کا خود ایئرپورٹ پر آکر استقبال کرکے سعودی عرب کی تاریخ کی تمام روایات توڑڈالیں یقیناً یہ بھی پاکستان قوم کیلئے ایک بہت بڑا اورتاریخ سازاعزاز ہے سعودی عرب کی خارجہ پالیسی کیلئے بھی پاکستان ایک اہم ملک تصورکیاجاتا ہے اسلام آباد کی شاہ فیصل مسجدرہتی دنیا تک پاک سعودی عرب دوستی کی ایک اہم مثال کے طورپر جانی جاتی رہے گی سعودی عرب پاکستان میں اسلام کے فروغ کیلئے بھی اپناکردارسرگرم طریقے اوراداکرتا چلاآرہا ہے سعودی ادبی عالم اسلامی نامی این جی اوز کے ذریعہ پینے کا صاف پانی شاہراہوں کی تعمیرپلوں کی تعمیرمساجد کی تعمیرکے علاوہ دیگررفاعی کاموں میں مددکرتا چلاآرہا ہے۔ اس وقت 10لاکھ سے زائد پاکستانی سعودی عرب کے مختلف شہروں میں مقیم ہیں اورہرسال کروڑوں روپے قیمتی زرمبادلہ کی صورت میں وطن عزیز کوبھجوارہے ہیں پاکستانی عوام نے 1977ء اپنے تیسرے بڑے شہرلائل پورکانا سعودی حکمران شاہ فیصل کے نام سے موصوم کرکے اپنی محبت کا ثبوت فراہم کیا۔یہ شہرفیصل آبادکے نام جانا اورپہچاناجاتا ہے 1957ء میں سعودی عرب نے ایک پاکستانی ماہرمعیشت انورعلی کوسعودی عرب مانیٹرنگ فنڈ(سما)کاگورنرنامزد کیا وہ اس عہدے پر1947ء تک فائزرہے سعودی عرب کی کامیاب سفارت کاری کی ایک اہم مثال اس وقت سامنے آئی جب جنرل(ر)پرویز مشرف نے وزیراعظم نوازشریف کی منتخب آئینی حکومت کاتختہ الٹ کرانہیں برطرف کرایا اورکئی سال کیلئے جیل بھجوادیا اس موقعہ پرسعودی سفارت خانہ متحرک ہوا اوران کی جلاوطنی کی درخواست کی ہیں پرفی جی حکمرانوں نے انہیں سعودی شہزادوں کے حوالے کردیا جوانہیں اپنے ساتھ سعودی عرب لے گئے جہاں وہ 8سال تک باعزت مہمان کے طورپر مقیم رہے اس طرح جب 1979ء میں شرپسندوں نے حرم مکہ پرقبضہ کرلیاتو اسے سرپسندوں سے چھڑوانے کیلئے سعودی افواج کی مدد کیلئے پاکستانی فوجی دستہ بھجوایاگیا تھا جس نے کامیاب آپریشن کرکے حرم مکہ بیت اللہ کوشرپسندوں کے قبضہ سے واگزارکرایا پاکستان میں اب تک جتنے بھی سعودی سفیرتعینات رہے ان کا اپنا الگ احترام رہا مگرچند سفیرایسے بھی تعینات رہے جنہیں عوامی سماجی صحافتی وسیاسی اورعسکری حلقوں میں بے حد پذیرائی مسلمان ہیں ریاض الخطیب علی سعید اسیری اورڈاکٹرابراہیم الفویرشامل پہنچنے تک جاسم الخالد نے قائم مقام سفیرکے فرائض نہایت خوش اسلوبی سے سرانجام دیئے یمن کی جنگ کے حوالے سے دونوں ممالک کے مابین فوجی دستے سعودی عرب بھجوانے کے معاملے پرکچھ ناخوشگوارلمحات بھی آئے جنہیں جاسم الخالدی نے اپنی بہترین سفارتی صلاحیتوں کوبروئے کار لاتے ہوئے حل کررہا ہے نئے سعودی سفیرکی تعیناتی سے پاکستان کے تمام حلقوں میں خوشی ایک لہردوڑی ہے کہ یمن کے مسئلہ پرپیداسفارتی مہارت کوبروئے کارلاتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان ایک پل کا کرداراداکریں گے ۔