- الإعلانات -

بہت چھالے ہیں اس کے پیروں میں

مال سے گزر رہا تھا کہ بابا کرمو سے ملاقات ہو گئی ۔ پوچھا بابا جی آپ یہاں کیسے کہا یہاں ونڈو شاپنگ کرنے آیا تھا ۔ اب کوئی چائے کافی کے موڈ میں ہوں دیکھ رہا تھا کہ جہاں چائے کافی مل جائے ۔ پھر بابا کرمو نے مجھ سے پوچھا تم یہاں کیسے ۔ کہا آپ کی خوشبو مجھے یہاں کھینچ لائی ہے ۔ کہا پھر چلتے ہیں فائیو سٹار ہوٹل کی کافی پینے ۔ پھر ہم دوسرے ہی لمحے ہوٹل میں تھے ۔ باباکر مو نے کارنر کی میز پر بیٹھنا پسند کیا ۔ ویٹر نے مینو لے آیا ۔ بابا نے کہا بیٹا یہ لے جاءو ہ میں بس دو کپ کے پو چینو کافی کے لے آءو ۔ پھر پوچھا کیا تمہارے پاس قلم کاغذ ہے ۔ میں نے جیب سے دونوں چیزیں نکال کر سامنے رکھ دیں ۔ کہا کافی آجائے پھر تم لکھنا شروع کرنا ۔ ابھی دائیں بائیں آمنے سامنے دیکھو ۔ ہاں پیچھے اس انداز سے دیکھو کہ کسی کو برا نہ لگے ۔ اتنی آواز میں بات کرو کہ دوسرے ٹیبل کے لوگ بور نہ ہوں ۔ ایسے میں گرم گرم کافی آئی ۔ پوچھا باباکرمو سے اگر اجازت ہو تو میرے محسن بھائی ممبر ایف ایس ٹی جہانگیر میر کا پسند یدہ شعر آپ کو سنانے کا دل چاہا رہا ہے ۔ کہا ضرور سناءو ۔ بہت چھالے ہیں اس کے پہروں میں ۔ کہی اصولوں پہ چلا ہو گا ۔ کہا بہت خوب ۔ بابا جی نے شاعر کا نام اور اس شاعر کا مزید کلام سننے کی خواہش کا اظہار بھی کیا ۔ پوچھا کیا آپ بابا بلھے شاہ کو جانتے ہو ۔ کہا بس اتنا جانتا ہوں کہ آپ پنجابی کے شاعر تھے کہا کہو عظیم شاعر تھے ۔ کہا لکھو بابا بلھے شاہ کا کلام ،

سر تے ٹوپی تیری نیت کھو ٹی

کی لینا سر ٹوپی تر کے

تسبیح پھری ،پر دل نہ پھریا

کی لینا ہتھ تسبح پھڑ کے

چڑھدے سورج ڈھلدے دیکھے

بجھے دیوے بلدے ویکھے

ہیرے داکوئی مل نہ تارے

کھوٹے سکے چلدے ویکھے

جیناں دا نہ جگ تے کوئی

اوی پتر پلتے دیکھے

اودی رحمت دے نال

بندے پانی اتے چلدے دیکھے

لوگ کہندے دال نہیں گلدی

میں تے پتھر گلدے دیکھے

جناں قدر نہ کیتی یاراں دی

ہیتھ خالی او ملدے دیکھے

پھر بابا کرمو نے ایک ہی سانس میں بابا بلھے شاہ کا واقع سنا یا کہ جب بلھے شاہ کا انتقال ہوا تو اس وقت کے مولوی بابا بلھے شاہ کو کافر قرار دے چکے تھے کہہ رکھا تھا جس نے ان کا جنازہ پڑھا یا پڑھایا اس کا نکاح ٹوٹ جائے گا ۔ بلھے شاہ کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفنانے سے منع کررکھا تھا ۔ پھر ایسے میں ایک خواجہ سرا نے بلھے شاہ کا جنازہ پڑھایا ۔ بھنکی مست کھسروں نے بابا بلھے شاہ کا جنازہ پڑھا پھر آبادی سے ویرانے میں بابا بلھے شاہ کو دفنایا گیا ۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے بابا بلھے شاہ کی قبر بلھے شاہ کا مزار بن گئی ۔ ایک نیا شہر اس کے گرد آباد ہو گیا ۔ آج قصور شہر کی شناخت پہچان بابا بلھے شاہ کے نام سے ہے ۔ جھنوں نے با با بلھے شاہ کو کافر قرار دیا ،جنازہ پڑھنے نہ دیا ۔ اب ان کا اس شہر میں کوئی نام لیوا نہیں ہے جبکہ بابا بلھے شاہ آج بھی زندہ ہے ۔ آج ان کا کلام انہیں زندہ رکھے ہوئے ہے بابا بلھے شاہ خود فرما گئے ہیں کہ بلھیا اسیں مرنا ناہی گور پیا کوئی اور ۔ با با کرمو سے پوچھا اس دور میں کوئی شاعر جس کی شاعری سے آپ متاثر ہوں ۔ کہا آج بھی اچھے شاعر ہیں ۔ بھارت کے شاعر جاوید اختر ہیں ۔ ان کے کچھ شعر لکھیں ۔

