- الإعلانات -

تعلےم سب کےلئے

تصور رےاست اےک ارتقائی سفر طے کر کے ;87;elfare ;83;tateکے تصور تک پہنچاتو اےک;83;ocial ;67;ontractمتعارف ہوا جس کے مطابق رےاست کے فراءض مےں جان و مال کے تحفظ کے ساتھ ساتھ صحت،تعلےم اور باقی بنےادی سہولےات زندگی بہم پہنچانا بھی رےاست ہی کی ذمہ داری مےں شامل ہو گےا ہے ۔ جدےد قومی اور بےن الاقوامی تقاضوں کے تحت ان بنےادی حقوق کی حفاظت اقوام متحدہ بھی انٹر نےشنل لاء کے تحت کرتی ہے ۔ وطن عزےز مےں اےک عرصہ سے تعلےم کو فروغ دےنے اور شرح خواندگی بڑھانے کےلئے تشہےری مہم جاری ہے ۔ ہر سابقہ اور نئی آنے والی حکومت نے اس اشتہاری مہم کو بڑھاوا دےا ۔ صورت حال ےہ ہے کہ جتنی رقم فروغ تعلےم کے سلسلے مےں اشتہارات ،ڈاکو منٹری اور سمےنارز پر اڑائی اور لٹائی جاتی ہے اس سے نصف رقم بھی اس مقصد کے حصول پر خرچ نہےں کی جاتی ۔ ہر اشتہار ےہ پےغام دےتا دکھائی اور سنائی دےتا ہے کہ بچوں کو زےور تعلےم سے آراستہ کرےں لےکن والدےن کے کم وسائل مےں جکڑی معےشت کو نظر انداز کرتے ہوئے بڑے مضحکہ خےز انداز سے رےاست اپنی ذمہ داری والدےن کے کھاتے مےں ڈال دےتی ہے اور والدےن کے متعلق ےہ تاثر قائم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ فروغ تعلےم کے منصوبے کی ناکامی کے ذمہ دار والدےن ہےں جبکہ رےاست خود کو بری الذمہ ثابت کرتی ہے حالانکہ زمےنی حقائق اس کے بر عکس ہےں ۔ ہم دنےا کی ساتوےں نےوکلئےر طاقت ہےں لےکن لٹرےسی رےٹ پسماندہ ممالک کے قرےب تر ہے ۔ انسانی ترقی کی رپورٹ کے حوالے سے اقوام عالم مےں پاکستانی قوم کانمبر136واں ہے ۔ اگرچہ پاکستان دنےا کا چھٹا سب سے بڑا ملک شمار کےا جاتا ہے مگر ےہاں کی آبادی کی غالب اکثرےت بنےادی تعلےم تک سے محروم ہے ۔ ےونےسکو ڈےٹا سنٹر کے اعدادوشمار کے مطابق پرائمری سطح کی تعلےم حاصل کرنے والی خواتےن کی شرح 33;46;8فےصد جبکہ مردوں کی شرح 47;46;18فےصد ہے ۔ ےہاں ےہ چےز قابل ذکر ہے کہ وطن عزےز کی کل آبادی مےں خواتےن کا حصہ تقرےباً آدھ سے کچھ زےادہ ہے ۔ اقوام متحدہ کے اعدادوشمار کے مطابق پاکستان مےں تقرےباً2کروڑ50لاکھ بچے سکول نہےں جاتے جبکہ پرائمری سکول چھوڑ دےنے والے بچوں کی شرح30فےصد ہے ۔ اصلاح احوال کےلئے چند قابل اصلاح نکات پےش خدمت ہےں ۔ جو ادارے گورنمنٹ سےکٹر مےں عام آدمی کو تعلےم دےنے کا بےڑہ اٹھائے ہوئے ہےں ان کی کارکردگی کو چےک کےا جائے ۔ اساتذہ کے معاملات وسائل پر توجہ دی جائے ۔ ٹےوشن سنٹر اور اکےڈمےز کی بجائے تعلےمی اداروں کو حصول علم کا مرکز بناےا جائے تا کہ طلبہ اےک ہی جگہ سے کافی و منافی تعلےم حاصل کر سکےں اور ان پر دوہرے اخراجات کا بوجھ نہ پڑے ۔ دےہات جو عملی طور پر درجہ دوم ےا سوم درجے کے شہرےوں پر مشتمل ہےں ان کی معےشت اربن اےرےاز مےں چلنے والے سکولز تک پہنچنے کی اجازت نہےں دےتی اور وہاں با اثر جاگےردار ےا تو ان کو پڑھنے کی اجازت نہےں دےتے اور اگر بفرض محال اجازت دے بھی دےں تو سکولوں کو ;80;roperlyچلنے نہےں دےتے اور دونوں صورتوں مےں وہ اپنے مقاصد پانے مےں کامےاب رہتے ہےں اور اپنی رعاےا کو علم سے دور رکھنے مےں سرخرو رہتے ہےں ۔ شہروں مےں سرماےہ دار تعلےم کو اچک لےتے ہےں اور گاءوں مےں جاگےر دار اسمبلےوں مےں اپنی ہی بنائی ہوئی تعلےمی سکےموں کا گلا گھونٹ دےتے ہےں اور ہم اےک جگہ پر کھڑے ہےں اس شعر کی صورت مےں

