- الإعلانات -

جراَت مند کشمیری رہنما مقبول بھٹ کو سلام

آج سے36 برس قبل11 ;241; فروری1984 کے سیاہ دن کی بدبختی کو پاکستانی اور کشمیری عوام کبھی فراموش نہیں کرسکتے، یہی وہ بدترین دن تھا، جس روز مسلمانوں کے لہو کی پیاسی پاکستانی اور کشمیری عوام جسے ’’موت کی کالی دیوی‘‘کے نام سے بھول نہیں سکتے اندراگاندھی نے نئی دہلی تہاڑ جیل میں آزادی ٗ ِکشمیر کے پُرجوش جذبوں سے لیس کشمیری رہنما مقبول بھٹ کو نام نہاد اور جھوٹے قتل کے مقدمہ میں تختہ ٗ ِ دار پر چڑھا دیا تھا یقینا ہمارے کشمیری بھائی 11 ;241;فروری کو کبھی نہیں بھو لیں گے، مقبوضہ جموں وکشمیر کو بھارتی استبداد اور غاصبانہ قبضہ سے آزادی کی تاریخ میں کئی ممتاز نامور شہداء کے ساتھ شہید مقبول بھٹ کا نام بھی سنہری حرفوں سے تحریر ہوچکا ہے ماضی کی متشدد جنونی سابقہ مشرقی پاکستان میں ہزاروں مسلمانوں کی قاتل اور گولڈن ٹمپل امرتسر میں سینکڑوں سکھوں کو دن دھاڑے لہوکے تلاب میں نہا دینے والی اُس وقت کی بھارتی وزیر اعظم اندراگاندھی اپنی طبیعی فطرت میں جتنی متشدد مانی جاتی تھی، اُتنا ہی اُس کے مزاج میں تشدد اور شدت پسندی کے نفرت انگی جذبات ہمہ وقت موجزن رہا کرتے تھے اندراگاندھی کے قریبی حلقے اکثر کہتے سنے گئے کہ موصوفہ بھارتی مسلمانوں اور خصوصاً کشمیری مسلمانوں کے خلاف بڑا سخت موقف رکھتی تھیں ، بھارتی نژاد مسلمانوں کے بنیادی حقوق کے خلاف تووہ تھی ‘ لیکن کشمیریوں کی آزادی کی جدجہد کی پُرامن کوششیں اُسے ایک نظر نہیں بھاتی تھیں جیسے آج کے بھارتی قائدین ہیں ، اندراگاندھی اِس بارے میں تو جنون کی حد تک چڑچڑاہٹ میں ہمیشہ مبتلا رہی اُس نے یکایک اچانک بلا کسی اشتعال کے11 ;241;فروری 1984 کی صبح سورج نکلنے سے پہلے کشمیری رہنما محترم مقبول بھٹ کو تختہ ٗ ِ دار پر کھنچوادیا،یاد رہے 80 کے عشرے میں اندرا گاندھی پاگل پن کی حد تک دماغی طور پر تقریباً دیوالیہ پن کا شکارہوچکی تھی یہ ہی وہ زمانہ بھی ہے اُس نے (اندراگاندھی) نے امرتسر میں سکھوں کے مذہبی مقام اکال تخت کو بڑی بے رحمی سے لہولہان کیا اور سکھوں کی آزادی کی تحریک خالصتان کے رہنما جرنیل سنگھ بھنڈرا والا کو بھارتی فوجیوں کے ذریعے سے قتل کرایا تھا اندراگاندھی کے اِس سے ملتے جلتے دیگر کئی جنونی اقدامات سے صاف پتہ چلتا ہے کہ وہ بھارتی براہمنوں کے علاوہ بھارت میں کسی دوسری قوم یا ذات برادری کو برداشت کرنے پر کبھی اپنے دل میں نرم گوشہ بنانے میں کامیاب نہیں ہوسکی، اصل میں مسئلہ کشمیر کو آج اس حال تک پہنچانے میں آل انڈیا