- الإعلانات -

ایک پاکستانی نوجوان کا سوال

آج کے جونواں کی پریشانیاں حد سے تجاوز کر گئی ہیں ۔ وہ اپنی زندگی اور ملکی حالات کے بارے بد ظن ہوئے جارہے ہیں ۔ خصوصاً تعلیم یافتہ یا حصول تعلیم کے لیے سر گرداں نوجواں اپنے مستقبل کی راہ ہموار کرنے کے لیے تخیل پسند ی کا شکار ہورہے ہیں ۔ اکثریت کی مالی حیثیت ایسی نہیں کہ وہ مذید حصول تعلیم کا سلسلہ جاری رکھ سکیں ۔ یہ مایوس کن فضا بن رہی ہے ۔ نوجواں کی بد ظنی یا مایوسی اس قدر بڑھ گئی ہے کہ یا تو وہ اپنا قیمتی وقت غیر صحتمند سرگرمیوں میں ضائع کردیتے ہیں ۔ یا کسی طور تعلیم یا روز گار کے سلسلے ان ممالک کا رُخ کرتے ہیں جہاں بقول ان کے تعلیم کے بہتر مواقع ہیں !! مگر تجزیہ ہے کہ یہ نوجواں بنا کسی مشاورت صرف انٹرنیٹ پر معلومات کے توسط سے ان ممالک کی جانب سے پیشکش پر لبیک کہتے ہیں ! مثلاً چین اب ایک معاشی قوت بن چکا ہے ۔ دنیا میں آج کل سرما یہ دارنہ نظام متحرک ہے ۔ کوئی بھی قوم یا ملک جب تک خود کو معاشی طور پر مستحکم نہیں کرتا ۔ و ہ ان معاشی قوتوں کے نرغے میں آجاتا ہے ہمیشہ ایک غریب اور معاشی طور پر مفلس انسان امیر شخص کے رحم و کرم پر ہوتا ہے ۔ یہ قانون فطرت نہیں تو مگر طاقتور کا کمزور کو ہڑپ کر جانا اک غالب اصول بن چکا ہے ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ چین پاکستان سے بعد آذاد ہوا ہے ۔ مگر’’ ماءوزے تنگ‘‘ کا فلسفہ سیاست اس قدر پر عمل رہا کہ چالیس سال کے عرصے میں اک افیون ذدہ قوم آج امریکہ کے بالمقابل کھڑا ہوگیا ۔ ہم سوچتے بھی نہیں اور عمل بھی نہیں کرتے ہم مسلماں نام نہاد ہیں ۔ ہماری کوئی کل سیدھی نہیں ۔ مذہب میں ہم بٹوارے پر یقین رکھتے ہیں ۔ جس سے لازم ہے نفرت کا بچھو ہر طبقے کو ڈستا رہتا ہے ۔ اب ہماری قوم، قوم نہیں ۔ بلکہ ریوڑ بن چکا ہے ۔ ہمیشہ کسی آنے والے کے منتظر رہتے ہیں ۔ ہاتھ پر ہاتھ دھرے ۔ منتظر فردا ہیں ۔ ابن انشاء نے تو یہ کہا کہ چلنے ہو تو چین کو چلئے ۔ اور آج بھی سکول کے بچوں کو یہ حدیث مبارک ازبر کروائی جاتی ہے کہ ’’علم حاصل کرو حتیٰ کہ آپ کو چین جانا پڑے‘‘ ۔ نبی پاکﷺ کی اس بصیرت پر قربان جائیے ۔ چونکہ کنفیوشش کی تعلیمات کےلئے چین معروف تھا ۔ اورعرب زیادہ تر ان پڑھ تھے ۔ اور اس حملے کا مقصد یہ تھا کہ ’’مسلمان‘‘ پر دنیا کے ہر گوشے سے علم حاصل کرنا لازم ٹھہرایا گیا ہے ۔ اور کسی بھی عقید ے یا مسلک کے انسانوں سے علم کی اہمیت اور اس کے حصول کا نظریہ نبی پاکﷺ سے بہتر کون دے سکتا ہے ۔ سعد ابن ابی وقاص وہ صحابی ہیں جنہوں نے تحقیق کے سلسلے میں چین کی سرزمین پر سب سے پہلے قدم رکھا تو جب تک آپ کے پاس مقصد نہ ہو تو مخص خواہش کی بنیاد پر فرد یا قوم کی تہذیب اور معاشرت میں زندگی کی نمو نظر نہیں آسکتی;238;دراصل آج ایک نوجوان نے براہ راسست مجھ سے ایک سوال کیا ’’کہ سر! چین ہم سے پہلے آذاد ہوا مگر ہم آج تک پسماندہ کیوں ہیں ;238;میرا جواب اسباب پر مشتمل تھا ۔ کیونکہ آج کا نوجوان اپنے ملک کےلئے اور خود وہی خواب دیکھتے ہیں ۔ جو ایک غریب بچے کی امیر بننے کی خواہش ہوتی ہے ۔ میں نے اس کے ذہن میں تیرنے والے مزید سوالات کا اور اک کرتے ہوئے ۔ اس کے سامنے بنیادی جوابات رکھے! 1 ۔ چین کی معاشرت میں اکثریت بے کار افراد کی تھی اور افیون زدہ بھی تھے ۔ اور بد تر صورتحال تھی ۔ اسی معاشرت میں ایک عام سا انسان مگر علم و بصیرت سے مزین تھے ۔ یہ انسان ’’ماءوزے تنگ تھے‘‘ ۔ ان کے قلب میں اپنی قوم کےلئے بے پناہ درد تھا ۔ اس نے ’’سُرخ کتاب‘‘ نامی کتاب میں یہ تصور پیش کیا ۔ کہ اس بے کار قوم کو کیونکر پست درجے سے اُٹھا کر بلند سطح پر لایا جائے ۔ پہلا کام انہوں نے یہ کیا کہ مرد اور عورت دونوں کو کام کرنے پر اپنی سیاسی تنظیم کے ذریعے جہاد شروع کیا ۔ چونکہ یہ ایک بیکار قوم تھی کوئی مقصد حیات نہ تھا ۔ اور بچے پیدا کرنا ہی ان کی فرصت و بے کاری کا سبب تھا ۔ ان کو تعلیم دی گئی ۔ اور یہ سلسلہ 25 تیس سال تک بلا تعطل جاری رہا ۔ 2 ۔ چین کا استحکام اصول کی پابندی اور واضح مقصد حیات تھا ۔ وہ مسلمان نہیں مگر کم از کم اپنی قوم کو متحد رکھا ۔ چین کی آوارہ قوم آج اک اور مقصد کی طرف بڑھنے رہے ہیں کہ کیسے دنیا عظیم سا ہیو کا روں ، یعنی یہودیوں کی اجارہ داری ختم کی جائے ۔ پاکستان چین کا ہمسایہ ہے اور اسے دوست بھی کہا جاتا ہے ۔ مگر ایسا ہر گز نہیں چین علاقائی اور عالمی تناظر میں اپنے وجود کو مستحکم کر رہا ہے ۔ ان کی سیاست کا فلسفہ یہی ہے اور جواب معیشت میں ڈھل گیا ہے ۔ اجارہ داری حاصل کرنے کےلئے ضروری ہے کہ تعلقات خطے کے ممالک سے محتاط رکھے جائیں کہ کیونکہ اس طرح زمینی یا سمندری راہدریوں کے ذریعے وہ اپنے بر آمدات دنیا کے گوشے گوشے پھیلا سکتا ہے ۔ ;67806967; بہت بڑی راہداری ہے ۔ اور پاکستان سے ہوتے ہوئے چین سمندر تک اب پہنچ رہا ہے ۔ چین کی یہ حکمت اور منصوبہ بندی 40 سال قبل ان کے ایوان نمائندگان میں پیش گئی تھی ۔ چین کے مقابلے ’’ماءوزے تنگ‘‘نے ;80;roactive معاشی تصور دیا ۔ آج ’’ماوَ‘‘ کے اسی نظریے پر عمل ہے ۔ 3 ۔ یہی وہی سبب ہے کہ چین آج ترقی یافتہ ہے اور پاکستان پسماندہ ہے ۔ آج اس قوم کا فرد فرد ۔ اور حکومت تک محتاجی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ۔ اور بس خواب ہی دیکھ رہے ہیں ۔ ;67806967; روٹ سے ہر حوالے سے چین ہی معاشی طور پر مستحکم ہوگا ۔ ان کے رگ وپے میں صرف معاشی حصول اولین درجہ رکھتی ہے ۔ بزنس ہی ان کا قومی مقصد ہے ۔ ہمارے شہر اور دیہاتوں میں چینی شہریوں کی بہتات ہو جائے گی ۔ مگر آپ کو یہ معلوم ہوگا ۔ کہ چندہ ماہ پہلے چینیوں نے پاکستان لڑکیوں سے شادیاں کیں اور ان کے اعضاء نکال کر عالمی منڈی میں بیچے ۔ پاکستانی معاشرت اور ثقافت اور مذہبی اقدار پہلے ہی کے شکست وریخت کا شکار ہیں ۔ آئندہ پانچ تا 10 سالوں تک پاکستانی قوم کی صورت بحرانی صورتحال سے دو چار ہوگی ۔ ہمارے 60 فیصد نوجوانوں کا خوب چرچا ہے ۔ تعلیم و روزگار کے سلسلے بیرو ن ملک جانے کی تمنائیں پالتے ہیں ۔ حکمرانوں کی نہ حکمت نہ منصوبہ بندی نظر آتی ہے ۔ ہمارے حکمران بھی چین کی ترقی کے اسباب اور نتاءج بتاتے نہیں تھکتے ۔ مگر کیا ان نوجوانوں کے قلب میں پنپتے سولات کے سنگین نتاءج کا بھی ادراک رکھتے ہیں