- الإعلانات -

بھارت کامکروہ چہرہ بے نقاب

بھارت میں اقلیتوں کا ترمیمی بل مودی سرکار کےلئے درد سر بنا ہوا ہے ۔ اس کیخلاف تقریباً پورے بھارت میں احتجاج جاری ہے ۔ مودی حکومت اقلیتوں کو مطمئن کرنے میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے ۔ نریندر مودی عوامی جلسوں میں ترمیمی بل کی وضاحت پیش کرنے کی بجائے پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی میں مصروف ہیں ۔ شہریت کے ترمیمی بل کے تحت پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان سے تعلق رکھنے والے غیر قانونی تارکین وطن کو جو کہ غیر مسلم ہوں شہریت دی جائے گی ۔ مودی کے پہلے دور حکومت کے برعکس موجودہ دور حکومت میں مسلمانوں ‘ سکھوں ‘ عیسائیوں اور دوسری اقلیتوں کی جو درگت بن رہی ہے، وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ۔ خاص طورپر ان اقلیتوں کو حکومتی سرپرستی میں جبری ہندو بنایا جارہا ہے ۔ ان اقدامات پر اقوام عالم کوانتہاء پسند جنونی ہندوءوں کی نمائندہ مودی سرکار کے ہاتھوں علاقائی اور عالمی امن کو سخت خطرات لاحق نظر آرہے ہیں ۔ بھارت میں مسلمان‘ سکھ‘ عیسائی اقلیتیں تو کجا‘ نچلی ذات کے دلت ہندوءوں کا بھی جنونی برہمنوں اور کھتریوں کے ہاتھوں جینا دوبھر ہوچکا ہے ۔ یورپ کو شاید بھارت میں مسلمان اقلیتوں کو جبری ہندو بنانے پر زیادہ تشویش لاحق نہیں ہو گی مگر عیسائیوں کو جبری ہندو بنانے پر مغرب و یورپ تلملا اٹھے ہیں ۔ اس کے جواب میں بھارت پاکستان میں ہندو اقلیتوں پر مبینہ مظالم کا ڈرامہ رچا کر اور انہیں بھارتی شہریت کا چکمہ دیکر جنونی ہندو معاشرے کیخلاف بڑھنے والے عالمی دباءو کا رخ تبدیل کرنے کے منصوبے کو عملی جامہ پہنانا چاہتا ہے ۔ مسلم مخالف متنازع شہریت قانون کےخلاف بھارت کے کئی شہرمیدان جنگ بنے ہوئے ہیں ۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کہ کچھ عرصہ قبل اندرون سندھ سے ہندو خاندانوں کی بھارت نقل مکانی کا سلسلہ بھی پاکستان کو اقوام عالم میں بدنام کرنے کی بھارتی سازشوں کی بنیاد پر ہی شروع ہوا تھا جو ایک ہندو لڑکی کے اپنی خوشی سے اسلام قبول کرکے ایک مسلمان سے شادی کرنے کے بعد بھارتی زہریلے پراپیگنڈے کے باعث شروع ہوا ۔ پاکستان بالخصوص اندرون سندھ میں آباد ہندو اقلیتوں کو پاکستانی شہری کی حیثیت سے مساوی حقوق حاصل ہیں حتیٰ کہ انہیں مکمل مذہبی آزادی بھی حاصل ہے اور اب ہندو میاں بیوی میں علیحدگی کا قانون بھی بھارت کے فیملی لاز کے قالب میں ڈھال کر اسے ہندو برادری کے مذہبی تقاضوں کے مطابق بنا دیا گیا ہے جبکہ بھارت میں آج بھی مسلمان اقلیتوں پر مسلم پرسنل لاء لاگو نہیں ۔ لہٰذا مسلمان اقلیتوں کو اپنے مذہب کی روشنی میں گائے ذبح کرنے اور اس کا گوشت کھانے کی پاداش میں جنونی ہندوءوں کی جانب سے قتل و غارت گری سے دوچار کرنا ہندو معاشرے کا وطیرہ بن چکا ہے ۔ بھارت میں مسلمان‘ سکھ اور عیسائی اقلیتیں تو کجا‘ انکی مساجد‘ گرجا گھر اور گورد وارے بھی محفوظ نہیں ۔ اسکے برعکس پاکستان میں آباد سکھوں ‘ عیسائیوں اور ہندوءوں کو بطور شہری تمام حقوق اور انہیں مذہبی آزادی بھی حاصل ہے چنانچہ وہ بیساکھی‘ دیوالی‘ ہولی کے تہوار مذہبی جوش و خروش سے پوری آزادی کے ساتھ مناتے ہیں ۔ چند روز قبل امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے مذہبی آزادی کے حوالے سے رپورٹ شاءع کی جس میں مبینہ طور پر مذہبی پابندی رکھنے والے ممالک کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا ۔ ان ممالک میں چین، پاکستان، برما، سعودی عرب، ایران، تاجکستان اور ترکمانستان کو شامل کیا گیا تھا ۔ اس رپورٹ میں پاکستان کا نام صرف اور صرف بھارتی ایما پر ڈالا گیا تھا ۔ پاکستان نے مذہبی آزادی سے متعلق امریکہ کی رپورٹ مسترد کر تے ہوئے کہا کہ امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے پاکستان میں مذہبی پابندیوں کے الزامات بے بنیاد ہیں ۔ پاکستان میں تمام مذاہب کے بسنے والوں کو مکمل مذہبی آزادی حاصل ہے، پاکستان میں کسی قوم، نسل اور مذہب کو تعصب کا سامنا نہیں ہے ۔ امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ مذہبی پابندیوں میں بھارت کا شمار بھول گیا ۔ بھارت اقلیتوں سے غیر انسانی سلوک کے حوالے سے سب سے آگے ہے اور حالیہ شہریت بل بھارت کے اقلیتوں سے امتیازی سلوک کا ثبوت ہے ۔ یہ رپورٹ جانب دارانہ ہے مسلمانوں کے خلاف حالیہ شہرت بل کے باوجود بھارت کا نام اس میں شامل نہیں کیا گیا ۔ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال سے متعلق امریکی کانگریس کے 2 اجلاس منعقد ہوئے، انسانی حقوق کونسل نے بھی مقبوضہ کشمیر کے معاملے پر آواز اٹھائی ہے لیکن اس رپورٹ میں بھارت کو شامل ہی نہیں کیا گیا جس سے اس کی جانبداری ثابت ہوتی ہے ۔ پشاور اور ننکانہ صاحب میں انفرادی واقعات کو اقلیتوں کی صورتحال سے جوڑنا پاکستان مخالف ایجنڈے کا حصہ تھا ۔ دنیا بھر میں سکھ کمیونٹی پاکستان کی اقلیتوں کے حقوق سے متعلق وژن سے آگاہ ہے ۔ نومبر 2019 میں کرتار پور صاحب گوردوارے کا افتتاح اسی وژن کا عکاس ہے ۔ بھارتی پروپیگنڈا مقبوضہ کشمیر کی سنگین صورت حال سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے ۔ اقلیتوں پر مظالم کے حوالے سے بھارت کا یہ بھیانک چہرہ پوری دنیا میں بے نقاب ہورہا ہے ۔ تاہم ہمارے دفتر خارجہ کو اس معاملہ میں بھی خاموش نہیں بیٹھنا چاہیے اور اقلیتوں پر مظالم کے حوالے سے پاکستان کیخلاف پراپیگنڈا کیلئے تیار کی گئی اس نئی بھارتی سازش کا بھی موَثر توڑ کرنا چاہیے ۔ ہر عالمی فورم پر بھارت کا اصل مکروہ چہرہ بھی بے نقاب کرتے رہنا چاہیے ۔