جو بات کہتے ڈرتے ہیں سب ، تو وہ بات لکھ

اتنی اندھیری تھی نہ کبھی پہلے رات لکھ

جن سے قصیدے لکھے تھے پھینک دے وہ قلم

پھر خون سے سچے قلم کی صفات لکھ

روز نا موں میں کئی پاتی نہیں جگہ

جو روزہر جگہ کی ہے وہ واردات لکھ

جو واقعات ہو چکے ان کا تو ذکر ہے

لیکن جو ہونے چائیے وہ واقعات لکھ

کسی کا حکم ہے ساری ہوائیں ہمیشہ چلنے سے پہلے بتائیں ان کی سمت کیا ہے،ہواءوں کو بتانا یہ بھی ہوگا چلیں گی تو کیا رفتار ہو گی ۔ آندھی کی اجازت اب نہیں ، ہماری ریت کی سب یہ فصیلیں کاغذ کے محل جو بن رہے ہیں حفاظت اس کی کرنا ہے ضروری آندھی ہے پرانی ان کی دشمن ۔ یہ سبھی جانتے ہیں کسی کا حکم ہے دریا کی لہریں ذرا یہ سرکشی کم کر لیں اپنی حد میں ٹھہریں ، ابھرنا اور بکھرنا اور بکھر کر پھر ابھرنا ۔ غلط ہے ان کا یہ ہنگامہ کرنا یہ سب ہے صرف وحشت کی علامت ، بغاوت کی علا مت ، بغاوت تو نہیں برداشت ہو گی یہ وحشت تو نہیں برداشت ہو گی ،اگر لہروں کو ہے دریا میں رہنا تو ان کو ہو گا چپ چاپ بہنا ۔ کسی کا حکم ہے کہ اس گلستان میں بس ایک رنگ کے ہی پھو ل ہونگے ۔ کچھ افسر ہو نگے جو یہ طے کریں گے گلستان کس طرح ہے بنا ہے کل کا ۔ یقینا پھول یک رنگی تو ہو نگے مگر یہ رنگ ہو گا کتنا گہرا کتنا ہلکا یہ افسر طے کرینگے کسی کو یہ کوئی کیسے بتائے ۔ گلستان میں کئی بھی پھول یک رنگی نہیں ہوتے کبھی ہو ہی نہیں سکتے کہ ہر ایک رنگ میں چھپ کر بہت سے رنگ رہتے ہیں ۔ جنہوں نے باغ یک رنگی بنانا چائیے تھا ان کو ذرا دیکھو ۔ جب ایک رنگ میں سو رنگ ظاہر ہو گئے ہیں تو وہ اب کتنے پریشا ہیں اور کتنے تنگ رہتے ہیں کسی کو یہ کوئی کیسے بتائیں ہوائیں اور لہریں کب کسی کا حکم سنتی ہیں ہوا ئیں حاکموں کی مٹھیوں میں قید خانوں میں ہتھکڑیوں میں نہیں رکتیں یہ لہریں روکی جاتی ہیں تو دریا کتنا بھی ہو پرسکون بے تاب ہوتا ہے، اس بے تابی کا اگلا قدم پھر سیلاب ہوتا ہے ۔ آخر میں بابا کرمو نے کہا بہت سارے جاوید اختر کو فلمی شاعری کے حوالے سے جانتے ہیں جبکہ شاعری نظم ،مرثیہ ، منثنوی ۔ اردو ہندی اور رومن میں بھی لکھ چکے ہیں ۔ ہالی ووڈ کے مشہور کہانی کار ، منظر نامہ نگار اور گیر گار ہیں ۔ ، دوشادیاں کیں ،مشہور ایکٹرس شبانہ اعظمیٰ ان کی بیگم ہے ۔ کہا اب ہمارے ہاں قصیدے لگنے والوں کی کوئی کمی نہیں ہے لیکن فیض احمد فیض ، احمد فراز حبیب جالب جیسے شاعروں کی بہت کمی ہے ۔ کافی کی آخری سر کی لی اور اٹھ کھڑے ہوئے ۔ بابا کرمو کی ایک خوبی ہے کہ جو بھی بل ہو نوٹ دیتے ہیں ،بقایا واپس نہیں لیتے ۔ اچھی کافی اچھی شاعری کی وجہ سے شام بھی اچھی گزر گئی ۔