دےکھا تو پھر وہےں تھے چلے تھے جہاں سے ہم

کشتی کے ساتھ ساتھ کنارے چلے گئے

تعلےمی اعتبار سے سب سے تکلےف دہ چےز جو اےک موذی مرض کا درجہ رکھتی ہے ےہ ہے کہ پرائےوےٹ سےکٹر مےں چلنے والے ادروں کی فےسوں اور دےگر واجبات پر حکومت کی پابندی نہےں اور نہ ہی حکومت ان کو اےک سلےبس کی پابند کر سکتی ہے ۔ بنےادی طور پر دوہری تعلےمی پالےسی طبقات کو جنم دے رہی ہے ۔ جب طبقات جنم لےتے ہےں تو اےک طبقہ روزگار حاصل کرنے کےلئے دوسرے طبقے کے حقوق سلب کرتا ہے اور دوسرے طبقے کا احساس محرومی اسے تصادم پر اکساتا ہے ۔ اس تصادم کو تارےخ مےں کہےں بغاوت کہا گےا ہے اور کہےں انقلاب ۔ اس سسٹم کے تحت جو اشرافےہ تےار کی جا رہی ہے کےا ےہ اےک سوچی سمجھی سازش نہےں ;238; اس طبقاتی تقسےم کے باعث نئی نسل کے ذہنوں مےں تشنگی بوئی جا رہی ہے اور اس پسماندگی کے طفےل کھےتوں مےں بھوک اگ رہی ہے ۔ تعلےمی معےار مےں ;80;olo ;68;istance کی صورتحال معاشرے مےں بگاڑ پےدا کر سکتی ہے ۔ حدےث مبارک ہے کہ طبقات پےدا نہ کرےں اس سے نفرت پےدا ہوتی ہے ۔ لہٰذا تعلےم جےسے مقدس پےشے کے ذرےعے بھوک اور مفلسی کی پنےری نہ اگاءو ۔ تارےخ اس قسم کے مذاق برداشت نہےں کرتی اور اےک جےسی فےس اور اےک جےسی مراعات بلا امتےاز(دےہی،شہری)کے مطابق تعلےمی پالےسےاں وضع کرےں اور اچھا رےکارڈ رکھنے والے اساتذہ کی کارکردگی ان کی ترقی کےلئے شرط اول قرار دےں ۔ تعلےم کو جاگےردار اور دولت مند لوگوں کے چنگل سے آزاد کرائےں ورنہ تعلےم سب کےلئے مقصدےت اور افادےت اپنی موت مر جائے گی ۔ شخصےات کی بجائے پالےسی ساز اداروں کو فعال بناےا جائے تاکہ ذاتی مفادات قومی مفادات کے نگلنے سے باز رہےں اور علم حاصل کرنے کےلئے طالب علم کو آزاد ماحول ملے اور دونوں سےکٹروں کے درمےان فےسوں کا فاصلہ کم کےا جائے لےکن تعلےم سب کےلئے کی بجائے تعلےم ذرےعہ حصول دولت بن جائے گی ۔ کہتے ہےں کہ علم انسان کو جہالت کے غار اور اندھےروں سے نکال کر روشنی عطا کرتا ہے ، وسعت نظر عطا ہوتی ہے اور سوچنے سمجھنے کی صلاحےتوں مےں اضافہ ہوتا ہے لےکن ان پر طاقت اور دولت کے پہرے ہوں تو پھر اسے عام کےسے کہہ سکےں گے ۔