کانگریس کا بڑا حصہ ہے چاہے مودی کے چیلے چماٹے ہوں یا ماضی کی بھارتی سرکاروں کی عیارانہ کارستانیاں یہ سبھی کے سبھی آپس میں مسلم دشمنی کے رنگوں میں رنگے ہوئے ہیں اِن کی اکہتر برسوں سے جاری مکارانہ اور عیارانہ سیاسی وسفارتی شیطانی حربوں کے نتیجے میں مقبوضہ وادی کایہ حال ہوا ہے، اس میں شک کی گنجائش نہیں کہ مقبوضہ جموں وکشمیر دنیا بھر کی امن پسند اقوام کے سامنے آج ایسا سوال بن کر اپنے تشفی جواب کی تلاش میں ہے جس سوال کاجواب یقینا موجود ہے لیکن افسوس کوئی مانے کے لئے تیار نہیں کوئی سچ کا علمبردار بننے پر تیار نہیں ‘ عبدالقدیر خان سے لے کر مقبول بھٹ اور افضل گورو تک ہم کس کس دلیر اورجانثار کشمیر ی رہنما کو یاد کریں اُن کی برسیاں مناتے رہیں ، اُن کی اپنی مادر ِ وطن سرزمین کی آزادی کی جدوجہد کے سلسلے میں اُن شہدا کے پیش کردہ قیمتی جانوں کے نذرانوں کو یاد کرکے نام نہاد عالمی اداروں ‘ اقوام ِ متحدہ سمیت بڑی طاقتوں کے ضمیروں کو جھنجھوڑتے رہیں جواپنی اپنی جدید ٹیکنالوجی کی طاقت کے نشے میں اقوام ِ متحدہ اور سلامتی کونسل سے اپنی مرضی ومنشاء کے فیصلے جب چاہتے ہیں منوالیتے ہیں جہاں کہیں مسلمانوں کے انسانی حقوق کا موقع آتا ہے وہ کبوتروں کی مانند اپنی آنکھیں بند کرلیتے ہیں اب ہ میں اور مقبوضہ جموں کشمیر کے مسلمان بھائیوں کو اِن نام نہاد عالمی ممالک اور انصاف کے عالمی اداروں سے کوئی اچھی امید نہیں کشمیری شہداء نے اپنی قیمتی زندگیوں کو قربان کرکے آزادی ٗ ِ کشمیر کی شاہراہ پر اتنے روشن چراغ جلادئیے ہیں جن کی کرنوں کی روشنی میں ہر عہد کا کشمیری مسلمان اپنی قومی وملی آزادی کا رستہ اب خود ہی تلاش کرنے پر کمربستہ ہوچکا ہے ا ب طے ہے کہ جموں وکشمیر زیادہ دیر تک بھارتی استبداد کی غلامی میں نہیں رہ سکتا ،عبدالقدیر شہید کا ذکر ہو یا آج مقبول بھٹ شہید اور افضل گورو شہید کا تذکرہ کیا جائے ہ میں یہ بتانے کی کسی کو کوئی ضرورت نہیں کہ اِن شہداء نے اپنی بے مثال اور لازوال قربانیاں دے کر دنیا کے غیر جانبدار با بصیرت اور اہل الرائے سیاسی وسفارتی دانشوروں پر ثابت کردیا کہ بھارت تقریباً لگ بھگ 80 لاکھ مسلمان کشمیری عوام کی سرزمین پر آج نہیں تو کل اپنا ناجائز اور غیر انسانی قبضہ ضرور چھوڑ دے گا اہل کشمیر!