- الإعلانات -

حکومت اتحادی مذاکرات اورچودھری پرویزالٰہی کی بردباری

گزشتہ روز پرویز خٹک کی سربراہی میں حکومتی مذاکراتی کمیٹی نے پنجاب اسمبلی کے سپیکر چوہدری پرویز الٰہی کی رہائش گاہ پر ان سے ملاقات کی ، حکومتی مذاکراتی کمیٹی میں گورنر پنجاب چوہدری سرور، وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے علاوہ وفاقی وزراء پرویز خٹک، اسد عمر اور شفقت محمود شامل تھے ۔ ملاقات کے بعد حکومتی مذاکراتی کمیٹی نے مسلم لیگ (ق) کے رہنماءوں کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کی ۔ جس میں چوہدری پرویز الٰہی کا کہنا تھا کہ اب بہت سی چیزیں واضح ہوگئی ہیں جو مسائل تھے اُن پر کھل کر بات ہوئی ہے اور معاملات طے پا گئے ہیں ، اسی طرح کی گفتگو پرویز خٹک نے بھی کی ۔ انہوں نے یہ بھی کہاکہ تمام معاملات اتفاق رائے سے طے پا گئے ہیں ۔ انہوں نے بھی کہاکہ (ق) لیگ ، ایم کیو ایم اور بلوچستان عوامی پارٹی سمیت کو ئی بھی اتحادی ہ میں چھوڑ کر نہیں جارہا ۔ انہوں نے چوہدری برادران اور ان کی جماعت کا خصوصی شکریہ بھی ادا کیا اور کہا کہ یہ ملاقاتیں چلتی رہتی ہیں ۔ چھوٹی چھوٹی باتیں تھیں جن سے لوگوں نے بڑی غلط فہمیاں پیدا کرنے کی کوشش کی ۔ چوہدری برادران بڑے جہاندیدہ سیاست دان ہیں ان کی ساری سیاست رواداری اور مفاہمت کی عکاس ہے ۔ چاہے جتنا بڑا سیاسی بحران ہو یا غلط فہمیاں انہوں نے تحمل کا دامن کبھی ہاتھ سے نہیں جانے دیا ۔ ان دنوں جب ان کے حکومت سے اختلافات کی خبریں گرم تھیں اور بیان بازی سے ماحول کافی کشیدہ ہورہا تھا ان کی طرف سے کبھی ایسا ردعمل سامنے نہیں آیا کہ جس سے محسوس ہوتا کہ یہ حکومتی اتحادی ابھی ٹوٹ جائے گا ۔ یہی وجہ ہے کہ آج اتحادی اور حکومت ایک بار پھر ایک پیج پر آگئے ہیں ، یہاں حکومت نے بھی اس معاملے کو سنجیدگی سے لیا اور اپنے اتحادیوں کے تحفظات دور کرنے کی ہرممکن کوشش کی ۔ ادھر ایم کیو ایم کے کنونیئر خالد مقبول صدیقی نے بھی عندیہ دیا ہے کہ وہ حکومت کے ساتھ ہیں ۔ حکومت سے اختلاف کراچی کے مسائل کے حوالے سے ہے ۔ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان سندھ میں وفاقی حکومت کی بڑی اتحادی جماعت ہے اور کراچی کے گھمبیر مسائل کی وجہ سے دونوں میں تناءو کی کیفیت ہے فریقین اس معاملے پر سنجیدہ ہیں کہ کراچی کو مسائل کے چنگل سے جلد نکالا جائے گا ۔ فریقین پرامید ہیں کہ مل بیٹھ کر ان مسائل کو جلد حل کرلیا جائےگا ۔ کراچی ملک کا معاشی حب ہے اور ملکی ریونیو کا ایک بڑا حصہ کراچی سے آتا ہے ۔ وفاقی حکومت کراچی کے مسائل کے حل کیلئے اپنی اتحادی جماعت کے تحفظات کو ایسے ہی دور کرے جیسے اس نے پنجاب میں مسلم لیگ (ق) کے ساتھ مسلسل گفت و شنید سے حل کیا ہے ۔ اسی میں ملک اور جمہوریت کیلئے بہتری ہے ۔

ہندوستان بنگلہ دیشی کھلاڑیوں کی جیت پربدہضمی کاشکارکیوں ;238;

