- الإعلانات -

معاشی گریہ زاری

بین الاقوامی مالیاتی ادارے جب کسی غریب یا ترقی پذیر ملک کو مالی قرضہ فراہم کرتے ہیں تو اپنی شرائط بھی منوا کر قرضے کا اجراء کرتے ہیں اس قرض کیوجہ سے عوام پرطرح طرح کے ٹیکس کی شرح بڑھا کر وصولی کی جاتی ہے تاکہ قرض کی واپسی کو آسان بنایا جا سکے ۔ بدقسمتی سے ہمارے ملک پر قرض کی تہہ بڑھتی ہی چلی جارہی ہے ۔ پہلا قرض ادا نہیں ہوسکتا اس کے ساتھ دوسرا قرض کسی اور ادارے سے لے لیا جاتا ہے ۔ ورلڈ بینک ، آئی ایم ایف جیسے بڑے مالیاتی اداروں نے ملک کو جکڑ کر رکھا ہوا ہے ۔ حالات کے ہاتھوں مجبور ہوکر سیاسی حکومت قرض اتارنے کیلئے بھی قرض حاصل کرتی ہے ۔ ایسے گھمبیر حالات میں نہ تو عوام کی فلاح کیلئے کام ہوسکتے ہیں اور نہ ہی ترقیاتی کاموں پر فنڈز مختص ہوتے ہیں ۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہر صوبے کو شکایت ہوتی ہے اور عوام الگ حکومت کی پالیسیوں کو برا بھلا کہتے ہیں ۔ ریونیو اہداف بھی کوشش کے باوجود پورے نہیں ہوتے ۔ ایسے حالات سے مجبور ہوکر حکومت دعوءوں کے باوجود کشکول توڑنے کی بجائے جوڑ کر رکھتی ہے تاکہ ضرورتوں کو پورا کرنے کیلئے جس وقت چاہے انگریزی کے چلمن سے جھانکتے ہوئے امیر ملکوں کے سربراہان کے سامنے اپنے ملک کی گزشتہ حکومتوں اور کرپشن کے عروج کا ذکر کرتے ہوئے کشکول کو پیش کرسکے ۔ حال ہی میں آئی ایم ایف کی ٹیم جس نے ہمارے ملک کی کمزور معاشی صورتحال کو قدرے بہتر بنانے کیلئے چھ ارب ڈالرز کے قرضے کی منظوری دی تھی اور اس کے ساتھ مالی نظم وضبط پر عملدرآمد کی شرط بھی تھی لیکن حکومت کوشش کے باوجود اس پر عملدرآمد میں کامیاب نہ ہوسکی وہ مالی اہداف جن کو پورا کرنا چاہیے تھا وہ بھی پورے نہیں ہوئے لہذا حکمت نے آئی ایم ایف کی ٹیم جسکا قیام دس روز تک رہا تفصیلی گفتگو کی ۔ اپنی مشکلات کاذکر بھی کیا گیا کیونکہ ایف بی آر اپنے اہداف پر نظرثانی کرنے پر مجبورہوا ہے ۔ محصولات کی وصولی کا اس وقت ہدف4700 ارب ہے ۔ مختلف وزارتوں اور محکموں کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے بعد آئی ایم ایف 45 کروڑ ڈالر کی تیسری قسط دینے کو تیار ہوا ہے ۔ گیس اور بجلی کے بلوں میں اضافے کی صورتحال بھی آئی ایم ایف کی ٹیم کے ساتھ زیر بحث رہی فی الحال ان دونوں شعبوں میں مالی اضافے زیرغور نہیں ۔ ہمارے ملک کی درآمدات میں کمی بھی مجموعی ملکی صورتحال پر بہت اثر انداز ہوتی ہے ۔ آئی ایم ایف تو اپنے نقطہ نظر سے حالات کا جائزہ لینے والا ادارہ ہے ۔ ملک کے معاشی حالات بہت پریشان کن ہیں ۔ سنگین مہنگائی جس نے غریب اور متوسط طبقے کو ادھ مویا کردیا ہے قابو میں نہیں ۔ عام آدمی کی قوت خریدجواب دے چکی ۔ سینیٹ کے با اثر تعلیم یافتہ ملکی معاشی حالت کو بخوبی سمجھنے والوں نے مہنگائی کی آڑ میں اپنے لئے جو ماہانہ مشاہرہ مقرر ہے اس میں 400فیصد اضافے کی تجویز پیش کردی اگرچہ وہ کامیاب نہ ہوسکی لیکن اربوں پتی امیر سینیٹ ممبران نے یہ بھی سوچنے کی زحمت نہ کی کہ اس وقت ملک کی معاشی حالت زوال پذیر ہے ایسے میں تنخواہوں میں اضاف کیسے ممکن ہے اور کیا یہ مناسب موقع ہے کہ صرف قومی اسمبلی اور سینیٹ کے ارکان کے مشاہروں میں اضافہ کیا جائے ۔ سرکاری ملازمین کا خیال ان کے وسیع عریض قلب نظر میں نہیں آسکا ۔ بڑی بڑی گاڑیوں میں گھومنے والے چھوٹی چھوٹی باتوں کو خاطر میں نہیں لاتے ۔ اس وقت تو یہ چاہیے کہ پوری قوم اور حکومتی ادارے بشمول وزیراعظم کابینہ اور صدر تمام لوگ سائیکل کی سواری کو اپنائیں گاڑیاں اورموٹرسائیکلز قانونی طورپر بند کردئیے جائیں ۔ لباس بھی سادہ ہو لگژری زندگی سے نکال کر سادگی کو اپنایا جائے چین کی مثال ہمارے سامنے ہے بند گلے کا کوٹ اور سائیکل ان کی شناخت تھی ان لوگوں نے اپنی قوم کو محنتی بنایا حب الوطنی کا درس دیا سادہ ترین زندگی سے آج وہ ایک ایسی معاشی طاقت بن چکے ہیں کہ امریکہ جیسا طاقتور ملک بھی اس سے خاءف ہے ۔ گاءوں گاءوں ، شہر شہرصاف ستھرے ، نظم و ضبط کا پیکر عوام اور حکومت ملک اور قوم کے وفادار، کرپشن فری معاشرہ، اگر کوئی سرکاری اہل کار یا عام آدمی اس میں ملوث پایا جاتا ہے تو قانون اسے سخت ترین سزائیں دیتا ہے ۔ اپنے ملکی اور قومی معاملات میں وہ کسی دوسرے ملک کی مداخلت کو برداشت نہیں کرتے اس کے برعکس ہم مالیاتی اداروں اور امریکہ کے شکنجے میں جکڑے ہوئے ہیں ۔ ملک ہمارا لیکن ہماری اپنی حماقتوں اور بے وقوفیوں کی وجہ سے پالیسیاں باہر سے آتی ہیں جو نافذ ہوتی ہیں ۔ ہم کہنے کو آزاد ہیں لیکن سچ یہ ہے کہ پہلے ہم برطانیہ کی غلامی میں تھے اب مالیاتی اداروں اور امریکہ کے غلام ہیں ۔ مالک بدلے ہیں غلام وہی ہیں ۔ بجلی گیس اور پیداواری لاگت میں اضافوں کی وجہ سے مہنگائی دن بدن بڑھتی چلی جارہی ہے ۔ افراط زر میں اضافہ ہوچکا ۔ ان مشکلات حالت میں لنگر خانے احساس پروگرام بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام ہیلتھ کارڈ کا اجراء وغیرہ جن میں قومی دولت کے خرچ ہونے کا احتمال ہو نہیں چلانے چاہئیں ۔ سرکاری محکموں میں اخراجات پر سختی سے کمی کی جائے بڑی بڑی گاڑیوں اور ان پر اٹھنے والے اخراجات کو بہت سختی سے کنٹرول کرنے کی ضرورت ہے ۔ آٹا، چینی اور اشیاء ضرورت کو ملی بھگت سے سرحد پار بھیجنے والوں پر گرفت کیوں نہیں کی جارہی ۔ صرف دوکسٹمر آفیسرز کو عہدے سے ہٹا کر انکوائری کرنے سے کام نہیں بنتا ۔ اصل مجرم تو وہ ہیں جو سمگل کرنے کا نہ صرف منصوبہ بناتے ہیں بلکہ اپنے کارندوں کے ذریعے عمل بھی کرتے ہیں ۔ ایسے مکروہ چہروں کو سخت سزائیں دی جائیں ۔ افسوس اس بات کا ہے کہ ہمارے ہاں اگر بچوں سے زیادتی کرنے والے لوگوں کیخلاف اگر بل پیش کیا جاتا ہے کہ ان ملزموں کو سرعام پھانس دی جائے تو ممبران اسکی مخالفت کرتے ہیں ۔ ہم مسلمان ہیں ہ میں یاد ہونا چاہیے کہ حضرت لوط;174; کی قوم کو اللہ نے نشاں زدہ پتھروں سے ہلاک کیا ہے ۔ اللہ نے ان پر رحم نہیں کیا ۔ انسانی حقوق کے ادارے اللہ کے قوانین کے سامنے کچھ حیثیت نہیں رکھتے ۔ اسلامی قوانین کا اگرصحیح معنوں میں نفاذ ہو جائے تو جرائم کی رفتار میں کمی ہوسکتی ہے ۔ ہ میں اس وقت تربیت کی اشد ضرورت ہے اس طرف غور کرنا چاہیے ۔ قوم کو ایک قوم ذمے دار اور ملک پر مرمٹنے والی قوم اسی وقت بنایا جاسکتا ہے جب قانون کا اطلاق فوری ہو اور قانون سب کیلئے برابر ہو ۔ ہمارے حالات معاشی معاشرتی اخلاقی مذہبی انسانی ہر طرح سے بدترین ہیں دن بدن ہم تنزلی کی طرف گامزن ہیں ایسی حالت میں عیاشیوں بھری زندگیاں گزارنے کا جواز نہیں ملتا ۔ حکومت اخراجات میں سختی سے کمی کے فی الحال جوغیر ضروری پروگرامز ہیں انہیں رول بیک کرے ۔ ہر سطح پر بچت کی جائے ۔ قرض اتارنے کے بعد پھر ہر طرح اور ہرسطح پر آسانیاں فراہم کی جانی چاہئیں ۔ مشکل حالات ہیں بہتر سالوں سے ہر آنے والا وقت مشکل ہی رہا ۔ قوم کا پیسہ لوٹنے والوں اور سرکاری زمینوں پر قابضین پر آہنی گرفت کی ضرورت ہے ۔ سادگی اپنائیں ۔ صرف پانچ سال ہر طرح سے بچت کرلیں پھر ملک معاشی بھنور سے نکل آئے گا ورنہ قرض پر قرض لیتے رہیں گے اور قوم مقروض ہی رہیگی ۔