- الإعلانات -

ایک کروڑمسلمانوں کو بھارت بدر کرنیکا منصوبہ

شہریت کے متنازعہ ترمیمی بل کے بھارتی پارلیمنٹ سے منظور ہونے کے بعد گویا بھارت میں بھونچال آگیا ہے ۔ مذکورہ بل کے خلاف امریکہ سمیت دنیا کے مختلف حصوں اور خود بھارت میں بھی آوازیں اٹھنے لگی ہیں ۔ اس بل کے مطابق پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان سے بھارت جانے والے غیر مسلموں کو شہریت دی جائے گی لیکن مسلمان اس سہولت سے محروم ہی رہیں گے ۔ اس بل کا مقصد شہریت ایکٹ 1955 میں ترمیم کرنا ہے ۔ بل کی منظوری کے بعد یہ قانون بن گیا ہے لہٰذا اس کے تحت پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان سے مذہب کی بنیاد پر ملک چھوڑ کر بھارت آنے والے ہندو، سکھ، بودھ، جین، پارسی اور عیسائی برادری کے لوگوں کو بھارتی شہریت دی جا سکے گی ۔ خواہ ان کے پاس ضروری دستاویزات ہوں یا نہ ہوں ۔ بھارت کی شمال مشرقی ریاستوں میں اس بل کی مخالفت کی جا رہی ہے ۔ یہ قانون 1985 میں ہونے والے آسام معاہدے کی دفعات کو کالعدم کر دے گا جس میں بلا امتیاز مذہب غیر قانونی تارکین وطن کو بھارت سے نکالنے کا ذکرہے ۔ بھارت میں حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے بعض رہنما بھی اس بل کی مخالفت کر رہے ہیں ۔ ان کا موقف ہے کہ اس سے مقامی آبادی کی ثقافت پر برا اثر پڑے گا لیکن بھارتی وزیرِ داخلہ امیت شاہ اسے نافذ کرنا چاہتے ہیں ۔ کانگریس، ترنمول کانگریس، بائیں بازو کی جماعتیں اور دیگر اپوزیشن جماعتیں اس لئے اس بل کی سختی سے مخالفت کر رہی ہیں کہ بھارتی آئین مذہب کی بنیاد پر کسی کو شہریت تفویض کرنے کی اجازت نہیں دیتا ۔ آج کل پورے بھارت میں متذکرہ بل کی مخالفت میں مظاہرے جاری ہیں ۔ بی جے پی کے لیڈراس بل کے منظور ہونے پر آپے سے باہر ہونے لگے ہیں ۔ ایک رہنما نے کہا جو بھی شہریت کے قانون کے خلاف بات کرے گا اسے زندہ گاڑ دیا جائے گا ۔ دوسرے وزیر نے کہا مسلمانوں کا جو حال یوپی میں کیا، وہی بنگال میں بھی کریں گے ۔ یوں بی جے پی رہنما نے اترپردیش میں مسلمانوں پر تشدد کا اعتراف کر لیا ۔ یو پی حکومت کے وزیر روگو راج سنگھ نے جلسے کے دورا ن کھلے عام کہا کہ جو بھی شہریت کے قانون کیخلاف بات کرے گا، اس کو زندہ گاڑ دیا جائے گا ۔ وہ مخالفین کو پٹخ پٹخ کر ماریں گے ۔ ایک طالبہ نے مودی سرکار پر غصہ نکالتے کہا کہ جسے لائے وہی ہ میں کاٹ کھانے کو آرہی ہے ۔ معذرت کے ساتھ کہتی ہوں کہ ایک چائے والے کے حوالے دیش کرو گے تو یہی حال ہوگا ۔ متنازعہ بل کے حوالے سے بھارتی سرکار کا یہ حال ہے کہ شہریت قانون کےخلاف احتجاج میں شرکت کرنے والے جرمن طالب علم کے بعد ناروے سے تعلق رکھنے والی 71 سالہ بزرگ خاتون کو بھی ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا ۔ 71 سالہ میٹ جوہانسن کا کہنا تھا کہ پولیس نے انہیں زبانی طور پر اجازت دی تھی کہ متنازع شہریت قانون کےخلاف وہ پرامن احتجاج میں شرکت کرسکتی ہیں جو بھارت کے مسلمانوں کے خلاف بنایا گیا ہے ۔ غیرملکی خاتون کا کہنا تھا کہ ’گزشتہ روز کو بھارتی امیگریشن کے عہدیدار پوچھ گچھ کےلئے میرے پاس ہوٹل میں آئے اور مجھے ذہنی طور پر تشدد کیا اور مجھے کہا کہ آپ ملک چھوڑ دیں ورنہ ہم قانونی کارروائی کریں گے اور ڈی پورٹ کردیا جائے گا‘ ۔ کولکتہ انتہا پسند جماعت بھارتی جنتا پارٹی مغربی بنگال کے سربراہ دلیپ گھوش نے دھمکی آمیزلہجے میں کہا ہے کہ ان کی حکومت پورے بھارت میں رجسٹریشن پالیسی پر عملدرآمد کرے گی جس کے بعد ایک کروڑ مسلمانوں کو ملک سے نکال دیا جائے گا ۔ معروف اداکار نصیرالدین شاہ نے شہریت کے متنازع بل پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ میرے خاندان کے کئی لوگ بھارتی فوج میں خدمات سرانجام دے چکے ہیں ۔ کبھی نہیں سوچا کہ ہم مسلمان ہیں مگر اب احساس ہونے لگا ہے کہ وہ ’مسلمان‘ ہوکر بھارت میں نہیں رہ سکتے ۔ فلم انڈسٹری میں نوجوان اداکاروں نے اس قانون کے خلاف آواز اٹھائی ہے مگر پتہ نہیں کیوں بڑے فلمی ستارے اس صورتحال پر خاموش ہیں ۔ میں حیران ہوں کہ ہمارے ملک میں اتنی نفرت کہاں سے آئی ہے;238; وزیراعظم نریندر مودی خود نفرت پھیلاتے ہیں اور پھیلانے والوں کی پیروی کرتے ہیں ۔ سڑکوں اور شہروں کا نام تبدیل کر کے کیا ثابت کیا جا رہا ہے;238; مغلوں اور دیگر مسلمان حکمرانوں کو ’ولن‘ بنا کر دیکھا جا رہا ہے ۔ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے بھارتی عوام کے احتجاج پر بجائے کان دھرنے کے، پاکستان کو مورد الزام ٹھہرانا شروع کر دیا ہے ۔