ساءوتھ افریقہ میں ہونے والے انڈر نائنٹین کرکٹ ورلڈ کپ میں بنگلہ دیش کی ٹیم نے ایک شاندار مقابلے کے بعد بھارتی ٹیم کو ہرا کر ورلڈ کپ جیت لیاہے ۔ یہ بنگلہ دیش کی کھیلوں کی تاریخ میں ایک اہم دن تھا جس پر بنگلہ دیش میں جشن کا سماں ہے ۔ ادھر بھارت میں صف ماتم بچھی ہے اور شدید ردعمل دیکھنے میں آیا ہے ۔ کھیل کے میدان میں ہارجیت کھیل کا حصہ ہوتا ہے ۔ ہار جیت کو کھلے دل سے قبول کرنا اچھی روایت ہوتی ہے لیکن دیکھنے میں آیا ہے کہ بھارت نے کھیلوں میں بھی ایسی روایات قائم کی ہیں جس سے کشیدگی پیدا ہورہی ہے ۔ گزشتہ روز میچ میں کامیابی کے بعد بنگلہ دیشی ٹیم جشن منارہی تھی کہ ایسے میں بھارتی کھلاڑیوں نے ہاتھا پائی شروع کردی جس سے بدمزگی پیدا ہوئی جو افسوسناک ہے، بھارت اور بنگلہ دیش ایک دوسرے کے بہت قریب ہیں اور یہ بھی حقیقت ہے کہ بھارت نے پاکستان توڑ کر بنگلہ دیش بنوایا اور اس کی ہر میدان میں حمایت بھی کرتا ہے لیکن کھیل کے میدان میں ایک ہاربھارتیوں سے برداشت نہ ہوئی اور بھارتی کھلاڑیوں نے بدتمیزی کی حد کردی ۔ دوسری طرف بھارت پاکستان کے خلاف بھی سازشوں میں مصروف رہتا ہے جس کے نتیجے میں کافی عرصہ تک ہمارے کھیل خصوصاً کرکٹ میچز بہت متاثر ہوئے ۔ اس سازش کو ناکام بنانے کیلئے ہمارے سیکورٹی اداروں کو بہت محنت کرنا پڑی جس کے نتیجے میں آج ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ بحال ہوچکی ہے ۔ کل ہی راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں بنگلہ دیش اور پاکستان کے درمیان پہلا ٹیسٹ میچ ہوا جس میں پاکستان کو فتح نصیب ہوئی دراصل یہ فتح پاکستان کو نہیں کھیل کو ہوئی ہے جسے بھارتی لابی ویران کرنے کے درپے رہتی ہے ۔ بھارت کو اس حوالے سے اپنی سوچ اور پالیسی سے رجوع کرنا ہوگا تاکہ کھیلوں کے ذریعے خطے میں امن کو فروغ ملے ۔

مہنگائی کے خاتمے کی خوشخبری مل سکے گی;238;

تمام بنیادی ضروریات زندگی کی قیمتوں کے دن دوگنی رات چوگنی رفتار سے بڑھنے نے غریب تو غریب متوسط طبقے کے گھریلو بجٹ کو بھی تلپٹ کر کے رکھ دیا ہے ۔ وزیراعظم عمران اس حوالے سے مسلسل تشویش کا اظہار بھی کر رہے ہیں ، اور چاہتے ہیں جلد اس پر قابو پایا جائے ۔ اتوار کے روز اپنے ٹویٹ پیغام میں کہا کہ قوم اطمینان رکھے، آٹے اور چینی کے بحران کے ذمہ داروں کا بھرپور محاسبہ کیا جائے گا اور انہیں قرار واقعی سزا دی جائے گی ۔ مجھے ان مشکلات کا ادراک ہے جن کا تنخواہ دار طبقے سمیت مجموعی طور پر عوام کو سامنا ہے ، انہوں نے ساتھ یہ بھی خوشخبری سنائی کہ حکومت منگل کے روز ہونے والے کابینہ اجلاس میں عوام کےلئے بنیادی غذائی اجناس کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کرے گی ۔ جبکہ ایک روز قبل انہوں نے کہا تھا کہ غریب کی بہتری کے لئے ہی حکومت میں ;200;ئے ہیں اور اگر غریب کا احساس نہیں کرسکتے توحکومت میں رہنے کاحق نہیں ۔ وزیراعظم بار بار اس بات پرزور دے رہے ہیں کہ عام ;200;دمی کے کچن میں بنیادی اشیا ہر حال میں پہنچائیں ، جن گھرانوں میں خریدنے کی سکت نہیں ،انہیں احساس پروگرام کے تحت راشن دیں ۔ عوام کو لاحق مشکلات پر تشویش کا اظہار اور مہنگائی پر کنٹرول کرنے کیلئے موثر اقدامات اٹھانے پر زور وزیراعظم کی طرف سے عوام کے مسائل کم کرنے کے حقیقی احساس کو ظاہر کرتا ہے ۔ یہ احساس وزیراعظم کے منصب کا تقاضا بھی ہے لیکن جب تک مہنگائی کے جن کو بزور طاقت قابو نہیں کیا جاتا محض تشویش سے یہ مسئلہ حل نہیں ہونے والا ۔ اس شتر بے مہار مہنگائی کے بعض محرکات ایسے ہیں جن پر فوری طور پر قابو پایا جا سکتا ہے لہذا جب تک اس مقصد کیلئے کیے جانیوالے اقدامات کے مثبت نتاءج سامنے نہیں آجاتے عوام کی مشکلات کم نہیں ہوں گی ۔ حکومت اسے ماضی کی حکومتوں کا کیا دھرا قرار دیتی ہے ۔ اس بات میں شک نہیں کہ سابقہ حکومت نے ملکی معیشت کو تباہی کے دہانے پر لاکھڑا کیا لیکن موجود حکومت کی بھی کچھ ذمہ داریاں ہیں جو احسن طریقے سے نہیں نبھائی جا رہیں ۔ معیشت کے مستحکم ہو جانے کی متواتر حکومتی خوشخبریوں کے باوجود صورتحال جوں کی توں دکھائی دیتی ہے ۔ جب تک ایک عام ;200;دمی کی گھریلو معیشت کے عشاریے مستحکم نہیں ہوتے حکومتی دعووں کی کوئی حیثیت نہیں ہے ۔ تاہم کسی حد تک یہ امر اطمینان بخش ہے کہ وزیراعظم اس پہ فکر مند ہیں اور چاہتے ہیں کہ جلد عوام کو ریلیف ملے ۔ آمدہ کابینہ اجلاس میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کمی کا اعلان حوصلہ افزاء ہے ۔