- الإعلانات -

بھارت۔۔۔ خطے کا مستقبل اور پاکستان

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہندو توا پالیسی پر قائم رہتے ہوئے خطے کے امن کو تباہ کرنا چاہتے ہیں ۔ ان کی اس پالیسی کی وجہ سے خود بھارت میں آگ لگی ہوئی ہے ۔ بھارتی سرکار کی سیاست اور سفارت نفرت انگیزی پر مبنی ہے ۔ جس کے نتیجے میں خود بھارت کے اندر اقلیتیں غیر محفوظ ہو گئی ہیں ۔ بھارت میں نہ صرف مودی سرکار پر عوام کا اعتماد کم سے کم تر ہوتا جا رہا ہے بلکہ ریاست کا ڈھانچہ بھی متزلزل ہو رہا ہے ۔ بھارتی عوام میں احساس محرومی بڑھتا جا رہا ہے ۔ پورا بھارت سماجی انتشار کا شکار ہے ۔ شہریت کے معاملہ پر عوام کا شدید احتجاج جاری ہے ۔ نئی دہلی میں طلبہ سمیت لوگ بھرپور احتجاج کر رہے ہیں ۔ اب تو پارلیمنٹ ہاءوس کے گھیراءو کی کوششیں ہو رہی ہیں ۔ احتجاج کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے ۔ لیکن مودی سرکار ایس ایس کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے میں مصروف ہے ۔ دہلی میں انتخابی نتاءج سے یہ بات بلکل عیاں ہے کہ بھارتی عوام نے مودی سرکار کی فسطائی اور نفرت انگیز پالیسی کو مسترد کر دیا ہے ۔ ادھر مقبوضہ کشمیر میں لاکھوں کی تعداد میں فوجی تعینات کر کے گزشتہ دو سو دن کے مسلسل کر فیو کے باوجود حکومت ان نہتے مظلوموں سے خوفزدہ ہے ۔ نریندر مودی کی احمقانہ اور فسطائی فیصلوں سے بھارت کی مختلف ریاستوں میں علیحدگی کی تحریکیں چل رہی ہیں ۔ اس تمام صورت حال سے دنیا کی توجہ ہٹانے کے لیئے بھارت کسی بھی وقت کوئی جھوٹی کہانی بنا کر پاکستان کے خلاف کاروائی کر سکتا ہے ۔ اور پاکستان پر الزام لگا کر دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کر سکتا ہے ۔ سفارتی سطح پر اب بھارت کی پوزیشن بہت ہی کمزور ہے ۔ دوسری طرف پاکستان کی عسکری قیادت بھارت کی ایک نہیں چلنے دیتی ۔ گویا کہ بھارت کو سفارتی اور عسکری دونوں محازوں پر بری طرح ناکامیاں ہو رہی ہیں ۔ ان حالات کے پیش نظر بھارت کی طرف سے حسب سابق کوئی بھی احمقانہ اقدام خارج از امکان نہیں ہے ۔ مودی سرکار اور بھارتی عسکری قیادت اپنی شکست خوردہ زہنیت کا کوئی بھی مظاہرہ کر سکتی ہے ۔ یہ الگ بات ہے کہ ان کو پہلے کی طرح ایک بار پھر لینے کے دینے پڑیں گے ۔ لیکن بھارتی گیدڑ بھبکیوں اور احمقانہ بیانات سے کسی بھی وقت خطے میں حالات خراب ہو سکتے ہیں ۔ پاکستان ہر سطح پر اور ہر ممکن کوشش سے حالات کو خرابی سے بچانا چاہتا ہے ۔ لیکن ایسا نہ ہو کہ آخر تنگ آمد بجنگ آمد کے مصداق حالات قابو سے باہر ہو جائیں ۔ دنیا کو اب اس خطے پر توجہ دینی ہوگی ۔ مقبوضہ کشمیر کی ناگفتہ بہہ صورتحال پر عالمی برادری کی مجرمانہ خاموشی اب ختم ہونی چاہیئے ورنہ حالات خراب ہوئے تو پوری دنیا اس سے متاثر ہو سکتی ہے ۔ پاکستان کی حکومت اور عسکری قیادت پوری طرح تیار و مستعد ہیں ۔ بھارت کسی غلط فہمی میں نہ رہے اور ماضی قریب سے سبق سیکھے ۔ پاکستان کی حکومت کو کشمیر کمیٹی پر نظر ثانی کی ضرورت ہے ۔ کشمیر کمیٹی سفارتی سطح پر نہایت اہمیت کی حامل ہے ۔ موجودہ حکومت جب اپوزیشن میں تھی تو اس وقت کی کشمیر کمیٹی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان پر اعتراض کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتی تھی ۔ حکومت میں آنے کے بعد بھی مولانا کو نشانہ بنانے سے گریز نہیں کیا ۔ لیکن اب اگر دیکھا جائے تو کشمیر کمیٹی آثار قدیمہ کی پرانی عمارت لگ رہی ہے ۔ اس برائے نام کمیٹی کا کشمیر کے لیئے کوئی کردار نہیں ہے ۔ موجودہ کشمیر کمیٹی کے سربراہ صحت اور عمر کی مجبوریوں کی وجہ سے اپنے حقیقی اور ٹھوس کردار ادا کرنے سے قاصر نظر آتے ہیں ۔ کمیٹی کے اکثر ارکان کو شاید مسئلہ کشمیر کا ادراک بھی نہیں ہے نہ ہی حکومت اس اہم کمیٹی کے اغراض و مقاصد اور کردار پر توجہ دے رہی ہے ۔ شاید حکومت نے اس کمیٹی کو صرف نام کےلئے زندہ رکھا ہوا ہے ۔ باقی معاملات وزیراعظم اور وزیر خارجہ خود چلا رہے ہیں ۔ اس کے علاوہ حکومتی مشیران اپنے فراءض منصبی صرف یہی سمجھتے ہیں کہ اپوزیشن کے خلاف بیانات دے کر نمبر بڑھاتے رہیں ۔ ورنہ اس وقت مقبوضہ کشمیر اور بھارت کے اندرونی حالات پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ تاکہ دنیا جاگ جائے اور اپنا فرض پورا کرے ۔ اس کے علاوہ ملک میں مہنگائی صرف اجلاسوں اور بیانات سے ختم نہیں ہو سکتی ۔ اس کےلئے ٹھوس حکمت عملی اور اقدامات کی ضروت ہے ۔ آٹا اور چینی بحران کے زمہ دار ان کے خلاف بلا امتیاز کاروائی ہونی چاہیئے ۔ مقبوضہ کشمیر کے مظلوم عوام کی آخری امید پاکستان ہے ۔ پاکستان اگرچہ ہمیشہ سے کشمیریوں کی سفارتی اور سیاسی مدد کرتا آیا ہے لیکن اس وقت جو کچھ نریندر مودی نے کشمیریوں کے ساتھ کیا اور جو سلسلہ جبرو ستم کا جاری رکھا ہوا ہے ۔ اس کے لیئے کشمیریوں کی ایک جلا وطن حکومت کا قیام ضروری ہے ۔ اس سے نہتے اور مظلوم کشمیریوں کی آواز عالمی سطح پر زیادہ بہتر انداز میں سنی جا سکتی ہے ۔ بھارت پر دباءو بڑھ سکتا ہے کہ وہ کشمیریوں کوان کا حق خود ارادیت دے ۔ اس کے علاوہ بین الاقوامی سطح پر مسلم سکھ اتحاد کی ایک تنطیم قائم ہونی چاہیئے ۔ اس سے نہ صرف سکھوں کی تحریک میں مضبوطی آسکتی ہے بلکہ کشمیری مسلمانوں کو بھی بہت تقویت مل سکتی ہے ۔ بھارت کے اندر بھی مسلمانوں اور سکھوں پر اس تنطیم کے نہایت مثبت اثرات مرتب ہوں گے اور سب مل کر اپنی اپنی جگہ بھارت سرکار سے گلو خلاصی حاصل کر سکیں گے ۔ علم الاعداد کی روشنی میں ان دونوں تجاویز میں کامیابی کے واضح امکانات ہیں ۔ اس کے علاوہ علم الاعداد کے مطابق ایران،امریکہ اور مشرق وسطیٰ میں حالات کی کسی بھی وقت خرابی کا اندیشہ ہے ۔ افغانستان میں فی الحال سکون نظر نہیں آتا ۔ پاکستان کا مستقبل قریب میں بہت اہم کردار نظر آرہا ہے ۔ جس میں پاکستان کو موجودہ عسکری قیادت اور حساس اداروں کی خاص اہمیت ہوگی ۔ مستقبل قریب میں مذکورہ ممالک میں قیام امن کے لئے پاکستان ہی محور نظر آرہا ہے ۔ اس کے لئے ملک میں مظبوط اور متحرک قیادت بہت ضروری ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی بہت ضروری ہے کہ ملک کے اندر امن ہو ۔ اور داخلی خلفشار، انتشارنہ ہو ۔ عوام کومعاشی خوشحالی نصیب ہو ۔ نظام حکومت کوئی بھی ہو ۔ عوام کو تو روٹی کی فکر سے آزادی چاہیئے ۔ عوام کو صاف پانی، صحت،تعلیم اور ذریعہ معاش چاہیئے ۔ اگر لوگ بے گھر اور بے روزگار ہوتے رہیں گے اور مہنگائی جانب فلک محو پرواز رہے گی، انصاف کا حصول عام آدمی کے لئے ناممکن رہے گا تو ملک کے اندر حالات قابو سے باہر ہو سکتے ہیں اور خطے کے معاملات حل کرنے کے بجائے ملک کے اندر حالات قابو سے باہر ہو سکتے ہیں ۔ اب یہ ارباب اختیار کا کام ہے کہ وہ کیا کرتے ہیں ۔