- الإعلانات -

پڑھتا جا۔۔۔۔

Asif-Mehmood

ذرا پڑھیے کہ ہمارے دائیں بائیں کیا ہو رہا ہے اور وہ امت ہمارے ساتھ کیا کر رہی ہے جس کے لیے ہم ہر وقت تاؤلے ہوئے پھرتے تھے اور ہم نے اپنا ملک میدان جنگ بنا لیا۔
خبر کچھ یوں ہے ’’متحدہ عرب امارات نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے دو روزہ دورے کے دوران ابو ظہبی میں ہندں کے پہلے مندر کی تعمیر کے لئے زمین کی الاٹمنٹ کر دی ہے۔اس بات کا اعلان امارات کے محکمہ بلدیات کے جاری کردہ ایک اعلامیہ میں کیا گیا ہے۔
متحدہ عرب امارات میں 26 لاکھ سے زائد بھارتی شہری رہائش پذیر ہیں جو یا تو کاروبار سے منسلک ہیں یا پھر مختلف کمپنیوں میں ملازم ہیں۔ان کے لئے دبئی میں تو دو مندر موجود تھے، لیکن ابو ظہبی میں کوئی بھی مندر نہیں تھا، جس کے لئے ہندو کمیونٹی طویل عرصے سے زمین کی الاٹمنٹ کی کوششیں کر رہی تھی۔
ان ہندں کو اپنی مذہبی رسومات کی ادائیگی کے لئے سوا سو کلو میٹر کا فاصلہ طے کرکے دبئی جانا پڑتا تھا، جہاں دو مندر اور ایک گوردوارہ موجود ہے۔ابو ظہبی میں مندر کی تعمیر کے لئے زمین کی فراہمی ایسے وقت کی گئی ہے جب بھارتی وزیر اعظم متحدہ عرب امارات کے پہلے دورے پر ہیں، جنھوں نے یو اے ای حکومت کے اس اقدام کا خیر مقدم کیا ہے۔
نریندر مودی نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں کہا ہے کہ ابو ظہبی میں مندر کی تعمیر کے لئے زمین کی الاٹمنٹ پر میں متحدہ عرب امارات کی حکومت کا شکر گزار ہوں۔ یہ ان کا ایک نمایاں قدم ہے۔
خیال رہے کہ بھارت متحدہ عرب امارات کا ایک بڑا پارٹنر ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارت کا حجم بڑھ کر 60 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔ اس ملک میں کام کرنے والے بھارتی باشندے ہر سال 13 ارب ڈالر زر مبادلہ امارات سے اپنے ملک بھیجتے ہیں۔‘‘
اب اس خبر کے بعد سوال یہ ہے کہ :’’ امت کہاں ہے‘‘
اور جواب یہ ہے کہ واعظ کے وعظ میں اور درسی کتب میں۔ان دو جگہوں کے علاوہ آپ سارا جہان چھان ماریں آپ کو امت نام کی کوئی چیز نہیں ملے گی۔ہمیں اب بطور قوم تھوڑا سا بڑا ہو جانا چاہیے اور جان لینا چاہیے کہ ریاستوں کے تعلقات مفادات کی بنیاد پر ہوتے ہیں کسی اصول کی بنیاد پر نہیں۔امت کے نام پر بھی بعض ممالک نے ہمیں صرف اپنے اپنے مفاد کے لیے استعمال کیا۔ ان ممالک کی آپ پالیسیاں دیکھیں تو صاف نظر آتا ہے کہ یہ ممالک اپنے مفاد کے لیے ایک مکمل نیشن سٹیٹ بن کر کام کرتے رہے اور امت کا نام بھی ان سیکولر نیشن سٹیٹس نے صرف اس لیے استعمال کیا کہ ایسا کرنا ان کے سیکولر نیشن سٹیٹ کے مفاد میں تھا۔جہاں جہاں امت ان کے مفادات کے خانے میں فٹ بیٹھتی رہی یہ امت امت کرتے رہے اور جیسے ہی ان کے مفادات کا تقاضا ہوا یہ مندر بنانے لگ گئے،یہ ممالک معروف معنوں میں سیکولر نیشن سٹیٹ ہیں اور ان کے مفادات یہ تھے کہ ہم جیسوں کو ماموں بنایا جائے اور انہوں نے اسلام کا نام لے کر یہ کارخیر انجام دیا۔
اب ان کے مفادات کا تقاضا بدل رہا ہے تو انہوں نے مندر بنا دیا ہے۔اب وقت آ گیا ہے کہ ہم لوگ آنکھیں کھولیں اور سوچین کہ ہم بڑے ہو کر کیا بنیں گے