نئی دہلی سے اپنی سرزمین کا قبضہ چھڑوالیں گے یہ دنیا شعوری آگہی کی آزادی کی دنیا ہے یاد رہے کہ مقبوضہ جموں وکشمیر کوئی متروکہ املاک نہیں ’ ایک مکمل ملک ہے کشمیر میں ’’کشمیری قوم‘‘بستی ہے مقبوضہ کشمیر کا اپنا الگ ثقافتی مقام ہے اگر کسی کو شک ہے تو ’تاریخ ِ کشمیر ‘ کا مطالعہ کرلے معلوم ہوجائے گا کہ عبدالقدیر خان سے مقبول بھٹ ‘ افضل گورو سے نئی نسل تک پہنچنے والی آزادی کی لہر میں شہید برہان وانی اور کئی تاریخی عظیم شہداء نے جو خود اعلیٰ یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل تھے اپنے اچھے بُرے کو خوب جانتے تھے اُنہیں اپنے اللہ تعالیٰ کی واحدانیت پر بھروسہ اور پختہ ایمان تھا اللہ تعالیٰ نے دنیا میں ہر انسان کو آزادی کی فطرت پر پیدا کیا ہے آزادی اور سلامتی کو انسان کا طرہّ ِ امتیاز قرار دیا ہے یہاں تذکرہ ہوا تاریخ ِ کشمیر کا ‘ تو سن لیجئے دنیا کے کم ازکم دس پندرہ ایسے خود مختار اور آزاد ملک اپنا وجود رکھتے ہیں جن کی آبادی ایک محتاط اندازے کے مطابق جموں وکشمیر کی آزادی سے بھی کئی گنا کم ہے شہید کشمیری رہنما مقبول بھٹ نے ایک بار اپنے والہانہ لب ولہجہ میں کشمیر کا تذکرہ کرتے ہوئے یہ الفاظ کہتے تھے’ ’جب تک کشمیر ایک آزاد وخود مختار ملک کی حیثیت سے رہا اُس کی خوشحالی ‘ اُس کا ماحولیاتی حسن اور اُس کی ترقی اور استحکام دنیا میں مسّلم رہے مگر تقسیم ِ ہند کے نازک اور حساس موقع سے فائدہ اُٹھاکر انگریز سامراج کی ملی بھگت سے بھارت نے کشمیریوں کی آزادی پر شب خون مارا اور اُنہیں غلام بنالیا گیا ‘ ‘ہ دن اور آج کے افسوس ناک لمحات ‘اہل ِ کشمیر کےلئے اپنی ’مٹی ‘ سے وفا کانام اُن کےلئے نہ صرف ’غداری ‘ بنادیا گیا ہے;238; بلکہ اب تو بھارت نے حق ِ استصواب ِ رائے مانگنے والوں کو ’دہشت گرد ‘ کہنا شروع کردیا ہے، جبکہ نئی دہلی کی تازہ ترین ’’دہشت گردی‘‘ نے دنیا کو بیدار کردیا ہے کہ نئی دہلی کے حکمرانوں کیوں اپنے ہی پیش رووَں کی عالمی ادارے اقوام ِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں کیئے گئے وعدوں سے مُکر گئے ہیں مختصراً یاد دلادیں کہ 2 نومبر1947 کو پنڈت جواہر لعل نہرونے اعلان کیا تھا ’’ ہمارا یہ وعدہ ہے کہ کشمیر کی قسمت کا فیصلہ آخر ِ کار وہاں کے عوام ہی کریں گے ہم نے اِس بات کی سلامتی کونسل میں ضمانت دی ہوئی ہے نہ تو ہم خود اپنے اِس وعدہ سے انحراف کرسکتے ہیں نہ کبھی ایسا کریں گے ہم تو اِس بات کےلئے تیار ہیں جب حالات پُرامن ہوجائیں گے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی نگرانی میں کشمیر میں عوام کی منشا اور مرضی جاننے کےلئے استصواب رائے کرادیا جائیگا‘‘ وائے افسوس! بی جے پی نے نہروہی کیا گاندھی جی کی بھی ’’بینڈ‘‘بجادی ہے اقوام متحدہ کشمیر میں ’’بُری طرح سے کیسے فلاپ ہوئی ہے‘‘ ۔